30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مُقدَّس صاحبزادی حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا بھی یہی معمول تھا کہ وہ اپنے گھر کا سارا کام کاج خود اپنے ہاتھوں سے کیا کرتی تھیں ،کنوئیں سے پانی بھر کر اور اپنی مُقدَّس پیٹھ پر مَشْک لاد کر پانی لایا کرتی تھیں ، خود ہی چکی چلا کر آٹا بھی پیس لیتی تھیں اسی وجہ سے ان کے مُبارَک ہاتھوں میں کبھی کبھی چھالے پڑ جاتے تھے اسی طرح امیرُالمؤمِنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ کی صاحبزادی حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے مُتَعَلِّق بھی رِوایت ہے کہ وہ اپنے غریب شوہر حضرتِ سیِّدُنا زُبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ کے یہاں اپنے گھر کا سارا کام کاج اپنے ہاتھوں سے کر لیا کرتی تھیں یہاں تک کہ اُونٹ کو کھلانے کے لئے باغوں میں سے کھجوروں کی گٹھلیاں چن چن کر اپنے سر پر لاتی تھیں اور گھوڑے کے لئے گھاس چارہ بھی لاتی تھیں اور گھوڑے کی مالش بھی کرتی تھیں ۔
مزید فرماتے ہیں : ہر بیوی کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنے شوہر کی آمدنی اور گھر کے اَخراجات کو ہمیشہ نظر کے سامنے رکھے اور گھر کا خرچ اس طرح چلائے کہ عزَّت و آبرو سے زندگی بسر ہوتی رہے۔ اگر شوہر کی آمدنی کم ہو تو ہرگز ہرگز شوہر پر بے جا فرمائشوں کا بوجھ نہ ڈالے اس لئے کہ اگر عورت نے شوہر کو مجبور کیا اور شوہر نے بیوی کی مَحبت میں قرض کا بوجھ اپنے سر پر اٹھا لیا اور خدا عَزَّوَجَلَّ نہ کرے اس قرض کا ادا کرنا دشوار ہوگیا تو گھریلو زندگی میں پریشانیوں کا سامنا ہو جائے گا اور میاں بیوی کی زندگی تنگ ہو جائے گی اس لئے ہر عورت کو لازِم ہے کہ صبر وقناعت کے ساتھ جو کچھ بھی ملے خدا کا شکر ادا کرے اور شوہر کی جتنی آمدنی ہو اسی کے مُطابِق خرچ کرے اور گھر کے اَخراجات کو ہر گز ہرگز آمدنی سے بڑھنے نہ دے۔(جنّتی زیور، ص۶۰ )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
گھریلو کام کاج کرنے کے 11 فوائد
گھریلو کام کاج کرنے کے بہت فوائد ہیں ، یہاں ان میں سے چند بیان کئے جاتے ہیں :
(1)…26 شَعبانُ المُعظَّم 1432ھ کو اِجتماعِ رِداپوشی کے سلسلے میں ہونے والے مدَنی مذاکرے میں شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علَّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ارشاد فرمایا:اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرنا سنّتِ مصطفٰے ہے۔اسلامی بہنوں کواس پیاری پیاری سنّت پر عمل کرنا چاہئے۔ گھر کے کام کاج وغیرہ کرنے سے ہاتھوں کی رگیں متحرک رہیں گی اور نسیں سخت نہیں ہوں گی۔
(2)…اپنے گھر کے کام کاج خود کرنا اور بوقت ِ نماز دیگر تمام مصروفیات ختم کر دینا سنَّتِ مصطفٰے ہے۔(صَحِیْحُ الْبُخَارِی، کتاب النفقات،باب خدمۃ الرجل فی اھلہ ، ص۱۳۷۵،الحدیث:۵۳۶۳)
(3)…گھر میں رہتے ہوئے اسلامی بہنوں کا دست کاری کرنا اور کسبِ حلال کے ذرائع اپنانا سنّت ِاُمُّ المؤمنین وسنّتِ صحابیات ہے۔(سُنَن نَسَائِی،کتاب الزینۃ،لبس البرود، ص۸۴۳، الحدیث:۵۳۳۱ )
(4)…گھر کے کام کاج کرنا سنّتِ سیِّدَہ فاطِمہ ہے۔ اس کی تفصیل مکتبۃ المدینہ کی جاری کردہ آڈیو کیسٹ ’’شہزادیٔ کَونَین کی سادَگی‘‘ میں مل جائے گی۔
(5)…گھریلو کام کاج کرنے والی اسلامی بہن کی گھر میں اَہَمِّیَّت ہوتی ہے یوں اسے گھر میں مدنی ماحول بنانے میں آسانی ہوتی ہے۔
(6)…گھر کے کام کاج پر توجُّہ دینے سے سُسرالی جھگڑے خصوصاً ساس بہو کی چپقلشیں ختم ہونے کی اُمید ِ واثِق ہے۔ پھر بھی اگر یہ جھگڑے ختم نہ ہوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع