30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہر جگہ یارِ غمگسار ہے دُرُود
(کافی کی نعت، از مولانا کفایت علی کافی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الشَّافِی)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مُنادِی کی نِدا برائے سیِّدَہ فاطِمہ
حافِظ ُ الحدیثحضرتِ سیِّدُنا امام عبدُ الرَّحمن جلال ُ الدِّین سُیُوطی شافِعی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الشَّافِی نے امیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ الْمُرتَضٰی، شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے رِوایت کی ہے کہ سرکارِ دوعالَم، نُورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاارشادِمُعَظَّم ہے: ’’جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک مُنادِی نِدا کرے گا، اے اَہلِ مَجمع! اپنی نگاہیں جھکالو تاکہ حضرت ِ فاطِمہ بنت ِمحمّدِ مصطَفٰے (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) پُل صِراط سے گزریں ۔‘‘(اَلْجَامِعُ الصَّغِیْرمَعَ فَیْضُ الْقَدِیْر، حر ف الھمزۃ، ج۱، ص۹۴۵، الحدیث:۲۲۸)
اللہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
وہ رِداء جس کی تطہیر اللہرے آسماں کی نظَر بھی نہ جس پر پڑے
جس کا دامن نہ سہواً ہَوا چُھو سکے جس کا آنچل نہ دیکھا مَہ و مِہر نے
اُس رِدائے نَزاہَت پہ لاکھوں سلام
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! باعزّت وباوفا، پیکرِ شرم وحیا محمدرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صاحبزادی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آغوش میں تربِیَّت پانے والی شہزادی زوجۂ علی حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہرا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے مقام ومرتبہ کی ایک جھلک ازروئے حدیث آپ نے مُلاحَظہ فرمائی کہ اللہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو پردہ دار رہنے کاایک صلہ یہ دیا کہ روزِ محشر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خاطر اہلِ محشر کو نگاہیں جھکانے کا حکم صادِر کیا جائے گا کیونکہ یہ وہ عفیف وطیِّب شخصِیَّت ہیں جنہوں نے ساری زندگی بلکہ بعد از وصال بھی اپنے پردے کا خیال رکھا۔ تو جو اپنی عادات نکھارنے اور اپنے حالات سدھارنے کامُتَمَنِّی اور اس کے لئے کوشاں ہوتا ہے اللہ تبارَک وتعالیٰ اس کا حامی وناصر ہوتا ہے۔ اسے اس کی کوششوں کا بدلہ اس کی نیتوں کے مطابق اپنے فضْل وکرَم سے دنیا یا آخرت یا دونوں جہاں میں عطافرماتا ہے۔ پس جو شخص اپنی عزّت کو خراب اور اپنے وقار کو مجروح نہیں ہونے دیتا اس کے لئے معزَّز وباوقار بننا اور اسی حالت پر قائم رہنا آسان ہوتا ہے۔ عورت کے معزَّز وباوقار ہونے اور رہنے میں شرعی پردے کا بہت بڑا دخْل ہے۔ جو اسلامی بہن پردہ دارہوتی ہے وہ معزَّز ہوتی ہے اس کا معاشرے میں بھی مقام ہوتا ہے اور بارگاہِ ربُّ الانام میں بھی۔ پیکر ِعِفَّت وعظَمت حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے نقشِ قدَم پر چل کر چادر اور چاردیواری کو اپنے اوپر لازِم کرلینے والی اسلامی بہن اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! خاتونِ جنت کے جِلَو میں جگہ پائے گی اور جسے اپنے پردے کا خیال نہیں ، تو اس کے لئے معاشرے میں عزّت پانا اور اپنا مقام بنانا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ معاشرہ اور افرادِ معاشرہ اسی کو عزّت دیتے ہیں جو اپنی عزّت کا خیال رکھتا ہے۔ جو جس خصلت کا عادی ہوتا ہے لوگ اس کی اسی خصلت کا لحاظ رکھتے ہیں ، عزَّت اسی کی ہوتی ہے جو اپنی عزَّت سنبھالتا ہے جیسے محبوبِ مصطَفٰے، سیِّدُ الْاَسخیاء، عثمانِ با حیا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکے بارے میں منقول ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبہت باحیا تھے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع