30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(فُ۔زُوں یعنی زیادہ) کرنے والے خوشنما پھولوں کا مدَنی گلدستہ ہماری طرف بڑھایا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تسبیحِ فاطِمہ کی فضیلت
سیِّدِ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری لاڈلی صاحبزادی،خاتونِ جنّت، بی بی فاطِمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا خود تَنُور میں روٹیاں لگایا کرتیں ، گھر میں جھاڑو دیتیں اورچکی پیستی تھیں جس سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے تھے، رنگ مُبارَک مُتَغَیَّر اور کپڑے گَرْد آلود ہو گئے تھے۔ ایک دفعہ خادِم کی طلب میں بارگاہِ مصطفٰے میں حاضر ہوئیں تو تسبیحِ فاطمہ کا تحفہ ملا، چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا آقائے نامدار، دوعالَم کے مالِک ومُختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضِر ہوئیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے خادم کا سوال کیا: حُضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاارشاد: ’’تمہیں ہمارے پاس خادم تو نہیں ملے گا، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو خادِم سے بہتر ہے؟تم جب بستر پر جاؤ تو 33بار سُُبْحٰنَ اللہ، 33بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہاور 34بار اللہُ اَکْبَر پڑھ لیا کرو۔‘‘ (صَحِیْح مُسْلِم،کتاب الذکر والدعاء والنوبۃوالاستغفار،باب التسسیح اول النھاروعند النوم، ص۱۰۴۸، الحدیث:۲۷۲۸)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شیخِ طریقت،امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علاَّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے جوشریعت وطریقت کاجامع مجموعہ اسلامی بہنوں کیلئے بنام 63 مدَنی انعامات بصورت سوالات عطا فرمایا ہے، اس میں مدَنی انعام نمبر(3) ہے کہ کیاآج آپ نے نمازِ پنجگانہ کے بعد نیز سوتے وقت کم از کم ایک ایک بارآیۃُالکرسی، سورۃُالاخلاص اور تسبیحِ فاطمہ پڑھی؟
توآئیے! نیت کر لیجئے کہ اس مدَنی انعام پر ضرور عمل کریں گی۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اِسلامی بہنوں کے لئےسیرتِ صالِحاتِ اُمَّت
مخدومۂ کائنات حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ذکر کردہ واقِعہ سے پتا چلتا ہے کہ تاجدارِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی لاڈلی شہزادی کے لئے یہی پسند فرماتے ہیں کہ وہ گھر کے کام کاج خود ہی کریں ، اس سے اسلامی بہنوں کے لئے ایک راہِ عمل مُتَعَیَّن ہوتی ہے ،چُنانچِہ
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 679 صفْحات پر مشتمِل کتاب ’’جنّتی زیور‘‘ صفْحہ60پر شیخ الحدیث علّامہ مفتی عبد المصطفٰے اعظمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس طرف توجُّہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں : عورت کے فرائض میں یہ بھی ہے کہ اگر شوہر غریب ہو اور گھریلو کام کاج کے لئے نوکرانی رکھنے کی طاقت نہ ہو تو اپنے گھر کا کام کاج خود کرلیا کرے اس میں ہر گز ہرگز نہ عورت کی کوئی ذلت ہے نہ شرم۔ بخاری شریف کی بہت سی رِوایَتوں سے پتا چلتا ہے کہ خود رسول اللہ صَلَّی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع