دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Shan e khatoon e Jannat | شانِ خاتونِ جنّت رضی اللہ تعالٰی عنہا

book_icon
شانِ خاتونِ جنّت رضی اللہ تعالٰی عنہا

گناہ سے صبر کرنا ہے۔ حدیث میں  آپ نے پڑھ لیا کہ صبر کی ان تینوں  قسموں  کا بڑا درَجہ ہے۔

          اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے قراٰنِ مجید میں  ارشاد فرمایا:

 اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) (پ۲ البقرۃ: ۱۵۳)

ترجمۂ کنز الایمان: بے شک اللہ صابروں  کے ساتھ ہے۔

          صبر کرنے والوں  کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ   کی اِمداد ونصرت ہوتی ہے اور صابرین کا مددگار اللہ عَزَّوَجَلَّ   ہوتا ہے۔  سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! اس سے بڑھ کر صبر کا اجر وثواب کیا ہو گا کہ خدا عَزَّوَجَلَّ  صابرین کے ساتھ ہوتا ہے۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          حضرتِ سیِّدُنا ابو سعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ کچھ اَنصاری لوگوں  نے حضور نبیِّ پاک، صاحبِ لَولاک، سیَّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوال کیا حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں  دیا انہوں  نے پھر مانگا، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عطافرمایا   حتّٰی کہ وہ مال جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس تھا ختم ہوگیا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:جو کچھ مال میرے پاس ہو گا وہ تم سے ہرگز بچا نہ رکھوں  گا اور جو سوال سے بچنا چاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ   اُسے بچائے گا اور جو غنی بننا چاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے غنی کر دے گا اور جو صبر چاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ  اُسے صبر عطا کرے گا اور کسی کو صبر سے بہتر اور وسیع کوئی چیز نہ ملی۔ (سُنَنُ الدََّارِمِی، کتاب الزکاۃ، باب فی الاستعفاف عن المسألۃ، ص۴۸۱، الحدیث:۱۶۵۲)

        شارِحِ مشکوٰۃ،  حکیم ُ الا ُمّت مفتی احمدیارخان نعیمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اس حدیثِ پاک کی شرح میں  فرماتے ہیں  : وہ حضرات مانگتے رہے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دیتے رہے انہیں  سب کچھ دے کر مسئلہ بتایا، اس میں  تبلیغ بھی ہے اور سخاوتِ مطلقہ کا اِظہار بھی۔ خیال رہے کہ جس کو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کچھ خوش ہوکر دیا ہے وہ بہت عرصہ تک ختم نہ ہوا، چُنانچِہ حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  اور حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ   کو تھوڑے تھوڑے جَو عطا فرمائے تھے جو اُن بُزُرگوں  نے سالہا سال کھائے اور کھلائے، پھر جب تولے تو اتنے ہی تھے مگر تولنے سے ختم ہو گئے حضرتِ سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ کے ہاں  ساڑھے چار سَیر(تقریباً چار کلو)  جَو کی روٹی پر سینکڑوں  آدمیوں  کی دعوت فرمائی۔ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے، ’’اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ یعنی میں  اپنے بندے کے گمان کے قریب رہتا ہوں ۔‘‘ اس کا ظہور آخرت میں  تو ہوگا ہی، کہ اگر بندہ معافی کی اُمّید کرتا ہوا مرجائے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ  اُسے معافی ہی ملے گی، اکثر دنیا میں  بھی ہوجاتا ہے کہ جو قرض نہ لینے نہ مانگنے کا خدا کے بھروسے پر پورا ارادہ کرلے تواللہ عَزَّوَجَلَّ  اُسے ان سے بچا ہی لیتا ہے اور جو یہ کوشش کرے کہ دُنیا والوں  سے لاپرواہ رہوں  تو بَہُت حد تک اللہ عَزَّوَجَلَّ   اُسے لاپرواہ ہی رکھتا ہے، مگر یہ فقط زبانی دعویٰ نہ ہو عملی کوشش بھی ہو کہ کمانے میں  مشغول رہے، خرچ درمیانہ رکھے، گُل چھرّے نہ اُڑائے اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ  وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سچّے ہیں  ان کے وعدے حق، غلطی ہم کر جاتے ہیں ۔

          ’’جو صبر چاہے اللہ تعالیٰ اُسے صبر عطا کرے گا‘‘اس کے تحت مفتی صاحب فرماتے ہیں  : ربّ تعالیٰ کی عطاؤں  میں  سے بہترین اور بَہُت گنجائش والی عطا صبر ہے کہ ربّ تعالیٰ نے اس کا ذکر نماز سے پہلے فرمایا: ’’اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ (پ۲،البقرۃ:۱۵۳)(ترجمۂ کنز الایمان: صبر اور نماز سے مدد چاہو۔)‘‘اور صابر کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ   ہوتا ہے، نیز صبر کے ذریعہ انسان

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن