30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنی تکلیف کا کسی سے ذکر نہیں کرتیں اور ایک ہم نادان ہیں کہ معمولی سی تکلیف آ جائے تو آسمان سر پہ اُٹھا لیتی ہیں ۔ اللہ والے مصائب پر صبر کرتے ہیں اور صبر کے بارے میں تو ہمارا ربّ عَزَّوَجَلَّ بھی فرماتا ہے ، چُنانچِہ پارہ4، سورۃ اٰلِ عمران، آیت نمبر200میں ارشادِ خدائے رحمن ہے: ’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو! صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سےآگے رہو اور سرحد پر اسلا می ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اس اُمّید پرکہ کامیاب ہو۔‘‘
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطْبوعہ 244 صفْحات پر مُشْتَمِل کتاب ’’بِہِشت کی کنجیاں ‘‘ صفْحہ220 پر شیخ الحدیث حضرتِ علَّامہ مولیٰنا عبدُ المصطفیٰ اَعظَمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے مروی ہے کہ صبر تین ہیں : (۱)…مصیبت پر صبر (۲)…عبادت پر صبر (۳)…گناہ سے صبر، تو جو مصیبت پرصبرکرے یہاں تک کہ مصیبت کواچھی تسلِّی سے دُور کردے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے 300 درَجے لکھ دیتا ہے جس کے دو درَجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا کہ زمین وآسمان کے درمیان ہے اور جو عبادت پر صبر کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے 600درَجے لکھ دیتا ہے جس کے دو درَجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا کہ زمین کی نچلی کیچڑ اور تمام زمینوں کے منتہٰی کے درمیان فاصلہ ہے اور جو گناہ سے صبر کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے 900 درَجے لکھ دیتا ہے جس کے دو درَجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتاہے جتنا کہ زمین کی نچلی کیچڑ وں اور عرش کے منتہٰی کے درمیان کے دُو گنے کے درمیان فاصلہ ہے۔ (کَنْزُ الْعُمَّال، ج۳ کتاب الاخلاق، فضیلۃ الصبر، ص۱۱۱، الحدیث:۶۵۱۲)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صبر کے معنٰی ’’حَبْسُ النَّفْسِ عَلَی الْمَکَارِہِ‘‘ یعنی نفس کو تکلیفوں کے اُوپر روکے رہنا اور کنٹرول میں رکھنا، اب غورکیجئے کہ صبرکی تینوں قسموں پریہ تعریف صادق آتی ہے۔ (1)…صَبْرٌ عَلَی الْمُصِیْبَۃ ’’یعنی مصیبت پر صبر‘‘ ظاہر ہے کہ مصیبت کے وقت نفس میں بڑی بے چینی اور بے قراری پیدا ہوتی ہے اور بعض مرتبہ ایسی بوکھلاہٹ بلکہ جنون ودیوانگی کی کیفِیَّت پیدا ہو جاتی ہے کہ انسان رونے پیٹنے، بال نوچنے اور کپڑے پھاڑنے لگتا ہے اب اسی موقع پر اپنے نفس کو رونے پیٹنے اور جزع وفزع کی حرکتوں سے روکے رہنا یہی ''مصیبت پر صبر کرنا'' ہے۔
(2)…صَبْرٌ عَلَی الطَّاعَۃِ ’’یعنی عبادت پر صبر‘‘ظاہرہے کہ گرمیوں کا روزہ ہو اور آدمی پیاس کی شدَّت سے بے قرار ہو اور سامنے ٹھنڈا ٹھنڈا میٹھا میٹھا شربت رکھا ہوا ہو نفس بار بار شربت کی طرف لپکتا ہے مگر روزہ دار نفس کو روکے ہوئے ہے جو نفس پر گراں اور شاق ہے یہی ''عبادت پر صبر کرنا''ہے۔
(3)… صَبْرٌ عَنِ الْمَعْصِیَۃِ ’’یعنی گناہ سے صبر‘‘جوان آدمی ہے، شہوت کا غلبہ، شباب پر ہے، بدکاری کے لئے نفس بے قرار ہے مگر پرہیزگار مسلمان(مرد وعورت) اپنے نفس کو روکے ہوئے ہے اور بدکاری سے بچا ہوا ہے۔ صَبْرٌ عَنِالْمَعْصِیَۃِ یعنی یہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع