30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
المدینہ سے خود بھی حاصل کیجئے اور دوسری اسلامی بہنوں کو بھی اس کی ترغیب دلائیے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! شوہر کے حقوق عورت پر بکثرت ہیں اور شوہر کے حقوق کی ادائیگی عورت پر بَہُت زیادہ لازم اور ضروری ہے۔ عورت پر سب سے بڑا حق شوہرکاہے یعنی ماں باپ سے بھی زیادہ۔ مرد پر سب سے بڑا حق ماں کا ہے یعنی زوجہ کا حق اس سے کم بلکہ باپ سے بھی کم۔ یہ اس لئے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی۔ وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَم۔
میرے آقا، اعلیٰ حضرت، عظیم ُالبرکت، عظیم ُالمرتبت، پروانۂ شمعِ رِسالت مولانا شاہ اِمام احمد رضا خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ جلد 24 میں بیوی کے ذمّہ شوہر کے حُقوق بَیَان کرتے ہوئے اِرشاد فرماتے ہیں : عورت پر مرد کا حق خاص اُمورِ متعلقہ زَوجیت میں اللہ ورسول (عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے بعد تمام حُقوق حتّٰی کہ ماں باپ کے حق سے زائد ہے، ان اُمور میں اس کے احکام کی اِطاعت اور اس کے ناموس کی نگہداشت عورت پر فرضِ اہم ہے،بے اس کے اِذن کے (یعنی اس کی اِجازت کے بغیر) محارم سوا کہیں نہیں جا سکتی اور محارم کے یہاں بھی ماں باپ کے یہاں ہر آٹھویں دن وہ بھی صبح سے شام تک کے لئے اور بہن، بھائی، چچا، ماموں ، خالہ، پھوپی کے یہاں سال بھر بعد اور شب (یعنی رات) کو کہیں نہیں جا سکتی۔(فَتاویٰ رَضَوِیّہ،ج۲۴، ص۳۸۰)
ایک اور مقام پر فرمایا: اُمورِ متعلقہ زن شوی میں مطلقاً اس کی اطاعت (یعنی میاں بیوی سے متعلق مُعامَلات میں بیوی مطلقاً شوہر کی فرمانبرداری کرے) کہ ان اُمور میں اس کی اِطاعت والِدَین پر بھی مُقدَّم ہے، اس کے ناموس کی بشِدَّت (یعنی سختی سے) حِفاظت، اس کے مال کی حِفاظت، ہر بات میں اس کی خیر خواہی (یعنی اچھا چاہنا)، ہر وقت اُمورِ جائز میں اس کی رِضا کا طالِب رہنا، اسے اپنا مولیٰ جاننا، نام لے کر نہ پکارنا، کسی سے اس کی بے جا شِکایَت نہ کرنا، اور خدا عَزَّوَجَلَّ توفیق دے تو بجا (یعنی دُرُست شِکایَت) سے بھی اِحتِراز کرنا (یعنی بچنا)، نہ بے اس کی اِجازت کے آٹھویں دن سے پہلے والِدَین یا سال بھر سے پہلے اور مَحارِم کے یہاں جانا، وہ ناراض ہو تو اس کی اِنتِہائی خوشامد کر کے اسے منانا (کہ) اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھ کر کہنا کہ یہ میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں ہے یہاں تک کہ تم راضی ہو یعنی میں تمہاری مملوکہ ہوں جو چاہو کرو مگر راضی ہو جاؤ۔ (ایضاً، ص۳۷۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدُنا جابربن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرتِ سیِّدَہ فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو دیکھا،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اُونٹ کے بالوں سے بنا موٹا لباس پہنے چکی پیس رہی تھیں ، نبیوں کے سلطان، رحمتِ عالَمِیّان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آنکھوں سے سَیلِ اَشک رواں ہو گئے پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’(آج) دنیا کی تنگی وسختی پر صبر کرو تاکہ کل جنّت کی اَبَدی نعمتیں حاصل ہوں ۔‘‘(کنز العُمَّال، کتاب الفضائل، باب فضائل النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، ج۱۲، ص۱۹۰،الحدیث:۳۵۴۷۰)
پیاری پیاری اسلامی بہنو! کیسی تربِیَّت تھی کہ اتنے مصائب وآلام مگر زباں پر حرفِ شکایت نہیں بلکہ راضی برضا ہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع