30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{6}…خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جب عورت پانچ وقت نماز پڑھے،ماہ رمضان کے روزے رکھے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرے تو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے گی داخل ہو جائے گی۔‘‘ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب النکاح، باب معاشرۃ الزوجین، ذکر ایجاب الجنۃ للمرأۃ اذا طاعت زوجھا۔۔۔الخ، ص۱۱۲۷، الحدیث:۴۱۶۳)
{7}…سیِّدِعالَم ،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شادی شدہ عورت (یعنی حضرت سیِّدُنا حصین بن محصن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی پھوپھی) سے دریافت فرمایا: ’’تیر ااپنے شوہر سے کیسا برتاؤ ہے؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’میں نے اس کی خدمت میں کوئی کمی نہیں کی لیکن اب میں اس سے عاجز آگئی ہوں ۔‘‘تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’غور کرو!تم کیسے اس سے عاجز آگئی ہو حالانکہ وہ تو تیری جنت اور دوزخ ہے۔‘‘(مسند احمد بن حنبل،مسند القبائل، حدیث عمۃ حصین بن محصن، ج۱۱، ص۲۶۷، الحدیث:۲۸۱۱۴)
{8}…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں نے رحمت ِ عالم ،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کی: ’’عورت پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟‘‘ تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ شوہر کا۔‘‘ پھر میں نے عرض کی: ’’مرد پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’اس کی ماں کا۔‘‘(المستدرک علی الصحیحین،کتا ب البر والصلۃ، باب اعظم الناس حقا علی الرجل امہ، ج۵ ،ص۲۴۴، الحدیث:۷۴۱۸)
بیوی کے حُقُوق کے متعلِّق چند اَحادیثِ مبارَکہ
مردوں کو بھی عورتوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا چاہئے کیونکہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اس لئے اس کے ٹیڑھے پن سے ہی فائدہ اٹھانا چاہئے۔
{1}…حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے مروی ہے، رسولُ اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمان مرد عورت مومنہ کو مبغوض نہ رکھے اگر اس کی ایک عادت بُری معلوم ہوتی ہے دوسری پسند ہو گی۔‘‘(صَحِیْح مُسْلِم،کتاب الرضاع،باب الوصیۃ بالنساء، ص۵۵۶ الحدیث:۱۴۶۹)
یعنی تمام عادتیں خراب نہیں ہوں گی جب کہ اچھی بُری ہر قسم کی باتیں ہوں گی تو مرد کو یہ نہ چاہئے کہ خراب ہی عادت کو دیکھتا رہے بلکہ بُری عادت سے چشم پوشی کرے اور اچھی عادت کی طرف نظر کرے۔
{2}…حضور نبیِّ اَکرَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: تم میں اچھے وہ لوگ ہیں جو عورتوں سے اچھی طرح پیش آئیں ۔(سُنَن اِبْنِ مَاجَۃ، کتاب النکاح، باب حسن معاشرۃ النساء، ص۳۱۶، الحدیث:۱۹۷۸)
{3}…ایک روایت میں ہے: ’’عورت کو غلام کی طرح مارنے کا قصد کرتا ہے (یعنی ایسا نہ کرے)کہ شاید دوسرے وقت اسے اپنا ہم خواب کرے۔‘‘ (صَحِیْحُ الْبُخَارِی، کتاب التفسیر، سورۃ والشمس وضحٰھا،ص۱۲۷۶، الحدیث:۴۹۴۲)
یعنی زوجِیَّت کے تعلُّقات اس قسم کے ہیں کہ ہر ایک کو دوسرے کی حاجت اور باہم ایسے مَراسِم کہ ان کو چھوڑنا دُشوار ہے لہٰذا جوان باتوں کا خیال کرے گا مارنے کا ہرگز قصد نہ کرے گا۔
میاں بیوی کی اِصلاح کے لئے نگرانِ شوریٰ کا VCD بیان ’’شوہر کو کیسا ہونا چاہئے؟‘‘ ’’بیوی کو کیسا ہونا چاہئے؟‘‘ مکتبۃ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع