30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعالٰی علٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! گھر کو چلانے اور اس کو خو شیوں کا گہوارہ بنانے میں میاں اور بیوی کا بَہُت کردار ہے اگر دونوں اپنی اپنی ذمّہ داریاں ادا کریں تو گھر خوشیوں کا گہوارہ بن سکتا ہے میاں بیوی کے درمیان ہر ایک کے دوسرے پر بہُت سے حقوق واجب ہیں ان میں جو اپنے حقوق ادا نہ کرے گا اپنے گناہ میں گرفتار ہو گا، اگر بیوی یا شوہر میں سے ایک حق ادا نہ کرے تو دوسرا اسے دلیل بنا کر اس کے حق کی ادائیگی کو نہیں چھوڑ سکتا۔ لہٰذا میاں بیوی کے حقوق پر مشتمل چند اَحادیثِ مبارَکہ پیش کی جاتی ہیں ۔
’’حُقُوقِ شوہر‘‘ کے آٹھ حروف کی نسبت سےشوہر کے حُقُوق سے متعلِّق 8 فرامینِ مصطفٰے
{1 }…حضرتِ سیِّدُنا ابوبریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے کہ رسولُ اﷲصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:اگر میں کسی شخص کوکسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔(اَلْمُسْتَدْرَک لِلْحَاکم، کتاب البر والصلۃ،حق الزوج علی الزوجۃ، ج۵، ص۲۴۰، الحدیث:۷۴۰۶)
{2 }…حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ رسولُ اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :اگر آدمی کا آدمی کے لئے سجدہ کرنادرست ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کہ اس کا اس کے ذمّہ بَہُت بڑا حق ہے ،قسم ہے اس کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اگر قدَم سے سرکی چوٹی تک شوہر کے تمام جسم میں زخم ہوں جن سے پیپ اور کچ لہو(یعنی پیپ ملا خون) بہتا ہو پھر عورت اسے چاٹے تو حقِ شوہر ادا نہ کیا۔(مُسْنَدِ اَحْمَد، مسند انس بن مالک ، ج۵،ص۴۴۵،الحدیث:۱۲۹۴۹)
{3}…حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ سے روایت ہے کہ رسولُ اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : شوہر نے عورت کواپنے پاس بلایا اُس نے انکار کر دیا اور غصہ میں اس نے رات گزاری تو صبح تک اس عورت پر فِرِشتے لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ (صَحِیْحُ الْبُخَارِی، کتاب بدأ الخلق، باب اذا قال احدکم اٰمین والملائکۃ فی السمآء۔۔۔الخ، ص۸۲۹، الحدیث:۳۲۳۷) اور دوسری روایت میں ہے: جب تک شوہر اس سے راضی نہ ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس عورت سے ناراضرہتا ہے۔ (صَحِیْح مُسْلِم،کتاب النکاح،باب تحریم امتناعھا من فراش زوجھا، ص۵۳۹ ،الحدیث:۱۴۳۶)
{4 }…حضرتِ سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہسے روایت ہے کہ حضورِ اَقدَس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’جب عورت اپنے شوہر کو دنیا میں ایذا دیتی ہے تو حُورِعین کہتی ہیں خدا عَزَّوَجَلَّ تجھے غارت کرے، اِسے ایذا نہ دے، یہ تو تیرے پاس مہمان ہے ،عنقریب تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آئے گا۔‘‘(سُنَنُ التِّرْمِذِی، کتاب الرضاع،باب ماجاء فی کراھیۃ الدخول۔۔۔الخ، ص۳۰۵، الحدیث:۱۱۷۴، ملخصاً)
{5}…حُسنِ اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ جنت نشان ہے:’’جو عورت اس حال میں مری کہ اس کا شوہر اس سے راضی تھا تو وہ جنّت میں داخل ہو گی۔‘‘ (سنن ابن ماجہ،کتاب النکاح،باب حق الزوج علی المرأۃ،ص۲۹۷،الحدیث:۱۸۵۴)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع