30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{۱}…شوہر کی طرف سے ملنے والا ہر حُکم جو خلافِ شرع نہ ہو، بجا لانا ضَروری ہے۔
{۲}…اپنے شوہر اور ساس کا کھڑے ہو کر استقبال کیجئے اور کھڑے ہو کر ہی رخصت بھی کیجئے۔
{۳}…دن میں کم از کم ایک بار(ممکن ہو تو)ساس کی دست بوسی کیجئے۔
{۴}…اپنی ساس اور سُسر کا والدین کی طرح اِکرام کیجئے ۔ان کی آواز کے سامنے اپنی آواز پست رکھئے۔ان کے اور اپنے شوہر کے سامنے ’’جی جناب‘‘ سے بات کیجئے۔
{۵}…شوہر ضَرورتاً سزا دینے کا مجاز ہے۔([1]) ایسا ہو تو صبرو تحمُّلکا مظاہرہکیجئے، غصّہ کرکے یا زبان درازی کر کے گھر سے رُوٹھ کر آ جانے کی صورت میں آپ پر ’’مَیکے‘‘ کے دروازے بند ہیں ۔
{۶}…ہاں ! بغیر روٹھے شوہر کی اجازت کی صورت میں جب چاہیں میکے آ سکتی ہیں ۔
{۷}…اپنے میکے کی کوتاہیاں شوہر کو بتا کر غیبت کے گناہِ کبیرہ میں نہ خود مبتلا ہوں نہ اپنے شوہر کو ’’سُننے‘‘کے گناہِ کبیرہ میں ملوَّث کریں ۔
{۸}…اپنی’’بے عملی‘‘یا ’’لا علمی‘‘کو ڈھانپنے کے لئے اِس طرح کہہ دینا کہ ’’مجھے تو والِدَین نے یہ نہیں سکھایا‘‘ سخت حماقت ہے۔
{۹}…بہارِ شریعت حصّہ7 سے ’’نان نفقہ کا بیان‘‘، ’’زوجین کے حقوق‘‘ وغیرہ کا مطالَعہ کر لیجئے۔
{۱۰}…اپنے لئے کسی قسم کا ’’سُوال‘‘ اپنے شوہر سے کر کے ان پر بوجھ مت بننا۔ہاں ! اگر وہ مقرَّر کر دہ حقوق ادا نہ کریں تو مانگ سکتی ہیں ۔
{۱۱}…مِہمان کی خدمت سعاد ت سمجھ کر کرنا، اس کے اَخراجات کے معاملے میں شوہر پر بے جا بوجھ مت ڈالنا۔اپنے والد (یعنی سگ مدینہ) سے طلب کر لینا۔
اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ! مایوسی نہیں ہوگی اور اگر وہ خوش دلی سے رضا مند ہوں تو ان کی سعادت مندی ہو گی۔
{۱۲}…شوہر کی اجازت کے بِغیر ہرگز گھر سے نہ نکلیں ۔ (اسلامی بہنوں کو چاہیں تو تحفے میں اس تحریر کی فوٹو کاپی دے سکتی ہیں )۔ (۳صفرُ المظفر ۱۴۱۸ ھ)
[1] مُفَسِّرِ شہیر، حکیم ُ الا ُمَّت حضرتِ مفتی احمدیارخان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی سُوْرَۃُ النِّسَآء کی آیت نمبر 34 کے تحت لکھتے ہیں : ربّ تعالیٰ نے یہاں ان کی (یعنی بیویوں کی) اِصلاح کی تین صورتیں بیان فرمائیں : (1) نصیحت کرنا (2) بائیکاٹ کرنا (3) مارنا۔ (مزید لکھتے ہیں :) نافرمانی پر خاوند مار سکتا ہے مگر اِصلاح کی مار مارے نہ کہ ایذاء (یعنی تکلیف دینے) کی جیسے شاگرد کو اُستاد یا اولاد کو ماں باپ اِصلاح کے لئے مارتے ہیں ۔ بلاقصور بیوی کو مارنا سخت ممنوع ہے جس کی پکڑ ربّ (عزوجل) کے ہاں ضرور ہو گی۔ (تفسیرِ نعیمی،پ۵، النساء تحت الایہ۳۴، ج۵، ص۷۰، ملتقطاً)......
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع