30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بشارت دی ۔
{10}…حضرتِ سیِّدُنا امام مالِک بن انَس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : طہارتِ نفْس اور شرفِ نسب میں خاتونِ جنّت حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے برابر کوئی نہیں ہو سکتا۔(مراٰۃالمناجیح شرح مشکاۃ المصابیح،کتاب الفضائل، باب مناقب اھل بیت النبی،ج ۸،ص۴۵۳ تا ۴۵۵)
ایک اور رِوایت میں ہے: اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ، طیِّبہ، طاہِرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : رسولِ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم، صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی شہزادی خاتونِ جنّت حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو بلایا اور کان میں کوئی بات فرمائی وہ بات سن کر خاتونِ جنّت رونے لگیں ، آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھر سرگوشی کی (یعنی کان میں کوئی بات فرمائی) تو خاتونِ جنّت ہنسنے لگیں ، حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ، طیِّبہ، طاہِرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : میں نے خاتونِ جنّت سے کہا: آپ کے بابا جان، رحمتِ عالَمِیّان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کے کان میں کیا فرمایا جو آپ روئیں اور دوبارہ سرگوشی میں کیا فرمایا جو آپ ہنسیں ؟ خاتونِ جنّت نے کہا: میرے بابا جانِ رحمتِ عالَمِیّان، محبوبِ رحمن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پہلی بار سرگوشی میں اپنی وفاتِ ظاہِری کی خبر دی تو میں روئی اور دوسری بار سرگوشی میں یہ خبر دی کہ آپ کے اہل میں سے سب سے پہلے میں آپ سے ملوں گی، تو میں ہنسنے لگی۔ (صَحِیْحُ الْبُخَارِی،کتاب المناقب،باب علامات النبوۃ فی الاسلام، ص۹۲۰، الحدیث:۳۶۲۵،۳۶۲۶ ملتقطاً)
اس حدیث میں کئی غیبی خبریں ہیں :
{1}… خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا وقتِ وفات۔
{2}… نوعیتِ وفات کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا خاتِمہ ایمان، تقویٰ اور پرہیزگاری کے اعلیٰ دَرَجہ پر ہو گا۔
{3}… آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا قبر و حشْر میں اَوَّل نمبر کامیاب ہونا۔
{4}…آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کاپُل صراط سے بخوبی گزر جانا۔
{5}…آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا جنّت کے اعلیٰ مقام پر حتّٰی کہ حُضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ رہنا۔ (مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح،کتاب الفضائل ،باب مناقب اھل بیت النبی، ج۸، ص۴۵۵)
جن کا نامِ مُبارَک ہے بی فاطمہ جو خواتینِ عالَم میں ہیں عالِیہ
عابِدہ ، زاہِدہ ، ساجِدہ ، صالِحہ سیِّدَہ ، زاہرہ ، طیِّبہ ، طاہِرہ
جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ذکر کردہ رِوایت اور اس کی شرْح فضائلِ فاطمہ اور کمالاتِ مصطفٰے کا حسین اِمتِزاج(اِم۔تِ۔زاج یعنی آمیزش) ہے، ایک طرف حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی شانِ عظَمت نِشان کے پھول کھلتے ہیں تو دوسری طرف علوم وکمالاتِ مصطفٰے کے گلشن مہکتے ہیں ، ایک طرف لاڈلی شہزادی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو ملنے والا قربِ الٰہی،ا ن کی بقیہ دُنْیوی زندگی اور اُخروی انعام واِکرامات کی خبردی جا رہی ہے تو دوسری طرف فضل وکمالِ مصطفٰے کے باب بھی روشن تر ہوتے جا رہے ہیں جن کو حکیم ُالا ُمَّت عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت سمیت ہر صاحبِ بصیرت(یعنی عقل مند) نے ا پنی بِساط(یعنی ہمت) کے مُطابِق سمجھا اورعشقِ رسول وعقیدتِ بتول کو فُزُوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع