30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱۵)…’’مسائل ُ القرآن‘‘ میں ہے ہر نماز کے بعد یہ دُعا اوّل وآخر دُرود شریف کے ساتھ ایک بار پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بال بچّے سنتوں کے پابند بنیں گےاور گھر میں مدَنی ماحول قائم ہو گا۔ (دُعا یہ ہے:) ’’(اَللّٰھُمَّ) رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا(۷۴) (پ۱۹،الفرقان:۷۴) (اَللّٰھُمَّ آیتِ قرآنی کا حصہ نہیں )یعنی اے ہمارے ربّ! ہمیں دے ہماری بیبیوں اورہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔‘‘(مسائلُ القران،چند قرآنی اعمال، ص۲۸۲)
(۱۶)…نافرمان بچّہ یا بڑا جب سویا ہو تو 11یا21دن تک اس کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ آیاتِ مبارَکہ صرف ایک بار اتنی آواز سے پڑھئے کہ اس کی آنکھ نہ کھلے:بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ(۲۱) فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠(۲۲) (پ۳۰، البروج:۲۱،۲۲) ترجمۂ کنزالایمان : اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔بلکہ وہ کمالِ شرف والا قرآن ہے لَوحِ محفوظ میں ۔‘‘
(اوّل و آخر ایک مرتبہ درود شریف) یاد رہے! بڑا، نافرمان ہو تو سوتے سوتے سرہانے وظیفہ پڑھنے میں اس کے جاگنے کا اندیشہ ہے خصوصاًجب کہ اس کی نیند گہری نہ ہو، یہ پتا چلنا مشکل ہے کہ صرف آنکھیں بند ہیں ، یا سو رہا ہے لہٰذا جہاں فتنے کا خوف ہو وہاں یہ عمل نہ کیا جائے، خاص کر بیوی اپنے شوہر پر یہ عمل نہ کرے۔
(۱۷)…نیز نافرمان اولاد کو فرمانبردار بنانے کے لئے تا حصولِ مراد نمازِ فجر کے بعد آسمان کی طرف رُخ کر کے ’’یَا شَہِیْدُ‘‘21 بار پڑھئے (اوّل و آخر ،ایک بار درود شریف)
(۱۸)…مدَنی انعامات کے مطابق عمل کی عادت بنائیے اور گھر کے جن افراد کے اندر نرم گوشہ پائیں ان میں ،اور آپ اگر باپ ہیں تو اولاد میں نرمی اور حکمتعملی کے ساتھ مدَنی انعامات کا نفاذکیجئے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے گھر میں مدنی انقلاب برپا ہو جائے گا ۔
(۱۹)… پابندی سے ہر ماہ کم از کم تین دن کے مدَنی قافلے میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر کر کے گھر والوں کے لئے بھی دُعا کیجئے۔ مدَنی قافلے میں سفر کی برکت سے بھی گھروں میں مدَنی ماحول بننے کی ’’مدَنی بہاریں ‘‘سننے کو ملتی ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ جنابِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اس تکلیف کی شکایت کرنے جو اُن کے ہاتھ کو چکّی سے پہنچتی تھی انہیں جب خبر ملی تھی کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس غلا م آئے ہیں ۔ انہوں نے حضور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نہ پایا تو حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے یہ قصّہ عرْض کیا، فرماتے ہیں کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لائے جب کہ ہم بستر پکڑ چکے تھے تو ہم اٹھنے لگے تو فرمایا: اپنی جگہ رہو، تشریف لائے میرے اورفاطِمَۃُ الزَّہراءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے درمیان بیٹھ گئے۔ حتّٰی کہ میں نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدَم کی ٹھنڈک اپنے پیٹ پر محسوس کی، فرمایا: میں تمہیں تمہارے سوال سے بہتر چیزنہ بتا دوں؟جب تم اپنے بستر لو تو، 33 بار سُبْحٰنَ اللہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع