30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حصّہ چمکے۔ (2)…کپڑے تنگ وچُست نہ ہوں جو بدن کی ہیئات (یعنی سینے کا اُبھار یا پنڈلی وغیرہ کی گولائی وغیرہ) ظاہِر کریں ۔ (3)…بالوں یا گلے یا پیٹ یا کلائی یا پنڈلی کا کوئی حصّہ ظاہِر نہ ہوتا ہو۔ (4)…کبھی نامَحْرَم کے ساتھ خَفیف (یعنی معمولی سی) دیر کے لئے بھی تنہائی نہ ہوتی ہو۔ (5)…اُس کے وہاں رہنے یا باہَر آنے جانے میں کوئی مَظِنَّۂ فِتنہ (فتنے کا گمان) نہ ہو۔ یہ پانچوں شرطیں اگر جَمْع ہیں توحَرَج نہیں ۔(فتاوٰی رضویہ، ج۲۲، ص۲۴۸)
مگر ان پانچ شرائط پر عمل فی زمانہ مشکِل ترین ہے۔ اگر بے پردَگیکرنے والی ہوئی تو گھر کے مَردوں کا بدنگاہیوں اور جہنَّم میں لے جانے والی حَرَکتوں سے بچنا سخت دشوار ہو گابلکہ مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ گھر کی پردہ نشین خواتین کے اَخلاق بھی تباہ کر دے گی۔ غیر عورت کے ساتھ مرد کی خفیف یعنی معمولی سی تنہائی بھی حرام ہے اور گھر میں رہنے والے مرد کا آج کل اس سے بچنا تقریباً ناممکن ہو تا ہے۔ لہٰذا گھر میں کام والی نہ رکھنے ہی میں عافیّت ہے۔
بعض کام کرنے والیاں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ گھروں میں چوریاں کرتی ہیں ، موبائل لے جاتی ہیں ، گھروں میں ناچاقیوں کا سبب بنتی ہیں ، بے پردگی کا سبب بنتی ہیں ، بسا اوقات گھروں میں ڈکیتیوں کا باعث بنتی ہیں ، گھر والی کو نشہ آوَر چیز پلا کر سونے کے زیورات لے اُڑتی ہیں ، اگرچہ ساری ایسی نہیں ہوتیں ، مگر ایسی بھی ہوتی ہیں ، تو کام والیوں یا کام والوں سے بچنے میں ہی عافیّت ہے۔
خالق کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں
امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ الْمُرتَضٰی، شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے ، سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ، قرارِ قلب وسینہ، فیض گنجینہ، صاحِبِ مُعطَّر پسینہ، باعِثِ نُزُولِ سکینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ باقرینہ ہے، ’’لَا طَاعَۃَ فِیْ مَعصِیَۃِ اللہِ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعرُوْفِ‘‘یعنی اللہعَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ، اِطاعت تو صرف نیکی کے کاموں میں ہے۔‘‘ (صَحِیْح مُسْلِم،کتاب الامارہ،باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر۔۔۔الخ، ص۷۳۷، الحدیث:۱۸۴۰)
اِس حدیثِ پاک میں ارشاد فرمودہ لفظ ’’مَعروف‘‘ کی تعریف بیان کرتے ہوئے مُفَسّرِشہیر، حکیم ُ الْا ُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں ، ’’معروف وہ کام ہے جسے شریعت مَنْع نہ کرے، معصِیَت وہ کام ہے جسے شریعت مَنْع فرما دے۔‘‘(مِراٰۃُ المَناجِیْح شَرْح مِشْکٰوۃُ الْمَصَابِیْح،کتاب الامارۃ والقضاء ،ج۵، ص۳۴۰)
اگر آپ کا گھر سے نکلنا ضروری ہو تو شَرعی اجازت کی صُورَت میں گھر سے نکلتے وقت اسلامی بہن غیر جاذِبِ نظر کپڑے کا ڈِھیلا ڈھالا مدَنی بُرقَع اَوڑھے، ہاتھوں میں دستانے اور پاؤں میں جُرابیں پہنے۔ مگر دستانوں اور جُرابوں کا کپڑا اتنا باریک نہ ہو کہ کھال کی رنگت جھلکے۔ جہاں کہیں غیر مردوں کی نظر پڑنے کا اِمکان ہو وہاں چِہرے سے نِقاب نہ اُٹھائے مَثَلاً اپنے یاکسی کے گھر کی سیڑھی اور گلی مَحَلّہ وغیرہ۔ نیچے کی طرف سے بھی اِس طرح بُرقع نہ اُٹھائے کہ بدن کے رنگ برنگے کپڑوں پر غیر مردوں کی نظر پڑے۔ واضح رہے کہ عورت کے سر سے لے کر پاؤں کے گِٹّوں کے نیچے تک جسم کا کوئی حصّہ بھی مَثَلاً سر کے بال یا بازو یا کلائی یاگلا یا پیٹ یا پنڈلی وغیرہ اجنبی مرد (یعنی جسں سے شادی ہمیشہ کیلئے حرام نہہو) پر بلااجازتِ شَرْعی ظاہر نہ ہو بلکہ اگر لباس ایسا مَہِین یعنی پتلا ہے جس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع