30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیاری پیاری اسلامی بہنو! رضائے خدا ومصطفٰے کی خاطر گھر کا کام کاج خود کیا کریں ۔ گھر کے کام کرنے کے بھی بہت سے فوائد ہیں اور اس سے بھی بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرتا ہے، چُنانچِہدعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدِینہکے مطْبوعہ 75صفْحات پر مُشْتَمِل رسالہ ’’ سیرتِ سیِّدُنا ابو دردائ‘‘ صَفْحَہ62پر ہے: حضرتِ سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے حضرتِ سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکی طرف ایک مکتوب روانہ فرمایا جس میں یہ بھی تھاکہ اے میرے بھائی! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو نے ایک خادم خریدا ہے میں نے اللہ کے حبیب ، حبیبِ لبیب عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ’’بندہ جب تک کسی خادم سے مدد نہیں لیتا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قریب ہوتا رہتا ہے اور جب وہ کسی خادم سے خدمت لیتا ہے تو اس پر اس کا حساب لازم ہو جاتا ہے۔ ‘‘ میری زوجہ نے مجھ سے ایک خادم رکھنے کامطالبہ کیا تھا لیکن حساب کے خوف سے میں نے اسے ناپسند جانا، حالانکہ میں ان دنوں مالدار تھا۔(حلیۃ الاولیاء،ابو الدردائ،ج۱، ص۲۷۴، رقم۷۰۲)
ذرا ہم اپنا محاسَبہ بھی کر لیں کہ ہماری کیفِیَّت کیا ہے اور یاد رکھئے کہ خاتونِ جنَّت حضرتِ سیِّدَہ فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا گھر کا کام خود کرنا شہنشاہِ نُبُوَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مرضی و مَنْشا کے مطابق تھا یقینا جو کام شاہِ خیرُ الانام، محبوبِ ربُّ الانام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پسند فرمائیں وہ ربّ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں بھی پسندیدہ اور محبوب ہے۔ اب ذرا غور فرمائیے کہ جس کام میں خدا ومصطفٰے عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رضا و خوشنودی ہو اُس سے جی چرانا، جان چُھڑانا، سستی کرنا کیسا؟ گھر میں کام کاج کی برکت سے بھائی بہنوں اور ماں باپ کی منظورِ نظر بن جائیں گی۔ شادی شدہ ہیں تو شوہر، نند اور ساس کے دلوں میں جگہ بن جائے گی۔ اگر پہلے سے ہی کام کرنے کی عادت پڑے گی تو شادی کے بعد گھر سنبھالنا آسان ہو گا اور گھر امن کا گہوارہ بن جائے گا، کئی نادان والدین اپنی بچیوں کو کام نہیں کرنے دیتے نتیجتاً انہیں کھانا پکانے، برتن دھونے، کپڑے دھونے، کپڑے سینے کی تربِیَّت نہیں ہوتی اور شادی کے بعد آزمائش ہوتی ہے۔
گھر میں کام والی رکھ سکتے ہیں یا نہیں ؟
اب یہ بھی مُلاحَظہ فرما لیجئے کہ گھر میں کام والی رکھ سکتے ہیں یا نہیں ،چُنانچِہدعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مَطْبُوعہ کتاب ’’پردے کے بارے میں سوال جواب‘‘([1])صفْحہ161 پر شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علاَّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فتاوی رضویہ کے حوالے سے فرماتے ہیں :
سوال: گھر میں ’’کام والی‘‘ رکھ سکتے ہیں ؟
جواب: رکھ تو سکتے ہیں مگر 5 شرائط کے ساتھ (1)…کپڑے باریک نہ ہوں جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ سِتْر کا کوئی
[1] کتاب ’’پردے کے بارے میں سوال جواب‘‘ پردے کے متعلق بہترین کتاب ہے، اپنے موضوع پر جامع اور بہت عام فہم ہے، ہر اسلامی بھائی اور اسلامی بہن کے لئے یکساں مفید ہے، اپنے شہر کے مکتبۃ المدینہ سے ہدیۃً حاصل کیجئے یا پھر دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹwww. dawateislami.net سے پڑھ لیجئے یا پرنٹ آؤٹ کر لیجئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع