30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جگر گوشۂ رسول، حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بتول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نکاح کے بعد جب حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ، شیرِ خدا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ کے دولت خانہ میں تشریف لائیں تو گھر کے تمام کاموں کی ذمّہ داری آپ پر آ پڑی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اس ذمّہ داری کو بڑے اَحسن انداز میں نبھایا اور ہر طرح کے حالات میں اپنے عظیم ُ المرتبت شوہر کا ساتھ دیا ، چُنانچِہ
حضرتِ سیِّدُنا ضَمْرَہ بن حبیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُمورِ خانہ داری (مثلاً چکی پیسنے، جھاڑو دینے، کھانا پکانے کے کام وغیرہ) اپنی شہزادی حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃُالزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سپُرد فرمائے اور گھر سے باہر کے کام (مثلاً بازار سے سودا سلف لانا، اُونٹ کوپانی پلاناوغیرہ) حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ذمّہ لگا دیئے۔(اَلْمُصَنَّف لِاِبْنِ اَبِیْ شَیْبَۃ، کتاب الزھد،کلام علی بن ابی طالب، ج۸، ص۱۵۷، الحدیث:۱۴)
ایک روایت میں ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ نے اپنی والدۂ ماجدہ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بنتِ اسد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں عرض کی، ’’فاطمۃُ الزَّہراء (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)آپ کی خدمت اور گھر کے کام کاجکیا کریں گی۔‘‘(اَلْاِصَابَۃُ فِیْ تَمْیِیْزِ الصَّحَابَۃِ، ج۸، ص۲۹۷)
حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی سیرت کا مطالَعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا خانہ داری کے کاموں کی اَنجام دہی کے لئے کبھی کسی رشتہ دار یا ہمسائی کو اپنی مدد کے لئے نہیں بلاتی تھیں ۔ نہ کام کی کثرت اور نہ کسی قسم کی محنت مشقت سے گھبراتی تھیں ۔ ساری عمر شوہر کے سامنے حرفِ شکایت زبان پر نہ لائیں اور نہ ان سے کسی چیز کی فرمائش کی۔ کھانے کا اُصول یہ تھا کہ چاہے خود فاقے سے ہوں جب تک شوہر اور بچوں کو نہ کھلالیتیں خود ایک لقمہ بھی منہ میں نہ ڈالتیں ۔
پیاری پیاری اسلامی بہنو! آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ حیدرِ کرَّار، شیرِ خدا حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور رسولُ اللہ کی شہزادی ،جنّتی عورتوں کی سردارحضرت ِسیِّدَتُنا فاطِمۃُالزَّہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے گھر میں کام کے لئے خادم نہیں رکھا بلکہ اپنے گھر کے کام خود کیا کرتی تھیں ۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذہن میں آئے کہ وہ اور دَور تھا اب اور زمانہ ہے۔ تو سنئے کہ اس دَور کی عظیم روحانی شخصِیَّت شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت حضرتِ علَّامہ مولانا محمد الیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے گھر میں کبھی کوئی کام کرنے والی نہیں رکھی گئی، اس میں ہر اسلامی بہن ،بالخصوص امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مرید، طالب یامحب اسلامی بہنوں کے سیکھنے کے لئے بَہُت کچھ ہے۔ یاد رہے! فارغ دماغ شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے تو زیادہ مناسب یہی ہے کہ گھر کے کام کاج میں لگی رہیں ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : کرنے کے کام کرو، ورنہ نہ کرنے کے کاموں میں پڑ جاؤ گے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع