30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ بھی کبھی مجھ سے ناراض نہ ہوئیں اور نہ ہی کسی بات میں میری نافرمانی کی اور جب بھی میں ان کو دیکھتا تووہ میرے دکھ درد دُور کرتی دکھائی دیتیں ۔‘‘ (اَلرَّوْضُ الْفَائِق،المجلس الثامن والاربعون فی زواج علی بفاطمۃ…الخ، ص۲۷۸، ملخصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! جس سے اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ محبت کریں اس کو اَذِیَّت و تکلیف سے بچانا اور ہر دم اس کو خوش رکھنے کی کوشش کرنا ہر صحیحُ العقیدہ کامِل مسلمان اپنے اوپرلازم گردانتا (یعنی لازم مانتا)ہے، جیسے حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے نصیحت ِ مصطفٰے پر کاربند رہتے ہوئے اپنے اوپر لازِم کر لیا تھا کہ بنتِ رسول حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پر غصے اور ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کرنا۔ اور اس خوشگوار ماحول کو مزید تقویت حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے طرزِ عمل نے دی کہ اپنے شوہرِ نامدار، محبوبِ حبیب ِپروردگارکے دُکھ درد دور کرنے اور ان کو خوش رکھنے کی کوشش کی، اگر بیوی سیِّدَۂ کائنات اور شوہر مولائے کائنات کَرَّمَ اﷲُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الکَرِیْم کے طرزِ عمل کو اپنا لیں تو گھر ضرور امن کا گہوارہ بن جائیں گے۔([1]) کیونکہ ان نُفوسِ قُدْسِیَّہ (نُ۔فُوْ۔سِ۔قُدْ۔سِیْ۔یَہ یعنی پاکباز لوگوں ) کی حَیاتِ طَیِّبہ (حَ۔یَاتِ۔طَیْ۔یِبَہ یعنی پاکیزہ زندگی) کا ہر ہر پہلو تمام مسلمانوں کے لئے مشعلِ راہ (مَ۔شْ۔عَلِ۔رَاہ یعنی راہنما) ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدَنی ماحول کو اپنا کر ان حضراتِ والا عزَّت کے نقشِ قدَم پر چلتے ہوئے زندگی گزارنا سیکھیں کہ دعوتِ اسلامی کا مدَنی ماحول برائیوں سے بچنے اور نیکیوں پر کاربند رہنے کا ذہْن دیتا ہے۔ اس مدَنی ماحول کو اپنا کر مُعاشَرے کے کئی بگڑے ہوئے اَفراد سُدھرنے میں کامیاب ہو گئے، جیسا کہ
میں نے مدَ نی بُرقَع کیسے اپنایا؟
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ308 صفْحات پر مشتمِل کتاب ’’اسلامی بہنوں کی نماز‘‘ صفْحہ273 پر ہے: بابُالمدینہ(کراچی) کی ایک اسلامی بہن کے بیان کالُبِّ لُبا ب ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہونے سے پہلے میں بَہُت زِیادہ فیشن اَیبل تھی، فون کے ذریعے غیر مردوں سے دوستی کرنے میں بڑا لُطف آتا، پڑوس کی شادیوں میں رسمِ مہندی وغیرہ کے موقع پَر مجھے خاص طور پر بُلایا جاتا، وہاں میں نہ صِرف خُود رَقص کرتی بلکہ دوسری لڑکیوں کوبھی ڈانڈیا راس سِکھاکر اپنے ساتھ نچواتی، لاتعداد گانے مجھے زبانی یا د تھے، آواز چونکہ اچھی تھی اس لئے میری سہیلیاں مجھ سے اکثر گانا سنانے کی فرمائش کیا کرتیں ۔ بدقسمتی سے گھر میں T.V بَہُت دیکھا جاتا تھا، اس کے بیہودہ پروگراموں کا میری تباہی میں بَہُت اہم کردار تھا۔ رَبِیْعُ النُّورشریف کی ایک سہانی شام تھی، نَمازِ مغرِب کے بعد میرے بڑے بھائی گھر آئے توان کے ہاتھ میں مکتبۃُ المدینہکے جاری کردہ سنّتوں بھرے بَیانات کی تین کیسٹیں تھیں ، ان میں سے ایک بَیان کا نام ’’قبر کی پہلی رات‘‘ تھا خوش قسمتی سے میں نے یہ کیسٹ سننے کی سعادت حاصِل کی، قبر کا مرحلہ کس قدَر کٹھن ہے، اس کا احساس مجھے یہ بَیان سن کر ہوا۔ مگر افسوس! میرے دل پر گناہوں کی لَذّت کااس قَدَرغَلَبہ تھا کہ مجھ میں کوئی خاص تبدیلی نہ آئی ۔ ہاں ! اتنا فرق ضَرور پڑا کہ اب مجھے گناہوں کا اِحساس ہونے لگا۔ کچھ ہی دن بعد پڑوس میں دعوتِ اسلامی کی ذِمے دار اسلامی بہنوں نے بسلسلہ ’’گیارہویں شریف‘‘ اِجتِماعِ ذکر ونعت کا اِہتِمام
[1] اپنے گھروں کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادریدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کیVCD’’گھر امن کا گہوارہ کیسے بنے؟‘‘ خود بھی دیکھئے اور گھر والوں کو بھی دکھائیے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع