30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بنت علی، ص۳۷۸)
سیِّدَتُنا اُمِّ کلثوم کی اولاد
حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے بطنِ مبارَک سے حضرتِ سیِّدُنا عُمَر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ کا ایک بیٹازید بن عمر اکبر اور ایک بیٹی رقیہ پیدا ہوئی۔(اُسُدُ الْغَابَۃِ فِی مَعْرِفَۃِ الصَّحَابَۃ، ج۷،حرف الکاف،ا م کلثوم بنت علی، ص۳۷۸)
حضرتِ سیِّدُنا عُمَر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ کے انتقال کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا نکاحِ ثانی حضرتِ سیِّدُنا عون بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ سے ہوا اور حضرتِ سیِّدُنا عون بن جعفر کے انتقال کے بعد ان کے بھائی حضرتِ سیِّدُنا محمدبن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ سے ہوا اور حضرتِ سیِّدُنامحمد بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکے انتقال کے بعد ان کے بھائی حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ سے ہوا۔(الطبقات الکبرٰی لابن سعد، تسمیۃ النساء اللواتی…الخ، ام کلثوم بنت علی، ج۸، ص۳۳۸)
سیِّدَتُنا اُمِّ کلثوم کا اِنتقالِ پُرملال
حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا انتقال حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ کے نکاح میں ہوا۔حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور ان کے بیٹے حضرتِ سیِّدُنا زید بن عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا انتقال ایک ہی ساعت میں ہوا۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، القسم الرابع، اُمِّ کلثوم بنت علی، ج۸، ص۳۶)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے سیِّدَینا علی وفاطمہ کے حُسْنِ معاشرت پر مشتمل ایک روایت پیش کی جاتی ہے:
حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : ’’ ایک اِنتِہائی ٹھنڈی اورشدید سرد صبح رسولِ خدا، محمدِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے ہاں تشریف لائے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں دعائے خیر سے نوازا اور پھر حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے تنہائی میں پوچھا : ’’اے میری بیٹی! تو نے اپنے شوہر کو کیسا پایا؟‘‘ جواب دیا: ’’وہ بہترین شوہر ہیں ۔‘‘ پھرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضر تِ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکوبلاکر اِرشاد فرمایا: ’’اپنی زوجہ سے نرمی سے پیش آنا، بے شک فاطمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جو چیز اسے دُکھ دے گی مجھے بھی دُکھ دے گی اور جو اسے خوش کرے گی مجھے بھی خوش کرے گی، میں تم دونوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کرتا ہوں ،اور تم دونوں کو اس کی حفاظت میں دیتا ہوں ۔ اس نے تم سے ناپاکی دور کردی اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھر ا کر دیا۔‘‘
حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اس حکمِ مصطفی کے بعد میں نے نہ تو کبھی حضرتِ فاطمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا پر غصّہ کیا اور نہ ہی کسی بات پرانہیں ناپسند کیا یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کو اپنے پاس بلا لیا،بلکہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع