30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وِصال ہو گیا) تو میں نے کہا: میرا آپ پر جو حق ہے میں آپ کو اس حق کی قسم دے کر سوال کرتی ہوں ، مجھے بتائیے: رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ سے کیا فرمایا تھا؟ خاتونِ جنّت نے کہا: ہاں ! اب میں بتاتی ہوں ، پہلی بار حبیبِ پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سرگوشی کی تو مجھے یہ خبر دی کہ ہر سال جبرئیل (عَلَیْہِ السَّلام) مجھ سے ایک بار قراٰنِ پاک کا دَور کیا کرتے تھے اس مرتبہ انہوں نے 2 بار دَور کیا ہے، اب میرا یہی گمان ہے کہ میرا وقْت قریب آ گیا ہے، تم اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور صبْر کرنا، بے شک میں تمہارا اچھا پیشوا ہوں ۔خاتونِ جنّت نے کہا: یہ سن کر مجھ پر گریہ طاری ہوا (یعنی میں رونے لگی)۔ جب بابا جان، محبوبِ رحمن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میری بیقراری دیکھی تو مجھ سے دوبارہ سرگوشی کی اور فرمایاـ: ’’یَا فَاطِمَۃُ اَلا تَرْضِیْنَ اَنْ تَکُوْنِیْ سَیِّدَۃَ نِسَآءِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ اَوْنِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ ترجمہ: اے فاطمہ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم تمام جنتیوں کی بیویوں یا مومنوں کی بیویوں کی سردار ہو۔‘‘ خاتونِ جنّت نے فرمایا: پھر مجھے ہنسی آ گئی۔(مشکاۃ المصابیح، کتاب المناقب ،باب مناقب اھل بیت النبی،الفصل الاوّل، ج۲، ص۴۳۵، الحدیث:۶۱۳۸)
10 فضائل فاطمہ
{1}… خاتونِ جنت حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سر سے پاؤں تک ہم شکلِ مصطفیٰ تھیں ۔
{2}…آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی چال ڈھال ہر وضع قطع حُضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُشابِہ تھی۔
{3}… اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جیتی جاگتی تصویر بنایا تھا۔
{4}…مفتی احمد یار خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اُمُّ الحَسَنَیْن شہزادیٔ کونَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی شان میں عرض کرتے ہیں :
رسولُ اللہ کی جیتی جاگتی تصویر کو دیکھا
کیا نظارہ جن آنکھوں نے تفسیرِ نُبُوّت کا
(دیوانِ سالِک از حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{5}…حُضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب خاتونِ جنّت فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو آتا دیکھتے تو خوشی سے کھڑے ہو جاتے اور اپنی جگہ بٹھا لیتے۔
{6}…جب خاتونِ جنّت فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بارگاہِ رِسالت میں حاضِر ہوئیں تو تمام اُمَّہاتُ المومِنین موجود تھیں مگر شاہِ بحر وبر، رسولِ ا نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے راز کی بات صرف اپنی لاڈلی شہزادی سے کی۔
{7}…ماہِ رَمَضان میں قراٰن کا دَور کرنا سنّتِ رسولی بھی ہے اور سنّتِ جبریلی بھی (قراٰنِ پاک کا دَور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک پڑھے اور دوسرا سنے، پھر دوسرا پڑھے اور پہلا سنے، معلوم ہوا حبیبِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنے وِصال مُبارَک کا پہلے سے ہی علم تھا کہ اگلے رَمَضان سے پہلے ہی ہماری وفاتِ ظاہِری ہو جائے گی)۔
{8}…اے فاطمہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)! جیسے تم ہماری حَیات شریف میں طیِّبہ، طاہِرہ، مُتَّقِیَّہ، صابِرہ رہی ہو ایسے ہی ہماری وفات کے بعد بھی رہنا، تمہارے پائے اِستِقلال (اِس۔تِق۔لَال یعنی مستقل مزاجی) میں جُنْبِش (جُم۔بِش یعنی حرکت) نہ آنے پائے، خاتونِ جنّت نے اس پر عمل کر کے دکھا دیا، رونا صبْر کے خلاف نہیں ، نوحہ، پیٹنا وغیرہ صبْر کے خلاف ہے یہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے کبھی نہیں کیا۔
{9}…تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی شہزادی کو جنّتی لوگوں کی بیویوں یا مومنوں کی بیویوں کی سردار ہونے کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع