30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طرف ماں جنّتی عورتوں کی سردار ہے تود وسری طرف بیٹے جنّتی جوانوں کے سردار۔ آئیے! خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی اولادِ پاک کا ذکرِ خیر بھی مُلاحَظہ فرما لیجئے!
خاتونِ جنّت کی اولادِ پاک
{1}…سیِّدُنا امام حَسَن کی ولادت باسعادت
خاتونِ جنّت کے بڑے شہزادے حضرت سیِّدُنا امام حَسَن مجتبیٰ ہیں ، آپ کا اسمِ گرامی حَسَن، کُنْیَت ابومحمد اور اَلقاب سیِّدِ شبابِ اہلِ الجنّۃ، سبط وریحانِ رسول ہیں ۔ آپ کی ولادت باسعادت ۱۵رَمَضانُ المبارَک ۳ھ میں ہوئی۔
حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کا نام حَسَن رکھا پھر پیدائش کے ساتویں دن آپ کا عقیقہ کیا، بال اُتروائے اور حکم فرمایا کہ بالوں کے وزن برابر چاندی صدَقہ کی جائے۔(اُسُدُ الْغَابَۃِ فِی مَعْرِفَۃِ الصَّحَابَۃ، باب الحاء والسین،حسن بن علی، ج۲، ص۱۳-۱۴، ملخصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سیِّدُنا امام حَسَن کی ازواج واولاد
حضرتِ سیِّدُنا امام حَسَن مجتبیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہٗ نے 90 شادیاں کیں ۔(تاریخ الخلفاء، ص۱۲۲)
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہکی چند بیویوں کے نام درج ذیل ہیں: (۱)…حضرتِ سیِّدَتُنااُمِّ بشیر بنت ابومسعود انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا (۲)…حضرتِ سیِّدَتُناخولہ بنت منظور رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا (۳)…حضرتِ سیِّدَتُنا رملہ بنت سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا (۴)…حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ اسحاق بنت طلحہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا۔
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے چند شہزادوں اور شہزادیوں کے نام درج ذیل ہیں : (۱)…حضرتِ سیِّدُنا زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ۔ (۲)… حضرتِ سیِّدُنا حَسَن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ۔ (۳)…حضرتِ سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ۔ (۴)… حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ۔ (۵)…حضرتِ سیِّدُنارَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ۔ (۶)…حضرتِ سیِّدُنا عبدُ الرَّحمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ۔ (۷)…حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ۔ (۸)…حضرتِ سیِّدُنا حسین اثرم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ۔ (۹)…حضرتِ سیِّدُنا قاسم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ۔ (۱۰)…حضرتِ سیِّدُنا عَمْرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ (۱۱)…حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا۔(۱۲)… حضرتِ سیِّدَتُنا اُمُّ الحسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا۔ (اَنْسَابُ الْاَشْرَاف، ج۳، ص۳۰۴ تا ۳۰۶ ، ملخَّصاً)
فقیہِ ملت مفتی جلالُ الدِّین احمد امجدی اپنی کتاب ’’خطباتِ محرم‘‘ صفْحہ 278 پر نقْل فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا امام حَسَن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہنے پینتالیس (45) سال چھ ماہ چندروز کی عمر میں بمقام مدینہ طیبہ ۵ربیع الاوّل ۴۹ھ میں زہر خوانی سے شہادت نصیب پائی اور جنّتُ البقیع میں اپنی پیاری امِّی جان خاتونِ جنّت جگر گوشۂ رسول حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بتول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پہلو میں مدفون ہوئے۔اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع