30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عرض کی: حضور! اب مہنگائی بڑھ گئی ہے ، بہت دقّت ہو رہی ہے ،اگر آپ اِس لنگر خانے کا خرچہ دینے والے مرید کو اشارہ کردیں گے کہ وہ رقم دُگنی کردے تو اپنا لنگر خانہ ذرا آسانی سے چلے گا۔ پیر صاحب اس پر راضی ہوگئے اور اُس مرید کو فرمایا کہاللہ تعالیٰ نے تجھے بہت دیا ہے،تم ماہانہ چندہ دُگنا کر دو۔ اس مُرید نے سعادت مندی سے جواب دیا :مرشد آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ کچھ عرصے کے بعدلنگر خانے کے منتظم نے پوچھا حضور ! آپ نے رقم میں اضافہ کے لئے کہا یا نہیں ؟پیر صاحب نے فرمایا کہ میں نے اس سے کہہ دیا تھا اور اس نے دوگنا بھی کردیا ہے مگر فرق یہ ہے کہ پہلے بڑی عقیدت سے آ کر پیش کرتا تھا، اب خود
نہیں آتا بھجوا دیتا ہے۔
(پھر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا) اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میرا بیٹا (یعنی حاجی احمد عبید رضا عطاری سَلَّمَہُ الْبَارِی) خود ولیمہ کی سنت ادا کرے گا۔دُھوم دھام سے نہ سہی مگر ولیمہ ہوگا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
شہزادۂ عطّار مُدَّ ظِلُّہُ الْعَالی نے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی حسبِ خواہش انتہائی سادَگی سے دعوت ِ ولیمہ کا اہتمام فرمایا جس میں صرف دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے تمام اراکین اور تین یا چار دوسرے اسلامی بھائیوں کو مدعو کیا لیکن کھانے کے وقت گھر کے باہر جمع ہونے والے دیگر عقیدت مند اسلامی بھائیوں کوبھی اندربلوالیا گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! ا میرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بھی ولیمے میں شریک تھے۔ دعوتِ ولیمہ میں دال اور چاول پیش کئے گئے۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے بتایاکہ ’’کھانا گھر میں پکایا گیا ہے، دال پانی میں پکائی گئی ہے اور اس میں تیل کا ایک قطرہ بھی نہیں ڈالا گیا ۔‘‘ مگر کھانے والوں کا کہنا ہے کہ دال چاول حیرت انگیز طور پر انتہائی لذیذ تھے۔(سنت نکاح، قسط۳، ص۳۲ تا ۴۱، ملتقطاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! شادی کے موقع پر رخصتی کے وقت قبر کی طرف رُخصتی کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے۔ اکثر نماز کی پابند اسلامی بہنیں بھی اس موقع پر فرض نماز تک چھوڑ دیتی ہیں ۔ دیکھئے! خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے شادی کی پہلی رات کیسے گزاری آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو شادی کی پہلی رات بھی فکرِ قبروآخرت نے بے چین کر رکھا تھا چُنانچِہ منقول ہے کہ
سیِّدۂ کائنات([1])حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی رخصتی کے بعد جب رات کا اندھیرا چھا یا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا رونے لگیں ۔ حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہ الْکَرِیْم نے پوچھا: ’’اے تمام عورتوں کی سردار! کیا تم اس بات سے خوش نہیں کہ میں تمہارا شوہر اور تم میری زوجہ ہو؟‘‘ کہنے لگیں : ’’میں کیونکر راضی نہ ہوں گی ،آپ تو میری رضا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہیں ، میں تو اپنی اس حالت و معاملے کے متعلق سوچ رہی ہوں کہ جب میری عمر بِیت جائے گی اور مجھے قبر میں داخل کردیاجائے گا، آج میرا عزّت و فخر کے بستر میں داخل ہونا کل قبر میں داخل ہونے کی مانند ہے۔ آج رات ہم اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع