30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سامنے نوشہ علیِّ مرتضٰی حیدرِ کرّار شاہ ِ لَا فَتٰی
آج گویا عرْش آیا ہے اتر یا کہ قُدسی آ گئے ہیں فرش پر
جمع جب یہ سارا مجمع ہو گیا سیِّدُ الکونین نے خطبہ پڑھا
جب ہوئے خطبے سے فارِغ مصطفیٰ عقْد زَہرا کا علی سے کر دیا
چار سو مِثقال چاندی مہر تھا وزن جس کا ڈیڑھ سو تولہ ہوا
بعد میں خُرمے لُٹائے لاکلام ماسِوا اس کے نہ تھا کوئی طعام
ان کے حق میں پھر دعائے خیر کی اور ہر اِک نے مُبارَک باد دی
گھر سے رخصت جس گھڑی زہرا ہوئیں والِدہ کی یاد میں رونے لگیں
دی تسلِّی احمدِ مختار نے اور فرمایا شہِ ابرار نے
فاطمہ ہر طرح سے بالا ہو تم میکہ و سسرال میں اَعلیٰ ہو تم
باپ تمہارے اِمامُ الانبیاء اور شوہر اولیاء کے پیشوا
ماہِ ذِی الحجہ میں جب رخصت ہوئی تب علی کے گھر میں اِک دعوت ہوئی
جس میں تھیں دس سیر جَو کی روٹیاں کچھ پنیر اور تھوڑے خُرمے بے گماں
اس ضیافت([1]) کا ولیمہ([2]) نام ہے اور یہ دعوت سنّتِ اسلام ہے
سب کو ان کی راہ چلنا چاہئے اور بری رسموں سے بچنا چاہئے
(دیوانِ سالِک از حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تُوْبُوْا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! شادیاں تو بَہُت ہوئی ہیں ، ہو رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی لیکن ایسی سادہ مگر عظیم ُ الشّان رسمِ نِکاح وبیاہ صرف محبوبینِ خدا اور مُقرَّبینِ مصطفی کا حصّہ ہے، تکلُّف (تَ۔کَلْ۔لُفْ یعنی ظاہرداری) نام کا نہیں لیکن رشک ہر مسلمان کو آتا ہے، دُھوم دھام کا کوئی اتا پتا نہیں لیکن چرچا آج بھی ہو رہا ہے۔ناموری کا کوئی ارادہ نہیں لیکن ڈنکے چاردانگِ عالَم([3]) بج رہے ہیں ۔ یہ بات بالکل نہیں کہ یہ شادی دھوم دھام سے نہیں ہو سکتی تھی بلکہ اگر سروَرِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود بھی نہیں بلکہ صرف اپنے غلاموں کوہی اِشارہ کردیتے تو اس کی مِثل وہمسری کرنا کسی کے بس کی بات نہ رہتی۔ لیکن والی ٔ اُمّت، محبوبِ ربُّ العزّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سادَگی اور بے تکلُّفی کو سنّت بنایا، تاکہ اُمّت پریشانی اور قرضوں کے بوجھ تلے نہ دبے۔ اسی جانب حکیم ُالامّت مفتی احمدیار خان عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے بھی توجُّہ د لائی، چُنانچہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع