30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک دسترخوان منگوایا اور آستینیں چڑھا کر کھجوروں کو گھی میں مسلنے لگے اور پھر پنیر کے ساتھ اس طرح ملایا کہ وہ حلوہ بن گیا پھر اِرشاد فرمایا: ’’اے علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ)! جسے چاہو بلا لاؤ۔‘‘ میں مسجد گیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ سے کہا: ’’ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعوت قبول کریں ۔‘‘ سب لوگ اُٹھ کر چل دیئے۔ جب میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرْض کی کہ لوگ بَہُت زِیادہ ہیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چمڑے کے دسترخوان کو ایک رومال سے ڈھانک دیا اور اِرشاد فرمایا: ’’ دس دس اَفراد کو داخِل کرتے جاؤ۔‘‘ میں نے ایسا ہی کیا۔ سب صحابۂ کِرام رِضْوَانُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ نے کھا نا کھایا لیکن کھانے میں بالکل کمی نہ ہوئی یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی برَکت سے 700 اَفراد نے وہ حلوہ تناول فرمایا۔‘‘
اس کے بعدآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ فاطمہ اورحضرتِ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو اپنے پاس بلایا اورحضرتِ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو اپنے دائیں اور حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو اپنے بائیں طرف بٹھا کر سینے سے لگایا اور دونوں کی آنکھوں کے درمیان پیشانی پر بوسہ دیا اور حضرتِ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے فرمایا: ’’ اے علی (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ)! میں نے کتنی اچھی زوجہ سے تیرا نِکاح کیا ہے۔‘‘ پھر ان دونوں کے ساتھ ان کے گھر تک پیدل چلے۔ پھر گھر سے باہر نکل کر دروازے کے کواڑ پکڑے اور یہ دُعا فرمائی: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ تم دونوں کو اِتِّفاق واِتِّحاد عطا فرمائے، میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کرتا ہوں اور تم دونوں کو اس کی حفاظت میں دیتا ہوں ۔‘‘(اَلرَّوْضُ الْفَائِق، المجلس الثانی والاربعون فی زواج علی بفاطمۃ۔۔۔الخ،ص ۲۷۷تا ۲۷۸، ملخصاً)
شہزادیٔ کونَین، والِدۂ حَسَنَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے نکاح کے متعلِّق مُفسِّرِشہیر، حکیم ُ الا ُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کا منظوم کلام مُلاحَظہ فرمائیے اور نصیحت کے مدَنی پھول چنئے:
گوشِ دل سے مومنو! سن لو ذرا ہے یہ قصّہ فاطمہ کے عقْد کا
پندرہ سالہ نبی کی لاڈلی اور تھی بائیس سال عُمْرِ علی
عقْد کا پیغام حیدر نے دیا مصطفی نے مرحبا اھلاً کہا
پیر کا دن سترہ ماہِ رجَب دوسرا سِنِّ ہجرت شاہِ عرب
پھر مدینہ میں ہوا اعلانِ عام ظہر کے وقْت آئیں سارے خاص وعام
اس خبر سے شور برپا ہو گیا کوچہ و بازار میں غُل سا مچا
آج ہے مولیٰ کی دُختر کا نِکاح آج ہے اس نیک اختر کا نِکاح
آج ہے اس پاک وسچی کا نِکاح آج ہے بے ماں کی بچی کا نِکاح
خیر سے جب وقْت آیا ظہر کا مسجِدِ نبوی میں مجمع ہو گیا
ایک جانب ہیں ابوبکر و عمر اِک طرف عثمان بھی ہیں جلوہ گر
ہر طرف اَصحاب و انصار ہیں درمیاں میں احمد و مختار ہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع