30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ملاحظہ کیجئے۔ چنانچہ؛
عاشورا کا روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم دیا
(1)حضرتِ عبد اللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما رِوایت کرتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جب مدینۂ منورہ میں تشریف لائے، یَہُو د کو عاشورا کے دِن روزہ دار پایا تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ان سے اِرشاد فرمایا:یہ کیا دِن ہے کہ تم روزہ رکھتے ہو؟عَر ض کی:یہ عظمت والا دِن ہے کہ اِس میں موسیٰ علیہ الصّلوٰۃ ُ والسّلام اور اُن کی قوم کو اللہ پاک نے نَجات دی اور فرعون اور اُس کی قوم کو ڈَبو دیا لہٰذا موسیٰ علیہ الصّلوٰۃ ُ والسّلام نے بطورِشکرانہ اِس دِن کا روزہ رکھا توہم بھی روزہ رکھتے ہیں۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا: موسیٰ علیہ الصّلوٰۃ ُ والسّلام کی مُوافَقَت کرنے میں بہ نسبت تمہارے ہم زیادہ حق دار اور زیادہ قریب ہیں۔ تو رَسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم بھی فرمایا۔(1)
اِس حدیث ِپاک سے معلوم ہوا کہ جس روز اللہ پاک کوئی خاص نعمت عطا فرمائے اُس کی یادگار قائم کرنا دُرُست و محبوب ہے کہ اس طرح اُس نِعمت ِعُظْمٰی کی یاد تازہ ہو گی اور اُس کا شکر ادا کرنے کا سبب بھی ہو گا۔
یومِ عاشورا اور ماہِ رَمَضان کی فضیلت
(2)حضرتِ عبد اللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:میں نے رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو کسی دِن کے روز ہ کو اور دِن پر فضیلت دے کر جُستْجو فرماتے نہ دیکھا مگر یہ کہ عاشورا کا دِن اور یہ کہ رَمَضان کا مہینا۔(2)
[1] ……بخاری ، 1/656، حدیث: 2004 ۔
[2] ……بخاری، 1/657، حدیث: 2006۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع