30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اکثر والِدَین ’’شفقت نُما ہلاکت ‘‘کے ذَرِیعے اپنے ہاتھوں اپنی اَولاد کو تباہی کے گڑھے میں جھونک رہے ہیں یہاں تک کہ اگر بچّہ اَز خود سُدھرنا چاہے تب بھی اُس کی راہیں مَسدُود (یعنی بند)کر دی جاتی ہیں،اِس طرح کے والِدَین گویا زبانِ حال سے یہ اِعلان کرتے سنائی دے رہے ہیں:ہم جہنَّم میں اکیلے کیوں جائیں اپنی اَولاد کو بھی ساتھ لے کر جائیں گے۔
مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا
اے عاشقانِ اَہْلِ بیت!اچھے اَخلاق و کِردار میں چونکہ دوسروں کی پریشانی اور مصیبت دور کر کے مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا بھی شامل ہے،اِس لحاظ سے بھی اَہْلِ بَیْتِ اَطہار کا مقدس گھرانا اپنی مثال آپ تھا۔چنانچہ خاندانِ اَہْلِ بیت کے چشم و چراغ حضرتِ امام زينُ العابدين رضی اللہ عنہ مدينۂ منورہ کے بَہُت سے غریب لوگوں کے گھروں ميں اِس قدر چھپا کر رَقم بھیجا کرتے تھے کہ ان غریب لوگوں کو بھی خبر نہ ہوتی کہ یہ مال کہاں سے آتا ہے؟مگر جب آپ کا وِصال ہو گيا اور رات میں پوشیدہ ملنے والا مال غریب لوگوں نے نہ پایا توان کو پتا چلاکہ یہ مال بھیجنے والے حضرتِ امام زينُ العابدين رضی اللہ عنہ تھے۔حضرتِ شیبہ بن نَعامَہ رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جب امام زينُ العابدين رضی اللہ عنہ کا وِصال ہوا تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ 100 گھروں کی کفالت فرمایا کرتے تھے۔(1) اللہ پاک اَہْلِ بَیْتِ اَطہار کے پاکیزہ اور ستھرے کِردار و اَخلاق کے صدقے ہمیں بھی بااَخلاق بنائے اور ان مبارک ہستیوں کے فیضان سے ہمیں مالا مال فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
اس بیان کو دیکھنے اور سننے کے لیے اس لنک پر کلک کیجئے
[1] ……سیر اعلام النبلاء،5/337 ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع