30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نصیحت فرمائیں۔“ امام جعفر صادِق رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔ حضرتِ داؤد طائی رحمۃُ اللہ علیہ نے جب دوبارہ عرض کی:”اَہْلِ بیت ہونے کے اِعتبار سے اللہ پاک نے آپ کو جو فضیلت بخشی ہے اس لحاظ سے نصیحت کرنا آپ کے لئے ضروری ہے ۔“یہ سن کر امام جعفر صادِق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”مجھے تو یہ خوف لاحِق ہے کہ کہیں قیامت کے دِن میرے جد ِ اعلیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر یہ نہ پوچھ لیں کہ تو نے خود میری پیروی کیوں نہیں کی؟ کیونکہ نجات کا تعلق نسب سے نہیں اَعمالِ صالحہ پر موقوف ہے ۔ “ یہ سن کر حضرتِ داؤد طائی رحمۃُ اللہ علیہ کو رونا آ گیا کہ وہ ہستی جن کے جد امجد حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہیں ، جب ان کے خوف ِ خدا کا یہ عالَم ہے تو میں کس گنتی میں آتا ہوں ؟ (1)
چار سالہ سید زادے کا خوفِ خدا
یہ سچ ہے کہ جو دَرخت جتنا زیادہ پھل دار ہوتا ہے اتنا ہی اُس کی شاخیں زمین کی طرف جُھکی ہوئی ہوتی ہیں، جو اِنسان جتنا زیادہ باکمال اور اعلیٰ صِفات کا حامِل ہوتا ہے اسی قدر اس میں عاجزی و اِنکساری اور خوفِ خدا زیادہ ہوتا ہے۔ اِس بارے میں ایک حکایت مُلاحظہ کیجیے۔چُنانچِہ ایک چار سالہ سیِّدزادہ سرِ بازار زارو قطار رو رہا تھا،کسی صاحِب نے آلِ رسول کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر عرض کی:شہزادے ! کیا بات ہے؟ اگر کسی چیز کی ضَرورت ہو تو حکم فرما دیجئے ابھی حاضِر کرتا ہوں۔یہ سُن کر اس سیِّدزادے کے رونے کی آواز اور بُلند ہو گئی اور کہا:چچا جان! اللہ پاک کے غضب اور عذابِ جہنَّم کے خوف سے دِل بیٹھا جا رہا ہے! اُن صاحِب نے شَفقت سے عرض کی:شہزادے ! آپ بَہُت ہی کمسن ہیں،ابھی سے اِتنا خوف کیسا؟ اِطمینان رکھئے بچّوں کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔
[1] ……تذکرۃ الاولیاء، 1/21، 22 انتشارات گنجینہ تہران۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع