30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خوب سناتے ،حتّٰی کہ مار پیٹ بھی کر ڈالتے ہیں۔مگر قربان جائیے اَہْلِ بَیْتِ اَطہار کے اَخلاق و کردار پر کہ یہ حضرات ایسے مواقع پر بھی صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔
بُرائی کرنے والے کا عُذر قبول کروں گا
یہی حضرتِ امامِ حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لَوْ اَنَّ رَجُلًا شَتَمَنِیْ فِیْ اُذُنِیْ ہٰذِہٖ، وَاعْتَذَرَ اِلَیَّ فِیْ اُذُنِی ہٰذِہٖ لَقَبِلْتُ عُذْرَہُ یعنی اگر کوئی میرے ایک کان میں گالی دے اور دوسرے کا ن میں مُعافی مانگ لے تو میں ضرور اس کی مَعذرت قبول کروں گا ۔(1)
اِنتقامی کارروائی کرنے کے بجائے اِنعام سے نواز دیا
ایک بار امام حسین رضی اللہ عنہ کے شہزادے حضرتِ امام زینُ العابدین رضی اللہ عنہ کو کسی نے گالی دی تو آپ نے غُصّہ ہونے اور اِنتقامی کارروائی کرنے کے بجائے اُسے اپنا مُبارَک کُرتا اور ایک ہزار درہم دینے کا حکم دیا۔کسی نے کہا:آپ نے پانچ خصلتیں جمع کر لی ہیں: (1) بُردباری(2) تکلیف نہ دینا (3) اس شخص کوایسی بات سے رہائی دینا جو اُسے اللہ پاک سے دُور کر دیتی (4) اسے توبہ و ندامت کی طرف راغِب کرنا (5) بُرائی کے بعد تعریف کی طرف رجوع کرنا۔ آپ نے معمولی دُنیا کے ساتھ یہ تمام عظیم چیزیں خرید لیں۔ (2)
امام جعفر صادِق کی عاجزی و اِنکساری
اے عاشقانِ اَہْلِ بیت!دیکھا آپ نے اَہْلِ بَیْتِ اَطہار کا اَخلاق کتنا بلندو بالا اور مثالی تھا۔ اَہْلِ بَیْتِ اَطہار بلند و بالا شانوں کے مالِک ہونے کے باوجود عاجزی و اِنکساری کے پیکر تھے۔ چنانچہ ایک بار حضرتِ داؤد طائی رحمۃُ اللہ علیہ نے امام جعفر صادِق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی:”آپ چونکہ اَہْلِ بیت میں سے ہیں،اِس لئے مجھے کوئی
[1] ……بہجۃ المجالس لابن عبد البر، 2/486 دار الکتب العلمیۃ بیروت۔
[2] ……احیاء العلوم ، 3/221 ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع