30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خندہ پیشانی سے پیش آئے جس کی برکت سے اس کا بغض و عداوت ایک دَم محبت میں تبدیل ہو گیا۔ ایسا کیوں نہ ہو بُرائی کو بھلائی سے ٹا لنے کی ترغیب دیتے ہوئے اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے:
اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴) (پ24، حم السجدہ:34)
ترجَمۂ کنزالعرفان :برائی کو بھلائی کے ساتھ دور کردو تو تمہارے اور جس شخص کے درمیان دشمنی ہو گی وہ اس وقت ایسا ہو جائے گا کہ جیسے وہ گہرا دوست ہے ۔
سزا دینے کے بجائے غلام آزاد کر دیا
اَہْلِ بَیْتِ اَطہار کے چمکتے دَمکتے ستارے حضرتِ امامِ حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہا یک بار چند مہمانوں کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے،غلام گرم گرم شوربے کا پیالہ دَسترخوان پر لا رہا تھا کہ اس کے ہاتھ سے پیالہ گِرا جس کی وجہ سے شوربے کے چھینٹے امامِ حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ پر بھی آئے۔یہ دیکھ کر غلام گھبرایا اور شرمندگی بھرے لہجے میں اُس نے سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر 134 کا یہ حصہ تلاوت کیا:
وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ
’’اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے دَرگزر کرنے والے۔‘‘
آپ نے فرمایا:میں نے معاف کیا۔ غلام نے پھر اسی آیت کا آخری حصہ پڑھا:
وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴)
’’ اور اللہ نیک لوگوں سے محبت فرماتا ہے۔‘‘
آپ نے فرمایا:میں نے تجھے اللہ پاک کی خوش نودی کے لئے آزاد کیا ۔ (1)
اے عاشقانِ اَہْلِ بیت!دیکھا آپ نے حضرتِ امامِ حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کس قدر اعلیٰ اَخلاق کے مالِک تھے،مہمانوں کے سامنے شوربے کے چھینٹے پڑنے پر آپ نے نہ صرف اپنے غصے پر قابو کیا بلکہ غلام کو بھی آزاد کر دیا ۔ مہمانوں کے سامنے اس قسم کا واقعہ
ہو جانے پر لوگ اپنی ذِلَّت محسوس کرتے ہوئے عموماً خادمین پر برس پڑتے ہیں،انہیں
[1] ……تفسیر روح البیان، پ4، آلِ عمران، تحت الآیۃ:134، 2 /95 ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع