30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آیاتِ مبارکہ تلاوت فرمائیں:
خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹) وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِؕ-اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۲۰۰) اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ(۲۰۱)
(پ9،الاعراف:199تا 201)
ترجَمۂ کنز العرفان :اےحبیب! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔اور اے سننے والے! اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ تجھے ابھارےتو (فوراً) اللہ کی پناہ مانگ، بیشک وہی سننے والا جاننے والا ہے۔ بیشک پرہیزگاروں کو جب شیطان کی طرف سے کوئی خیال آتا ہے تو وہ (حکمِ خدا) یاد کرتے ہیں پھر اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
پھر فرمایا:اپنے اوپر بوجھ ہلکا رکھ اور میں اللہ پاک سےتیرےلئے اور اپنے لئے مغفرت کا سوال کرتا ہوں،اس کے علاوہ آپ اس کے ساتھ اِس قدر عفو و دَرگُزر ،نرمی اور خندہ پیشانی سے پیش آئے کہ اس کا بغض و عداوت ایک دَم محبت میں تبدیل ہو گیا اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گیا وَمَا عَلٰى وَجْهِ الْاَرْضِ اَحَبُّ اِلَيَّ مِنْهُ وَمِنْ اَبِيْهِ یعنی رُوئے زمین پر حضرتِ امامِ حسین اور اِن کے والد حضرتِ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ میرے نزدیک کوئی محبوب نہیں۔(1)
اے عاشقانِ اَہْلِ بیت!عموماً اِنسان اپنی اور اپنے والدین کی بُرائی سُن کر آپے سے باہر ہو جاتا ہے ، برداشت کی قوت جواب دے جاتی ہے ،اِنسان اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی کوشش کرتا ہے مگر قربان جائیے حضرتِ امامِ حسین رضی اللہ عنہ کے اَخلاقِ کریمانہ پر کہ آپ اس شخص کے ساتھ جوابی کارروائی کرنے کے بجائے عفو و دَرگُزر ،نرمی اور
[1] ……تفسیر قرطبی، پ9، الاعراف، تحت الآیۃ:201، 4 /250، 251 دار الفکر بیروت ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع