30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چند اَعمال یہ ہیں:مُعافی کو اِختیار کرنا، بھلائی کا حکم دینا، بُرائی سے منع کرنا،جاہلوں سے اِعراض کرنا، قطع تعلق کرنے والے سے صِلۂ رحمی کرنا،محروم کرنے والے کو عطا کرنا،ظلم کرنے والے کو مُعاف کر دینا، خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا،کسی کو تکلیف نہ دینا،نرم مزاجی، بُردباری، غصے کے وقت خود پر قابو پا لینا،غصہ پی جانا، عفو و دَرگزر سے کام لینا، لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملنا، مسلمان بھائی کے لیے مسکرانا، مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا، لوگوں میں صلح کروانا،حقوق العباد کی اَدائیگی کرنا،مظلوم کی مدد کرنا، ظالِم کو اس کے ظلم سے روکنا، دُعائے مغفرت کرنا، کسی کی پریشانی دور کرنا، کمزوروں کی کفالت کرنا، لاوارث بچوں کی تربیت کرنا، چھوٹوں پر شفقت کرنا، بڑوں کا اِحترام کرنا، عُلَما کا اَدب کرنا، مسلمانوں کو کھانا کھلانا،مسلمانوں کو لباس پہنانا،پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنا،مشقتیں برداشت کرنا، حرام سے بچنا، حلال حاصل کرنا، اہل و عیال پر خرچ میں کشادگی کرنا وغیرہ وغیرہ۔
عداوت محبت میں تبدیل ہو گئی
اے عاشقانِ اَہْلِ بیت!اَہْلِ بَیْتِ اَطہار کو اللہ پاک نے جہاں بے شمار اَوصافِ حمیدہ عطا فرمائے وہاں اعلیٰ دَرجے کے اَخلاق سے بھی زینت بخشی ہے۔ یہ مقدس حضرات بُرائی کرنے والوں کے ساتھ اچھائی سے پیش آتے اور سختی کرنے والوں کے ساتھ نرمی سے پیش آتے۔چنانچہ ایک بار عِصام بن مُصْطَلِق نامی مُلکِ شام کا ایک شخص جو کہ مولائے کائنات حضرتِ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا،حضرتِ امامِ حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے اُنہیں اور اُن کے والدِ محترم حضرتِ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بُرا بھلا کہنے لگا۔ حضرتِ امامِ حسین رضی اللہ عنہ نے اسے جھڑکنے، اُلجھنے یا اس کے ساتھ تلخ کلامی سے کوئی جوابی کارروائی کرنے کے بجائے اَعُوْذُبِالله اور بِسْمِ اللہ پڑھنے کے بعد یہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع