30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بےشک یہ صدقہ تو صرف لوگوں (کے مالوں) کا میل ہے اور یہ محمد ( صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم )اور آلِ محمد کے لئے حلال نہیں۔(1)
اِس حدیثِ پاک کے تحت فقیہِ مِلَّت حضرتِ مفتی جلالُ الدِّین امجدی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اِس کلام میں بہترین تشبیہ ہے کہ آپ نے زکوٰۃ کو لوگوں کی میل اِس لئے فرمایا کہ وہ ان کی آلودگیوں کو پاک کرتی ہے اور اَموال و نُفُوس کو صاف کرتی ہے۔(2)
اَہْلِ بیت صدقہ نہیں کھاتے
حضرتِ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رِوایت ہے کہ ایک بار حضرتِ امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اُٹھا کر اپنے منہ میں ڈال دی تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا:اسے پھینک دو کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے؟ (3)
اَہْلِ بیت کا نسب تا قیامت باقی
اے عاشقانِ اَہْلِ بیت! ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قیامت واقع ہو کر رہے گی اور ہر ایک کو اپنے اپنے اَعمال کا بدلہ ملے گا۔ اس وقت نفسا نفسی کا عالَم ہو گا اور ہر ایک کو اپنی فکر ہو گی کہ کسی طرح میں نجات پا جاؤں ، ماں اپنی اَولاد سے دُور بھاگے گی ، باپ بیٹے سے جان چھڑائے گا۔ اس دِن تمام اِنسانوں کے خاندانی نسب اور رِشتے داری ختم ہو جائے گی
[1] ……نسائی ، ص430، حدیث:2606 دار الکتب العلمیۃ بیروت۔
[2] ……خطباتِ محرم، ص 241 شبیر برادرز لاہور۔
[3] ……مسلم ، ص416 ، حدیث : 2473 ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع