30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرتِ امامِ حسن کی مناجات
منقول ہے:ایک بار حضرتِ امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ نے خانۂ کعبہ کا طواف کیا پھر مقامِ اِبراہیم پر دو رَ کعت نَماز واجِبُ الطّواف ادا کی پھر اپنا رُخسارِ مبارَک مقامِ اِبراہیم پر رکھ دیا اور زار و قطار روتے ہوئے اِس طرح مُناجات کی :’’ اے میرے ربِّ قدیر!تیرا بندہ تیرے دَروازے پر حاضِر ہے،‘‘ تیرا بِھکاری تیرے دَروازے پر حاضِرہے، تیرا مسکین بندہ تیرے دَروازے پر حاضِر ہے، انہی اَلفاظ کو بار بار دُہراتے اور روتے رہے۔ اِس کے بعد مَسجدُ الحرام سے باہَرتشریف لائے تو آپ کا گزر چند مسکینوں کے پاس سے ہوا جو بیٹھے(صَدَقے کی) روٹیوں کے ٹکڑے کھا رہے تھے،آپ نے ان کو سلام کیا،جوابِ سلام کے بعد انہوں نے کھانے کی دعوت دی، آپ بِلا تکلُّف اُن کے دَسترخوان پر بیٹھ گئے اور فرمایا: اگر یہ روٹیوں کے ٹکڑے صَدقے کے نہ ہوتے تو آپ حضرات کے ساتھ کھانے میں ضَرور شرکت کرتا،مگرہم آلِ رسول کے لئے صَدَقہ حرام ہے۔اس کے بعد آپ ان مسکینوں کو اپنی قِیام گاہ پر ساتھ لے آئے اور سب کو عمدہ کھانا کھلایا ،پھر رُخصت ہوتے وقت سب کو دِرہم بھی عِنایت فرمائے۔(1)
حضرتِ امامِ حسن کا شوقِ تلاوت
حضرتِ امامِ حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ ہر رات سُوْرَۃُ الْکَھْف کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ یہ مبارک سورت ایک تختی پرلکھی ہوئی تھی،آپ اپنی جس زوجہ کے پاس تشریف لے جاتے یہ مبارک تختی بھی آپ کے ہمراہ ہوتی ۔(2)
[1] ……المستطرف، 1/23، 24 دار الفکر بیروت۔
[2] ……شعب الایمان للبیہقی، 2/475، حدیث:2447 ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع