30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیدالشہدا امام حسین کی کرامات
کُنویں کا پانی کافی بڑھ گیا
سُلطانِ کربلا،سیدالشہدا،امامِ عالی مقام،امامِ عرش مقام،امامِ ہمام،امامِ تشنہ کام، حضرتِ امام حسین رضی اللہ عنہ جب مدینہ ٔ منوّرہ سے مکہ ٔ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں حضرتِ ابنِ مُطیع رحمۃُ اللہ علیہ سے مُلاقات ہوئی۔اُنہوں نے عَرض کی: میرے کنوئیں میں پانی بہت ہی کم ہے براہِ کرم! دُعائے برکت سے نواز دیجئے۔ حضرتِ امام حسین رضی اللہ عنہ نے اس کنوئیں کا پانی طلب فرمایا۔جب پانی کا ڈول حاضر کیا گیا تو آپ نے مُنْہ لگا کر اس میں سے پانی نوش کیا اور کُلی کی۔پھر ڈول کو واپس کُنوئیں میں ڈال دیا تو کنوئیں کا پانی کافی بڑھ بھی گیا اور پہلے سے زیادہ میٹھا اور لذیذ بھی ہو گیا۔(1)
بے اَدبی کرنے والا آگ میں
میدانِ کربلا میں ایک بے باک اور بے اَدب مالِک بِن عُروہ نے جب حضرتِ امام حسین رضی اللہ عنہ کے خیمہ کے گِرد خندق میں آگ جلتی ہوئی دیکھی تو اس بد نصیب نے یہ کہا کہ اے حسین! تم نے آخرت کی آگ سے پہلے ہی یہاں دُنیا میں آگ لگا لی؟ حضرتِ امامِ حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اے ظالِم !کیا تیرا گمان ہے کہ میں دوزخ میں جاؤں گا؟ پھر حضرتِ امامِ حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے مجروح دِل سے یہ دُعا مانگی کہ ”اے اللہ ! تو اس بدنصیب کو نارِ جہنم سے پہلے دُنیا میں بھی آگ کے عذاب میں ڈال دے۔“امامِ عالی مقام رضی اللہ عنہ کی دُعا ابھی ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ فورا ً ہی مالِک بن عُروہ کا گھوڑا پھسل گیا اور یہ شخص اس طرح گھوڑے سے گِرپڑاکہ گھوڑ ے کی رِکاب میں اس کا پاؤں اُلجھ گیا اور
[1] ……طبقات لابن سعد، 7/144مکتبۃ الخانجی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع