30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اے بیٹی! یہ سب تمہارے لئے کہاں سے آیا؟ تو حضرتِ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ھُوَ مِنْ عِنْدِاللہ اِنَّ اللہ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ یعنی یہ اللہ پاک کی طر ف سے آیا ہے، وہ جس کو چاہتا ہے بے شمار روزی دیتاہے ۔
پھر حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرتِ علی،حضرتِ فاطمہ،امامِ حسن،امامِ حسین اور دوسرے اَہْلِ بیت رضی اللہ عنہم کو جمع فرما کر سب کے ساتھ سینی میں سے کھانا تناول فرمایا پھر بھی اس کھانے میں اِس قدر برکت ظاہرہوئی کہ سینی روٹیوں اور بوٹیوں سے بھری ہوئی رہ گئی اور اس کو حضرتِ بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے پڑوسیوں اور دوسرے مسکینوں کو کھلایا۔(1)
اے عاشقانِ اَہْلِ بیت! یہ تو حسنینِ کریمین کے والدین کی کرامتیں تھیں،جن کے والدین ایسے باکرامت ہوں ان کے شہزادگان کی عظمت و شان کا کیا عالَم ہو گا!آئیے حسنین کریمین کی کرامات مُلاحظہ کیجیے ۔چنانچہ ؛
سیِّدُ الْاَسْخِیا امام حسن کی کرامات
فرزند پیدا ہونے کی بشارت
راکِبِ دَوشِ مصطفےٰ،سیِّدُ الْاَسْخِیاء،برادرِ شہیدِ کربلا،جگرگوشۂ فاطِمہ،دِلبندِ مُرتَضیٰ، حضرتِ امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ پیدل حج کے لیے جا رہے تھے دَرمیانِ راہ میں ایک منزل پر قیام فرمایا، وہاں آپ کا ایک عقیدت مند حاضرِ خدمت ہوا اور عرض کیا کہ حضور میں آپ کا غلام ہوں۔ میری بیوی دَردِزہ میں مبتلا ہے آپ دُعا فرمائیں کہ تندرست لڑکا پیدا ہو۔ امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم اپنے گھر جاؤ تمہیں جیسے فرزند کی تمنا ہے ویسا ہی
[1] ……تفسیر روح البیان، پ3، آلِ عمران، تحت الآیۃ:37، 2 /29 دار احیاء التراث العربی بیروت۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع