30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معلوم ہوا کہ سخاوت کے لیے اِعتدال یعنی دَرمیانی راہ اِختیار کرنا ضَروری ہے یعنی نہ اتنا مال خرچ کیا جائے کہ فضول خرچی کہلائے اور نہ اتنا روکا جائے کہ کنجوسی اور بخل کے زُمرے میں آئے ۔
بخل کی تعریف
بخل یعنی کنجوسی کی تعریف یہ ہے کہ جہاں شَرعاً یا عُرف وعادت کے اِعتبار سے خرچ کرنا واجب ہو وہاں خرچ نہ کرنا بخل ہے۔ زکوٰۃ صدقۂ فطر وغیرہ میں خرچ کرنا شَرعاً واجب ہے اور دوست اَحباب،عزیز رِشتہ داروں پر خرچ کرنا عُرف و عادت کے اِعتبار سے واجب ہے۔(1)
اے عاشقانِ اَہْلِ بیت! آئیے ! اب بخل کی مذمت اور سخاوت کے چند فضائل ملاحظہ کیجئے تاکہ بخل و کنجوسی سے بچنے اور سخاوت کرنے کا ذہن بنے ۔
بخل کی مذمت
حضرتِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رِوایت ہے کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا:آدمی کی دو عادتیں بُری ہیں: (1) بخیلی جو رُلانے والی ہے (2) بزدلی جو ذَلیل کرنے والی ہے۔(2)
حضرتِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رِوایت ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا:بخیل اللہ پاک سے دورہے، جنَّت سے اور آدمیوں سے دور ہے جبکہ جہنم سے قریب ہے۔(3)
[1] ……احیاء العلوم، 3/320۔
[2] ……ابوداؤد، 3 / 18، حدیث: 2511 دار احیاء التراث العربی بیروت۔
[3] ……ترمذی، 3 / 387،حدیث: 1968 ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع