30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے اَعمال کیسے ہی ہوں، اُن اَعمال کے سبب اُس سےتنفر نہ کیا جائے ( یعنی نفر ت نہ کی جائے )، نَفسِ اَعمال سےتنفر(یعنی فقط اس کی بُرائیوں سے نفرت) ہو۔ ساداتِ کرام کی اِنتہائے نَسب حُضُور سیِّدِ عالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ہے،(یعنی ان کے جدِّ اعلیٰ تو حضور سیِّدِ عالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہیں) اِس فَضلِ اِنتِساب (یعنی اِس نسبت کی فضیلت) کی تعظیم(عام مسلمان تو کیا) ہرمُتَّقِی پر (بھی) فرض ہے(کیوں)کہ وہ اس (سیِّد صاحب) کی تعظیم نہیں (بلکہ خود) حُضُورِ اَقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعظیم ہے۔ (1)
اے عاشقانِ اَہْلِ بیت ! پتا چلا اگر سید سنی المذہب عملی اِعتبار سےکمزور ہو تب بھی اس کی تعظیم کی جائے اور اس کے بُرے اَعمال کے سبب اس سے نفرت یا اس کی توہین نہ کی جائے۔اِس بارے میں ایک حکایت ملاحظہ کیجیئے اور ساداتِ کرام کی توہین سے بچتے ہوئے ان کااَدب و اِحترام بجا لائیے۔چنانچہ؛
عبد اللہ بن مبارک اور ایک سید زادے
ایک بار حضرتِ عبد اللہ بن مبارک رحمۃُ اللہ علیہ کہیں تشریف لیے جا رہے تھے کہ ایک نادارسیّد زادے نے کہا:آپ کا تو خوب ٹھاٹھ ہے(یعنی آپ کے بڑے مزے ہیں) اور میں سیِّدزادہ ہونے کے باوجود کم مَرتبہ ہوں۔اِس پر عبد اللہ بن مبارک رحمۃُ اللہ علیہ نے اِرشاد فرمایا: آپ کے نانا جان بے شک سُلطانِ دوجہان،رَحمتِ عالمیان صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہیں جبکہ میرے باپ دادا کا کوئی مقام نہیں تھا۔ میں نے آپ کے نانا جان ، سرورِ ذِیشان صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیروی کی اور عزّت پائی مگر آپ میرے باپ داداکی پیروی کر کے رُسوا ہو گئے۔ اُسی رات حضرتِ عبد اللہ بن مبارک رحمۃُ اللہ علیہ نے خواب میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
[1] ……فتاویٰ رضویہ، 22/423 ملتقطا ً رضا فاؤنڈیشن لاہور۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع