30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنا مجھے اپنے رِشتہ داروں سے صِلۂ رحمی کرنے سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے۔(1)
امام حَسَن کو کندھے پر بٹھایا
حضرتِ عُقبہ بن حارِث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ ابوبکر صِدِّیق رضی اللہ عنہ نے ہمیں عَصْر کی نَماز پڑھائی، پھر آپ اور حضرتِ عَلِیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر چل دئیے، راستے میں حضرتِ حَسن کو بچّوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو حضرتِ صِدِّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے کندھے پر اُٹھا لیا اور فرمایا: میرے ماں باپ قربان! حُضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ہم شکل ہو،حضرتِ علی کے نہیں۔ اس وقت حضرتِ عَلِیُّ الْمُرتضیٰ رضی اللہ عنہ مُسکرا رہے تھے۔(2)
فاروقِ اعظم کی مولا مشکل کُشا سے محبت
مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ اَمِیرُالمؤمنین حضرتِ عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ جہاں دِیگر بہترین اَوصاف کے مالِک تھے وہیں آپ کی اَہْلِ بَیْتِ اَطہار سے عقیدت و محبت بھی مثالی تھی۔چنانچہ ایک بار مولا مشکل کشا،علیُّ المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ایک ایسی مجلس میں تشریف لائے جہاں حضرتِ عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ جَلوہ فرما تھے۔ جیسے ہی فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو سِمٹ گئے اور عاجزی کرتے ہوئےان کے لئے جگہ بنا دی۔ مجلس کے اِختتام پر جب مولا علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے تو کچھ لوگوں نے عرض کیا: یا اَمِیرَالمؤمنین! آپ کا مولا علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کے ساتھ حُسنِ سُلوک کا جیسا اَنداز ہے ایسا کسی اور کے ساتھ نہیں ہے۔ یہ سُن کر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے
[1] ……بخاری، 2/538 ،حدیث:3712دار الکتب العلمیۃ بیروت۔
[2] ……سنن کبریٰ للنسائی، 5/48، حدیث:8161 دار الکتب العلمیۃ بیروت ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع