30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
احمد علی شاہ شمیم
حضرت صوفی اللہ دتہ رحمۃ اللہ علیہ کے مزارپر حاضری کے بعد ہم عارف ربانی علامہ پیر سید احمدعلی شاہ شمیم کے دربار پر آئے جو برلب سڑک (وسن پورہ روڈ) واقع ہے، اس کے ساتھ جانب مغرب مسجد ہے۔ان کےمزارپر فاتحہ پڑھی۔ مزار کے تعویذ پر سنگ مرمر لگایا گیا ہے۔
کتبے پر اسم جلالت ورسالت، بسم اللہ شریف، کلمہ شریف اور آیت مقدسہ کے بعد یہ الفاظ تحریرہیں:
مرقدِ مقدس
پیرطریقت، واقف شریعت حضرت مولانا الحاج پیر سید احمد علی شاہ صاحب شمیم رحمۃ اللہ علیہ حسینی نقشبندی مجددی خلفیہ ٔ مجاز اعلیٰ حضرت عظیم البرکت شیخ المشائخ حضور قبلۂ دو عالم الحاج پیر سید علی حسین صاحب مدظلہ العالی علی پور سیداں شریف ضلع سیالکوٹ۔
19 صفر 1400 ھ مطابق 8 جنوری 1980ء بروز منگل دن دو بجے۔بعدفاتحہ ان کے استاذبھائی علامہ سیدفضل حسین شاہ گجراتی کا بھی ذکر خیرہواجو اسی علاقے میں تقریباً دو سال خدمات سرانجام دیتے رہے،ان دونوں نفوس قدسیہ کے حالات زندگی تحریرکئے جاتے ہیں:
حضرت پیر سید جعفرشاہ بن عطر علی شاہ کے گھر1335ھ مطابق 1917ء پیدا ہوئے، آپ کے آباؤاجداد علاقے میں بہت معززتھے،ان میں کئی اولیائے کرام بھی تھے جن کے مزارات سوات میں ہیں۔آپ کے نانا جان مولانا سیدولایت علی شاہ،محلہ سادات پور، شمس آباد ضلع اٹک کے جید عالم دین اور شاعرتھے۔ آپ نجیب الطرفین حسینی سیّد ہیں۔
تعلیم وتربیت
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی اورپھر دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں داخلہ لیا۔درس نظامی اسی دارالعلوم میں مکمل کی۔اندازا 1356ھ مطابق 1937ھ میں فارغ التحصیل ہوئے۔آپ کے استاذمکرم مفتی اعظم پاکستان علامہ شاہ ابو البرکات سیداحمد قادری رحمۃ اللہ علیہ 1936ءمیں حج کے لیے روانہ ہوئےتو جن احباب اور طلبہ نے اسٹیشن پر آپ کوالوداع کہا ان میں شمیم صاحب بھی شامل تھے۔ ان کا نام علامہ شاہ ابوالبرکات نے اپنے احوال حج میں ذکر فرمایا ہے۔ اس سےمعلوم ہوتاہے کہ آپ اپنے استاذ صاحب کے ہاں بہت مقرب تھے۔
بیعت وخلافت
قبلہ شیم صاحب قبلہ کے والدگرامی بھی شیخ کامل تھے،اس لیے آپ پر تصوف کا رنگ غالب تھا، آپ نے بیعت کاشرف نقش لاثانی حضرت سیدعلی حسین شاہ آف علی پور سیداں سے حاصل کیا اوران سے خلافت بھی پائی۔جب اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کےصاحبزادے حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان لاہور تشریف لائے تو انہوں نے بھی آپ کو سلسلہ قادریہ رضویہ حامدیہ کی خلافت عطا فرمائی اور جوجبہ پہناہواتھا وہ اتار کر آپ کو عطافرمایا، یہ جبہ آپ کے خاندان میں بطورتبرک موجودہے۔
ان کے علاوہ آپ کو کئی مشائخ سے خلافت حاصل ہوئی مگرآپ لوگوں کو سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ لاثانیہ میں بیعت فرماتے اوراس سلسلے کی ترویج و اشاعت کی کوشش فرمایا کرتے تھے۔
روحانی اعتبار سے آپ کا مقام بہت بلندتھا،آپ کو خواب میں 12 مرتبہ سے زیادہ اپنے جداعلیٰ سرکار دو عالم محمد عربی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زیارت ہوئی۔شمیم نام بھی آپ کو بارگاہِ رسالت سے ملا تھا۔علوم اسلامیہ کی تکمیل کے بعد آپ علم طب کی جانب متوجہ ہوئے اوراسے باقاعدہ حاصل کرکےسندپائی۔فراغت کے بعد اس کی پریکٹس کرنے لگے۔
خدمات دین
فارغ التحصیل ہونے کے بعد سیدصاحب قبلہ نے آپ کومرکزی جامع مسجداہل سنت امرتسرکاخطیب بنا کربھیجا جہاں آپ نے امامت وخطابت کا آغازفرمایا۔ کچھ عرصہ بعد آپ لاہور واپس آگئے،پھرساری زندگی یہیں رہے۔آپ میٹھی زبان والے، پرتاثیراور بہترین خطیب تھے۔آوازبارعب اورپاٹ دارتھی، آپ سفید سوٹ پہنا کرتے، سر پہ دستار مبارک،ہاتھ میں عصا اور اکثر شیروانی بھی زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ آپ نہایت حسین و جمیل اورقدرے بلندقدوقامت کے مالک تھے۔آپ کو کئی علوم پر دسترس تھی۔جب آپ خطاب فرماتے تو آپ کی تقریرآیات قرآنیہ،متن احادیث اور اقوال بزرگان دین سے مزین ہوتی۔موقع محل کے مطابق شعرائے اہل سنت بالخصوص اعلیٰ حضرت امام احمدرضاکے نعتیہ دیوان حدائقِ بخشش کے اشعار پڑھتے تھے۔آپ خود بھی شاعر تھے اور شاعری کی تمام اصناف پر نگاہ عمیق رکھتے تھے۔عوام الناس کی دلچسپی کےلیے حکایات بھی بیان کرتے۔تقریراس قدردلچسپ ہوتی کہ سامعین ہمہ تن گوش ہو جاتے اور اپنی جگہ سےنہ اٹھتے۔آپ کے پیرومرشد علامہ سیدعلی حسین شاہ صاحب بھی آپ کی تقریربڑے شوق سے سماعت فرمایا کرتے تھے۔پیرزادہ اقبال احمد فاروقی صاحب خوبصورت انداز میں آپ کا تذکرہ یوں کرتےہیں:اسی زمانہ میں مولانا شمیم شاہ مرحوم فیض باغ اورمولانا سلیم اللہ مرحوم سفیدمسجدمصری شاہ میں پنجابی تقریریں کیا کرتے تھے اور علم وفضل سے اپنے سامعین کی جھولیاں بھرتے جاتے۔
درس وتدریس
آپ درس نظامی کے مدرس بھی تھے،مرشدزادے فخرلاثانی علامہ پیر سید عابد حسین شاہ اور مجاہد اہل سنت علامہ سیّد فیض الحسن تنویر شاہ رحمۃ اللہ علیہ ما نے آپ سے درسی کتب پڑھیں۔چونکہ آپ پنجاب بھرمیں تقاریرکے لیے جایاکرتے تھے اوردن کے وقت مطب پر بیٹھتے تھے اس لیے تدریس کاسلسلہ جاری نہ رہ سکا۔آپ کے ہاتھ پر کئی غیر مسلم ایمان لائے،زندگی کے آخری نمازجمعہ میں ازدحام کثیرتھا،اس میں غیر مسلموں کے دو گروہ آپ کی خدمت میں حاضرہوئے،آپ نے انہیں اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرکے کلمہ پڑھایا،جس پر حاضرین نے بہت خوشی کااظہارکیا۔
مساجد بنانے کا جذبہ
مساجد بنانے کا جذبہ بھی آپ میں کوٹ کوٹ کر بھراہواتھا،آپ نے اپنی زندگی میں سات مساجد تعمیر کروائیں۔کئی مساجدکی تزئین و آرائش و وسعت میں حصہ لیا۔کرم الٰہی مسجد، چراغ پارک مسجد،سكیم پارک مسجد،غازی مسجد،جامعہ مسجد نقشبندیہ،جامع مسجد یثرب کالونی اورجامع مسجدپیر سید شمیم شاہ آپ کی یادگارہیں۔علمائے اہل سنت آپ کو معمار مساجد کہا کرتے تھے۔آپ نے تمام اہم تحریکوں مثلاً تحریک پاکستان،تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفی میں عملاً حصہ لیا۔
خوددارشخصیت
آپ کی کثیرخصوصیات میں ایک اہم وصف خوددارہونا بھی ہے،آپ کسی سے سوال نہ کرتے، آپ کا ذریعہ معاش مطب تھا،جہاں مریضوں کاجسمانی وروحانی علاج کیا جاتا تھا، آپ بیماریوں کا علاج تجویزکرنے کے ساتھ مریضوں کو نمازروزے اوروردوظیفے کا ذہن بھی دیتے تھے۔مطب سے آپ کاگزربسرہوتاتھا،آپ شیخ طریقت اوربہترین خطیب تھے،آپ چاہتے تو وعظ کی اجرت اورمریدوں سے نذرانے لے سکتے تھے مگرآپ اس سے کوسوں دوررہے بلکہ جن مساجدمیں آپ نے جمعہ پڑھایا وہاں سے بھی مشاہرہ نہ لیا۔
تصانیف
آپ نے دورسائل بنام یاد گارِ خلیل اورچاریاروں کی شان تحریرفرمائے،آپ نے ان میں عقیدہ اہل سنت کو بہت خوبصورت اورمدلل اندازمیں بیان کیاہے۔
وفات وتدفین
آپ نےاپنی ساری زندگی اسلام ومسلک اہل سنت کی ترویج واشاعت میں گزاری،خود بھی سنت کے پابندتھے اورلوگوں کوبھی اس کی تلقین کیا کرتے تھے، مسواک، سرمہ اورخوشبو سے بہت محبت فرماتے،آپ کی خواہش تھی کہ میری عمر 63 سال ہی ہوکیونکہ میرے جداعلیٰ اس دنیا میں 63سال حیات ظاہری سے متصف رہے، آپ کی یہ خواہش پوری ہوئی اورآپ نے 19صفر1400ھ مطابق 8جنوری 1980ء بروز منگل دن دو بجے سن عیسوی کے اعتبارسے 63سال کی عمرمیں وصال فرمایا۔
نمازجنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی،نماز جنازہ حضرت شاہ ابو البرکات کے صاحبزادے و جانشین، شارح بخاری علامہ سید محمود احمد رضوی صاحب نے پڑھائی۔ تدفین جامع مسجد سید شمیم شاہ،وسن پورہ لاہورسے متصل ہوئی،جہاں خوبصورت مزارتعمیرکیا گیا ہے۔آپ کےصاحبزدےمولانا سیدحامدعلی شاہ نقشبندی مجددی صاحب مزارپرانوارپر ہرسال عرس منعقدکرتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع