دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Shalamar Town Lahore Ka Yaadgar Safar | شالا مار ٹاؤن لاہورکا یادگارسفر

book_icon
شالا مار ٹاؤن لاہورکا یادگارسفر
            

حضرت سیدمیرموسیٰ زنجانی

حضرت سید میر موسیٰ زنجانی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش زنجان،ایران کے ایک علمی وصوفی گھرانے میں ہوئی۔والد گرامی اور اس علاقے کے امام مسجد سے علومِ اسلامیہ حاصل کئے۔فارغ التحصیل ہونے کے بعد والد گرامی کی جاگیر کے کاموں میں مصروف ہوگئے۔ بیعت وخلافت بڑے بھائی حضرت میراں حسین زنجانی سے حاصل تھی۔ بھائیوں کے ساتھ لاہورآگئے،ابتدامیں بڑے بھائی سیدیعقوب زنجانی کے ساتھ رہے پھر شمال مشرقی جانب( جہاں بعد میں مستی گیٹ بنا )تشریف لے آئے۔ آپ اسم جلالت اللہ اور اللہ الصمدکا بہت وردکیا کرتے تھے۔آپ پر حالتِ جذب پھر حالت استغراق طاری ہوگئی۔ جب اس حالت سے باہرآتے تو غیرمسلموں کو دعوتِ اسلام دیتے۔آپ مستجاب الدعوات تھے۔آپ نے اپنی زندگی کے آخری سال لاہور ریلوے اسٹیشن کے شمال مشرقی علاقے پاک نگرمصری شاہ میں گزارے،یہیں وصال فرمایا۔ آپ کا مزارایک فٹ اونچے چبوترے پر ہے۔مرقدمبارک پر سیمنٹ کی چھت ہے جوچارستونوں پر کھڑی ہے، مزار کے ساتھ ایک مسجد بنام اونچی خانقاہ مسجد، اکرم روڈ،فیض باغ مصری شاہ بھی ہے۔(1)

زنجان سے لاہورکا سفر

حضرت سیدمیراں حسین زنجانی نے اپنے بھائیوں کے ہمراہ زنجان سے لاہورجانے کے لیے شاہی شاہراہ پر سفرکا آغاز فرمایا۔آپ قزوین،رِے(تہران)سمنان، دامغان، امام رود، مایامے،میاں دست،سبزوار،نیشاپور،سنگ بست،ریمان، تربت شیخ جام، ہرات، قندھار، غزنی، کابل،جلال آباد،درّہ خبیر،پشاور، نوشہرہ، راولپنڈی، جہلم، گجرات سے ہوتے ہوئے لاہورتشریف لائے۔(2)

لاہورمیں رہائش

ابتدامیں آپ نے کچھ دن لاہورکے جنوبی حصے جسےشاہ عالمی کہاجاتاہے میں گزارے پھر اپنے بھائی حضرت سیدیعقوب زنجانی کو یہاں قیام کا حکم دیا،دوسرے بھائی کو مستی دروازہ والی آبادی میں رہنے کا فرمایا اورخودلاہورکے شمالی حصے کو پسندفرمایا جہاں آبادی قدرے کم تھی اوردریائے راوی قریب تھا۔آج اس مقام کو چاہ میراں کہاجاتاہے اوراب دریائے راوی اپنا رستہ تبدیل کرکے کافی دورچلاگیا ہے۔(3)

دعوت دین کے لیے کوششیں

لاہورمیں رہنے والوں کی زبان ہندی تھی،آپ عربی وفارسی جانتے تھے،دین اسلام کی دعوت دینے کے لیےہندی زبان سیکھناضروری تھا چنانچہ آپ نے ہندی زبان سیکھنا شروع کردیا اورہندی زبان میں مہارت حاصل کی،تین سال تک دعوت اسلام دینے کے باوجود کوئی غیرمسلم مسلمان نہ ہوامگرآپ نے ہمت نہ ہاری اورکوشش جاری رکھا۔ آپ ولی کامل اورمستجاب الدعوات تھے۔لوگ اپنی مشکلات لے کرآپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور آپ دعا فرماتے تو ان کی مشکلات حل ہو جاتیں، بیمار شفایاب ہوتے اور تنگ دست فراغ دست ہو جاتے تھے۔آپ روز جمعہ شہرجاتے اوردین اسلام کی دعوت دیتے،ہفتے کے بقیہ دن جائے قیام پر رہتے ہوئےاور ذکروفکرمیں گزارتے۔ لاہورمیں آپ نےکم وبیش 44سال گزارے۔ آپ کی کوششوں سےکثیرغیرمسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔(4)

خواجہ غریب نوازکی میراں زنجانی سے عقیدت

سلطان الہند، حضرت خواجہ غریب نواز سیّد حسن سجزی کی ولادت سجستان، ایران میں 537ھ کو ہوئی اور وصال 6رجب 633ھ اجمیر شریف،راجستھان، ہند میں فرمایا، آپ نجیب الطرفین سید،عالم دین،ولی شہیر،عظم مبلغ اسلام،مصنف کتب،صاحب دیوان شاعر،سلسلہ عالیہ چشتیہ کے عظیم المرتبت شیخ طریقت اورہند میں مؤثرترین شخصیت کے مالک تھے، جب آپ لاہور پہنچے اور حضور داتا گنج بخش کے مزار پر حاضری دی اور فیض حاصل کیا تو اس وقت شیخ حسین زنجانی بھی موجود تھے، خواجہ صاحب اور ان کے مابین بے حد محبت ہو گئی۔(5) آپ حضرت میراں حسین زنجانی سے محبت وعقیدت رکھتے تھے چنانچہ گلزار ابرارمترجم میں ہے:جب خواجہ معین الاولیا ء چشتی اجمیری ہند کو تشریف لائے تھے تو اس وقت چندروزپیرزنجانی کی مصاحبت میں بھی قیام فرمایا۔ باہم رازداری اورخداشناسی کی باتیں ہواکرتی تھیں۔(6) سفینۃ الاولیاء میں ہے:خواجہ معین الدین نے دوردورممالک کا سفر کیااوربڑے بڑے مشائخ سے آپ نے فیض حاصل کیا۔۔۔لاہور میں شیخ حسین زنجانی سے ملاقاتیں کیں اور بلخ سے لاہور تشریف لائے۔(7)

وصال وتدفین

میراں حسین زنجانی نے زندگی بھردعوت اسلام،رشدوہدایت اوراطاعت اللہ ورسول میں گزارکر لاہورمیں 19شعبان بروزجمعرات وصال فرمایا۔سن وفات میں تین اقوال ہیں: (1)آپ نے 431ھ کو وصال فرمایا اورآپ کے وصال کے دن حضرت داتاگنج بخش سیدعلی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللہ علیہ لاہورپہنچے۔(2) آپ نے 600ھ میں وفات پائی۔(3)آپ کاسن وصال 606ھ ہے۔(8)

روضہ مبارک

آپ کا مزارپرانوارشمال مشرقی لاہورکے علاقے چاہ میراں کے جنوب میں قدرے بلند جگہ واقع ہے۔سبزگنبددورسے نظرآتاہے۔چوک رحمان سینٹرسے چاہ مریاں روڈ پر مشرق کی جانب جاتے ہوئے تھوڑے فاصلےپر دائیں جانب ایک بازارہے جوآپ کے مزار اقدس کوجاتاہے، اسے 19 ایچ کہاجاتاہے،اس بازارکے دونوں جانب دوکانیں ہیں۔ کسی زمانے میں آپ کے مزارکے چاروں طرف وسیع وعریض باغ تھا مگراب یہ ختم ہو چکا ہے۔1935ء میں قبرکے تعویزکے چبوترے کو اونچاکرکے اردگردآٹھ ستون بنوا کر ان میں جالیاں لگائی گئیں۔1955ء میں آپ کے مزارپر عالیشان گنبد بنایا گیا۔ بعد میں بھی تعمیرات ہوتی رہیں۔روضے کی عمارات کی کچھ تفصیلات ابتدامیں بیان کی گئی ہیں۔(9)

محمد مہرالدین جماعتی

دربارِ میراں حسین زنجانی پر حاضری وفاتحہ کے بعد ہم دربارکے شمالی حصے کی جانب گئے وہاں ایک احاطے میں جانبِ جنوب مغرب قبرستان ہے جس کے دروازے پر تالا لگا ہوا تھا۔ادریس بھائی وہیں کے رہنے والے ہیں،انھوں نے انتظامیہ سے وہ دروازہ کھلوایا، ہم اندرداخل ہوئے وہاں ایک تحریردیکھی کہ اس قبرستان میں نئی قبرکی جگہ نہیں۔ ہم نہایت احتیاط سے جانب مغرب بڑھے تاکہ کسی قبرپر پاؤں نہ آجائے۔احاطے کی مغربی دیوار کے تقریباً نصف میں دیوارسے متصل حضرت علامہ مہرالدین جماعتی کا مزارمل گیا۔ یہاں فاتحہ اوردعاکی۔مزارپر سنگ مرمرلگایا گیا ہے،جس پر نیلے رنگ کے پھول بوٹے بنے ہوئے ہیں۔مزارکا تعویذ نصف قد آدم تک ہے۔مزارپر لوہے کی چھت ہے۔ مغربی دیوار پر خانہ کعبہ شریف اورگنبدخضریٰ کے ڈیزائن والی ٹائلیں لگائی گئی ہیں۔ تربت مبارک کے کتبے پر بسمہ اللہ اورکلمہ شریف کے بعدیہ عبارت ہے: یا اللہ ،یا رسول اللہ ۔ مرقد انور: تفتازانی دوراں، استاذ الاساتذہ، پیر طریقت، بحر العلوم، حضرت علامہ الحاج شیخ الحدیث والتفسیر، مولانا مفتی محمد مہرالدین سنی حنفی نقشبندی، قادری جماعتی رحمۃ اللہ علیہ ۔ خلیفہ مجاز رہبر شریعت، شیخ المشائخ سیدی مرشدی سراپا برکت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ لاثانی علی پور شریف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔تاریخ وصال 12ربیع الاول شریف 1408ھ بروز جمعرات۔ خاکپائے فقراء:محمد علاؤالدین میاں نقشبندی قادری جماعتی مہروی لاہوری۔ ذیل میں ملک المدرسین کا تفصیلی تذکرہ کیا جاتا ہے:

پیدائش و ابتدائی تعلیم

ملک المدرسین حضرت علامہ مولانا محمد مہر الدین جماعتی رحمۃ اللہ علیہ اہل سنت کے جید عالم دین،فاضل دارالعلوم حزب الاحناف،استاذالاساتذہ،تفتازانی دوراں،شیخ الحدیث والتفسیر،جامع معقول ومنقول اورصاحب تصنیف تھے۔آپ کی ولادت موضع خاصہ ضلع امرتسر،پنجاب،ہند کے زمین دارگھرانے میں 1319ھ مطابق1901ء کو ہوئی۔ سوا سال کے تھے کہ والدۂ محترمہ اور اسکول کی چار کلاسیں پڑھیں تو والد چوہدری روشن دین کا انتقال ہوگیا۔جس کی وجہ سے تعلیم منقطع کرکے بھائیوں کے ساتھ کھیتی باڑی میں مصروف ہوگئے،جب اٹھارہ سال کے ہوئے تو محکمہ راشن میں ملازم ہوگئے۔

علم دین کی جانب متوجہ

20سال کی عمرمیں قرآن پاک کا ترجمہ وتفسیر جاننے کا شوق وجذبہ پیدا ہوا۔ یہ شوق اتنا بڑھا کہ ملازمت کو خیرآبادکہہ کر 1921ء میں خواجہ غریب نوازمعین الدین حسن سجزی کے دربارگہربارمیں پہنچ گئے۔چنددن گزرے تھے تو اجنبیت ومسافرت سے دل بھر گیا او رواپسی کا سفرشروع کیا۔جب موضع موچھل ضلع امرتسرپہنچے تو مولانا صوفی غلام رسول سے قرآن پاک ناظرہ پڑھا۔ اس کے بعد مدرسہ عربیہ کریمیہ جالندھر میں داخلہ لیااورمولانامحمدعبد اللہ اورمولانا عبدالاحدسے ابتدائی علوم اسلامیہ پڑھے۔
1تذکرہ اولیائے لاہور،43تا45 2آفتاب زنجان،ص 126تا230 3تذکرہ اولیائے لاہور،ص27، 28 4بزرگان لاہور،ص 286 5اقتباس الانوار، ص345 تا 359 6اذکار ابرار ترجمہ گلزار ابرار،ص 25 7سفینۃ الاولیاء مترجم،ص 128 8کشف المحجوب ترجمہ کلام المرغوب،مقدمہ،ص 55، 56 9آفتاب زنجان،ص 446تا456

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن