دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Shaitan kay baaz hathyar | شیطان کے بعض ہتھیار

Wada Kar Ke Na Aane Walon Ke Bare Me Husn e Zan

book_icon
شیطان کے بعض ہتھیار

وعدہ کر کے نہ آنے والوں کے بارے میں حُسنِ ظن

  اگر وعدہ کر کے بھی کوئی مجلسِ ایصالِ ثواب میں نہ آیا تو اُس پر حُسنِ ظن ہی رکھا جائے کہ بھول گیا ہوگا،   کوئی مجبوری آ پڑی ہو گی وغیرہ۔   اگروعدہ کرنے اوریاد ہونے کے باوُجُود بھی نہ آیا تب بھی بد گمانی کوراہ نہیں،  کیوں کہ وعدہ خلافی کی تعریف یہ ہے کہ ‘’   وعدہ کرتے وَقْت ہی نیّت یہ ہو کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ نہیں کروں گا۔   ‘‘ لہٰذا اگر بعد میں ارادہ بدل گیا تب بھی وعدہ خِلافی نہیں۔  معلوم ہوا کہ وعدے کے باوُجُود مجلس میں شرکت نہ کرنے کے تعلُّق سے حُسنِ ظن کا پہلو موجود ہے۔   

اپنا قول نبھانا چاہئے

   البتّہ’’  ہاں‘‘ کرنے والے کو ہر ممکن صورت میں اپنا قول نبھانا چاہئے تا کہ لوگ بد ظن نہ ہوں اور بد گمانیوں ،  تہمتوں ،   عَیب دریوں اور غیبتوں کے دروازے نہ کُھلیں۔  خُصُوصاً موت میِّت کے مُعامَلے میں سبھی اسلامی بھائیوں کو جنازوں میں شرکت اور تعزیَت کر کے نیز ایصالِ ثواب کی مجلسوں میں حاضِری دیکر اپنا ثواب کھرا کر لینا چاہئے،   اِس طرح گناہوں کے دروازے بند ہوتے اورمَحَبتَّوں کے رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ ا علیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوٰی رضویہ شریف جلد 8 صَفْحَہ98  تا99 پر نَقْل کرتے ہیں:  حدیث میں ہے:  ’’ایمان بِاللّٰہ کے بعد سب سے بڑی عقلمندی لوگوں کے ساتھ مَحَبَّت کرنا ہے۔   ‘‘  (شُعَبُ الْاِیمان،   ج ۶ ،  ص ۲۵۵ ،  حدیث:   ۸۰۶۱ )  دوسری حدیثِ صحیح 
 میں ہے:  رَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں:  بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوْا۔   یعنی  مَحَبَّت پھیلاؤ نفرت نہ پھیلاؤ ۔     ( بُخاری ،  ج۱،  ص۴۲،  حدیث:  ۶۹)  

خبردار ! بے جا وضاحت کہیں گناہوں میں نہ ڈال دے

میٹھے میٹھے مَدَنی بیٹے!    شیطان کے ہتھیار سے خبردار !    ایسے موقع پر یہ مردود آدمی کو خوب اُکساتا ،  ناصِح  ( یعنی نصیحت کرنے والے)  کی مخالَفت پر اُبھارتا اور دل کے اندر وَسوَسے ڈالتا ہے کہ جھوٹ مُوٹ یوں اوریوں بولدے کہ مَثَلاً میری نیّت یہ نہیں تھی ،   میرا مقصد وہ نہیں تھا ،  میری مُراد تو یہ تھی وغیرہ ،  مزید یہ بھی وَسوَسہ ڈالتا ہے کہ اگر ایسا نہیں کرے گا تو دیکھ تیری بے عزّتی ہوجائیگی !    افسوس!    شیطان کی چال کے سبب بعض اوقات اپنی غلطی ہونے کے باوُجود غَلَط سَلَط وَضاحَتیں شُروع ہو جاتی ہیں۔    ہاں ضَمیر کی آواز پر دُرُست وضاحت کی جاسکتی ہے بلکہ کبھی توایساکرنا سخت ضَروری ہوتا ہے ۔   

کرلے توبہ ربّ کی رَحْمت ہے بڑی

پیارے مدنی بیٹے!    مجھ سے ہرگز خفا نہ ہونا،  دیکھئے نا! علاج کیلئے مریض کو تَلخ دواؤں اور انجکشنوں کے علاوہ ضَرورتاً عملِ جَراحت  (operation)  سے بھی گزرنا پڑتا ہے،   چونکہ اِ س میں مریض کا اپنا بھلا ہوتا ہے لہٰذ۱ وہ ناراض ہونے کے بجائے ڈاکٹرکو خَطیر رقم ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کا شکر گزار بھی ہوتا ہے۔   میں نے جُرأت کر کے شیطان کے بعض ہتھیارآپ پر آشکار کر کے آپ کے بعض ’’اَمراض‘‘   کی نشاندہی کر کے علاج کے چند مَدَنی پھول پیش کئے ہیں اُمّید ہے آپ کے ساتھ ساتھ جِن دیگراسلامی بھائیوں تک بھی یہ  مَدَنی پھول پہنچیں گے اُن کیلئے اِنْ شَآءَ اللہ دُنیا وآخِرت کیلئے مفید بلکہ مفید ترین ثابِت ہوں گے۔   بَہَرحال میں نے آپ کی مَیل کے تعلُّق سے اپنی موٹی سمجھ کے مطابِق جو کچھ عرض کیا اگر آپ کا ضمیر قَبول کرتا ہے اور اپنے اندر ندامت پاتے ہیں تو اپنی مَیل کی جن جن عبارات میں گناہ پائیں ان سے توبہ کیجئے اورجن جن اسلامی بھائیوں کی دل آزاری کا کھٹکا پائیں اِس ضِمْن میں توبہ کے ساتھ ساتھ اُن سے مُعافی کی ترکیب بھی فرمائیں کہ اِسی میں دنیا و آخِرت کی بھلائی ہے۔   
ہے فلاح و کامرانی نرمی و آسانی میں ہر بنا کام بگڑ  جاتا نادانی میں
ڈوب سکتی ہی نہیں موجوں کی طُغیانی میں جس کی کِشتی ہو محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نگہبانی میں

ہر دعوتِ اسلامی والامیراپیارا ہے

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحمت اور مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نگاہِ عنایت سے دعوتِ اسلامی کا باغ خوب پھل پھول  رہاہے،   جس طرح باپ کو اپنا ہربچّہ اور مالی کو اپنے باغ کا ہر پھل عزیز ہوتا ہے اسی طرح ہر دعوتِ اسلامی والا مجھے پیارا ہے خواہ وہ مَدَنی کام زیادہ کرتا ہویا کم ،   البتّہ کماؤ پُتَّر سبھی کو زیادہ میٹھا لگتا ہے مگر نکمّی اولاد کو بھی باپ ضائع نہیں کیا کرتا ۔    میں ہر دعوتِ اسلامی والے اور والی کے حق میں دعائیں مانگتا ہوں،    یہ سبھی میرے مَدَنی باغ کے پھل پھول اورکلیاں ہیں،    انہیں سے باغِ عطّارؔمیں مَدَنی بہار ہے۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ مدینے کے سدا بہار پھولوں کے صدقے میرے پھولوں کوسدا مسکراتا رکھے۔   یااللّٰہ !  ان کے ساتھ ساتھ ان کی نسلیں بھی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ رَہ کر دنیا و آخِرت کی  بھلائیاں سمیٹتی رہیں۔   اوریہ سب کے سب بے سبب بخشے جائیں،  یہ دعائیں مجھ گنہگار کے حق میں بھی قبول ہوں۔   اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

مَدَنی کام کرنے والے مجھے زیادہ عزیز ہیں

دعوتِ اسلامی کے سرگرمِ عمل (active) ذِمّے داران  ومبلِّغین میرے  ’’  کماؤ پُتَّر ‘‘ ہیں یہ مجھے زیادہ عزیز ہیں،    ان کی مخالَفَت سے میرے دل کو اذیَّت پہنچتی ہے۔   میں جب بھی کسی حلقے ،    عَلاقے ، شہر یا ملک کے اسلامی بھائیوں کی آپَسی شکر رنجیوں کاسنتا ہوں تو دُکھی ہوجاتا ہوں کہ یہ اچّھا خاصہ مَدَنی کام کرتے کرتے نادانی پر کہاں اُترآئے!    کہیں ایسا نہ ہو ان کی غیر محتاط حرکتوں سے شیطان فائدہ اٹھا لے اورانہیں نیکیوں اور سنّتوں بھرے مَدنی ماحول سے دُور کر دے اور دین کے مَدَنی کاموں کو بھی نقصان پہنچ جائے!    لہٰذا میرے تمام مَدَنی بیٹوں اورمَدَنی بیٹیوں سے دست بستہ مَدَنی التجا ہے کہ دل بڑا رکھا کریں اور آپَس میں اِفتِراق وانتِشار کی فضا قائم نہ ہونے دیا کریں،   اگر تنظیمًا کوئی ناخوشگوار مُعامَلہ درپیش ہو تو تنظیمی ترکیب  (جوکہ مدنی کام کرنے والوں کو معلوم ہوتی ہے)   کے مطابِق اِس کاحل تلاش کیجئے ۔   ہرگز یہ نہ ہو کہ عارضی ہمدردیاں حاصِل کرنے کیلئے چند اسلامی بھائیوں کو بتا کر آپ ’’لابنگ‘‘  کی صورت کھڑی کر دیں اور پھرآپ کی ہی بے احتیاطی کے باعِث غیبتوں چُغلیوں بدگمانیوں اور فتنوں کا سلسلہ چل نکلے اور خدانخواستہ آپ کی اوردوسروں کی آخِرت داؤ پرلگ جائے۔   

فتنے پھیلانے کی وعیدیں

دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 504 صَفْحات پر مشتمل کتاب ،   ‘’  غیبت کی تباہ کاریاں‘‘ صَفْحَہ455تا456 پر ہے: جوبد نصیب لوگ مسلمانوں میں بُرے چرچے جگاتے اور فتنے اٹھاتے ہیں ان کو ڈر جانا چاہئے کہ پارہ 18سُوۡرَۃُالنُّوۡرآیت نمبر 19 میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عبرت نشان ہے: 
اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-
 ترجَمۂ کنزالایمان:  وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بُرا چرچا پھیلے ان کے لئے درد ناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں۔  
    بعض لوگ بَہُت ہی جھگڑا لو طبیعت کے مالک ہوتے ہیں ،  خوامخواہ غیبتیں کرتے،  چغلیاں کھاتے،   تنقیدیں کرتے ،   بال کی کھال اُتا رتے،  بات بات پر فساد ات برپا کرتے اور مسلمانوں کیلئے اِیذا کا باعِث بنتے رہتے ہیں ،   ایسے لوگو ں کو ڈر جانا چاہئے کہ پارہ 30سُوۡرَۃُالۡبُرُج کی دسویں آیتِ مُبارکہ میں ربُّ الْعِباد عَزَّوَجَلَّ کا ارشادِ عبرت بنیاد ہے : 
اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِؕ (۱۰) 
ترجَمۂ کنزالایمان:  بے شک جنہوں نے اِیذا دی مسلمان مردو ںاور مسلمان عورَتوں کو پھر تو بہ نہ کی اُن کیلئے جہنَّم کا عذاب ہے اور اُن کیلئے آگ کا عذاب ۔   

فتنے جگانے والوں پر لعنت

حدیثِ پاک میں ہے:  ’’  فِتنہ سویا ہوا ہوتا ہے اُس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی لعنت جو اِس کو بیدار کرے۔   ‘‘ (اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوطی ،  ص۳۷۰،  حدیث:  ۵۹۷۵)  
اگر میزاں پہ پیشی ہو گئی تو ہائے !  بربادی! !    گناہوں کے سوا کیا میرے نامے میں بھلا نکلے
کرم سے اُس گھڑی سرکار پردہ آپ رکھ لینا سرِ محشر مِرے عیبوں کا جس دم تذکرہ نکلے
     (وسائل بخشش ص ۲۶۱)  
اپنے تنظیمی ذِمّے داران کی اطاعت جا ری رکھتے ہوئے مَدَنی اِنْعامات پر عمل اورمَدَنی قافِلوں میں پابندی سے سفر کرتے رہنے کے ساتھ ساتھ حسبِ حال مَدَنی کاموں کی خوب دھومیں مچاتے رہئے،   اللہ تَعَالٰی ہم سب کا حامی و ناصِر ہو۔     اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
سنّتیں عام کریں دین کا ہم کام کریں
نیک ہو جائیں مسلمان مدینے والے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تُوبُوااِلَی اللہ !                         اَسۡتَغۡفِرُاللہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

یہ رسالہ پڑھ کر دوسرے کو دے دیجئے

شادی غمی کی تقریبات،  اجتماعات،   اعراس اور جلوسِ میلاد و غیرہ میں مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل اور مدنی پھولوں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کرکے ثواب کمائیے ،   گاہکوں کو بہ نیتِ ثواب تحفے میں دینے کیلئے اپنی دکانوں پر بھی رسائل رکھنے کا معمول بنائیے ،   اخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلے کے گھر گھر میں ماہانہ کم از کم ایک عدد سنتوں بھرا رسالہ یا مدنی پھولوں کا پمفلٹ پہنچاکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے اور خوب ثواب کمائیے۔   

۸ ۱ربیع الاوّل۱۴۳۴ھ
2013۔  01۔  31
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

تہ دار مہندی لگانے سے وضو و غسل نہیں ہوتا

    (دارالافتاء اہلسنّت کے غیر مطبوعہ فتوے کی تلخیص)                                                                   
جرم دار یعنی تہ والی مہندی ،  نیل پالش اور اسٹیکرز والے میک اپ کے لگے ہونے کی حالت میں وُضو اور غسل نہیں ہو تا،   اس لیے کہ مذکورہ تینوں چیزیں پانی کے جلد تک پہنچنے سے مانع  (یعنی رُکاوٹ) ہیں،  اوران چیزوں کا لگانا کسی شرعی ضرورت یا حاجت کے لیے بھی نہیں۔   قاعدہ یہ ہے کہ جو چیزیں پانی کو جسم تک پہنچنے سے مانع  (یعنی رُکاوٹ)  ہوں اُن کے جسم پر چپکے ہونے کی حالت میں وُضو اور غسل نہیں ہوتا،   کیونکہ وُضو میں سر کے علاوہ باقی تینوں اَعضائے وضوپر اور غسل میں پورے جسم کے ہر ہر بال اور ہر ہر رُونگٹے پر پانی بہ جانا فرض ہے۔   
حضرت ِعلّامہ ابنِ ہمام عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ السَّلَام فرماتے ہیں: اگر اس (یعنی وضو کرنے والے)  کے ناخن کے اوپر خشک مِٹّی یا اس کی مثْل کوئی اور چیز چپک گئی یا دھونے والی جگہ پرسُوئی کی نوک کے برابر باقی رہ گئی تو جائز نہیں ہے یعنی وُضو نہیں ہو گا۔   (فتح القدیر ،  ج۱،    ص۱۳ ،   کوئٹہ )  محیط میں ذکر کیاگیا ہے کہ اگر کسی آدمی کے جسم پر مچھلی کی جلد یا چَبائی ہوئی روٹی لگی ہے اور خشک ہو چکی ہے اِس حالت میں اس نے غسل یا وُضو کیا اور پانی اُس کے نیچے جسم تک نہیں پہنچا تو غسل اور وُضو نہیں ہو گا،   اور اسی طرح ناک کی خشک رِینٹھ کا حکم ہے،   اِس لیے کہ غسل میں پورے بدن کو دھونا واجب ہے اور یہ اشیاء اپنی سختی کی وجہ سے پانی کے جسم تک پہنچنے سے مانع  (یعنی رُکاوٹ)  ہیں  (فتاوٰی عالمگیری،    ج۱،  ص۵ ،  غنیہ،   ص۴۹،  سہیل اکیڈمی،   مرکز الاولیاء لاہور)  
فتاوٰی عالمگیری میں ہے: اگر وُضو والی کسی جگہ پرسُوئی کی نوک کے برابر کوئی چیز باقی ہو یا ناخن کے اوپر خشک یا تر مِٹّی چپک جائے تو جائز نہیں یعنی وضو و غسل نہیں ہو گا۔  اسی میں ہے:   خضاب جب جرم دار ہو اور خشک ہو جائے تو وضو اور غسل کی تَمامِیَّت سے مانِع  (یعنی مکمل ہونے میں رکاوٹ ) ہے۔   یعنی اس کی وجہ سے وضو اور غسل تام (یعنی مکمَّل)  نہیں ہو گا۔    ( عالمگیری ،  ج۱،  ص۴ ،  دارالفکر بیروت) اِسی میں ایک اور مقام پر ہے: ’’   اگر عورت نے اپنے سر پر کوئی خوشبو اس طرح لگائی کہ اس کی وجہ سے بالوں کی جڑوں تک پانی نہیں پہنچتا تو اس پر اس خوشبو کو زائل کرنا واجِب ہے تا کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔  ‘‘  (ایضاً ،  ص۱۳ )   صَدرُالشَّریعہ،  بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں:  ’’  مچھلی کاسِنّا اعضائے وُضو پر چپکا رہ گیا وضو نہ ہو گا کہ پانی اس کے نیچے نہ بہے گا۔  ‘‘  (بہار شریعت ،  جلد۱ ،  حصہ۲،   ص۲۹۲ ،  مکتبۃ المدینہ کراچی) اور جہاں تک اس بات کا تعلُّق ہے کہ فُقَہاء کرام رَحِمَہُمُ السَّلَام نے مہندی کے جِرم (یعنی تہ)  کے باوُجُود وُضو ہوجانے کی تصریح کی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اُن حضرات کا یہ حکم اُس معمولی سے جِرم (یعنی  تہ)  کے بارے میں ہے جو مہندی لگانے کے بعد اچّھی طرح دھو نے کے بعد بھی لگارہ جاتا ہے جس کی دیکھ بھال میں حَرَج ہے جیسے آٹا گوندھنے کے بعد معمولی سا آٹا ناخُن وغیرہ پر لگارہ جاتاہے ،   یہ نہیں کہ پورے ہاتھ پاؤں پر پلاسٹک کی طرح مہندی کا جرم (یعنی جسم ،   تہ)  چڑھالیں،   بازوؤں پر بھی ایسی ہی مہندی کا اچّھا خاصا حصّہ جمالیں،   پورا چہرہ اسٹیکرز والے میک اَپ سے چھپالیں اور پھر بھی وُضو و غسل ہوتا رہے!    ایسی اجازت ہر گز ہرگز کسی فقیہ نے نہیں دی۔  بہرحال مذکورہ صورت میں وضو نہیں ہوتا اور جب وضو نہ ہوا تو نماز بھی نہ ہوئی،   لہٰذا ماضی میں اگرکسی نے اِس طرح پنج گانہ نمازیں پڑھی ہوں تواُس کیلئے ضروری ہے کہ یاد کرکے اور اگر یادنہ ہو تو ظنِّ غالب کے مطابِق حساب لگا کر فرضوں اور وتر کی قضا پڑھے۔    

مآخذ و مراجع

کتاب مطبوعہ کتاب مطبوعہ
قراٰن مجید مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی جمع الجوامع دار الکتب العلمیہ بیروت
تفسیر کبیر دار احیاء التراث العربی بیروت الطبقات الکبریٰ دار الکتب العلمیہ بیروت
تفسیر بیضاوی دار الفکر بیروت فتح الباری دار الکتب العلمیہ بیروت
نور العرفان پیر بھائی کمپنی مرکز الاولیاء لاہور المجموع  دار الفکر بیروت
بخاری دار الکتب العلمیہ بیروت فیض القدیر دار الکتب العلمیہ بیروت
ابوداود دارا حیاء التراث العربی بیروت رسالۂ قشیریہ دار الکتب العلمیہ بیروت
ترمذی دار الفکر بیروت حدیقہ ندیہ پشاور
مسند امام احمد دار الفکر بیروت احیاء العلوم دار صادر بیروت
معجم کبیر دارا حیاء التراث العربی بیروت تنبیہ المغترین دار المعرفۃ بیروت
معجم ا وسط دار الکتب العلمیہ بیروت الزواجر دار المعرفۃ بیروت
حلیۃ الاولیاء دار الکتب العلمیہ بیروت فتاویٰ رضویہ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور 
شعب الایمان دار الکتب العلمیہ بیروت ملفوظات اعلیٰ حضرت مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
الترغیب والترہیب دار الکتب العلمیہ بیروت بہار شریعت مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
الجامع الصغیر دار الکتب العلمیہ بیروت اللّٰہ والوں کی باتیں مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن