دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Shaitan kay baaz hathyar | شیطان کے بعض ہتھیار

Khudpasandi Ki Tabah Kariyan

book_icon
شیطان کے بعض ہتھیار

خود پسندی کی تباہ کاریاں خود پسندی کی تعریف

      میٹھے میٹھے مَدَنی بیٹے !    بسا اوقات آدَمی نیک کام توکرتاہے مگر اُس پر شیطان کا ہتھیار کارگرہو چکا ہوتاہے اوروہ اِسے اپنا ذاتی کارنامہ سمجھ بیٹھتا ہے اُسے یہ اِحْساس نہیں رہتا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی دی ہوئی توفیق ہی سے میں یہ کر رہا ہوں ۔   سبھی کیلئے ضَروری ہے کہ وہ شیطان کے اِس ہتھیار عُجْب یعنی’’  خود پسندی ‘‘کی تعریف اور اِس کی تباہ کاریوں پر نظر رکھیں ۔   خود پسندی کی تعریف یہ ہے:  اپنے کمال (مثلاً عِلْم یا عمل یا مال)  کو اپنی طرف نسبت کرنااور اس بات کا خوف نہ ہونا کہ یہ چِھن جائے گا۔  گویا خود پسند شخص نعمت کو مُنْعِمِ حقیقی  (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ)  کی طرف منسوب کرنا ہی بھول جاتا ہے ۔   (یعنی ملی ہوئی نعمت مَثَلاً صِحّت یاحسن و جمال یا دولت یا ذِہانت یا خوش الحانی یا منصب وغیرہ کو اپنا کارنامہ سمجھ بیٹھنا اوریہ بھول جانا کہ سب ربُّ العزّت ہی کی عنایت ہے)    (اِحیاءُ الْعُلوم،     ج۳،  ص۴۵۴) 

خود پسندی کی اَہَم وضاحت

           حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت ِسیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی لکھتے ہیں :  جو شخص علم،   عمل اورمال کے ذَرِیعے اپنے نَفْس میں کمال جانتا ہو اُس کی   ’’دو حالتیں ‘‘  ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے اُس کمال کے زَوال کاخوف ہو یعنی اِس بات کا ڈر ہو کہ اس میں کوئی تبدیلی آجائے گی یا بالکل ہی سَلْب اورختم ہوجائے گا تو ایسا آدَمی  ’’ خود پسند‘‘ نہیں ہوتا۔   دوسری حالت یہ ہے کہ وہ اس کے زَوال  (یعنی کم یا خَتْم ہونے)  کا خوف نہیں رکھتا بلکہ وہ اِس بات پر خوش اور مطمئن ہوتا ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے مجھے یہ نعمت عطا فرمائی ہے اِس میں میرا اپنا کمال نہیں۔    یہ بھی  ’’ خود پسندی‘‘   نہیں ہے اور اس کے لیے ایک تیسری حالت بھی ہے جو خود پسندی ہے اور وہ یہ ہے کہ اسے اس کمال کے زَوال (یعنی کم یا ختم ہونے)  کا خوف نہیں ہوتا بلکہ وہ اس پرمَسرورو مطمئن ہوتا ہے اور اس کی مَسرَّت کا باعِث یہ ہوتا ہے کہ یہ کمال ،   نعمت و بھلائی اور سر بُلندی ہے،  وہ اس لیے خوش نہیں ہوتا کہ یہ اللہ تَعَالٰی کی عنایت اور نعمت ہے بلکہ اس (یعنی خود پسند بندے)  کی خوشی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اسے اپنا وَصْف  (یعنی خوبی)  اور خود اپنا ہی کمال سمجھتا ہے وہ اِسے اللہ تَعَالٰی کی عطاء وعنایت تصوُّر نہیں کرتا۔     (اِحیاءُ الْعُلوم ،  ج۳،  ص۴۵۴) 

میں تو خوب دین کی خدمت کرتا ہوں!

بعض اوقات انسان بظاہِر اچّھے اعمال کرتاہے لیکن وہ اُس کے اپنے حق میں اچّھے نہیں ہوتے کیوں کہ شیطان کا ہتھیار اُس پر چل جانے کے سبب وہ اُس پر اِتراتا ہے کہ میں بَہُت نیک کام کرتا ہوں ،   خوب دین کی خدمت کرتا ہوں،  میں نے یہ بھی کیا اور وہ بھی کیا ،    وہ یہ بھول جاتا ہے کہ مجھے اس کی توفیق میرے پَرْوَرْدَگار عَزَّ وَجَلَّ نے عطا فرمائی ہے،    ایسے اِترانے والوں کو ڈر جانا چاہئے کہ پارہ 16 سُوۡرَۃُ الۡکَھۡف آیت نمبر104میں ربُّ العِباد کا ارشادِ عبرت بُنیاد ہے: 
وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا (۱۰۴) 
ترجَمۂ کنزالایمان:  اور وہ اس خیال میں ہیں کہ ہم اچّھا کام کر رہے ہیں۔    
        اِس آیتِ کریمہ کے تَحْت مُفَسِّرشَہیر،  حکیمُ الْاُمَّت،   حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان فرماتے ہیں: اِس سے معلوم ہوا کہ بدکار سے زیادہ بدنصیب وہ نیک کار ہے جومحنت اٹھا کر نیکیاںکرے مگر اُس کی کوئی نیکی اُس کے کام نہ آوے،   وہ دھوکے میں رہے کہ میں نیک کارہوں ۔   خدا کی پناہ۔    (نورُ العِرفان ص ۴۸۵)  

میں نے یہ کیا ! میں نے وہ کیا!

    اپنے اعمال کو  ’’ کچھ‘‘ سمجھنا اور اس پر اِترانا اور اپنے منہ میاں مٹّھو بننا کہ  ’’میں نے یہ کیا!    وہ کیا!  ‘‘  یہ بُری صِفَت ہے اللہ تَعَالٰی پارہ27 سُوۡرَۃُالنَّجۡم آیت نمبر32میں ارشاد فرماتا ہے :  
هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْۚ-فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ (۳۲) 
ترجَمۂ کنزالایمان:  وہ تمہیں خوب جانتا ہے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں حمل تھے تو آپ اپنی جانوں کوسُتھرا نہ بتاؤ ،  وہ خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں ۔     
         اِس آیتِ کریمہ کے تَحْت مُفَسِّرشہیر،   حکیمُ الْاُمَّت،    حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان فرماتے ہیں:  یہ آیت اُن لوگوں کے مُتعلِّق نازِل ہوئی جو اپنی نیکیوں پر فخر  کرتے تھے اور فخریہ کہتے تھے کہ ہماری نَمازیں ایسی ہیں! ہمارے روزے ایسے!    ہم ایسے!    اُس  (یعنی اللہ تَعَالٰی)  ہی کا جاننا کافی ہے تم اپنے تَقویٰ طہارت کا لوگوں میں کیوں اعلان کرتے ہو!    لُطْف تو جب ہے کہ بندہ کہے:    ’’میں گنہگار ہوں‘‘  رب (عَزَّوَجَلَّ)  کہے:  یہ پرہیز گار ہے!    جیسے ابوبکر صدِّیق   (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ)    (نورُالعرفان ،  ص۸۴۱،  ۸۴۲) 
اس آیتِ کریمہ کے تحت حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں:  حضرتِ سیِّدُنا ابنِ جُرَیج رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:  اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جب تم اچّھا عمل کرو تو یہ نہ کہو:   ’’ میں نے عمل کیا۔   ‘‘    (اِحیاءُ الْعُلوم ،  ج۳ ،  ص ۴۵۲) 

خود پسندی کی مذمّت پر بُزُرگانِ دین کے 5فرامین

 {1}  اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے پوچھا گیا کہ آدَمی گنہگار کب ہوتا ہے؟  فرمایا:  جب اُسے یہ گُمان ہو کہ میں نیکوکار یعنی نیک آدَمی ہوں۔    (اِحیاءُ الْعُلوم،   ج۳ ،  ص ۴۵۲) 
 {2}  مشہور تابعی حضرتِ سیِّدُنازید بن اسلم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم فرماتے ہیں:  اپنے آپ کو نیکوکار مت قرار دو کیوں کہ یہ خود پسندی ہے۔    (ایضاً)  
 {3}   حضرتِ سیِّدُنامُطَرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:  میں رات بھر عبادت کروں اور صُبح خود پسندی میں پڑوں یعنی یہ سمجھوں کہ میں تو بڑا نیک آدَمی ہوں اِ س سے بہتریِہی ہے کہ رات سویا رہوں اور صُبح رات کی عبادت سے محرومی پر افسوس کروں۔      (ایضاً) 
 {4}   حضرتِ سیِّدُنا بِشْر بن منصور عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْغَفُوران لوگوں میں سے تھے جن کو دیکھ کر اللہ تَعَالٰی اور آخِرت کا گھر یاد آتا ہے،   کیونکہ وہ عبادت کی پابندی کرتے تھے۔    آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک دن نَماز پڑھی،   ایک شخص پیچھے کھڑا دیکھ رہا تھا۔   آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے سلام پھیرا تو  (خوفِ خدا سے مغلوب ہو کر خود پسندی سے بچنے کیلئے بطورِ عاجِزی )  فرمایا:  جو کچھ مجھ سے دیکھا ہے اس سے تمہیں تعجُّب نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ شیطانِ لعین نے فِرِشتوں کے ہمراہ ایک طویل عرصہ اللہُ ربُّ العزّت عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کی پھر اس کا جو انجام ہوا وہ واضِح و ظاہِر ہے۔    (ایضاً ،  ص۴۵۳) 
 {5}   حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں: نیک کاموں کی توفیق اللہ تَعَالٰی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت اور اُس کے عطِیّات میں سے ایک عَطِیَّہ  (عَطِیْ۔  یَہ۔  یعنی بخشش)  ہے لیکن خود پسندی ہی کی وجہ سے نادان انسان اپنی ذات کی تعریف کرتا اور پاکیزگی ظاہِر کرتاہے اور جب و ہ اپنی رائے ،   عمل او ر عَقْل پر اِتراتا ہے تو فائدہ حاصِل کرنے ،   مشورہ لینے اور پوچھنے سے باز رہتا اور یوں اپنے آپ پر اور اپنی رائے پر اعتِماد کرتا ہے۔   (کہ میں بھی تو سمجھ بوجھ رکھتا ہوں ،   کیا ضَرورت ہے کہ دوسروں سے مشورہ لوں! )   (ایضاً ،  ص ۸۲۲) آگے چل کر مزید فرماتے ہیں: عابِد کو اپنی عبادت پر ،   عالم کو اپنے علم پر،   خوبصورت کو اپنی خوبصورتی اورحُسن وجمال پر اور مالدار کو اپنی مالداری پر اِترانے کاکوئی حق نہیں پہنچتا کیونکہ سب کچھ اللہ تَعَالٰی کے فضل و کرم سے ہے۔    ( ایضاً ،   ص ۸۳۶)  یعنی ذِہانت ،  علاج کرنے کی صلاحیّت ،  خوش الحانی و خوش بیانی وغیرہ کی نعمت وغیرہ جس کو جو کچھ مِلا اُس میں بندے کا اپنا کوئی کمال ہی نہیں جو دیا جتنا دیا سب اللہ تَعَالٰی نے ہی دیاہے۔  

خود پسندی کا علاج

  حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  ( مُتَّقی و پرہیز گار اورصِدق واخلاص کے پیکر ہونے کے باوُجُود خدا کے ڈر کے سبب)  تمنّا کیا کرتے تھے کہ کاش!    وہ مٹّی ،   تنکے اور پرندے ہوتے۔   (تا کہ بُرے خاتمے اور عذابِ قبر وآخِرت سے بے خوف ہوتے) تو جب صَحابہ کی یہ کیفیت تھی توکوئی صاحِبِ بَصیرت ( سمجھدار شخص)  کس طرح اپنے عمل پر اِتراسکتا یا ناز کر سکتا ہے اور کس طرح اپنے نَفْس کے مُعامَلے میں بے خوف رہ سکتا ہے!    تویہ  (یعنی صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا خوف اوران کی عاجِزی ذِہن میں رکھنا)  خود پسندی کا علاج ہے اور اِس سے اِس کامادّہ بِالکل جڑ سے اُکھڑجاتا ہے اور جب یہ ( یعنی صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ڈر نے کا انداز)  دل پر غالِب آتاہے تو سلبِ نعمت  (یعنی نعمت  چِھن جانے)  کا خوف اِسے اِترانے ( اور خود کو  ’’   کچھ‘‘  سمجھنے)  سے بچاتا ہے بلکہ جب وہ کافِروں اور فاسِقوں کو دیکھتا ہے کہ کسی غَلَطی کے بِغیر ہی جب ان    ( یعنی کافِروں )  کو ایمان سے محروم رَہنا پڑا اور اُن  (یعنی فاسِقوں)  کو اطاعت وفرماں برداری سے ہاتھ دھونا پڑا تو وہ  (یعنی صَحابۂ کرام کا خوف یاد رکھنے والا شخص) اپنے حق میں ڈرتے ہوئے یہ بات سمجھ لیتا ہے کہ ربِّ کائنات  عَزَّ وَجَلَّ کی ذات بے نیاز ہے وہ چاہے تو کسی کو کسی جُرم کے بِغیر ہی محروم کر دے اورجسے چاہے کسی وسیلے کے بِغیر ہی عطا کر دے۔  خدائے بے نیاز  عَزَّ وَجَلَّ اپنی دی ہوئی نعمت بھی واپَس لے سکتا ہے۔   کتنے ہی مومِن  (مَعَاذَ اللہ)  مُرتَدہو گئے جبکہ بے شمار پرہیز گار واطاعت گزار فاسق ہو گئے اوران کا خاتِمہ اچّھا نہ ہوا۔    اس طرح کی سوچ سے خود پسندی ختم ہو جاتی ہے۔    (ایضاً ،  ص ۴۵۸) 
حُبِّ جاہ وخود پسندی کی مِٹا دے عادتیں
یا الٰہی!    باغِ جنّت کی عطا کر راحتیں
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اِخلاص

     پیارے مَدَنی بیٹے! یاد رکھئے !    یہ بھی شیطان کا ایک بہت بڑا اوربُرا ہتھیار ہے کہ آدَمی کو اِس خوش فہمی میں مبتَلا کردے کہ میں بَہُت اچھا انسان ہوں اور میں نے اسلام کی بَہُت خدمت کی ہے ۔ شیطان کے اِس وار کو ناکام بناتے ہوئے بس یہی ذِہْن بنا لیجئے کہ اپنے طور پر میں نے اب تک کوئی دین کا کام کیا ہے نہ ہی اچّھے اعمال،    میں کچھ بھی نہیں،    میں سب سے بُرا ہوں۔  نیز اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی دی ہوئی توفیق سے اگر کوئی نیکی کا موقع نصیب ہو بھی جائے تو اُسے زیورِ اِخلاص سے مُزیَّن کیجئے۔   اللہُ تَعَالٰی بوسیلۂ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آپ کو اور آپ کے صدقے مجھ گنہگار وں کے سردارکو اپنا مُخلِص بندہ بنائے۔   اٰمین۔ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ: جو بندہ چالیس دن خالِص اللہُ تَعَالٰی کے لیے عمل کرے اللہُ تَعَالٰی حکمت کے چشمے اُس کے دل سے اس کی زُبان پر ظاہِر کر دیتا ہے۔   (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ،  ج۱،  ص۲۴،  حدیث: ۱۳)  

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن