{1} صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضاکے لیے عمل کرنااور مخلوق کی خوشنودی یا اپنی کسی نفسانی خواہش کو اُس میں شامِل نہ ہونے دینا {2} حضرتِ علّامہ عبد الغنی نابُلُسی حنفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی لکھتے ہیں: اِخلاص اِس چیز کا نام ہے کہ بندہ عمل سے صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قُرْب حاصِل کرنے کا ارادہ کرے، کسی قسم کا دُنْیوی نَفْع مقصود نہ ہو ۔ (اَلْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّۃ ، ج ۲ ، ص ۴۶۲) {3} حضرتِ ِسیِّدُنا حُذَیفہ مَرْعَشِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں: اِخلاص اس چیز کا نام ہے کہ ظاہر وباطن ( اکیلے اور دوسروں کی موجودَگی ) میں بندے کا عمل برابر ہو۔ (اَلْمَجْمُوع لِلنَّوَوی ، ج ۱، ص۱۷) {4} حضرتِ سیِّدُنا مُحاسِبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں: ’’ اِخلاص یہ ہے کہ جوربّ عَزَّ وَجَلَّ کامُعامَلہ ہو اُس میں سے مخلوق کو نکال دے۔ ‘‘ (اِحیاٗءُ الْعُلوم، ج۵، ص ۱۱۰ ) {5} حضرتِ سیِّدُناسَہْل بن عبد اللّٰہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : اخلاص یہ ہے کہ خَلوت وجَلوت (یعنی تنہائی اوردوسروں کی موجودَگی) میں بندے کی حرکات وسَکنات صِرْف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کیلئے ہوں، اس میں نَفْس، خواہش یا دنیا کا کوئی دخْل نہ ہو۔ (اَلْمَجْمُوع لِلنَّوَوی، ج۱، ص۱۷)
اِخلاص عبادت کی روح ہے، صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں: ’’ عبادت کوئی بھی ہو اُس میں اِخلاص نہایت ضَروری چیز ہے یعنی مَحض رِضائے الٰہی کے لیے عمل کرنا ضَرور ہے۔ دِکھاوے کے طور پر عمل کرنابِالاْجماع حرام ہے، بلکہ حدیث میں رِیا کو شرکِ اَصغر فرمایا۔ اِخلاص ہی وہ چیز ہے کہ اس پر ثواب مُرتَّب ہوتا ہے، ہوسکتا ہے کہ عمل صحیح نہ ہو مگر جب اِخلاص کے ساتھ کیا گیا ہو تو اُس پر ثواب مُرتَّب ہومَثَلاً لاعِلْمی میں کسی نے نَجِس (یعنی ناپاک ) پانی سے وُضو کیا اورنَماز پڑھ لی اگرچِہ یہ نَماز صحیح نہ ہوئی کہ صحّت (یعنی دُرست ہونے) کی شَرْط طَہارت (پاکی) تھی نے صِدْقِ نیّت (یعنی سچّی نیّت) اور اِخلاص کے ساتھ پڑھی ہے تو ثواب کا تَرَتُّب ہے یعنی اِس نَماز پر ثواب پائے گا مگر جبکہ بعد میں معلوم ہوگیا کہ ناپاک پانی سے وُضُو کیا تھا تو (نَماز نہ ہوئی اور) وہ مُطالَبہ جو اس کے ذِمّے ہے ساقِط نہ ہوگا، وہ بدستور قائم رہے گا اس کو ادا کرنا ہوگا۔ ‘‘ (بہارِ شریعت ، جلد ۳ ، ص ۶۳۶)
جن کا ذِہْن یہ ہو تا ہے کہ ہم نے بَہُت سارا علمِ دین حاصِل کیا، تعلیمِ علمِ دین کے امتحان میں دوسروں سے مُمتاز آئے، اتنااتنا اسلام کا کام کیا ، کتابیں تصنیف کیں، فُلاں فُلاں اچّھے اعمال کئے ، دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلوں میں اِتنا اتنا عرصہ سفر کیا، ہماری تعریف و حوصلہ اَفزائی ہونی چاہئے، ہمیں تحفہ و انعام دیا جانا چاہئے، وہ شیطان کا ہتھیار ناکام بناتے ہوئے اِس حِکایت سے درسِ عبرت حاصِل کریں چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ رُوحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے حواریوں نے عرض کی: کس کا عمل خالِص ہے؟ فرمایا: اُس کا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا کیلئے عمل کرتا ہے اوراُسے یہ بات پسند نہیں ہوتی کہ اِس (عمل) پر اُس کی کوئی تعریف کرے! (اِحیاءُ الْعُلوم ، ج۵ ، ص ۱۱۰ )
{1} حضرت سیِّدُنا یعقوب مَکْفُوْف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: مخلص وہ ہے جو اپنی نیکیاں اِس طرح چھپائے جس طرح اپنے گناہ چھپاتاہے۔ (اِحیاءُ الْعُلوم ، ج۵ ، ص ۱۰۵) {2} حضرتِ سیِّدُنا سَرِی سَقَطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں: اگرتم اِخلاص کے ساتھ علیٰحَدَگی میں دو رَکعتیں پڑھو تو یہ بات تمہارے لئے 70 یا 700احادیث عمدہ اسناد کے ساتھ لکھنے سے بہتر ہے۔ (ایضا ، ص۱۰۶) فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ: آدَمی کا ایسی جگہ نَفْل نَماز پڑھنا جہاں لوگ اسے نہ دیکھتے ہوں، لوگوں کے سامنے ادا کی جانے والی 25 نَمازوں کے برابر ہے۔ (جَمْعُ الْجَوامِع، ج۵، ص۸۳، حدیث: ۱۳۶۲۰) {3} ایک بُزُرْگ کا قول ہیـ: ایک ساعت کا اِخلاص ہمیشہ کی نَجات کا باعِث ہے لیکن اِخلاص بَہُت کم پایا جاتا ہے۔ (اِحیاءُالْعُلوم ج۵، ص ۱۰۶) {4} حضرت سیِّدُنا خواص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: جو شخص رِیاست (یعنی اِقتِداراور دوسروں پربَرتری ) کا پِیالہ پیتا ہے وہ بندگی کے ِاخلاص سے نکل جاتا ہے۔ (ایضا ، ص ۱۱۰ ) {5} حضرتِ سیِّدُنا فضیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: لوگوں کی وجہ سے عمل چھوڑنا ریا ہے اور مخلوق کو دکھانے کیلئے عمل کرنا شرِکِ (اصغر) ہے۔ (ایضاً ، ص ۱۱۰)
بعض بُزُرگوں نے فرمایا : اللہ تَعَالٰی جب کسی بندے کو ناپسند کرتا ہے تو اُسے تین باتیں عطا کرتاہے اور تین باتوں سے روک دیتا ہے {۱} اسے صالحین (یعنی نیک بندوں) کی صُحبت تو عطا کرتا ہے مگر وہ بندہ اُن کی کوئی بات قَبول نہیں کرتا {۲} اسے اچّھے اعمال کی توفیق تودیتا ہے لیکن اُسے اِخلاص سے نہیں نوازتا {۳} اسے حِکمت تو عنایت فرماتا ہے لیکن اُسے اس میں صداقت سے محروم رکھتا ہے۔ (ایضا ص ۱۰۶)
ایک بُزُرْگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں نے30برس کی نَمازیں قَضا کیں، وجہ اِس کی یہ ہوئی کہ میں ہمیشہ ہر نَماز پہلی صَف میں با جماعت ادا کرتا رہا۔ 30برس کے بعد کسی مجبوری کے سبب تاخیر ہو گئی اور مجھے دوسری صَف میں جگہ ملی، اِس سے مجھے شرمندَگی محسوس ہوئی کہ آج لوگ کیا کہیں گے ! یہ خیال آنے کے سبب میں جان گیا کہ جب لوگ مجھے پہلی صَف میں دیکھتے تھے تو اِس سے مجھے خوشی ہوتی تھی اوریہ بات میرے دل کی راحت کاباعِث تھی۔ (ورنہ مجھے شرمندَگی ہوتی ہی کیوں ، کہ آج لوگ کیا کہیں گے! توگویا 30برس سے میں لوگوں کو دکھانے کیلئے پہلی صَف میں نَماز پڑھتا رہا ہوں! ) (اِحیاءُ الْعُلوم، ج۵، ص۱۰۸، بِتَصَرُّفٍ )
ایک طویل روایت میں ہے کہ ایک بُزُرگ نے وفات کے بعد کسی کے خواب میں فرمایا: میں نے ایک صَدَقہ لوگوں کے سامنے دیا تو اُن کا میری طرف دیکھنا مجھے پسند آیا تو میں نے انتقال کے بعد دیکھا کہ نہ تو مجھے اِس کا ثواب ملا اور نہ ہی اِس پر عذاب ہوا۔ حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کو جب یہ واقِعہ بتایا گیا تو فرمایا: ’’ یہ ان کا اچّھا مال ہے کہ عذاب نہ ہوا یہ تو عین اِحسان ہے۔ ‘‘ (اِحیاءُ الْعُلوم ، ج۵ ، ص ۱۰۵)
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں: ( بعض واعِظین و مبلِّغین) اِس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ لوگ ان کی بات توجُّہ سے سنتے اورقَبول کرتے ہیں اور ایساواعِظ (یامبلغ) دعویٰ کرتا ہے کہ میری خوشی کا باعِث یہ ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے دین کی حمایت میرے لئے آسان کر دی۔ اگر اس (و اعظ یا مبلِّغ) کا کوئی ہم عَصْر اُس سے اچّھا وَعْظ (وبیان) کرتا ہو اور لوگ اِس سے ہٹ کر اُس کی طرف مُتَوَجِّہ ہو جائیں تو یہ بات اُسے بُری لگتی ہے اوروہ غمگین ہو جاتا ہے، اگر (اسکے اندر اخلاص ہوتا اور) اِس کے وَعظ (وبیان) کاباعِث دین ہوتا (اور اُس کے پیشِ نظر صِرْف اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا ہوتی تب ) تو وہ اللہ تَعَالٰی کا شکر ادا کرتا کہ اللہ تَعَالٰی نے یہ کام دوسرے کے سِپُرد کر دیا۔ ایسے موقع پر شیطان اس سے کہتا ہے: تو اِس لئے غمگین نہیں کہ لوگ تجھے چھوڑ کر دوسری طرف چلے گئے بلکہ تیرے غم کا سبب یہ ہے کہ تجھ سے ثواب چلا گیا کیوں کہ اگروہ لوگ تیری بات سے نصیحت حاصِل کرتے تو تجھے ثواب ملتا اور تیرا ثواب کے چلے جانے پر غمگین ہونا اچّھا ہے اور اس بیچارے (مُقرّر یا مبلِّغ) کو معلوم نہیں کہ تبلیغ کا کام اپنے سے افضل کو سونپنازیادہ ثواب کا باعِث ہے اور خود تنہا تبلیغ کرنے کے مقابلے میں اِس صورت میں ثواب زیادہ ہو گا۔ (اِحیاءُ الْعُلوم ، ج۵، ص ۱۰۹ ، مُلَخَّصاً)
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں: دل کی کھوٹ، شیطان کامکروفریب اورنَفْس کی خَباثت نہایت پوشیدہ ہوتی ہے، اِسی لئے کہا گیا ہے: ’’عالِم کی دو رَکْعَتیں جاہِل کی ایک سال کی عبادت سے افضل ہیں۔ ‘‘ اور اس سے وہ عالِم مُراد ہے جو اعمال کی باریک و دَقِیق آفات کی بصیرت (پہچان) رکھتا ہو تا کہ ان آفات سے اپنے اعمال کو صاف کر سکے کیوں کہ جاہِل کی نظر ظاہِری عبادت پر ہوتی ہے اوراِ سی سے وہ دھوکا کھا جاتا ہے۔ (ایضاً، ص ۱۱۲)
حضرتِ سیِّدُنا عبدُالعزیز بن ابی رَوَّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَادنے فرمایا: میں اس گھر (کعبۃُ اللّٰہ شریف) کا 60 سال مُجاوِر (یعنی خادِم) رہا او ر میں نے 60 حج کئے (پھر انکِساراً فرمانے لگے) لیکن میں نے اللہ تَعَالٰی کے لیے جو بھی عمل کیا اُس میں جب اپنے نَفْس کا مُحاسَبہ کیا (یعنی جب اِن اعمال کی جانچ پڑتال کی، اِخلاص ٹٹولا تو اِس قدرکم نکلا کہ) شیطان کا حصّہ اللہ تَعَالٰی کے حصّے سے زیادہ پایا! کاش! میرا حساب برابر ہواگر (آخِرت میں) نَفْعْ نہ ہوتو نقصان بھی نہ ہو۔ (ایضا ، ص ۱۱۵) اِخلاص کی کمی ، خودپسند ی ، رِیاو غیرہ شیطان کا حصّہ ہیں جبکہ عمل میں مکمَّل اِخلاص ہونا اللہ تَعَالٰی کا حصّہ ہے۔
پیارے مدنی بیٹے! شیطان کا ہتھیار پہچاننے کی کوشِش کرتے ہوئے آپ اپنی مَیل کے ان جملوں پر غور فرمایئے: ’’ اب دعوتِ اسلامی کے ذمّے داران کی شفقتیں صِرْف امیر لوگوں کیلئے ہیں۔ ‘‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’اگر میں امیر ہوتا تو ایسا نہ ہوتا‘‘ نیز مکتوب کے آخِر میں دیاہوا شعر بھی بے محل ہونے کی وجہ سے اپنے اسلامی بھائیوں پر بھر پور طنز اوران کی توہین و تحقیر پر مشتمل ہے۔ آپ کی مَیل میں بعض ذِمّے داران کے تعلُّق سے یہ بھی گِلے شکوے کئے گئے ہیں کہ ‘’ تعزیَت نہیں کی، یا فُلاں نے تعزیت کا فون کیا تو ایصالِ ثواب نہیں کیا، فُلاں فُلاں کو مجلسِ ایصالِ ثواب کی دعوت دی مگر نہیں آئے۔ ۔ ۔ ۔ کیوں کہ غریب آدمی ہوں‘‘ وغیرہ۔ اِس طرح کی شکایات اُن مسلمانوں کی عزّت اُچھالنے والی اورانہیں ڈی گریڈ کرنے والی ہیں ۔ ساتھ میں مزیدیہ الفاظ ’’ کیوں کہ میں غریب آدمی ہوں‘‘ میں بد گمانی کا واضِح اشارہ موجود ہے کیوں کہ اِس کا صاف مطلب یِہی نکلتا ہے کہ میں مالدار ہوتا تو میرے یہاں ضَرور آتے۔ نیز مَیل میں یہاں بعض کے نام نہیں مگر اشاروں کی ترکیب ہے جس سے کئی ذِمّے داران کواُن اسلامی بھائیوں کی پہچان ہو سکتی ہے۔
اپنی قیمتی آراء دینے کے لئے support@dawateislami.net پر ای میل کیجئے یا فیڈ بیک کے بٹن پر کلک کیجئے
ڈونیشن
اپنے عطیات دعوت اسلامی کو دیجئے، آپ کے چندے یعنی ڈونیشن کو کسی بھی جائز، دینی، اصلاحی، فلاحی، روحانی، خیرخواہی، بھلائی اور آمدنی بڑھانے کے جائز اور محفوظ کام میں لگایا جا سکتا ہے تا کہ بڑھتے اخراجات کو پورا کیا جا سکے.