غریب و امیر دونوں ہی تین فرامِینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مُلاحَظہ فرمائیں : (۱) میں نے جنّت میں ملاحظہ فرمایاتواہلِ جنّت میں فُقَراء کوزیادہ دیکھا۔ (مُسندِ اِمام احمد بن حنبل ، ج۲ ، ص۵۸۲ ، حدیث: ۶۶۲۲) (۲) فُقَراء ، مالداروں سے500برس پہلے جنّت میں جائیں گے۔ (تِرمِذی ، ج۴ ، ص۱۵۷، حدیث: ۲۳۵۸) (۳) جو شخص اچّھی طرح نَماز پڑھتا ہو، اُس کے عَیال (یعنی گھر والے) زیادہ اور مال کم ہو اور وہ شخص مسلمانوں کی غیبت نہ کرتا ہومیں اور وہ جنَّت میں ان دو (انگلیوں) کی طرح ہوں گے ۔ (یعنی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انگشتِ شہادت اور بیچ کی انگلی ملا کر دکھایا ) (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی، ج ۷، ص ۱۴۹ ، حدیث: ۲۱۸۳۵)
دعوتِ اسلامی کے تمام ذِمّے داروں کی خدمتوں میں مَدَنی التِجا ہے کہ آپ کے یہاں کسی اسلامی بھائی کو مَرَض یامصیبت (مَثَلاً بچّہ بیمار ہونا، نوکری چھوٹنا، چوری یا ڈکیتی ہونا، اسکوٹر یا موبائل فون چِھن جانا، حادِثہ پیش آنا، کاروبار میں نقصان ہو جانا، عمارَت گر جانا، آگ لگ جانا، کسی کی وفات ہو جانا وغیرہ کوئی سا بھی صدمہ) پہنچے ، ثواب کی نیّت سے اُس دُکھیارے کی دِلجوئی کر کے ثوابِ عظیم کے حقدار بنئے کہ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے: ’’ بیشک اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں فرائض کے بعد سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ مسلمان کو خوش کرے۔ ‘‘ (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر، ج۱۱، ص۵۹، حدیث: ۱۱۰۷۹) اِنتِقال ہو جانے پر ہوسکے تو فوراً میِّت کے گھر وغیرہ پر حاضِری دیجئے، ممکنہ صورت میں غسلِ میِّت ، نَمازِ جنازہ بلکہ تدفین میں بھی حصّہ لیجئے۔ مالداروں اور دُنْیوی نامداروں کی دلجوئی کرنے والوں کی عُمُوماً اچّھی خاصی تعداد ہوتی ہے، مگر بے چارے غریبوں کا پُرسانِ حال کون؟ بے شک اچّھی اچّھی نیّتوں کے ساتھ آپ اہلِ ثَروت کی تعزیَت فرمایئے مگر غریبوں کوبھی نظر انداز مت کیجئے، ان ’’شخصیّات ‘‘ کے ساتھ ساتھ بِالخصوص آپ کے جس ماتَحْت غریب اسلامی بھائی کے یہاں میِّت ہوجائے، اُسے رِشتے داروں وغیرہ کوجَمْع کرنے کی ترغیب دلا کر اُس کے مکان پرزیادہ سے زیادہ 92 مِنَٹ کا ’’اجتماعِ ذِکرو نعت‘‘ رکھئے، اگر سب تک آواز پہنچتی ہو تو پھر بِلاحاجت ’’ ساؤنڈ سسٹم‘‘ لگانے کے مُعاملے میں خدا سے ڈریئے، حسبِ حیثیَّت لنگرِ رسائل کا ضَرور ذِہْن دیجئے، مگر طعام کا اہتِمام ہرگز نہ ہونے دیجئے، (مسئلہ: تیجے کا کھانا اَغْنِیا کے لئے جائز نہیں صِرْف غُرَبا ء و مساکین کھائیں ، تین دن کے بعد بھی میِّت کے کھانے سے اَغْنِیا (یعنی جو فقیر نہ ہوں اُن) کوبچنا چاہئے۔ ) جو وَقْت طے ہوجائے اُس کی پابندی کیجئے، ’’بعد نَمازِ عشا ہو گا‘‘ کہنے کے بجائے گھڑی کے مطابِق وَقْت طے کیجئے مَثَلاً رات9بجے کا طے ہواہے تو لوگوں کا انتِظار کئے بِغیرٹھیک وَقْت پرتِلاوت سے آغاز کر دیجئے، پھر نعت شریف (دَورانیہ 25 مِنَٹ ) ، سنّتوں بھرا بیان (دَورانیہ 40مِنَٹ) اور آخِر میں ذِکرُ اللّٰہ (دورانیہ 5مِنَٹ) ، رقّت انگیز دُعا (دورانیہ 12 مِنَٹ ) اور صلوٰۃ و سلام (تین اَشعار) مع اختِتامی دعا (دَورانیہ 3مِنَٹ) ۔ عَلاقے کے تمام ذِمّے داران ، مبلِّغین ، ممکنہ صورت میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اَراکین اور دیگر اسلامی بھائیوں کی شرکت یقینی بنایئے اور کوشِش کرکے ایصالِ ثواب کیلئے وہاں سے ہاتھوں ہاتھ مَدَنی قافِلے سفر کروایئے۔
بِسمِ اﷲِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْم ط سگِ مدینہ محمد الیاس عطّارؔ قادِری رضوی عُفِیَ عَنْہُ کی جانِب سے مُبلِّغِ دعوتِ اسلامی میرے میٹھے میٹھے مَدَنی بیٹے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عطّاری سلَّمہُ الْباری کی خدمت میں،
اَلسّلامُ عَلَیکُم وَرَحمۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکٰتُہٗ ۔ اَلْحمدُ لِلّٰہ ربِّ العٰلمینَ عَلٰی کُلّ حال۔
آنکھیں رو رو کے سُجانے والے
جانے والے نہیں آنے والے
(حدائقِ بخشش شریف)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نگرانِ شوریٰ ابو حامِدعمران عطّاری سلَّمہُ الْباری نے مجھے آپ کی مَیل فاروَرڈ کی، جس میں آپ کی امّی جان کی وفاتِ حسرت آیات کا تذکِرہ تھا، صبر وہمّت اور حوصلے سے کام لیجئے اور سب گھر والوں کو بھی یِہی تلقین فرمایئے۔ اللّٰہ تبارَک وَ تعالٰی مرحومہ کو غریقِ رَحْمت کرے، بے حساب بخشے ، آپ کو اور تمام لَواحِقین کو صبرِ جمیل اور صبرِ جمیل پر اَجرِ جَزِیل مَرحَمت فرمائے۔ اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الاَمِین صلَّی اللہُ تعالٰی عَلیہ واٰلہ وسلَّم آہ! مجھ گنہگاروں کے سردار کے پاس نیکیاں کہاں! گناہوں کاانبار ہے، کاش ! گناہوں کا بخشنے والاربِّ غفّار جَلَّ جَلا لُہٗ مجھ پاپی و بدکار کو مُعافی کی بھیک سے نواز کرمَحْض اپنی رَحْمت سے میری خطاؤں کے پُلَندے پر عطاؤں کی بارِشیں فرماد ے اور میرے گناہ نیکیوں سے بدل دے۔ زہے نصیب ! ایسا ہی ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحْمت کے بَھروسے میں اپنے پاس موجود تمام نیکیوں کا رَحْمتِ الٰہی کے مطابِق ملنے والا ثواب بارگاہِ رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں نَذْر کرکے آپ کی والِدۂ مرحومہ کو ایصال کرتاہوں۔
عُمُوماً آدَمی کو اپنی تعریف اچّھی ہی لگتی ہے اورغَلَطی بتانے والا ایک آنکھ نہیں بھاتا ایسوں ہی کی تَرجُمانی کرتے ہوئے کسی نے کہا ہے: ؎
ناصِحا! مت کر نصیحت دل مِرا گھبرائے ہے
اُس کو دشمن جانتا ہوں جو مجھے سمجھائے ہے
دعا گو ہوں کہ اللہُ ربُّ العزّت بَطُفیلِ تاجدار رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہماری بے حساب مغفِرت کرے اور نصیحت قَبول کرنے والا قلب عنایت فرمائے۔ اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الاَمِین صلَّی اللہُ تعالیٰ عَلیہ واٰلہ وسلَّم ۔ میٹھے میٹھے مَدَنی بیٹے! آپ کی مَیل میں مجھ پر ’’ شیطان کے بعض ہتھیاروں کاانکشاف‘‘ ہوا ہے۔ خدائے غفّار عزوجل ہمیں شیطان کے ہر وار سے محفوظ فرمائے۔ امین۔ برائے مہربانی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا یہ ارشاد ِ گرامی : ’’ مجھے وہ شخص محبوب (یعنی پیارا) ہے جو میرے عُیُوب سے مجھے آگاہ کرے۔ ‘‘ (الطبقات الکبری لابن سعد ، ج۳، ص۲۲۲، ) پیشِ نظر رکھتے ہوئے میرے مَدَنی پھولوں پر ٹھنڈے دل سے غور فرماتے چلے جایئے۔ دیکھئے! مجھ سے ناراض نہ ہو جانا، میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے اس اَنمول قول کا واسِطہ جس میں ارشاد فرمایاگیا ہے: ’’انصاف پسند تو اُس کے مَمنون ( یعنی شکر گزار) ہوتے ہیں جو انہیں صَواب ( یعنی دُرُستی ) کی راہ بتائے ۔ ‘‘ (ملفوظات اعلیٰ حضرت ، (چار حصّے) ص ۲۲۰ ، مکتبۃ المدینہ، باب المدینہ کراچی) ہزار بار پاؤں پکڑ کر اورلاکھوں معذِرتوں کے ساتھ عرض ہے : تحریر بسا اوقات اپنے مُحرِّر (یعنی لکھنے والے) کی قلبی کیفیّات کی عَکاّس ہوتی ہے ، مَیل پڑھ کر اِصلاح کی ضَرورت محسوس ہوئی لہٰذا کچھ مَدَنی پھول حاضرِ خدمت کرتا ہوں اگر میرے یہ مَحسوسات غَلَط ہوں تو دست بستہ مُعافی کی خیرات کا خواستگار ہوں۔
جب انسان اپنے آپ کو ’’ اَہم ‘‘ نہ سمجھے تو اُسے کسی کے ’’ نہ پوچھنے ‘‘ کا غم بھی نہیں پہنچتا ۔ میرے بھولے بھالے مَدَنی بیٹے ! جن کو پوچھا نہیں جاتا بسا اوقات اُن کی بھی اپنی شانیں ہُوا کرتی ہیں۔ کاش کہ ہم بھی ایسے ہوتے جیسا کہ حضر تِ سیِّدُناحسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے گمنام بندوں کے لیے خوشخبری ہے! وہ بندے جوخود تولوگوں کو جانتے ہیں لیکن لو گ انہیں نہیں پہچانتے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے (جنّت پرمقررفرِشتے حضرت سیِّدُنا) رِضوان عَلَیْہِ السَّلَام کو ان کی پہچان کرادی ہے ، یِہی لوگ ہِدایت کے روشن چَراغ ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمام تاریک فتنے اِن پر ظاہِر فرما دئیے ہیں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِنہیں اپنی رَحْمت (سے جنّت) میں داخِل فرمائے گا۔ یہ شُہرت چاہتے ہیں نہ ظلم کرتے ہیں اور نہ ہی رِیا کاری میں پڑتے ہیں۔ ‘‘ ( ’’اللّٰہ والوں کی باتیں‘‘ ج ا، ص ۱۶۲، حِلْیَۃُ الْاولیاء ، ج۱ص۱۱۸)
میرے میٹھے میٹھے مَدَنی بیٹے ! کسی شخص کا اپنے لئے یہ ذِہْن بنالینا کہ میں نے چُونکہ دین کی خدمت کی ( یا احکامِ شریعت کے عین مطابِق دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کیا ہے) اِس لئے مجھے فُلاں فُلاں مُراعات مِلنی ہی چاہئیں ، میری حیثیَّت تسلیم کی جائے ، میری حوصلہ اَفزائی ہونی چاہئے (حالانکہ یہ ایک طرح سے اپنی تعریف کامطالَبہ ہے کہ حوصلہ افزائی عُموماً تعریف کر کے ہوتی ہے) میری دلجوئی بھی ہوتی رہے ، مجھ پر مصیبت آئے تو مجھے بشمول شخصیّات کثیر افراد دلاسا دیں ( کہ میں نے دین کے بڑے بڑے کام جو کئے ہیں! ) یاد رکھئے! دین کی خدمت اعلیٰ دَرَجے کی عبادت ہے اور عبادت پردُنیا والوں سے عِوَض و بدلہ طلب کرنے کی اجازت نہیں ، جسے اپنی دینی خدمات کا اِحْساس ہواور اِس بِنا پر اُس کانَفْس واہ واہ اور عزّت وغیرہ کی طلب محسوس کرے اُسے ’’ ریا کاری کی تعریف‘‘ پر نظر کر لینی چاہئے۔ چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 616 صَفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’ نیکی کی دعوت‘‘ صَفْحَہ 66 پر ہے : ریا کی تعریف یہ ہے: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا کے علاوہ کسی اور اِرادے سے عبادت کرنا ۔ ‘‘ گویا عبادت سے یہ غَرَض ہو کہ لوگ اس کی عبادت پر آگاہ ہوں تاکہ وہ ان لوگوں سے مال بٹورے یا لوگ اس کی تعریف کریں یااسے نیک آدَمی سمجھیں یا اسے عزّت وغیرہ دیں۔ (اَلزَّواجِرُ عَنِ اقْتِرافِ الْکبائِر ، ج، ۱ص، ۸۶)
فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے: ’’بے شک جہنَّم میں ایک وادی ہے جس سے جہنَّم روزانہ چار سو مرتبہ پناہ مانگتا ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ وادی اُمّتِ محمدیہ عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اُن رِیاکاروں کے لئے تیّار کی ہے جو قراٰنِ پاک کے حافِظ، غیرُ اللّٰہ کے لئے صَدَقہ کرنے والے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے گھر کے حاجی اور راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں نکلنے والے ہوں گے۔ ‘‘ (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر، ج۱۲، ص۱۳۶، حدیث : ۱۲۸۰۳)
بچا لے رِیا سے بچا یاالٰہی
تُو اِخلاص کر دے عطا یاالٰہی
اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الاَمِین صلَّی اللہُ تعالٰی عَلیہ واٰلہ وسلَّم
(تفصیلی معلومات کیلئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 166 صَفْحات پر مشتمل کتاب ’’رِیاکاری‘‘ کا مُطالَعَہ فرمایئے)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد