مئی 2015ء میں ’’ رُومانیہ‘‘ کی اٹھارہ سالہ لڑکی اپنی سَہیلی کے ہمراہ ریلوے اسٹیشن پہنچی تاکہ وہ ایک انوکھی سیلفی بنا کر سوشل میڈیا (Social media) پر پوسٹ کر سکے، لیکن ٹرین کی چھت پر چڑھ کر بجلی کی تاروں پر ہاتھ لگا بیٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے تاروں میں موجود 27000وولٹ کے دوڑتے کرنٹ نے اُسے موت کی نیند سُلا دیا۔
2014 ء میں نرسنگ کی 23سالہ طالبہ ’’جنوبی اسپین ‘‘میں واقع ایک پل پر سیلفی لینے کی کوشش میں اپنا توازُن (Balance) برقرار نہ رکھ سکی اور 15فٹ نیچے کنکریٹ سے بنے اسٹرکچر (Structure) پر جاگری ، اَسپتال پہنچائی گئی مگر وہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔
روس کے شہر’’ سینٹ پیٹرز برگ‘‘ کے ریلوے پُل کے بُلند ترین مقام پر 17سالہ لڑکی سیلفی بنانا چاہتی تھی کہ اسی کوشش کے دوران 1500 وولٹ کے دوڑتے کرنٹ کی تاروں سے ٹکرا گئی اور کرنٹ کے جھٹکے نے اُسے پل سے 30فٹ نیچے پھینک دیا جس سے اُس کی موت واقِع ہوگئی۔
’’فِلپائن ‘‘میں 18سالہ لڑکی اپنی سہیلی کی سالگرہ کے موقع پر سمندر کی لہروں کے درمیان ’’گروپ سیلفی‘‘ لیتے ہوئے ڈوب کرفوت ہوگئی۔ انجنئیرنگ (Engineering) کی طالِبہ کوسمندر کی لہریں اُس وقت بہا کر لے گئیں جب وہ اپنی ہم جولیوں کے ہمراہ سیلفی بنانے میں مصروف تھی۔
اگست 2014ء میں پُرتگال کے کابوڈاروکا (Cabo da Roca) نامی پہاڑ کی چوٹی کے کنارے پر کھڑے ہو کر میاں بیوی اپنے بچوں کے ہمراہ سیلفی لینے کی کوشش کر رہے تھے ، اس دوران پیر پھسلنے کے باعث وہ دونوں نیچے جا گرے اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بچوں نے ماں باپ کو اپنی آنکھوں کے سامنے موت کی آغوش میں جاتے ہوئے دیکھا ۔
جون2016ء میں یونیورسٹی کا 17سالہ اسٹوڈنٹ اُس وقت فوت ہوگیا جب وہ ’’ ماسکو‘‘ کے ایک پل سے لٹک کر سیلفی بنانے کی کوشش کررہا تھا۔ اِس سے قبل وہ روس کے شہر ’’وولوگڈا‘‘ میں بلند چھتوں سے اپنی کئی تصاویر بنا چکا تھا۔
سیلفی لینے کے دوران 28سالہ کوریَن سَیّاح امیزون جنگل کے گہرے آبشار میں گر کر موت کا شکارہو گیا۔ مذکورہ نوجوان سیلفی لیتے ہوئے توازُن (Balance) برقرار نہ رکھ سکا اور پھسل کر 1640فٹ گہرے آبشار میں جا گِرا ، سَیّاح کی لاش بہتی بہتی 7میٹر گہری جھیل میں جا پہنچی جہاں سے ریسکیو ادارے کے تیراکوں نے لاش کو نکال کر قریبی اَسپتال میں منتقل کردیا۔
سیلفی کے جُنون نے صوبہ خیبر پختونخوا ہ (پاکستان) کی’’ وادیِ کاغان ‘‘میں ہفتے کے روز ایک مرد اور ایک عورت کی جان لے لی۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ دریائے کُنْہَار کے کنارے پتھر پر کھڑے ہو کر 29سالہ نوجوان سیلفی لے رہا تھا کہ اُس کا پاؤں پھسلا اور وہ دریائے کُنْہَار میں گر گیا ، اُس کو بچانے کی خاطر اُس کی قریبی عزیزہ نے بھی دریا میں چھلانگ لگا دی اور دونوں ڈوب گئے۔ مقامی عَینی شاہِد نے بتایا کہ نوجوان پتھر پر کھڑے ہو کرسیلفی لے رہا تھا ، میں اُس کومَنْع کرنے ہی والا تھا کہ اُس کا پاؤں پھسلا اور وہ دریا میں گر گیا۔
سَرا ئے عا لمگیر (پنجاب، پاکستان) سانپ کے ساتھ سیلفی بنانے والا 26سالہ نو جوان سا نپ کے ڈسنے سے موت کی آغوش میں جاسویا۔ مذکورہ نوجوان ’’ بنّوں ‘‘ کارہائشی تھا اوراپنے رشتے داروں کو ملنے ’’سَرائے عالمگیر ‘‘آ یا ہوا تھا ۔ (جنگ اخبارآن لائن12اکتوبر2016ء)
مرکزالاولیا ( لاہور ، پاکستان) کا رہائشی ایک شخص وادیِ نیلم کے پُر فَضا مقام کُٹَن میں ’’ جاگران ندی‘‘کے پُل پر کھڑا ہو کر سیلفی بنا رہا تھا کہ پاؤں پِھسلنے کی وجہ سے ندی میں جاگرا ، دیگر دوستوں نے زخمی حالت میں بہتے ہوئے نوجوان کو نکال کر طبّی امداد کے لئے فوجی اَسپتال منتقل کیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا ، مُتَوَفّٰی (یعنی فوت ہونے والے) کی لاش کو تدفین کے لئے وُرثا کے حوالے کر دیا گیا۔ (ایضاً12جولائی)
ہالا (سندھ) میں سیلفی لیتے ہوئے 2نوجوان دریا میں گرکر ڈوب گئے تیسرے کو بچا لیا گیا۔ تینوں نوجوان دریائے سندھ کے کنارے کھڑے ہوکر سیلفی بنا رہے تھے کہ پاؤں پھسلنے سے دریا میں گر گئے، موقع پر موجودمَلّاحوں (Sailors) نے ایک نوجوان کو زندہ نکال لیا تاہم دو ڈوب گئے ۔ (ایضاً11جولائی)
گوجرانوالہ (پنجاب، پاکستان) بندوق پکڑ کر سیلفی بنوانے والا نوجوان اچانک ہاتھ ٹریگر پر آجانے سے گولی لگنے سے فوت ہوگیا۔ چمن شاہ روڈ کا نوجوان رَمَضانُ المبارَک میں تراویح کی نمازپڑھنے کیلئے مقامی مسجد میں گیا، جہاں اس نے سکیوریٹی گارڈ سے بندوق لے کر سیلفی اتروانے کی ضد کی کہ اچانک ہاتھ ٹریگر پر آگیا اور گولی پیٹ میں جالگی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا، طبّی امدادکیلئے اَسپتال داخِل کروا دیا گیا، بعد ازاں لاہور کے اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ (جنگ اخبارآن لائن24جون2016ء)
انوکھے اور عجیب و غریب انداز میں سیلفی لینے کے دوران زندگی کی بازی ہار جانے کی بات اب کچھ نئی نہیں رہی، ’’ امریکا‘‘ میں ایک شخص اپنے دوست کے ساتھ پستول ہاتھ میں لیے سیلفی لے رہا تھا کہ اچانک گولی چل گئی اور وہ موقع پر ہی فوت ہوگیا۔ پولیس کے مطابق سیلفی لینے کے دَوران وہ شخص کئی بار پستول گولیوں سے خالی کرتا اور بھرتا رہا جبکہ اِس عمل میں پستول سے گولیاں نکالتے وقت ایک گولی اُسی میں رہ گئی اور اُس کے دوست نے سمجھا کہ اب پستول میں گولی نہیں جس پر اس نے پستول کا ٹریگر دبا دیا اور اس میں موجود گولی چل گئی اور وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہارگیا۔ (ایضاً4مارچ)
آج کل لوگوں کے سروں پر سیلفی لینے کا بھوت سُوار ہے بسا اوقات سیلفی لیتے ہوئے آدمی اچّھی خاصی مصیبت میں پڑ جاتا ہے، چنانچِہ ترکی کی ایک عورت کو بھی سیلفی کا شوق مہنگا پڑ گیا۔ ترکی کے شہر Samsun کے ساحلِ سمندر پر ایک لڑکی اپنے موبائل فون سے سیلفی لینے میں مصروف تھی کہ پیر پھسلنے سے لڑکھڑاگئی، لڑکھڑاتے ہوئے اس کے ہاتھ سے پہلے موبائل گر اپھر خود بھی دو پتھروں کے درمیان گر کر پھنس گئی۔ دو گھنٹے کی سر توڑ کوشش کے بعدلڑکی کو زندہ باہَر نکال لیا گیا۔ (جنگ اخبارآن لائن7مئی2016ء)
بھارتی ریاست پنجاب میں 15سالہ لڑ کا سیلفی لینے کے دوران سر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا ، یہ حادِثہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنے والد کے پستول کے ساتھ سیلفی لینے کی کوشش کر رہا تھاکہ گولی چل گئی ۔ (ایضاً2مئی)
{۲۹} سیلفی لیتے ہوئے کنویں میں جاگری
’’جُونا گڑھ‘‘ (گجرات ، ہند) میں ایک آسٹریلوی سَیّاح اُس وقت مصیبت میں پھنس گئی جب وہ اپنی سیلفی لیتے ہوئے اچانک کنوئیں میں جاگری۔ اُس کی چیخوں کی آواز سن کر لوگ بھاگ کر آئے اور کنوئیں سے نکال کر ا س کی جان بچالی۔
سیلفی کے شائقین نے سیلفی بنانے کے لئے ننھی ڈولفن کو سمندر سے نکال لیا ، پانی سے نکالے جانے پر’’ ننھی ڈولفن‘‘ مَر گئی جس پر وائلڈ لائف کے ماہِرین اورلوگوں میں ناراضی کا اظہارکیا جا رہا ہے۔ فرانسس کا نامی ڈولفن کی یہ قسم حَجْم (یعنی جسامَت) کے اعتِبار سے دنیا کی سب سے چھوٹی ڈولفن ہے اور یہ ارجنٹینا ، برازیل اور یورا گوئے میں ہی پائی جاتی ہے۔
سفرِ حج وعمرہ کے دوران بھی سیلفی کے شائقین اپنا شوق پورا کرتے پائے جاتے ہیں ، انہیں جہاں کوئی منظر اچّھا لگتا ہے جھٹ سیلفی بناتے اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس کی تشہیر کردیتے ہیں ۔ حجرِاسود کو بوسہ دیتے وقت ، سعی اور طواف کے دوران بھی سیلفیز بنائی جاتی ہیں ، جس سے طواف وسعی کرنے والوں کی رَوانی میں فرق آتا ہے، لوگ ایک دوسرے پر گر پڑتے ہیں یا پھر ٹکرا جاتے ہیں جس سے انہیں پریشانی ہوتی ہے ، خود سیلفی بنانے والوں کا ذوقِ عبادت متأَثّر ہوتاہے ، سنہری جالیوں کے پاس مُوَاجَہَہ شریف کے سامنے حاضر ی کے وقت بھی سیلفی بنانے والے پائے جاتے ہیں اس مقصد کے لئے بعض بے باک اپنی پیٹھ مُوَاجَہَہ شریف کی طرف کرلیتے ہیں ۔ اے کاش ! ہمارا یہ ذہن بن جائے کہ سفرِحَرَمَینِ طیِّبَین سیلفی بنانے کے لئے نہیں ثواب کمانے کے لئے ہوتا ہے ۔
پچھلے دنوں جب کوئی مذہبی شخصیت مَثَلاً پیرصاحب، مفتی صاحب وغیرہ کسی کے گھر تشریف لے جاتے یا راستے میں مل جاتے تو عموماً ان سے دُعا کی التجا کی جاتی تھی اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ اگر کوئی مشہور مذہبی شخصیَّت کہیں نظر آجائے تو دُعا کی درخواست کرنے کے بجائے بعضوں کی اوّلین کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان کے ساتھ سیلفی لے لی جائے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غیر ضروری سیلفی کی عادت نکالنے کے لئے کرنے کے کاموں میں لگ جائیے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ نہ کرنے کے کاموں سے بچ جائیں گے ۔ حضور تاجدارِ رِسالت، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا:مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہٗ مَا لَا یَعْنِیْہ۔ یعنی’’آدمی کے اسلام کی خوبیوں میں سے یہ خوبی ہے کہ وہ ہر بے مقصد اور فضول کام چھوڑ دے۔ ‘‘ ( تِرمذی ج۴ ص۱۴۲ حدیث ۲۳۴۴)
مُفسّرِ شہیر مفتی احمد یارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان لکھتے ہیں : یعنی کامل مسلمان وہ ہے جو ایسے کلام ایسے کام ایسی حَرَکات و سَکنات سے بچے جو اُس کے لیے دین یا دنیا میں مفید نہ ہوں ، وہ کام یا کلام کرے جو اُسے یا دنیا میں مفید ہو یا آخرت میں۔ سُبْحٰنَ اللہ! ان دو کلموں میں دونوں جہان کی بھلائی وابَستہ ہے۔ (مراٰۃ المناجیح ج۶ص۴۶۵)
یاربَّ المصطَفٰے! ہمیں اپنا وقت دونوں جہانوں کی بھلائیاں دِلانے والے کاموں کے لئے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
یہ رسالہ پڑھ لینے کے بعد ثواب کی نیّت سے کسی کو دیدیجئے
طلب غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و
بے حساب جنّت الفردوس میں آقا کے پڑوس کا طالب
۸ربیع الاوّل ۱۴۳۶ھ
2014-12-31