30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب: 4
فرعون کو تبلیغ اور اس پر عذاب
فرعون اور اس کی قوم کے گناہ:
فرعون اور اس کی قوم کے لوگ طرح طرح کے گناہوں اور جرائم میں مبتلا تھے ، یہاں ان کی ایک مختصر فہرست ملاحظہ ہو،
(1) کفر و شرک ،
(2)خدائی کا دعوی ٰ کرنا،
(3،4) تکبر و سرکشی کے کاموں میں حد سے بڑھنا۔
(5)لوگوں سےزبردستی مشقت والے کام کروانا۔
(6)ظلم و فساد ،
(7)طرح طرح کی اذیتیں دے کر لوگوں کو ناحق قتل کرنا،
(8)جادو کرنا اور اسے سیکھنا سکھانا،
(9،10)بد فالی لینا، کاہنوں اور نجومیوں کی تصدیق کرنا۔
(11) حضرت موسیٰ و ہارون عَلَیْہِمَا السَّلَام اور ان پر ایمان لانے والوں سے دشمنی رکھنا اور انہیں حقیر جاننا۔
(12،13)لمبی امیدیں باندھنا اور آخرت کا انکار کرنا۔
(14،15)خود پسندی میں مبتلا ہونا اور دوسروں کو حقیر جاننا۔
(16)منصب ، قوت اور صحت و عافیت پر مغرور ہونا۔
(17،18)عہد توڑنااور احسان جتانا۔
(19) اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہونا۔
(20،21)بنی اسرائیل کوعبادت گاہ میں نماز سے روکنا اوران کی عبادت گاہوں کو ویران و برباد کرنا۔
(22،23)گناہوں پر قائم رہنا اورحضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے معجزات سے نصیحت حاصل نہ کرنا۔(1)
فرعون کو تبلیغِ رسالت اور ا س کا احسان جتانا:
اللہ تعالیٰ کا حکم پا کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام مصر کی طرف روانہ ہوئے ،آپ عَلَیْہِ السَّلَام اُون کا جبہ پہنے ہوئے تھے ،دستِ مبارک میں عصا تھا ،اس کے سرے میں زنبیل لٹکی ہوئی تھی جس میں سفرکا توشہ تھا۔ اس شان سے آپ عَلَیْہِ السَّلَام مصر میں پہنچ کر اپنے مکان میں داخل ہوئے۔ حضرت ہارون عَلَیْہِ السَّلَام وہیں تھے ،آپ نے انہیں خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنا کر فرعون کی طرف بھیجا ہے اور آپ کو بھی رسول بنایا ہے کہ فرعون کو خدا کی طرف دعوت دو ۔یہ سن کر آپ کی والدہ صاحبہ گھبرائیں اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے کہنے لگیں کہ فرعون تمہیں قتل کرنے کے لئے تمہاری تلاش میں ہے، جب تم اس کے پاس جاؤ گے تو وہ تمہیں قتل کردے گا۔ لیکن حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام حکم ِ الٰہی پر عمل کےلئے ہارون عَلَیْہِ السَّلَام کو ساتھ لے کرفرعون کے ہاں پہنچے ۔ فرعون کو خبر دی گئی اور صبح کے وقت آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو بلا لیا گیا۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ا س کے پاس پہنچ کر اپنی رسالت کے بارے میں بتایا اور فرعون کے پاس جو حکم پہنچانے پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام مامور کئے گئے تھے وہ پہنچایا۔ فرعون نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو پہچان لیا کیونکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام اسی کے گھر میں پلے بڑھے تھے۔اس نے احسان جتاتے ہوئے آپ سے کہا: (2)
اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ(۱۸) (3)
ترجمہ : کیا ہم نے تمہیں اپنے ہاں بچپن میں نہ پالا؟ اور تم نے ہما رے یہاں اپنی عمر کے کئی سال گزارے۔
مفسرین فرماتے ہیں: حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرعون کے محل میں تیس سال گزارے اوراس زمانے میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام بادشاہ کے عمدہ لباس پہنتے ، اس کی سواریوں میں سوار ہوتے اور اس کے فرزند کے طور پر مشہور تھے۔(4)
فرعون نے مزید کہا:
وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۱۹) (5)
ترجمہ : اور تم نے اپنا وہ کام کیا جو تم نے کیا اور تم شکریہ ادا کرنے والوں میں سے نہیں ہو۔
یعنی اے موسیٰ! تم نے ہمارے احسانات کے باوجود قبطی کو قتل کیااور تم ناشکرے ہو کہ تم نے ہمارے احسانات کی شکرگزاری نہ کی اور ہماراہی ایک آدمی قتل کردیا۔(6)
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا جواب:
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرعون سے فرمایا:
فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ(۲۰) فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ(۲۱) (7)
ترجمہ : میں نے وہ کام اس وقت کیا تھا جبکہ مجھے راہ کی خبر نہ تھی ۔ پھرجب میں نے تم لوگوں سے ڈر محسوس کیا تو میں تمہارے پاس سے نکل گیا تو میرے رب نے مجھے حکمت عطا فرمائی اور مجھے رسولوں میں سے کردیا۔
یعنی میں نے قبطی والاوہ کام اس وقت کیا تھا جب میں نہ جانتا تھا کہ گھونسہ مارنے سے وہ شخص مرجائے گا کیونکہ میرا اُس قِبطی کو مارنا اُسے ظلم سے روکنے اورادب سکھانے کےلئے تھا،قتل کرنے کےلئے نہیں۔ پھرجب میں نے تم لوگوں سے ڈر محسوس کیا کہ اس کے بدلے تم مجھے قتل کردوگے تو میں تمہارے پاس سے مدین شہر کی طرف نکل گیا اور مدین سے مصر آتے وقت کوہِ طور کے پاس مجھے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ نے حکم عطا فرمایا اور مجھے رسالت کا منصب عطا فرمایا۔اوپر آیت میں’’حکم‘‘ سے نبوت یا علم مراد ہے۔(8)
احسان جتانے کا جواب:
فرعون نے جو احسان جتایا تھا ا س کے جواب میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:
وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ(۲۲) (9)
ترجمہ : اور یہ کون سی نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتا رہا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر رکھا۔
یعنی اس میں تیرا کیا احسان ہے کہ تم نے میری تربیت کی ، بچپن میں مجھے اپنے پاس رکھا ،کھلایا اور پہنایا۔ اپنے گھر میں پرورش پانے کی بجائے تیرے ہاں رہنے کا سبب تو یہی ہوا کہ تو نے (میری قوم)بنی اسرائیل کو غلام بنایا اور اُن کے بچوں کو قتل کرنا شروع کردیا۔تیرے اس ظلم کی وجہ سے میرے والدین میری پرورش نہ کرسکے اور مجھے دریا میں ڈالنے پر مجبور ہوئے ،اگرتو ایسا نہ کرتا تو میں اپنے والدین کے پاس ہی رہتا، اس لئے یہ بات اس قابل ہی نہیں کہ اس کا احسان جتایا جائے۔(10)اسے دوسرے الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ کوئی شخص کسی بچے کے باپ کو قتل کرکے بچہ گود میں لے اور اس کی پرورش کرے پھر بڑا ہونے پر اسے احسان جتلائے کہ بیٹا تو یتیم و لاوارث تھا میں نے تجھ پر احسان کیا اور تجھے پال پوس کر بڑا کیا، تو اس کے جواب میں وہ بچہ کیا کہے گا؟ وہ یہی کہے گا کہ اپنا احسان اپنے پاس سنبھال کر رکھ۔ مجھے پالنا تو تجھے یاد ہے لیکن یہ تو بتا کہ مجھے یتیم و لاوارث بنایا کس نے تھا؟
فرعون کا رَبُّ العالمین سے متعلق مکالمہ:
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی اس تقریر سے فرعون لاجواب ہوگیا تواس نے یہ گفتگو چھوڑ کر دوسری بات شروع کر دی اور کہا:
وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ(۲۳) (11)
ترجمہ : اور سارے جہان کا رب کیا چیزہے؟
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے جواب دیا:
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَاؕ-اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ(۲۴) (12)
ترجمہ : آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے وہ سب کا رب ہے ،اگر تم یقین کرنے والے ہو۔
ہوسکتا ہے کہ فرعون نے اللہ تعالیٰ کی جنس و ماہیت کے متعلق سوال کیا ہو لیکن حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس کے سوال پر اللہ تعالیٰ کے افعال اور ا س کی قدرت کے وہ آثار ذکر فرمائے جن کی مثل لانے سے مخلوق عاجز ہے،چنانچہ فرمایا کہ سارے جہان کا رب وہ ہے جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے ،ان سب کو پیدا کرنے والا ہے ،اگر تم لوگ اشیاء کو دلیل سے جاننے کی صلاحیت رکھتے ہو تو ان چیزوں کی پیدائش اُس کے وجود کی کافی دلیل ہے۔اس مفہوم کے اعتبار سے آیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہرشخص سے اس کے لائق گفتگو کرنی چاہیے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا فرماتے ہیں: ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم لوگوں سے ان کی عقلوں کے مطابق کلام کریں۔(13)
بعض مفسرین کے نزدیک فرعون کا سوال اللہ تعالیٰ کی صفت کے بارے میں تھا اس لئے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے یہاں جو جواب دیا وہ فرعون کے سوال کے مطابق ہے۔ (14)
فرعون کے آس پاس اس کی قوم کے سرداروں میں سے پانچ سو شخص زیوروں سے آراستہ زریں کرسیوں پر بیٹھے تھے ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا جواب سن کر تعجب کرتے ہوئے فرعون نے ان سے کہا:
اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ(۲۵) (15)
ترجمہ : کیا تم غور سے نہیں سن رہے؟
اس کا مطلب یہ تھا کہ میں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے سارے جہان کے رب کی ماہیت پوچھی ہے اور یہ اِس کے جواب میں اُس کے افعال اور آثار بتا رہے ہیں اور بعض مفسرین کے نزدیک فرعون کا یہ کہنااس معنی میں تھا کہ وہ لوگ آسمان اور زمین کو قدیم سمجھتے اور ان کے حادث ہونے کا انکار کرتے تھے اور مطلب یہ تھا کہ جب یہ چیزیں قدیم ہیں تو ان کے لئے ربّ کی کیا حاجت ہے۔یہ صورت حال دیکھ کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے ان چیزوں سے استدلال پیش کرنے کی ضرورت محسوس فرمائی جن کا حادث ہونا اور فنا ہو جانا ان کے مشاہدہ میں آ چکا تھا ،چنانچہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:
رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآىٕكُمُ الْاَوَّلِیْنَ(۲۶) (16)
ترجمہ : وہ تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے باپ داداؤں کارب ہے۔
یعنی اگر تم آسمان و زمین کے رب اور مالک ہونے کی دلیل سے نہیں سمجھ پارہے تو خود اپنے وجود میں غور کرلو۔ تم اپنے آپ کے بارے میں توجانتے ہو کہ پیدا ہوئے ہو اور اپنے باپ دادا کے بارے میں جانتے ہو کہ وہ فنا ہوگئے تو تمہاری اپنی پیدائش اور تمہارے باپ دادا کے فنا ہو جانے میں اس رب تعالیٰ کے وجود کا ثبوت موجود ہے جو پیدا کرنے والا اور فنا کر دینے والا ہے۔(17)
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا جواب سن کرفرعون نے کہا:
اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ(۲۷) (18)
ترجمہ : بیشک تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے۔
یعنی ( معاذ اللہ ) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے کہ یہ سوال ہی نہیں سمجھ سکا تو اس کاجواب کیا دے گا۔بعض مفسرین کے نزدیک فرعون نے یہ اس لئے کہا کہ وہ اپنے سوا کسی معبود کے وجود کا قائل نہ تھا اور جو اس کے معبود ہونے کا اعتقاد نہ رکھے اسے وہ خارج از عقل کہتا تھا اور حقیقۃً اس طرح کی گفتگو آدمی کی زبان پر ا س وقت آتی ہے جب وہ عاجز ہو چکا ہو، لیکن حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے ہدایت کے فریضہ کو علیٰ وجہ الکمال ادا کیا اور اس کی اِس تمام لایعنی گفتگو کے باوجوداپنے مقصود یعنی دعوتِ توحید ہی کی طرف متوجہ رہے اور فرمایا:
رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَاؕ-اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ(۲۸) (19)
ترجمہ : وہ مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے اگر تمہیں عقل ہو۔
یعنی سارے جہان کا رب وہ ہے جو مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے، اگر تمہیں عقل ہو تو جو بات میں نے بیان کی اس سے اللہ تعالیٰ کے وجود پر استدلال کر سکتے ہو کیونکہ مشرق سے سورج کو طلوع کرنا اور مغرب میں غروب ہوجانا اور سال کی فصلوں میں ایک معین حساب پر چلنا ،ہواؤں اور بارشوں وغیرہ کے نظام یہ سب اس کے وجود و قدرت پر دلالت کرتے ہیں۔(20)
فرعون کو تبلیغ اور اس سے مکالمہ کا ذکر سورۂ طٰہٰ ،آیت47 تا 53میں بھی کیا گیاہے۔
فرعون کی دھمکی:
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا جواب سن کر فرعون حیران رہ گیا اور ا س کے پاس قدرتِ الہی کے آثار کا انکار کرنے کی کوئی صورت باقی نہ رہی ،جب اس سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو اس نے کہا:
لَىٕنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ(۲۹) (21)
ترجمہ : (اے موسیٰ!) اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں ضرور تمہیں قید کردوں گا۔
فرعون کی قید قتل سے بدتر تھی ،اس کا جیل خانہ تنگ و تاریک اور گہرا گڑھا تھا جس میں بندے کو اکیلا ڈال دیتا،نہ وہاں کوئی آواز سنائی دیتی اور نہ کچھ نظر آتا تھا۔(22)
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا جواب اور فرعون کا مطالبہ:
دھمکی سن کرحضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرعون سے فرمایا:
اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ(۳۰) (23)
ترجمہ : کیا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی روشن چیز لے آؤں۔
یعنی کیاتو مجھے قید کردے گا اگرچہ میں تیرے پاس حق و باطل میں فرق واضح کرنے والا کوئی معجزہ لے کر آؤں اور یہ معجزہ میری حقانیت و رسالت کی دلیل ہو ۔ اس پر فرعون نے کہا:
فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۳۱) (24)
ترجمہ : (اے موسیٰ!)اگر تم سچوں میں سے ہو تو وہ نشانی لے آؤ۔
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے معجزات کا ظہور:
فرعون کے نشانی طلب کرنے پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو اچانک وہ بالکل واضح ایک بہت بڑ اسانپ بن گیا اور فرعون کی طرف متوجہ ہوکرکہنے لگا: اے موسیٰ! عَلَیْہِ السَّلَام ، مجھے جو چاہے حکم دیجئے۔
تفسیر صاوی میں ہے:جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنا عصا نیچے رکھا تو وہ زرد رنگ کا ایک بال دار اژدہا بن گیا، اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان تقریباً ایک سو بیس فٹ کا فاصلہ تھا ،وہ اپنی دم پر کھڑا ہو گیا،اس کا ایک جبڑا زمین پر تھاا ور دوسرا جبڑا فرعون کے محل کی دیوار پر تھا، وہ اژدہا فرعون کو پکڑنے کے لئے دوڑا تو فرعون اپنا تخت چھوڑ کربھاگ گیا۔(25)اورگھبرا کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے کہا: اس کی قسم جس نے تمہیں رسول بنایا، اسے پکڑلو۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اسے اپنے دست ِمبارک میں لیا تو وہ پہلے کی طرح عصا بن گیا۔فرعون کہنے لگا: اس کے سوا اور بھی کوئی معجزہ ہے؟ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا : ہاں ! پھر آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالا تو اچانک اس سے سورج کی سی شعاع ظاہر ہوئی جس سے دیکھنے والوں کی نگاہیں چکاچوند ہو گئیں۔(26)
قرآنِ پاک میں ہے:
فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ(۳۲) وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠(۳۳) (27)
ترجمہ : تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیاتو اچانک وہ بالکل واضح ایک بہت بڑا سانپ ہوگیا۔ اور اپنا ہاتھ نکالا تو اچانک وہ دیکھنے والوں کی نگاہ میں جگمگانے لگا ۔
ان معجزات کا ذکر سورۂ اعراف ،آیت107،108میں بھی کیاگیاہے۔
معجزات کو جادواوردعوتِ توحید کو نئی بات کہنا:
ان نشانیوں کا مشاہدہ کرنے کے بعدسمجھنے کی بجائے فرعونیوں نے کہا:
مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآىٕنَا الْاَوَّلِیْنَ(۳۶) (28)
ترجمہ : یہ تو صرف ایک بناوٹی جادو ہے اور ہم نے اپنے اگلے باپ داداؤں میں یہ (بات کبھی )نہیں سنی۔
ان بدنصیبوں نے معجزات کا انکار کر دیا اور ان کو جادو بتایا اوراس کا سبب یہ بنا کہ اس زمانے میں جادوگر پائے جاتے تھے جو مختلف قسم کے حیرت انگیز کرتب دکھاتے تھے۔حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا معجزہ دیکھ کر اُن کا ذہن جادو کی طرف چلا گیا حالانکہ یہاں دو باتوں کا نہایت واضح فرق تھا۔ ایک تو یہ کہ جو چیز حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے دکھائی تھی ویسی جادوگر کبھی نہ دکھا سکے اور دوسری بات کہ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے پاکیزہ کردار اور جادوگروں کے گھناؤنے افعال و کردار میں زمین و آسمان کا فرق تھا اور یہی فرق جادو اور معجزہ میں فرق کرنے کےلئے کافی تھا۔فرعونیوں کا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے معجزے کو جادو کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح جادو کی تمام اقسام باطل ہوتی ہیں اسی طرح ( معاذ اللہ ) یہ معجزات بھی ہیں۔
حضرتِ موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا جواب:
آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ان کے جواب میں ارشاد فرمایا:
رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(۳۷)(29)
ترجمہ : میرا رب خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لائے اور جس کے لیے آخرت کے گھر کا (اچھا) انجام ہوگا۔ بیشک ظالم کامیاب نہیں ہوں گے۔
یعنی میرا رب عَزَّ وَجَلَّ اسے خوب جانتا ہے کہ کون ہم میں سے حق و ہدایت پر ہے اور کسے آخرت کا اچھا انجام نصیب ہوگا۔اگر تمہارے گمان کے مطابق میرے دکھائے ہوئے معجزات جادو ہیں اور میں نے انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے جھوٹ بولا ہے تو اللہ تعالیٰ مجھے یہ کبھی عطا نہ فرماتا کیونکہ وہ غنی اور حکمت والا ہے اور اس کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی جھوٹے اور جادو گر کو رسول بنا کر بھیجے ۔(30)
فرعون کا سرداروں سے مشورہ:
دو نشانیاں دیکھنے کے بعد فرعون کی حالت یہ ہوئی کہ اسے اپنی خدائی کا دعوی بھول گیا اور وہ خوف کی وجہ سے تھر تھرانے لگا۔اپنے گمان میں خود کو معبود اور لوگوں کو اپنا بندہ سمجھنے کے باوجود اپنے ارد گرد موجود سرداروں سے مشورہ مانگنے لگا حالانکہ جب وہ احمق خود کو خدا کہتا تھا تو عاجز ہوکراور گھبرا کر دوسروں سے مشورہ مانگنے کی کیا حاجت تھی؟ بہرحال سرداروں سے کہنے لگا:
اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ(۳۴) یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ ﳓ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ(۳۵) (31)
ترجمہ : بیشک یہ بڑے علم والا جادوگرہے۔ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں اپنے جادو کے زور سے تمہارے ملک سے نکال دے تو (اب) تم کیا مشورہ دیتے ہو؟
اس زمانے میں چونکہ جادو کا بہت رواج تھا اس لئے فرعون نے خیال کیا کہ یہ بات چل جائے گی اور اس کی قوم کے لوگ اس دھوکے میں آکر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے متنفر ہوجائیں گے اور ان کی بات قبول نہ کریں گے۔(32) نیزیہاں فرعون کا جو طریقہ بیان ہو ا، حقیقت میں یہ وہی طریقہ ہے جسے ہم سیاسی چالبازی کہتے ہیں کہ جھوٹا پروپیگنڈا کرکے کسی کو بدنام اور غیر مقبول کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ کوئی اس کی بات نہ سنے۔فی زمانہ ہمارے معاشرے میں دنیوی اعتبار سے بڑے منصب والوں اور دینی اعتبار سے بڑے رتبے والی شخصیات کو اسی طریقے کے ذریعے بدنام کرنے کی بھرپور کوششیں کی جاتی ہیں تاکہ لوگ ان کی طرف مائل نہ ہوں اور دینی شخصیات کی صحبت و قرب اور ان کے وعظ و نصیحت سے محروم رہیں اور اس مقصد کے لئے پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کو بطور خاص استعمال اور بے حد پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔حدیث پاک میں ہے :جو شخص کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے اس پر الزام عائد کرے تو اللہ تعالیٰ جہنم کے پل پر اسے روک لے گا یہاں تک کہ وہ اپنے کہنے کے مطابق عذاب پالے۔(33) بہرحال فرعون نے بھی ویسا ہی نعرہ بلند کیا کہ موسیٰ کوئی پیغمبر نہیں بلکہ اقتدار کا طلب گار ہے جو تمہیں اپنے جادو کے زور پر اقتدار سے نکال کر خود قبضہ کرنا چاہتا ہے۔فرعون کے مشورہ طلب کرنے پر سرداروں نے کہا:
اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآىٕنِ حٰشِرِیْنَۙ(۳۶) یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ(۳۷) (34)
ترجمہ : اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دو اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیجو۔ وہ تمہارے پاس ہر بڑے علم والے جادوگر کو لے آئیں گے۔
یعنی تم حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور اس کے بھائی ہارون عَلَیْہِ السَّلَام کو مہلت دو اور جب تک ان کو جھوٹاہونا ظاہر نہیں ہو جاتا اس وقت تک انہیں قتل کرنے میں جلدی نہ کرو تاکہ لوگ تمہارے بارے میں برا گمان نہ کریں اور تمہارے پاس انہیں قتل کرنے کا عذر بھی آ جائے ،اس کے لئے تم یوں کرو کہ مختلف شہروں میں اپنے کارندے بھیجو جو جادوگروں کوجمع کرکے تمہارے پاس لے آئیں اور ایسے جادوگرلائیں جوجادو کے علم میں (بقول اُن کے) حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے بڑھ کر ہوں اور وہ لوگ اپنے جادو سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے معجزات کا مقابلہ کریں تاکہ ان کے لئے کوئی حجت باقی نہ رہے اور فرعونیوں کو یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ یہ کام جادو سے ہوجاتے ہیں ،لہٰذا یہ نبوت کی دلیل نہیں ہیں۔(35)
فرعون کی طرف سے جادوگروں کے ساتھ مقابلے کی دعوت:
فرعون حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے معجزات دیکھ کر سمجھ تو گیا تھا کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام حق پر ہیں اور جادوگر نہیں ہیں کیونکہ اس کے ملک میں اس سے پہلے بھی کئی جادوگر موجود تھے جو خود اس کے ماتحت تھے اور کسی نے بھی کبھی نہ تو ایسا حیران کُن امر دکھایا تھا اور نہ ہی کبھی نبوت کا دعوی کیا تھا لیکن پھر بھی اس نے کوشش کی کہ کسی طرح حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو شکست ہوجائے اور اس کی سلطنت بچ جائے، چنانچہ اس نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے کہا:
اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى(۵۷) فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى(۵۸) (36)
ترجمہ : اے موسیٰ! کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اپنے جادو کے ذریعے ہماری سرزمین سے نکال دو۔ تو ضرور ہم بھی تمہارے آگے ویسا ہی جادو لائیں گے تو ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدہ مقرر کرلو جس کی خلاف ورزی نہ ہم کریں اور نہ تم۔ایسی جگہ جو برابر فاصلے پر ہو۔
برابر فاصلے پر جگہ سے مراد ایسی جگہ ہے جو ہموار ہو تاکہ لوگ آسانی کے ساتھ فریقین میں ہونے والامقابلہ دیکھ سکیں۔
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا جواب:
آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرعون کو جواب دیتے ہوئے فرمایا:
مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى(۵۹) (37)
ترجمہ : تمہارے وعدے کا وقت میلے کا دن ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کرلئے جائیں۔
اس آیت میں’’ یَوْمُ الزِّیْنَةِ‘‘ سے فرعونیوں کا وہ میلہ مراد ہے جو ان کی عید تھی جس میں وہ بہت سج سنور کر جمع ہوتے تھے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ وہ دن عاشوراء یعنی دسویں محرم کا تھا۔ اس سال یہ تاریخ ہفتے کے دن واقع ہوئی تھی اور اس دن کو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس لئے معین فرمایا کہ یہ دن ان کی شوکت کا دن تھا اور حق کے ظہورو غلبہ اور باطل کی رسوائی کے لئے ایسا ہی وقت مناسب ہے جب کہ اَطراف و جوانب کے تمام لوگ اکٹھے ہوں۔(38)
جادو گروں کا اجتماع اور فرعون کی طرف سے اعلان:
جادو گروں کو فرعونیوں کی عید کے دن جمع کر لیا گیا اور اس مقابلے کے لئے چاشت کا وقت مقرر کیا گیا اورفرعون کی جانب سے لوگوں سے کہا گیا : تم بھی جمع ہوجاؤ تاکہ دیکھو کہ دونوں فریق کیا کرتے ہیں اور اُن میں سے کون غالب آتا ہے۔شاید ہم ان جادوگروں ہی کی پیروی کریں اگر یہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر غالب ہوجائیں۔ اس سے ان کا مقصود جادو گروں کی پیروی کرنا نہ تھا بلکہ غرض یہ تھی کہ اس حیلے سے لوگوں کو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی پیروی کرنے سے روکیں۔(39)نیز یہ بھی مقصود ہوسکتا ہے کہ لوگوں کو جادوگروں کی پیروی کا کہیں اور چونکہ خود جادوگر فرعون کے پیروکار تھے تو یوں لوگ فرعون ہی کے پیروکار بنیں گے۔
قرآنِ کریم میں ہے:
فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ(۳۸) وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ(۳۹) لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ(۴۰) (40)
ترجمہ : تو جادوگروں کو ایک مقرر دن کے وعدے پر جمع کرلیا گیا۔ اور لوگوں سے کہا گیا :کیا تم جمع ہوگے؟شاید ہم ان جادوگروں ہی کی پیروی کریں اگر یہ غالب ہوجائیں۔
جادوگروں کا فرعون سے مطالبہ:
جب جادوگر فرعون کے پاس آئے توانہوں نے فرعون سے کہا:
اَىٕنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ(۴۱) (41)
ترجمہ : کیا ہمارے لئے کوئی معاوضہ بھی ہے اگر ہم غالب ہوگئے۔
فرعون نےکہا کہ تمہیں مقربین میں شامل کرلیا جائے گا چنانچہ آیت میں ہے:
نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ(۴۲) (42)
ترجمہ : ہاں اور اس وقت تم میرے نہایت قریبی لوگوں میں سے ہوجاؤ گے۔
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی جادو گروں کو نصیحت:
مقررہ دن فرعون بڑی شان وشوکت کے ساتھ اپنی فوج اور جادو گروں کے ساتھ میدان میں پہنچ گیا۔جب جادو گر مقابلے کے لئے میدان میں اترے تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے ان سے فرمایا:
وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍۚ-وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى(۶۱) (43)
ترجمہ : تمہاری خرابی ہو، تم اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ وہ تمہیں عذاب سے ہلاک کردے گا اور بیشک وہ ناکام ہوا جس نے جھوٹ باندھا۔
جادو گروں کا باہمی مشورہ:
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا کلام سن کر جادوگروں کا آپس میں اختلاف ہو گیا ، بعض کہنے لگے کہ یہ بھی ہماری طرح جادوگر ہیں،اور بعض نے کہا کہ یہ باتیں جادوگروں کی ہیں ہی نہیں ، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے سے منع کررہے ہیں ۔ انہوں نے چھپ کر مشورہ کیا تاکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو معلوم نہ چلے اور ا س مشورے میں بعض جادو گر دوسروں سے کہنے لگے:
اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى(۶۳) فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّاۚ-وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى(۶۴) (44)
ترجمہ : بیشک یہ دونوں یقیناً جادوگر ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری سرزمین سے اپنے جادو کے زور سے نکال دیں اور تمہارا بہت شرف و بزرگی والا دین لے جائیں ۔ تو تم اپنا داؤ جمع کرلو پھر صف باندھ کر آ جاؤ اور بیشک آج وہی کامیاب ہوگا جو غالب آئے گا۔
جادوگروں سے مقابلہ اور اس کا نتیجہ:
اس کے بعد جادو گروں نے صف بندی کر لی اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے کہا: کیا آپ پہلے اپنا عصا ڈالیں گے یا ہم اپنے جادو کا سامان ڈالیں۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:تمہیں جو سامان ڈالنا ہے وہ ڈال دو ۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے جادو گروں سے یہ بات اس لئے فرمائی تاکہ اُن کے پاس جو کچھ جادو کے مکر و حیلے ہیں پہلے وہ سب ظاہر کرلیں اس کے بعد آپ عَلَیْہِ السَّلَام اپنا معجزہ دکھائیں اور جب حق باطل کو مٹائے اور معجزہ جادو کو باطل کردے تو دیکھنے والوں کو بصیرت و عبرت حاصل ہو۔
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے کہنے پر جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈال دیں اورکہنے لگے:
بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ(۴۴) (45)
ترجمہ : فرعون کی عزت کی قسم! بیشک ہم ہی غالب ہوں گے۔
جادوگروں نے فرعون کی عزت کی قسم اس لئے کھائی کہ انہیں اپنے غلبہ کا اطمینان تھا کیونکہ انہوں نے جادوکے انتہائی اونچے درجے کا عمل ظاہر کیا تھا ۔حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے دیکھا کہ زمین سانپوں سے بھر گئی اور میدان میں سانپ ہی سانپ دوڑ رہے ہیں اور دیکھنے والے اس نظر بندی سے مَسحور ہو گئے اور بعض علماء کے بقول حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے انسانی فطرت کےمطابق اپنے دل میں اس بات کا خوف محسوس کیا کہیں وہ سانپ ان کی طرف ہی نہ آ جائیں اور بعض مفسرین کے مطابق حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے دل میں قوم کے حوالے سے خوف محسوس کیاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بعض لوگ معجزہ دیکھنے سے پہلے ہی اس نظر بندی کے گرویدہ ہو جائیں اور معجزہ نہ دیکھیں، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا:
لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى(۶۸) وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْاؕ-اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍؕ-وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى(۶۹) (46)
ترجمہ : ڈرو نہیں بیشک تم ہی غالب ہو۔ اور تم بھی اسے ڈال دو جو تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے وہ ان کی بنائی ہوئی چیزوں کو نگل جائے گا۔ بیشک جو انہوں نے بنایا ہے وہ تو صرف جادوگروں کا مکروفریب ہے اور جادوگر کامیاب نہیں ہوتا جہاں بھی آجائے۔
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ اسی وقت بہت بڑا سانپ بن کراُن رسیوں اور لاٹھیوں کو نگلنے لگا جو جادو کی وجہ سے اژدھے بن کر دوڑتے نظر آرہے تھے،جب وہ اُن سب کو نگل گیا اور اس کے بعدحضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اسے اپنے دست ِمبارک میں لیا تو وہ پہلے کی طرح عصا تھا۔ جادوگروں نے جب یہ منظر دیکھا تو انہیں یقین ہوگیا کہ یہ جادو نہیں ہے اور یہ دیکھنے کے بعد ان پر ایسااثر ہوا کہ وہ بے اختیار اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو گئے اور یوں لگتا تھا جیسے کسی نے انہیں پکڑ کر سجدے میں گرا دیا ہو،پھر جادو گروں نے سچے دل سے کہا: (47)
اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۴۷) رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ(۴۸) (48)
ترجمہ : ہم ایمان لائے اس پر جو سارے جہان کا رب ہے۔ جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔
سُبْحَانَ اللہ ! کیا عجیب حال تھا کہ جن لوگوں نے ابھی کفر و انکار اور سرکشی کے لئے رسیاں اور لاٹھیاں ڈالی تھیں، ابھی معجزہ دیکھ کر انہوں نے شکر و سجود کے لئے اپنے سر اور گردنیں جھکا دیں۔
جادوگروں کے ایمان لانے پر فرعون کی دھمکی:
جب جادو گر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر ایمان لے آئے تو فرعون نے جادوگروں کو دھمکیاں بھی دیں اور اپنے لوگوں کو دھوکہ دینے کےلئے کہا کہ اے جادوگرو، تم میری اجازت سے پہلے موسیٰ کو مان گئے اور اس پر ایمان لے آئے۔ میں سمجھ گیا کہ موسیٰ جادو میں تمہارا استاد ہےاور تم سے بڑھ کر ہے اور اسی نے تمہیں جادو سکھایا ہے اور آپس میں جو مقابلہ دکھایا ہے یہ سب میرے اقتدار کے خلاف سازش ہے تاکہ مجھے مغلوب کرسکو لیکن میں تمہیں عبرت ناک سزا دوں گا۔ فرعون کی یہ ساری سیاسی تقریر اپنے لوگوں کو بے وقوف بنانے کےلئے تھی تاکہ وہ سمجھیں کہ فرعون حق پر ہے اور جادوگروں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے ساتھ مل کر فرعون کے خلاف سازش کی ہے۔ چنانچہ فرعون نے جادوگروں سے کہا:
اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْؕ-اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَۚ-فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ٘-وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى(۷۱) (49)
ترجمہ : کیا تم اس پر ایمان لائے اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دوں، بیشک وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا تو مجھے قسم ہے میں ضرورتمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر پھانسی دیدوں گااور ضرور تم جان جاؤ گے کہ ہم میں کس کا عذاب زیادہ شدید اورزیادہ باقی رہنے والاہے۔
یہی مضمون سورۂ شعراء میں بھی ہے(50)
اس دھمکی سے فرعون کا ایک مقصد یہ تھا کہ لوگ شبہ میں پڑ جائیں اور وہ یہ نہ سمجھیں کہ جادوگروں پر حق ظاہر ہو گیااسی لئے وہ ایمان لے آئے اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ عام مخلوق ڈر جائے اور لوگ جادو گروں کو دیکھ کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر ایمان نہ لے آئیں۔ (51)یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنی ناکامی کو مخالفین کی سازش قرار دینا اور اپنی شکست تسلیم نہ کرنا حکمرانی کے طلب گاروں کا پرانا وطیرہ ہے۔
جادو گروں کا ایمان افروز جواب:
فرعون کی دھمکی جادو گروں کے ایمان کو متزلزل نہ کرسکی اور انہوں نے ایمانی جذبے سے سرشار ہوکر فرعون کی تمام تر دھمکیوں کو پس ِ پشت ڈالتے ہوئے ببانگِ دہل حق کا اعلان کیا اور کہا کہ تو جو چاہے کرلے ہم ایمان چھوڑنے والے نہیں۔ تیرے ہاتھ میں صرف دنیا کا فیصلہ ہے اور ہم نے تو اِس دنیا کو آخرت پر قربان کرنے کا تہیہ کرلیا ہے اور ہم تو صرف اپنے خدا کی خوشنودی اورمغفرت کے طلب گار ہیں۔انہوں نے کہا:
لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍؕ-اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ(۷۲) اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِؕ-وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى(۷۳) (52)
ترجمہ : ہم ان روشن دلیلوں پر ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں گے جو ہمارے پاس آئی ہیں۔ ہمیں اپنے پیدا کرنے والے کی قسم ! تو تُوجو کرنے والا ہے کر لے۔ تو اس دنیا کی زندگی میں ہی توکرے گا ۔ بیشک ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں اور وہ جادو بخش دے جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا اور اللہ بہتر ہے اور سب سے زیادہ باقی رہنے والاہے۔
فرعون نے جادوگروں کو جو جادو پر مجبور کیا تھا اس کا ایک مفہوم تو یہی ہے کہ وہ جادوگر کوئی اپنی خواہش و مرضی سے مقابلہ کرنے نہیں آئے تھے بلکہ فرعون جیسے جابر و قاہر و ظالم ہی کے حکم پرجمع ہوکر مقابلے میں آئے تھے اور حکم ِ حاکم مرگِ مفاجات کے طور پر جبر و مجبوری ہی ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے یہ فرمایا کہ فرعون نے جب جادوگروں کو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے بلایا تو جادوگروں نے فرعون سے کہا تھا کہ ہم حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو سوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں ،چنانچہ اس کی کوشش کی گئی اور انہیں ایسا موقع فراہم کر دیا گیا ، انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام خواب میں ہیں اور عصا شریف پہرہ دے رہا ہے۔ یہ دیکھ کر جادوگروں نے فرعون سے کہا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام جادوگر نہیں، کیونکہ جادوگر جب سوتا ہے تو اس وقت اس کا جادو کام نہیں کرتا مگر فرعون نے انہیں جادو کرنے پر مجبور کیا ۔ اس کی مغفرت کے وہ جادوگر اللہ تعالیٰ سے طالب اور امیدوار تھے۔(53)
سورۂ شعراء میں ہے:
لَا ضَیْرَ٘-اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ(۵۰) اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠(۵۱) (54)
ترجمہ : کچھ نقصان نہیں،بیشک ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔ ہم اس بات کی لالچ کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری خطائیں بخش دے اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں۔
سورۂ اعراف میں ہے:
اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ(۱۲۵) وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَاؕ-رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠(۱۲۶) (55)
ترجمہ : بیشک ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔ اور تجھے ہماری طرف سے یہی بات بری لگی ہے کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لے آئے جب وہ ہمارے پاس آئیں۔ اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں حالتِ اسلام میں موت عطا فرما۔
اس سے معلوم ہوا کہ مومن کے دل میں جذبۂ ایمانی کے غلبے کے وقت غیرُ اللہ کا خوف نہیں ہوتا۔ حق قبول کرنے کے بعد ان جادو گروں کا حال یہ ہوا کہ فرعون کی ایسی ہوش رُبا سزا سن کر بھی ان کے قدم ڈگمگائے نہیں بلکہ انہوں نے مجمعِ عام میں فرعون کے منہ پر اس کی دھمکی کا بڑی جرأت کے ساتھ جواب دیا اور اپنے ایمان کو کسی تَقیہ کے غلاف میں نہ لپیٹااور یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی صحبت نے پرانے کافروں کو ایک دن میں ایمان، صحابیت، شہادت تمام مَدارج طے کر ا دئیے، صحبت کا فیض سب سے زیادہ ہے البتہ ایک قول یہ بھی ہے کہ فرعون انہیں شہید نہ کرسکا تھا۔(56)
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر ایمان لانے والے مزید افراد کا تذکرہ:
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے اتنا بڑا معجزہ دکھانے کے باوجود بہت تھوڑے لوگوں نے ایمان قبول کیا۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْؕ-وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِۚ-وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ(۸۳) (57)
ترجمہ : تو فرعون اور اس کے درباریوں کے خوف کی وجہ سے موسیٰ پراس کی قوم میں سے چند لوگوں کے علاوہ کوئی ایمان نہ لایا (اس ڈر سے) کہ فرعون انہیں تکلیف میں ڈال دے گا اور بیشک فرعون زمین میں تکبر کرنے والا تھا اور بیشک وہ حد سے گزرنے والوں میں سے تھا۔
اس آیت میں قوم کی ذریت سے کون لوگ مراد ہیں ،اس بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ، ایک قول یہ ہے کہ یہاں قومِ فرعون کی ذریت مراد ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ وہ قومِ فرعون کے تھوڑے لوگ تھے جو ایمان لائے۔ (58)
اہلِ ایمان کو نصیحت اور ان کا جواب:
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اہلِ ایمان سے فرمایا:
یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ(۸۴) (59)
ترجمہ : اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو اگر تم مسلمان ہوتو اسی پر بھروسہ کرو۔
قوم نےحضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو جواب دیتے اور بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتے ہوئے عرض کی:
عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَاۚ-رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ(۸۵) وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ(۸۶) (60)
ترجمہ : ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا۔ اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا۔ اور اپنی رحمت فرما کر ہمیں کافروں سے نجات دے۔
سرداروں کا فرعون کوموسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے قتل پر ابھارنا اور ا س کا جواب:
یہ صورت حال دیکھ کر سرداروں نے فرعون سے دو باتیں کہیں :
اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَؕ- (61)
ترجمہ : کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو اس لیے چھوڑ دے گا تاکہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں اوروہ موسیٰ تجھے اور تیرے مقرر کئے ہوئے معبودوں کو چھوڑے رکھے۔
ان دونوں باتوں کی تفصیل یہ ہے
(1)اے فرعون! کیا تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کی قوم کو چھوڑ دے گا تاکہ وہ اس طرح فساد پھیلائیں کہ مصر کی سر زمین میں تیری مخالفت کریں اور یہاں کے باشندوں کا دین بدل دیں۔ سرداروں نے یہ اس لئے کہا تھا کہ جادو گروں کے ساتھ اور بھی لوگ ایمان لے آئے تھے اور اس سے ان کا مقصد فرعون کو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور آپ کی قوم کے قتل پر ابھارنا تھا۔
(2) سرداروں نے فرعون سے دوسری بات یہ کہی : وہ موسیٰ نہ تو تیری عبادت کرتے ہیں اورنہ تیرے مقرر کئے ہوئے معبودوں کی۔
اس کے پسِ منظر سے متعلق مفسر سُدِّی کا قول ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کے لئے بُت بنوا دیئے تھے جن کی وہ عبادت کرنے کا حکم دیتا اور کہتا تھا کہ’’میں تمہارا بھی رب ہوں اور ان بُتوں کا بھی۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ فرعون دَہری تھا یعنی صانعِ عالَم کے وجود کا منکر، اس کا خیال تھا کہ عالَمِ سِفْلِی کی تدبیر ستارے کرتے ہیں اسی لئے اُس نے ستاروں کی صورتوں پر بت بنوائے تھے، ان کی خود بھی عبادت کرتا ، دوسروں کو بھی ان کی عبادت کا حکم دیتا اور اپنے آپ کوزمین کا مُطاع و مخدوم اور’’ اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی ‘‘ (میں تمہارا سب سے اعلیٰ رب ہوں ) کہتا تھا۔(62)
سرداروں کی بات سن کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے انہیں عذاب ِ الٰہی کا خوف دلایا لیکن فرعون نے آگے سے اپنی دھمکیوں کے ذریعے مقابلہ کیا چنانچہ اس نے اپنی قوم سے کہا:
سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ(63)
ترجمہ : اب ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی بیٹیاں زندہ رکھیں گے ۔
اس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ اس طرح حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم کی نسل کُشی کرکے اُن کی قوت کم کریں گے۔ مزید یہ کہ عوام میں اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ بھی کہہ دیا کہ
وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْن (64)
ترجمہ : اور بیشک ہم ان پر غالب ہیں۔
اس جملے سے اس کا مقصود یہ تھا کہ عوام کو پتا چل جائے کہ اس نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کی قوم کو کسی عجز یا خوف کی وجہ سے نہیں چھوڑا بلکہ وہ جب چاہے انہیں پکڑ سکتا ہے۔یہ بات وہ اپنے منہ سے کہتا تھا جبکہ حقیقت میں فرعون کا حال یہ تھا کہ اس کا دل حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے رعب میں بھرا پڑا تھا۔(65)
بنی اسرائیل کی پریشانی اور انہیں تسلی:
فرعون کی بات سن کر بنی اسرائیل میں کچھ پریشانی پیدا ہوگئی اور اُنہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے اس کی شکایت کی، جس کے جواب میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
اِسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْاۚ-اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ﳜ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۱۲۸) (66)
ترجمہ : اللہ سے مدد طلب کرو اور صبر کرو۔بیشک زمین کا مالک اللہ ہے، وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے وارث بنادیتا ہے اور اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہی ہے۔
لوگوں نے پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے عرض کی:
اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَاؕ- (67)
ترجمہ : ہمیں آپ کے تشریف لانے سے پہلے بھی اور تشریف آوری کے بعد بھی ستایا گیا ہے۔
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے جواب میں فرمایا:
عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠(۱۲۹) (68)
ترجمہ : عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمنوں کو ہلاک کردے گا اور تمہیں زمین میں جانشین بنا دے گا پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو غیب کا علم دیا تھا کہ آئندہ پیش آنے والے واقعات بلاکم و کاست بیان فرما دئیے اور کچھ ہی عرصے بعد جیسا آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا کہ فرعون اپنی قوم کے ساتھ ہلاک کر دیاگیا اور بنی اسرائیل ملکِ مصر کے مالک ہوئے۔
حضرت آسیہ رَضِیَ اللہُ عَنْھَا کا ایمان اور وفات:
جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے جادوگروں کو مغلوب کیا تو فرعون کی بیوی آسیہ آپ پر ایمان لے آئیں۔ فرعون کو خبر ہوئی تو اس نے انہیں سخت سزادی اور چارمیخوں سے آپ کے ہاتھ پاؤں بندھوا دئیے، سینے پر بھاری چکی رکھ دی اور اسی حال میں انہیں سخت دھوپ میں ڈال دیا ۔جب فرعون کی سختیاں بڑھ گئیں تو حضرت آسیہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی:
رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ (69)
ترجمہ : اے میرے رب!میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا۔
اللہ تعالیٰ نے ان کا جنتی مکان ان پر ظاہر فرمایا اور اس کی خوشی میں ان پر فرعون کی سختیوں کی شدت آسان ہوگئی۔پھر عرض کی:
وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ(۱۱) (70)
ترجمہ : اور مجھے فرعون اوراس کےعمل سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات عطا فرما۔
ان کی یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اُن کی روح قبض فرمالی۔ (71)
یقینا جنت میں وہ گھر زیادہ درجے والا ہے جس میں بندے کو اللہ تعالیٰ کا قرب زیادہ ہو۔ اللہ کی محبت میں اس سے ملاقات کے شوق میں موت کی تمنا اور دعاکرنا جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرنا،اس کی بارگاہ میں التجائیں کرنا،مشکلات اور مصائب میں اس سے خلاصی کا سوال کرنا نیک بندوں کی سیرت ہے۔
مکانات بنانے اور گھروں میں نماز پڑھنے کا حکم:
قرآنِ پاک میں ہے:
وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَؕ-وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۷) (72)
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کو وحی بھیجی کہ مصر میں اپنی قوم کے لیے مکانات بناؤ اور اپنے گھروں کو نماز کی جگہ بناؤ اور نماز قائم رکھو اور مسلمانوں کو خوشخبری سناؤ۔
ابتداء میں بنی اسرائیل کو یہی حکم تھا کہ وہ گھروں میں چھپ کر نماز پڑھیں تاکہ فرعونیوں کے شر واِیذا ء سے محفوظ رہیں۔ نیزحضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے دین میں نماز فرض تھی، اس وقت زکوٰۃکا حکم اس لئے نہ دیا گیا کہ
بنی اسرائیل غریب و مساکین تھے، جب ان کے پاس مال آیا تو پھر ان پر مال کا چوتھائی حصہ زکوٰۃ دینی فرض ہوئی۔
فرعونیوں پر عبر ت انگیز عذابات کا نزول:
جب جادوگروں کے ایمان لانے کے بعد بھی فرعونی اپنے کفر وسرکشی پر جمے رہےاورفرعون اور اس کی قوم کی سرکشی یہاں تک پہنچ گئی کہ انہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے صاف صاف کہہ دیا :
مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَاۙ-فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ(۱۳۲) (73)
ترجمہ : (اے موسیٰ!) تم ہمارے اوپر جادو کرنے کے لئے ہمارے پاس کیسی بھی نشانی لے آؤ ،ہم ہرگز تم پر ایمان لانے والے نہیں۔
تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اُن کے خلاف دعا کی: یارب! عَزَّ وَجَلَّ ، فرعون زمین میں بہت سرکش ہوگیا ہے اور اس کی قوم نے بھی عہد شکنی کی ہے انہیں ایسے عذاب میں گرفتار کر جو اُن کے لئے سزا ہو اور میری قوم اور بعد والوں کے لئے عبرت و نصیحت ہو۔ مفسرین نے عذابات کی تقریباً وہی تفصیل بیان کی ہے جو نیچے ہم نے ذکر کی ہے البتہ بائبل میں اس حوالے سے تفصیلات کچھ مختلف ہیں۔ بہرحال مفسرین کے بیان کے مطابق جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرعونیوں کے خلاف دعا کی تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی دعا قبول ہوئی اور یوں ہواکہ ایک بادل آیا، اندھیرا چھایا اور کثرت سے بارش ہونے لگی جس سےقبطیوں کے گھروں میں پانی بھر گیا یہاں تک کہ وہ اس میں کھڑے رہ گئے اور پانی اُن کی گردنوں کی ہنسلیوں تک آگیا، اُن میں سے جوبیٹھا وہ ڈوب گیا۔ یہ لوگ نہ ہل سکتے تھے نہ کچھ کام کرسکتے تھے۔ ہفتہ کے دن سے لے کر دوسرے ہفتہ تک سات روز اسی مصیبت میں مبتلا رہے جبکہ بنی اسرائیل کے گھرقبطیوں کے گھروں سے قریب ہونے کے باوجود اِن کے گھروں میں پانی نہ آیا۔ جب یہ لوگ عاجز ہوئے تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے عرض کی: ہمارے لئے دعا فرمائیے کہ یہ مصیبت دور ہو جائے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیج دیں گے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے دعا فرمائی تو طوفان کی مصیبت دور ہو گئی اور زمین میں وہ سرسبزی وشادابی آئی جو پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ کھیتیاں خوب ہوئیں اور درخت خوب پھلے ۔ یہ دیکھ کر فرعونی کہنے لگے:یہ پانی تو نعمت تھا اور ایمان نہ لائے۔ ایک مہینا تو عافیت سے گزرا ،پھر اللہ تعالیٰ نے ٹڈیاں بھیجیں، وہ کھیتیاں اور پھل، درختوں کے پتے، مکان کے دروازے، چھتیں ،تختے، سامان سب کھا گئیں اور قبطیوں کے گھروں میں بھر گئیں لیکن بنی اسرائیل کے یہاں نہ آئیں۔ اب قبطیوں نے پریشان ہو کر پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے دعا کی درخواست کی اور ایمان لانے کا وعدہ کیا، اس پر عہد و پیمان کیا۔ سات روز یعنی ہفتہ سے ہفتہ تک ٹڈی کی مصیبت میں مبتلا رہے،پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی دعا سے نجات پائی۔ کھیتیاں اور پھل جو کچھ باقی رہ گئے تھے انہیں دیکھ کر کہنے لگے:یہ ہمیں کافی ہیں ہم اپنا دین نہیں چھوڑیں گے، چنانچہ ایمان نہ لائے، عہد وفا نہ کیا اور اپنے اعمالِ خبیثہ میں مبتلا ہوگئے۔ ایک مہینا عافیت سے گزرا ،پھر اللہ تعالیٰ نے قُمَّل بھیجے۔یہ کیا چیز تھی اس کے بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں: قُمَّل گھن ہے۔بعض کہتے ہیں: جوں ۔بعض کہتے ہیں: ایک اور چھوٹا سا کیڑا ہے۔ اس کیڑے نے جو کھیتیاں اور پھل باقی رہے تھے وہ کھالئے، یہ کیڑا کپڑوں میں گھس جاتا، جلد کو کاٹتا، کھانے میں بھر جاتا تھا ،اگر کوئی دس بوری گندم چکی پر لے جاتا تو تین سیر واپس لاتا باقی سب کیڑے کھا جاتے۔ یہ کیڑے فرعونیوں کے بال، بھنویں ،پلکیں چاٹ گئے ،ان کے جسم پر چیچک کی طرح بھر جاتے حتّٰی کہ اِن کیڑوں نے اُن کا سونا دشوار کردیا تھا۔ اس مصیبت سے فرعونی چیخ پڑے اور اُنہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے عرض کی:ہم توبہ کرتے ہیں ، آپ اس بلا کے دور ہونے کی دعا فرمائیے۔ چنانچہ سات روز کے بعد یہ مصیبت بھی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی دعا سے دور ہوئی، لیکن فرعونیوں نے پھر عہد شکنی کی اور پہلے سے زیادہ خبیث تر عمل شروع کر دئیے۔ ایک مہیناامن میں گزرنے کے بعد پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مینڈک بھیجے اور یہ حال ہوا کہ ہانڈیوں میں مینڈک،کھانوں میں مینڈک ، چولھوں میں مینڈک بھر جاتے تو آگ بجھ جاتی تھی، لیٹتے تھے تو مینڈک اوپر سوار ہوتے تھے، اس مصیبت سے فرعونی رو پڑے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے عرض کی: اب کی بار ہم پکی توبہ کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اُن سے عہد و پیمان لے کر دعا کی تو سات روز کے بعد یہ مصیبت بھی دور ہوئی اور ایک مہینا عافیت سے گزرا، لیکن پھر اُنہوں نے عہد توڑ دیا اور اپنے کفر کی طرف لوٹے ۔پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے دعاکی تو تمام کنوؤں کا پانی، نہروں اور چشموں کا پانی، دریائے نیل کا پانی غرض ہر پانی اُن کے لئے تازہ خون بن گیا۔ سات روز تک خون کے سوا کوئی چیز پینے کی میسر نہ آئی تو پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے دعا کی درخواست کی اور ایمان لانے کا وعدہ کیا۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے دعا فرمائی یہ مصیبت بھی دور ہوئی مگر وہ ایمان پھر بھی نہ لائے۔(74)
قرآن پاک میں ہے:
فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ- فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ(۱۳۳) وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَۚ-لَىٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ(۱۳۴) فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ(۱۳۵) (75)
ترجمہ : تو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈی اور پِسُّو(یا جوئیں ) اور مینڈک اور خون کی جدا جدا نشانیاں بھیجیں تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم تھی۔ اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا توکہتے، اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے ۔بیشک اگر آپ ہم سے عذاب اٹھادو گے تو ہم ضرور آپ پر ایمان لائیں گے اور ضرور ہم بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے۔ پھر جب ہم ان سے اس مدت تک کے لئے عذاب اٹھالیتے جس تک انہیں پہنچنا تھا تو وہ فوراً (اپنا عہد) توڑ دیتے۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا٘-وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(۴۸) وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَۚ-اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ(۴۹) فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ(۵۰) (76)
ترجمہ : اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے وہ اپنی مثل (پہلی نشانی) سے بڑی ہی ہوتی اور ہم نے انہیں مصیبت میں گرفتار کیا تاکہ وہ بازآجائیں۔ اور انہوں نے کہا: اے جادوکے علم والے ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اُس عہد کے سبب جو اس نے تم سے کیا ہے ۔بیشک ہم ہدایت پر آجائیں گے۔ پھر جب ہم نے ان سے وہ مصیبت ٹال دی تواسی وقت انہوں نے عہد توڑدیا۔
فرعون کا اپنی قوم میں فخریہ اعلان اور انہیں بہکانا:
ایک موقع پر فرعون نے اپنی قوم سے چند باتیں کیں:
(1)بڑے فخر کے ساتھ اعلان کرکے کہا:
یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْۚ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ(۵۱) (77)
ترجمہ : اے میری قوم!کیا مصر کی بادشاہت میری نہیں ہے اوریہ نہریں جومیرے نیچے بہتی ہیں؟ تو کیا تم دیکھتے نہیں؟
اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ خلیفہ ہارون رشید نے جب یہ آیت پڑھی اور مصر کی حکومت پر فرعون کا غرور دیکھا تو کہا: میں وہ مصر اپنے ایک ادنیٰ غلام کو دے دوں گا، چنانچہ اُنہوں نے ملک مصر خصیب کو دے دیا جو اُن کا غلام تھا اور وضو کرانے کی خدمت پر مامور تھا۔(78)
(2)فرعون نے دوسری بات یہ کہی:
اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ ﳔ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ(۵۲) (79)
ترجمہ : یا میں اس سے بہتر ہوں جو معمولی سا آدمی ہے اور صاف طریقے سے باتیں کرتا معلوم نہیں ہوتا۔
یہ اس ملعون نے جھوٹ کہا کیونکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے زبانِ اقدس کی وہ گرہ زائل کردی تھی لیکن فرعونی اپنے پہلے ہی خیال میں تھے۔(80)نیزاس آیت سے معلوم ہوا کہ اپنے آپ کونبی سے اعلیٰ کہنا یا نبی کو ذلت کے الفاظ سے یاد کرنا فرعونی کفر ہے ۔
(3) تیسری بات یہ کہی:
فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓىٕكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ(۵۳) (81)
ترجمہ : (اگر یہ رسول ہے)تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ ڈالے گئے؟ یا اس کے ساتھ قطار بنا کرفرشتے آتے؟
فرعون نے یہ بات اپنے زمانے کے دستور کے مطابق کہی کہ اس زمانے میں جس کسی کو سردار بنایا جاتا تھا تواسے سونے کے کنگن اور سونے کا طوق پہنایا جاتا تھا۔ (82)
فرعون نے اس طرح کی چکنی چپڑی باتیں کر کے ان جاہلوں کی عقل مار دی اور انہیں بہلا پھسلا لیا تو وہ اس کے کہنے پر چل پڑے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی تکذیب کرنے لگے۔یقیناً یہ نافرمان لوگ تھے کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت کرنے کی بجائے فرعون جیسے جاہل اور سرکش کی پیروی کی۔ (83)
فرعونیوں پر قحط اور پھلوں کی کمی کی مصیبت:
جب فرعون اور اس کی قوم نے روشن نشانیوں کو جھٹلایا اور کسی طرح ایمان نہ لائے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرعونیوں کو کئی سال کے قحط،پھلوں کی کمی اور فقر وفاقہ کی مصیبت میں گرفتار کر دیا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا فرماتے ہیں: دیہات میں رہنے والے فرعونی قحط کی مصیبت میں گرفتار ہوئے اور شہروں میں رہنے والے (آفات کی وجہ سے) پھلوں کی کمی کی مصیبت میں مبتلا ہوئے۔ حضرت کعب رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں :ان لوگوں پر ایک وقت ایسا آیا کہ کھجور کے درخت پر صرف ایک ہی کھجور اگتی تھی۔(84)
اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ سختیاں اس لئے نازل فرمائیں تاکہ ان سے عبرت حاصل کرتے ہوئے وہ سرکشی اور عناد کا راستہ چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف لوٹ آئیں کیونکہ سختی و مصیبت دل کو نرم کر دیتی ہے اورآخرت کی طرف راغب کر دیتی ہے۔ لیکن فرعونی کفر میں اس قدر راسِخ ہوچکے تھے کہ ان تکلیفوں سے بھی ان کی سرکشی بڑھتی ہی رہی، جب انہیں سرسبزی و شادابی، پھلوں ،مویشیوں اور رزق میں وسعت ، صحت، آفات سے عافیت و سلامتی وغیرہ بھلائی ملتی تو کہتے: یہ توہمیں ملنا ہی تھا کیونکہ ہم اس کے اہل اور اس کے مستحق ہیں۔یہ لوگ اس بھلائی کونہ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل جانتے او ر نہ ہی اس کے انعامات پر شکر اد اکرتے اور جب انہیں ،قحط، خشک سالی، مرض ،تنگی اور آفت وغیرہ کوئی برائی پہنچتی تو اسے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے اور کہتے کہ یہ بلائیں اُن کی وجہ سے پہنچیں ، اگر یہ نہ ہوتے تویہ مصیبتیں نہ آتیں۔(85)
قرآن پاک میں ہے:
وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ(۱۳۰) فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖۚ-وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗؕ-اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۱۳۱) (86)
ترجمہ : اور بیشک ہم نے فرعونیوں کو کئی سال کے قحط اور پھلوں کی کمی میں گرفتار کردیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ تو جب انہیں بھلائی ملتی توکہتے یہ ہمارے لئے ہے اور جب برائی پہنچتی تو اسے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے۔ سن لو! ان کی نحوست اللہ ہی کے پاس ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے۔
فرعون کی ہرزہ سرائی اور اس کی حقیقت:
ایک بارفرعون نے اپنے درباریوں سے کہا:
ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗۚ-اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ(۲۶) (87)
ترجمہ : مجھے چھوڑدو تاکہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں اور وہ اپنے رب کو بلالے۔بیشک مجھے ڈر ہے کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا زمین میں فسادظاہر کرے گا۔
فرعون جب کبھی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو قتل کرنے کا ارادہ کرتا تو اس کی قوم کے لوگ اسے اس چیز سے منع کرتے اور کہتے: یہ وہ شخص نہیں ہے جس کا تجھے اندیشہ ہے ،یہ تو ایک معمولی جادوگر ہے ، اس پر ہم غالب آجائیں گے لیکن اگر اسے قتل کردیا تو عام لوگ شبہ میں پڑ جائیں گے کہ وہ شخص سچا تھا ، حق پر تھا اور تم دلیل سے اس کا مقابلہ کرنے میں عاجز ہوئے اور جواب نہ دے سکے توتم نے اسے قتل کردیا۔ لیکن حقیقت میں فرعون کا یہ کہنا ’’ مجھے چھوڑ دو تاکہ میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو قتل کروں ‘‘صرف دھمکی ہی تھی ، کیونکہ اسے خود آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے برحق نبی ہونے کا یقین تھا اور وہ جانتا تھا کہ جو معجزات آپ لے کر آئے ہیں وہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اور وہ یہ سمجھتا تھا کہ اگر ا س نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو خود ہی مارا جائے گاکیونکہ اگر فرعون اپنے دل میں آپ کو برحق نبی نہ سمجھتا اور یہ نہ جانتا کہ ربانی تائیدیں جو آپ کے ساتھ ہیں ان کا مقابلہ ناممکن ہے تو وہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو قتل کرنے میں ہر گز دیر نہ کرتا کیونکہ وہ بڑا خونخوار ، سفاک ، ظالم اوربےدرد تھا ۔ ایک خواب کی وجہ سے جس نے بنی اسرائیل کے ہزاروں بچے قتل کروادئیے آخرحضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو شہید کرنے میں اُسے کیارکاوٹ تھی؟ وہی کہ دل میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی صداقت جان چکا تھا ۔(88)
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا رب تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا:
فرعون کی ہرزہ سرائی سن کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا:
اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠(۲۷) (89)
ترجمہ : میں تمہارے اور اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں ہر اس متکبر سے جو حساب کے دن پر یقین نہیں رکھتا۔
آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرعون کی سختیوں کے جواب میں اپنی طرف سے کوئی بڑائی والاکلمہ نہ فرمایا بلکہ اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہی اور اس پر بھروسہ کیا،یہی خدا شناسوں کا طریقہ ہے اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو ہر ایک بلا سے محفوظ رکھا ۔
آلِ فرعون کے مومن کی نصیحتیں اور فرعون کا جواب:
جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کی اور ا س کے فضل و رحمت پر بھروسہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس فتنے کو سرد کرنے کے لئے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی حمایت میں ایک اجنبی شخص کو کھڑا کر دیا۔یہ فرعون کاچچازادبھائی تھالیکن حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پرایمان لاچکاتھا اور اپنے ایمان کوفرعون اوراس کی قوم سے چھپا کر رکھتا تھا کیونکہ اسے اپنی جان کاخطرہ تھااوریہی وہ شخص تھاجس نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے ساتھ نجات حاصل کی تھی اور ایک قول یہ ہے کہ وہ شخص اسرائیلی تھا اور اپنے ایمان کوفرعون اورآل فرعون سے مخفی رکھتاتھا۔امام ابن جریرطبری نے پہلے قول کوراجح قراردیاہے۔(90) اس مومن نے کہا:
اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْؕ-وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗۚ-وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ(۲۸) یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ٘-فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَاؕ-قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ(۲۹) (91)
ترجمہ : کیاتم ایک مرد کو اس بنا پر قتل کرنا چاہ رہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور بیشک وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن نشانیاں لے کر آیا ہے اور اگر بالفرض وہ غلط کہتے ہیں تو ان کی غلط گوئی کا وبال ان ہی پرہے اور اگر وہ سچے ہیں تو جس عذاب کی وہ تمہیں وعید سنا رہے ہیں اس کا کچھ حصہ تمہیں پہنچ جائے گا۔بیشک اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھنے والا ،بڑا جھوٹا ہو۔ اے میری قوم! زمین میں غلبہ رکھتے ہوئے آج بادشاہی تمہاری ہے تو اللہ کے عذاب سے ہمیں کون بچالے گا اگر ہم پر آئے۔ فرعون بولا: میں تو تمہیں وہی سمجھاتا ہوں جو میں خود سمجھتا ہوں اور میں تمہیں وہی بتاتا ہوں جو بھلائی کی راہ ہے۔
مردِ مومن کی دنیا و آخرت کےعذاب سے ڈرا کر نصیحت:
جب مردِ مومن نے دیکھا کہ نرمی کے ساتھ نصیحت کرنے اور سامنے والے کے خیال کی رعایت کرنے کے باجود یہ لوگ اپنے ارادے سے باز آتے نظر نہیں آرہے تو ا س نے انہیں سابقہ قوموں پر آنے والے دنیوی عذاب اور آخرت کے عذاب سے ڈراتے ہوئے کہا :
یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ(۳۰) مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْؕ-وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ(۳۱) وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ(۳۲) یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَۚ-مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍۚ-وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ(۳۳) (92)
ترجمہ : اے میری قوم! مجھے تم پر(گزشتہ) گروہوں کے دن جیساخوف ہے۔ جیسا نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد والوں کا طریقہ گزرا ہے اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا۔اور اے میری قوم! میں تم پر پکارے جانے کے دن کا خوف کرتا ہوں۔ جس دن تم پیٹھ دے کر بھاگو گے۔ اللہ سے تمہیں کوئی بچانے والا نہیں ہے اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔
یعنی اے میری قوم !تم جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو جھٹلا رہے ہو اور انہیں شہید کرنے کا ارادہ کئے بیٹھے ہو،اس وجہ سے مجھے خوف ہے کہ تم پر بھی وہی دن نہ آ جائے جو سابقہ قوموں میں سے ان لوگوں پر آیا جنہوں نے اپنے رسولوں عَلَیْہِمُ السَّلَام کو جھٹلایا تھا جیسا کہ حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم،عاد اور ثمود اور ان کے بعد والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا دستور گزرا ہے کہ وہ لوگ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کوجھٹلاتے رہے اور ان میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ہلاک کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں چاہتا اورگناہ کے بغیر ان پر عذاب نہیں فرماتا اور ان پر حجت قائم کئے بغیر ان کو ہلاک نہیں کرتا (اورجب تم حرکتیں ہی عذاب پانے والی کرو گے تو ضرور تمہیں ان کی سزا ملے گی)۔ (93)
اے میری قوم! میں تم پر اس دن کے عذاب کا خوف کرتا ہوں جس دن ہر طرف پکارمچی ہوئی ہوگی اور اس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے اور اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے تمہیں بچانے والا اور تمہاری حفاظت کرنے والا کوئی نہیں ہو گا اور(جو باتیں میں نے تمہارے سامنے کی ہیں ان کا تقاضا یہ ہے کہ تم اپنے ارادے سے باز آ جاؤ اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر ایمان لے آؤ،میں نے تمہیں ہر طریقے سے نصیحت کر دی ہے،اس کے بعد بھی اگر تم ہدایت حاصل نہیں کرتے تو تمہاری قسمت کیونکہ) جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے تو اسے نجات کی راہ دکھانے والا کوئی نہیں۔(94)
مردِ مومن کی مزید نصیحت:
مردِ مومن نے مزید کہا:
وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖؕ-حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًاؕ-كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖﰳ(۳۴) الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْؕ-كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاؕ-كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ(۳۵) (95)
ترجمہ : اور بیشک اس سے پہلے تمہارے پاس یوسف روشن نشانیاں لے کر آئے تو تم ان کے لائے ہوئے پر شک ہی میں رہے یہاں تک کہ جب انہوں نے انتقال فرمایا توتم نے کہا: اب اللہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا ، اللہ یونہی اسے گمراہ کرتا ہے جو حد سے بڑھنے والا شک کرنے والا ہو۔ وہ جو اللہ کی آیتوں میں بغیر کسی ایسی دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں جو انہیں ملی ہو، یہ بات اللہ کے نزدیک اور ایمان لانے والوں کے نزدیک کس قدر سخت بیزاری کی ہے۔ اللہ ہرمتکبر سرکش کے دل پراسی طرح مہر لگادیتا ہے۔
یعنی اے مصر والو! بیشک حضر ت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے پہلے تمہارے آباؤ اجداد کے پاس حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام روشن نشانیاں لے کر آئے تو وہ ان کے لائے ہوئے دینِ حق میں شک ہی کرتے رہے یہاں تک کہ جب انہوں نے انتقال فرمایا توتمہارے آباؤ اجداد نے کہا: اب اللہ تعالیٰ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا ۔یہ بے دلیل بات تمہارے پہلے لوگوں نے خود گڑھی تاکہ وہ حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کے بعد آنے والے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی تکذیب کریں اور انہیں جھٹلائیں،تو وہ کفر پر قائم رہے ، حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کی نبوت میں شک کرتے رہے اور بعد والوں کی نبوت کے انکار کے لئے انہوں نے یہ منصوبہ بنالیا کہ اب اللہ تعالی کوئی رسول ہی نہ بھیجے گا ۔ یاد رکھو کہ جس طرح تمہارے آباؤ اجداد گمراہ ہوئے ،اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو گمراہ کرتا ہے جو حد سے بڑھنے والا اور ان چیزوں میں شک کرنے والا ہو جن پر روشن دلیلیں شاہد ہیں اور حد سے بڑھنے والے، شک کرنے والے وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلا کر اور ان پر اعتراضات کر کے جھگڑا کرتے ہیں اوران کا یہ جھگڑا کسی ایسی دلیل کے ساتھ نہیں ہوتا جو انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہو بلکہ محض آباؤ اجداد کی اندھی تقلید اور جاہلانہ شبہات کی بنا پر ہوتا ہے اور یہ جھگڑا اللہ تعالیٰ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک انتہائی سخت بیزاری کی بات ہے اور جس طرح ان جھگڑا کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دی اسی طرح اللہ تعالیٰ ہرمتکبر سرکش کے دل پر مہر لگادیتا ہے کہ اس میں ہدایت قبول کرنے کا کوئی محل باقی نہیں رہتا۔ (96)
ہامان کو اونچا محل بنانے کا حکم:
فرعون نے جب دیکھاکہ یہ شخص توایسی گفتگوکررہاہے جس کی وجہ سے لوگوں کے دل اس کی طرف مائل ہورہے ہیں اورلوگ اس کی بات کودرست سمجھ رہے ہیں تواس نے موضوع ہی تبدیل کردیااورلوگوں کو مطمئن کرنے کےلئے مکاری اور چالبازی کے طور پراپنے وزیرہامان کوکہنے لگا:
یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ(۳۶) اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًاؕ-وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِؕ-وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠(۳۷) (97)
ترجمہ : اے ہامان !میرے لیے اونچا محل بنا شاید میں راستوں تک پہنچ جاؤں۔ آسمان کے راستوں تک تو موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں اور بیشک میرے گمان میں تو وہ جھوٹا ہے اور یونہی فرعون کی نگاہ میں اس کا برا کام خوبصورت بنادیا گیا اور وہ راستے سے روکا گیا اور فرعون کا داؤ ہلاکت میں ہی تھا۔
یعنی اے ہامان! میرے لیے آسمان کے راستوں تک ایک اونچامحل بناؤ، میں اس پر چڑھ کر دیکھوں گا،شاید میں آسمان پر جانے والے راستوں تک پہنچ جاؤں اور وہاں جا کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے خداکو جھانک کر دیکھوں ، میرے گمان کے مطابق میرے علاوہ کسی اور خداکے وجود کا دعویٰ کرنے میں موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام جھوٹے ہیں ۔ یہ بات بھی فرعون نے اپنی قوم کو فریب دینے کے لئے کہی کیونکہ توحید و رسالت کی حقانیت کئی انداز میں اس پر آشکار ہوچکی تھی۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اسی طرح فرعون کی نگاہ میں اس کا برا کام یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور اس کے رسول کو جھٹلانا خوش نما بنادیا گیا اور شیطانوں نے وسوسے ڈال کر اس کی برائیاں اس کی نظر میں بھلی کر دکھائیں اور وہ ہدایت کے راستے سے روک دیاگیا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی نشانیوں کے مقابلے میں فرعون کے مکرو فریب نقصان اورہلاکت کا شکار ہوئے اور وہ اپنے کسی داؤ میں کامیاب نہ ہو سکا۔(98)
نوٹ : ہامان کو محل بنانے کا حکم دینے والا واقعہ سورہِ قصص کی آیت نمبر38میں بھی مذکورہے۔
مردِ مومن کی قوم کو نصیحت:
جب مرد ِمومن نے دیکھا کہ فرعون کوئی معقول جواب نہیں دے سکا تو ا س نے دوبارہ اپنی قوم سے بڑے مؤثر انداز میں کلام کیا اور لوگوں کی غفلت کے سب سے بڑے سبب یعنی دنیا سے محبت کی طرف توجہ دلا کر دل نشین انداز میں انہیں نصیحت کی کہ یہ دنیوی زندگی فانی و معمولی ہے جس کی چکاچوند سے متاثر ہوکر تمہیں حق کی حقیقی روشنی نظر نہیں آرہی۔ اس فانی دنیا میں دل نہ لگاؤ، حقیقی زندگی اور جائے قرار تو آخرت کی کامیاب زندگی ہے جو ابدالآباد تک باقی رہنے والی ہے جسے حاصل کرنے کا طریقہ ایمان صحیح اور عمل ِ صالح ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ دنیا میں ایمان اور نیکیوں بھری زندگی گزار لیں، آخرت میں راحتوں اور نعمتوں بھری زندگی مل جائے گی۔مردِ مومن نے کہا:
َ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ(۳۸) یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ٘-وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ(۳۹) مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَاۚ-وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ(۴۰) (99)
ترجمہ : اے میری قوم!میرے پیچھے چلو میں تمہیں بھلائی کی راہ بتاؤں۔ اے میری قوم!یہ دنیا کی زندگی تو تھوڑا سا سامان ہی ہے اور بیشک آخرت ہمیشہ رہنے کا گھر ہے۔ جو برا کام کرے تو اسے بدلہ نہ ملے گا مگر اتنا ہی اور جو اچھا کام کرے مرد ہوخواہ عورت اوروہ ہو مسلمان تو وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے وہاں بے حساب رزق پائیں گے۔
اس میں اشارہ ہے کہ فرعون اوراس کی قوم جس راستہ پرچل رہی ہے وہ گمراہی کاراستہ ہے اور یہ بھی اشارہ ہے کہ ہدایت انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اور اولیاء عظام م کی پیروی میں رکھی گئی ہے اور جس طرح نبی عَلَیْہِ السَّلَام اپنے امتی کو ہدایت کا راستہ دکھاتے ہیں اسی طرح نبی عَلَیْہِ السَّلَام کے تابع رہتے ہوئے اولیاء و صالحین بھی ہدایت کا راستہ دکھاتے ہیں۔(100)
باطل دین کی طرف بلانے کا ارادہ رکھنے والوں کو نصیحت:
اپنی قوم کو نصیحت کرتے وقت مردِ مومن نے یہ محسوس کیا کہ لوگ میری باتوں پر تعجب کر رہے ہیں اور میری بات ماننے کی بجائے مجھے اپنے باطل دین کی طرف بلانا چاہتے ہیں تو اس نے اپنی قوم کومخاطب کرکے کہا:
وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ(۴۱) تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ٘-وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ(۴۲) لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ(۴۳) فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْؕ-وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ(۴۴) (101)
ترجمہ : اور اے میری قوم مجھے کیا ہوا کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلا رہے ہو۔ تم مجھے اس طرف بلاتے ہو کہ میں اللہ کا انکار کروں اور ایسے کو اس کا شریک کروں جو میرے علم میں نہیں، اور میں تمہیں عزت والے بہت بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں۔آپ ہی ثابت ہوا کہ جس کی طرف تم مجھے بلارہے ہواس کو بلانا کہیں کام کا نہیں، دنیا میں، نہ آخرت میں اور یہ کہ ہمارا پھرنا اللہ کی طرف ہے اور یہ کہ حد سے گزرنے والے ہی دوزخی ہیں۔تو جلد ہی تم وہ یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، اور میں اپنے کام اللہ کو سونپتا ہوں، بیشک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے۔
یعنی تم عجیب لوگ ہو کہ میں تمہیں ایمان اور طاعت کی تلقین کر کے جنت کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے کفر و شرک کی دعوت دے کر جہنم کی طرف بلا رہے ہو ۔تم مجھے اِس بات کی طرف بلاتے ہو کہ میں اُس اللہ تعالیٰ کا انکار کر دوں جس کا کوئی شریک نہیں اور معبود ہونے میں ایسے کو اس کا شریک کروں جس کے معبود ہونے پر کوئی دلیل ہی نہیں اور میں تمہیں اس اللہ کی طرف بلا رہا ہو ں جو عزت والا اور توبہ کرنے والے کو بہت بخشنے والا ہےاور یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تم مجھے جس جھوٹے معبود کی عبادت کی طرف بلا رہے ہو اس کی عبادت کرنا دنیا اور آخرت میں کہیں کام نہ آ ئے گا اور یاد رکھو کہ ہمیں مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے ،وہ ہمیں ہمارے اعمال کی جز ادے گا اور یہ بھی یاد رکھو کہ کافر ہمیشہ کے لئے جہنم میں جائیں گے۔اگرمیری باتیں ابھی تمہارے دل پر نہیں لگتیں لیکن عنقریب جب تم پر عذاب نازل ہو گا تو اس وقت تم میری نصیحتیں یاد کرو گے مگراس وقت کا یاد کرنا کچھ کام نہ دے گا ۔ یہ سن کر ان لوگوں نے اس مومن کو دھمکی دی کہ اگر تم نےہمارے دین کی مخالفت کی تو ہم تمہارے ساتھ برے طریقے سے پیش آئیں گے۔ اس کے جواب میں اس نے کہا: میں اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کو سونپتا ہوں، بیشک اللہ تعالیٰ بندوں کو دیکھتا اور ان کے اعمال و احوال کو جانتا ہے(لہذا مجھے تمہارا کوئی ڈر نہیں)۔ (102)
مردِ مومن کی حفاظت:
جب فرعون اور اس کے درباریوں نے مرد مومن کو سزا دینے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے اُن کے شر سے بچا لیا جبکہ فرعون کا اپنی قوم سمیت یہ انجام ہوا کہ انہیں برے عذاب نے گھیر لیا،دنیا میں وہ فرعون کے ساتھ دریا میں غرق ہوگئے اور قیامت کے دن جہنم میں جائیں گے۔(103)
قرآنِ پاک میں ہے:
فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ(۴۵) (104)
ترجمہ : تو اللہ نے اسے ان کے مکر کی برائیوں سے بچالیا اور فرعونیوں کو برے عذاب نے آ گھیرا۔
اس سے معلوم ہو اکہ جو شخص اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیتا ہے اور اس پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کفایت فرماتا اور دشمنوں کے مکر و فریب سے بچالیتاہے۔
فرعون اور ا س کے سرداروں کے خلاف دعا:
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے عظیم معجزات دکھانے کے باوجودجب فرعونی اپنے کفر و عناد پر قائم رہے اور ان لوگوں کی سرکشی کا سبب اُن کا مال و دولت، دنیوی جاہ و زینت اور دل کی سختی تھی توحضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے ان کی بربادی کی دعا کی:
رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۙ-رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَۚ-رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ(۸۸) (105)
ترجمہ : اے ہمارے رب! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں آرائش اور مال دیدیا، اے ہمارے رب! تاکہ وہ تیرے راستے سے بھٹکا دیں۔ اے ہمارے رب ! ان کے مال برباد کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے تاکہ وہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔
قبولیتِ دعا کی بشارت اور تاکید:
اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو شرف قبولیت سے نوازا اور ارشاد فرمایا:
قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ(۸۹) (106)
ترجمہ : تم دونوں کی دعا قبول ہوئی پس تم ثابت قدم رہو اورنادانوں کے راستے پر نہ چلنا۔
اس آیت میں دعا کی نسبت حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا السَّلَام دونوں کی طرف کی گئی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام دعا کرتے تھے اور حضرت ہارون عَلَیْہِ السَّلَام آمین کہتے تھے۔
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو مصر سے نکلنے کا حکم:
قبولیتِ دعا کے کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی بھیجی کہ
اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ(۵۲) (107)
ترجمہ : راتوں را ت میرے بندوں کو لے چلو، بیشک تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔
سورۂ طٰہٰ میں ہے:
اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًاۙ-لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى(۷۷) (108)
ترجمہ : راتوں رات میرے بندوں کو لے چلو اور ان کے لیے دریا میں خشک راستہ نکال دو۔ تجھے ڈر نہ ہوگا کہ فرعون پکڑ لے اور نہ تجھے خطرہ ہوگا۔
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی روانگی اور بڑھیا کا ایمان افروز واقعہ:
اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات مصر سے نکل گئے ۔اسی سفر کے دوران یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام دریا کے کنارے تک پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے سواری کے جانوروں کے منہ پھیر دئیے کہ خود واپس پلٹ آئے ۔حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: یااللہ ! عَزَّ وَجَلَّ ، یہ کیا حال ہے ؟ارشاد ہوا:تم حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کی قبرکے پاس ہو، ان کا جسم اپنے ساتھ لے لو۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو قبر کا پتہ معلوم نہ تھا، آپ نے لوگوں سے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کی قبر کے بارے میں جانتا ہو تو مجھے بتاؤ۔لوگوں نے عرض کی: ہم میں سے تو کوئی نہیں جانتا البتہ بنی اسرائیل کی ایک بڑھیا ہے ،ہو سکتا ہے کہ وہ حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کی قبر کے بارے میں جانتی ہو کہ وہ کہاں ہے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس کے پاس آدمی بھیجا (جب وہ آ گئی تو اس سے) فرمایا: تجھے حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کی قبر معلوم ہے؟ اس نے کہا:ہاں۔ فرمایا: تو مجھے بتادے ۔اس نے عرض کی :خدا کی قسم میں اس وقت تک نہ بتاؤں گی جب تک آپ مجھے میری مانگی ہوئی چیز نہ دیدیں۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: تیری عرض قبول ہے ۔بڑھیانے عرض کی:میں آپ سے یہ مانگتی ہوں کہ جنت میں آپ کے ساتھ اس درجے میں رہوں جس درجے میں آپ ہوں گے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: جنت مانگ لے۔ (یعنی تجھے یہی کافی ہے اتنا بڑا سوال نہ کر۔) بڑھیا نے کہا: خدا کی قسم میں نہ مانوں گی مگر یہی کہ آپ کے ساتھ ہوں ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اس سے یہی گفتگو کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی:اے موسیٰ! وہ جو مانگ رہی ہے تم اسے وہی عطاکردو کہ اس میں تمہارا کچھ نقصان نہیں ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اسے جنت میں اپنی رفاقت عطافرمادی اوراس نے حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کی قبر بتادی اورحضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نعش مبارک کو ساتھ لے کر دریا پار کرگئے۔(109)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان نے اپنی تصنیف ’’ الامن والعلیٰ ‘‘میں یہ حدیث ِ پاک نقل کر کے اس کے تحت سات نِکات بیان فرمائے ہیں ،ان میں سے مذکورہ بالا واقعہ سے متعلق کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ بڑھیا کا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے جنت میں ان کی رفاقت کا سوا ل کرنا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا یہ سوال سن کر غضب و جلال میں نہ آنا بلکہ اس سے یہ کہنا کہ ہم سے جنت مانگ لو اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو بڑھیا کی طلب کے مطابق عطا فرمانے کا حکم دینا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا بڑھیا کو جنت میں اپنی رفاقت عطا فرما دینا،یہ سب شواہد اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں پربہت مہربان ہے اور انہیں بہت نوازتا ہےاور وہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے مخلوق میں جنت اور اس کے درجات تک تقسیم فرماتے ہیں۔(110)
فرعون کا لشکر جمع کرنا اور متکبرانہ کلام:
جب فرعون نے ان کے مصر سے نکلنے کی خبر سنی تو اس نے اپنے نمائندے بھیج کر مختلف شہروں سے لشکر جمع کرلئے جن کے مقابلے میں بنی اسرائیل کی تعداد تھوڑی معلوم ہونے لگی، چنانچہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بارے میں کہا:
اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ(۵۴) وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآىٕظُوْنَۙ(۵۵) وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ(۵۶) (111)
ترجمہ : (اور کہا:)یہ لوگ ایک تھوڑی سی جماعت ہیں۔ اور بیشک یہ ہمیں غصہ دلانے والے ہیں۔اور بیشک ہم سب ہوشیار ہیں۔
مصر سے فرعون کا خروج اور بنی اسرائیل پر انعام الٰہی:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ(۵۷) وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ(۵۸) كَذٰلِكَؕ-وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ(۵۹) (112)
ترجمہ : تو ہم نے انہیں (فرعون اور اس کی قوم کو) باغوں اور چشموں(کی زمین) سے باہر نکالا۔ اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے۔ہم نے ایسے ہی کیا اور بنی اسرائیل کو ان کا وارث بنادیا ۔
فرعونیوں کا تعاقب اور بنی اسرائیل کی حفاظت کا خدائی انتظام:
جب سورج طلوع ہو اتو فرعونیوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور بنی اسرائیل کا تعاقب کیا،پھر جب دونوں گرہوں کا آمنا سامنا ہوا اور ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کو دیکھا تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے ساتھیوں نے کہا:
اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ(۶۱) (113)
ترجمہ : بیشک ہمیں پالیا گیا۔
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو چونکہ اللہ تعالیٰ کے وعدے پر پورا بھروسہ تھا ا س لئے آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے بنی اسرائیل سے فرمایا:
كَلَّاۚ-اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ(۶۲) (114)
ترجمہ : ہرگز نہیں، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ابھی مجھے راستہ دکھا دے گا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی بھیجی کہ اپنا عصا دریا پر مارو، چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے دریا پر عصا مارا تو اچانک وہ دریاپھٹ کر بارہ راستوں میں تقسیم ہوگیا، ہر راستہ بڑے پہاڑ جیسا ہوگیا اور ان کے درمیان خشک راستے بن گئے جن پر چل کر بنی اسرائیل دریا سے پار ہو گئے۔(115) یوں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کے سب ساتھیوں کو دریا سے سلامت نکال کر بچا لیا۔
فرعون اوراس کے لشکریوں کی غرقابی:
دوسری طرف فرعون اور اس کے لشکر کے ساتھ یوں ہو اکہ اللہ تعالیٰ انہیں بنی اسرائیل کے قریب لے آیا یہاں تک کہ وہ اُن راستوں پر چل پڑے جو قدرت الٰہی سے دریا میں بنی اسرائیل کے لیےبنے تھے۔ جب بنی اسرائیل کے تمام لوگ راستوں سے گزر کر دریا سے باہر نکل گئے اور تمام فرعونی دریا کے اندر آ گئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا مل کر پہلے کی طرح ہوگیا،یوں فرعون اپنی قوم کے ساتھ ڈوب گیا۔(116)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ(۷۸) وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى(۷۹) (117)
ترجمہ : تو فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ان کے پیچھے چل پڑا تو انہیں دریا نے ڈھانپ لیا جیساانہیں ڈھانپ لیا۔ اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور راہ نہ دکھائی۔
اس سے معلوم ہو ا کہ قوم کےعروج و زوال میں سربراہ کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے، اگر یہ سدھر جائے تو قوم کامیابی پاتی ہےلیکن اگر یہ بگڑ جائے تو قوم تباہ ہوجاتی ہے ۔
ڈوبتے وقت فرعون کا اظہارِ ایمان اور اسے جواب:
جب فرعون ڈوبنے لگا تو اس امید پر اپنے ایمان کااِ ظہار کرنے لگا کہ اللہ تعالیٰ اسے اس مصیبت سے نجات دیدے گا۔اس وقت اس سے کہا گیا: کیا اب حالتِ اِضطرار میں جب کہ عذابِ الٰہی کا شکار ہوکر ڈوبنے لگا ہے اور زندگی سے ناامید ہوچکا ہے ،اس وقت ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے تو نافرمان رہا اور تو فسادی تھا، خود گمراہ تھا اور دوسروں کو گمراہ کرتا تھا۔
قرآن پاک میں ہے:
وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًاؕ-حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُۙ-قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(۹۰) ﰰ لْــٴٰـنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ(۹۱) (118)
ترجمہ : اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا عبور کرا دیا تو فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اور ظلم سے ان کا پیچھا کیا یہاں تک کہ جب اسے غرق ہونے نے آلیا تو کہنے لگا: میں اِس بات پر ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمان ہوں۔( اُسے کہا گیا) کیا اب (ایمان لاتے ہو؟) حالانکہ اس سے پہلے تو نافرمان رہا اور تو فسادی تھا۔
مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام فرعون کے پاس ایک تحریری سوال لائے جس کا مضمون یہ تھا کہ ایسے غلام کے بارے میں بادشاہ کا کیا حکم ہے جس نے ایک شخص کے مال و نعمت میں پرورش پائی، پھر اس کی ناشکری کی اور اس کے حق کا منکر ہوگیا اور اپنے آپ مولیٰ ہونے کا مدعی بن گیا؟ اس پر فرعون نے یہ جواب لکھا کہ جو غلام اپنے آقا کی نعمتوں کا انکار کرے اور اس کے مقابل آئے اس کی سزا یہ ہے کہ اسے دریا میں ڈبو دیا جائے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا تو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے اس کا وہی فتویٰ اس کے سامنے کردیا اور اسے اس نے پہچان لیا۔(119)
فرعون کی خود کو ملامت:
ڈوبتے وقت فرعون کا حال یہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو ملامت کررہا تھا کہ ا س نے رب ہونے کا دعوی ٰ کیوں کیا اور وہ کیوں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر ایمان نہ لایا اور کیوں ان پراعتراضات کئے۔ (120)لیکن عذاب نازل ہوجانے کے بعد کی ندامت کا کوئی فائدہ نہیں کہ اب مہلت ختم ہوگئی۔
قرآنِ پاک میں ہے:
فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ(۴۰) (121)
ترجمہ : اور ہم نے فرعون اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں ڈال دیا اس حال میں کہ وہ (خود کو) ملامت کر رہا تھا۔
فرعون کی لاش کا ظہور:
علماءِ تفسیر کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی قوم کو ان کی ہلاکت کی خبر دی تو بنی اسرائیل میں سے بعض کو شُبہ رہا اور فرعون کی عظمت و ہیبت جوان کے دلوں میں تھی اس کے باعث انہیں اس کی ہلاکت کا یقین نہ آیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا نے فرعون کی لاش ساحل پر پھینک دی، بنی اسرائیل نے اس کو دیکھ کر پہچان لیا۔(122)
فرعون کی لاش نشانِ عبرت بنا دی گئی:
ڈوبتے وقت فرعون سے یہ بھی کہا گیا:
فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةًؕ-وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠(۹۲) (123)
ترجمہ : آج ہم تیری لاش کو بچالیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بن جائے اور بیشک لوگ ہماری نشانیوں سے ضرور غافل ہیں۔
فرعون کی لاش آج بھی محفوظ ہے اور قاہرہ کے میوزیم میں لوگوں کے لیے عبرت کی نشانی کے طور پر موجود ہے۔مزید فرمایا گیا :
فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠(۲۹) (124)
ترجمہ : تو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے اور انہیں مہلت نہ دی گئی۔
غرقابی کے بعد صبح و شام آگ پر پیشی:
فرعون اور اس کی قوم کو دنیا میں غرق کر دیا گیا اور اس کے بعد سے برزخ میں انہیں صبح وشام آگ پر پیش کیا جاتا ہے یعنی وہ اس میں جلائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی، اس دن فرشتوں کو حکم فرمایا جائے گا کہ فرعون والوں کو جہنم کے سخت تر عذاب میں داخل کردو۔(125)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّاۚ-وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ- اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ(۴۶) (126)
ترجمہ : آ گ جس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی، (حکم ہوگا)فرعون والوں کو سخت تر عذاب میں داخل کرو۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں: فرعونیوں کی روحیں سیاہ پرندوں کے قالب میں ہر روز دو مرتبہ صبح و شام آ گ پر پیش کی جاتی ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ آ گ تمہارا مقام ہے اور قیامت تک ان کے ساتھ یہی معمول رہے گا۔(127)
اس آیت سے عذابِ قبر کے ثبوت پر استدلال کیا جاتا ہے کیونکہ یہاں پہلے صبح و شام فرعونیوں کو آگ پر پیش کئے جانے کا ذکر ہوا اور اس کے بعد قیامت کے دن سخت تر عذاب میں داخل کئے جانے کا بیان ہوا، اس سے معلوم ہوا کہ قیامت سے پہلے بھی انہیں آگ پر پیش کرکے عذاب دیا جا رہاہے اور یہی قبر کا عذاب ہے۔
فرعون اور اس کی قوم کی رسوائی اور اخروی انجام:
دنیا میں ہلاکت و بربادی سے دوچار ہونے والے فرعون اور اس کی قوم کے اخروی عذاب اور دنیاوی رسوائی سے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ(۹۶) اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَۚ-وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ(۹۷) یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَؕ-وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ(۹۸) وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ(۹۹) (128)
ترجمہ : اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی آیتوں اورروشن غلبے کے ساتھ بھیجا۔ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف تو انہوں نے فرعون کی پیروی کی حالانکہ فرعون کا کام بالکل درست نہ تھا۔ (فرعون) قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے ہوگا پھر انہیں دوزخ میں لا اتارے گا اور وہ اترنے کا کیا ہی برا گھاٹ ہے۔ اوراس دنیا میں اور قیامت کے دن ان کے پیچھے لعنت لگادی گئی ۔ کیا ہی برا انعام ہے جو انہیں ملا۔
اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کی رسوائی اور نیک لوگوں کا ہمیشہ کسی پر لعنت کرنا خدا کا عذاب ہے جبکہ ذکرِ خیر اور اچھا چرچا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت ہے۔
اور ارشاد فرمایا:
وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىٕمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِۚ-وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ(۴۱) وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةًۚ-وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠(۴۲) (129)
ترجمہ : اور انہیں ہم نے پیشوا بنادیا کہ آگ کی طرف بلاتے ہیں اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔ اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگادی اور قیامت کے دن وہ قبیح (بُری) حالت والوں میں سے ہوں گے۔
اس آیت کے مصداق آج کل کے وہ لوگ بھی ہیں جو لوگوں کو کفر و گمراہی اور بدعملی کی طرف بلاتے ہیں،ان پر اپنے ا س عمل کا گناہ ہو گا اور جو لوگ ان کی پیروی کر رہے ہیں وہ بھی گناہگار ہوں گے اور دعوت دینے والوں کے کندھوں پر اپنے عمل کے گناہ کے علاوہ ان کی پیروی کرنے والوں کے گناہوں کا بوجھ الگ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو اپنے حال پر رحم کھانے اور اپنے اس برے عمل سے باز آجانے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
فرعون اور ا س کے لشکر کاانجام باعثِ عبرت ہے:
فرعون اور اس کے لشکریوں کا انجام ان کے بعد آنے والی قوموں اور ہم مسلمانوں سبھی کے لیے باعث عبر ت ہے،ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ(۵۵) فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠(۵۶) (130)
ترجمہ : پھر جب انہوں نے ہمیں ناراض کیا توہم نے ان سے بدلہ لیا تو ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔ تو ہم نے انہیں اگلی داستان کردیا اور بعد والوں کیلئے مثال بنادیا۔
اور ارشاد فرمایا:
وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ(۳۹) فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّۚ-فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ(۴۰) (131)
ترجمہ : اور اس نے اور اس کے لشکریوں نے زمین میں بے جا تکبر کیا اوروہ سمجھے کہ انہیں ہماری طرف پھرنا نہیں۔ تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا تو دیکھو ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟
اور ارشاد فرمایا:
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖ فَظَلَمُوْا بِهَاۚ-فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ(۱۰۳) (132)
ترجمہ : پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے ان نشانیوں پر زیادتی کی تو دیکھو فسادیوں کاکیسا انجام ہوا؟
اور ارشاد فرمایا:
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ(۱۳) وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّاؕ-فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠(۱۴) (133)
ترجمہ : پھر جب ان کے پاس آنکھیں کھولتی ہوئی ہماری نشانیاں آئیں تو وہ کہنے لگے: یہ توکھلا جادو ہے۔ اور انہوں نے ظلم اور تکبر کی وجہ سے ان نشانیوں کاانکار کیا حالانکہ ان کے دل ان نشانیوں کا یقین کر چکے تھے تو دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا؟
اور ارشاد فرمایا:
هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ(۱۵) اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ(۱۶) اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ(۱۷) فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ(۱۸) وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ(۱۹) فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ(۲۰) فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ(۲۱) ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ(۲۲) فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ(۲۳) فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ(۲۴) فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ(۲۵) اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى(۲۶)ﮒ (134)
ترجمہ : کیا تمہیں موسیٰ کی خبر آئی۔ جب اسے اس کے رب نے پاک جنگل طویٰ میں ندا فرمائی۔ (فرمایا)کہ فرعون کے پاس جا، بیشک وہ سرکش ہوگیا ہے۔تو اس سے کہہ: کیا تجھے اس بات کی طرف کوئی رغبت ہے کہ تو پاکیزہ ہوجائے ؟اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی طرف راہ بتاؤں تو تو ڈرے۔ پھر موسیٰ نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی۔تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی۔پھر اس نے (مقابلے کی) کوشش کرتے ہوئے پیٹھ پھیر دی۔ تو (لوگوں کو)جمع کیا پھر پکارا۔پھر بولا: میں تمہارا سب سے اعلیٰ رب ہوں۔ تو اللہ نے اسے دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑا۔بیشک اس میں ڈرنے والے کےلئے عبرت ہے۔
یہ وہ بنیادی مقصد ہے جس کےلئے یہ سارا واقعہ بیان کیا گیا کہ گزشتہ قوموں کے واقعات اور ان کے عروج و زوال سے عبرت حاصل کی جائے اور اپنی حالت کو سدھارا جائے ۔ افسوس!فی زمانہ لوگ اس مقصد سے غفلت کا شکار ہیں اور سابقہ قوموں کی عملی حالت اور ان کے عبرت ناک انجام سے نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
درس و نصیحت
حکمرانی قائم رکھنے کےلئے فرعون کا طریقہ اور موجودہ دور کے حکمرانو ں کا طرز عمل: حکمرانی قائم رکھنے کے لئے رعایا کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دینا اور ان میں باہم بغض و عداوت ڈال دینا فرعون کا طریقہ تھا اور دیکھاجائے تویہی طریقہ ہمارے دورمیں بھی رائج ہے ،مسلم اور غیر مسلم دونوں طرح کے حکمران لوگوں کومختلف مسائل میں الجھائے رکھتے ہیں تاکہ لوگ ان مسائل ہی سے نہ نکل پائیں اوران کی حکمرانی قائم رہے اور اس طرز عمل کے نتیجے میں ان حکمرانوں کا جو حال ہوتا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں عقل سلیم اور ہدایت عطا فرمائے،اٰمین۔
بندے کا حد میں رہنا اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے:فرعون کے بارے میں فرمایا کہ وہ متکبر تھا کیونکہ وہ خود کو خدا کہتا تھا اور اس سے بڑھ کر کیا تکبر ہوسکتا ہے، نیز فرعون کو حد سے بڑھنے والا کہا گیا کیونکہ اس نے بندہ ہو کر بندگی کی حد سے گزرنے کی کوشش کی اور اُلُوہیت کا مدعی ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حد میں رہنا اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے ۔ پانی حد سے بڑھ جائے تو طوفان بن جاتا ہے اور آدمی حد سے بڑھ جائے تو شیطان بن جاتاہے۔
مَصائب خوابِ غفلت سے بیداری کا سبب بھی ہیں: فرعون اور اس کی قوم کو آفات و مصائب میں مبتلا کر کے خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ،اس سے ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی گئی آفتوں اور مصیبتوں کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ان کی وجہ سے انسان غفلت سے بیدار ہوکر اللہ تعالیٰ کا اطاعت گزار اور فرمانبردار بندہ بن جائے،
لہٰذا زلزلہ ،طوفان ، سیلاب یا کسی اور مصیبت کا سامنا ہو تو اس سے عبرت حاصل کرتے ہوئے غفلت کی نیند سے بیدار ہونے کی کوشش کرنی چاہئے نہ کہ انہیں تفریح کا ذریعہ بنا لیا جائے۔
معجزہ کبھی مغلوب نہیں ہوتا:فرعون ملک بھر سے بڑے جادو گر جمع کر کے انہیں مجمع عام میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے مقابلے کے لیے لایا،یہ جادو گر اپنے تمام تر مکر و فریب اور حیلوں کے باوجود حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر غالب نہ آ سکے۔ اس سے معلوم ہو اکہ نبی کا معجزہ مغلوب نہیں ہوتا بلکہ یہ باطل پر غالب آ کر ہی رہتاہے۔
نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی تعظیم کی برکت : مقابلے کی ابتدا کے وقت جادو گروں نے ادباً حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو پہل کرنے کی دعوت دی،اس ادب کا انہیں یہ صلہ ملا کہ مقابلے کے اختتام پر انہیں ایمان کی لازوال دولت نصیب ہوئی اور شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہو کر جنت کی ابدی نعمتیں پا گئے ۔اس سے معلوم ہوا کہ نبی عَلَیْہِ السَّلَام کاادب دنیا و آخرت کی عظیم سعادتیں پانے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔
راہِ حق میں درپیش مسائل پر صبر واستقامت:فرعون کے ظلم و ستم پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے نومسلموں کو مددِ الٰہی طلب کرنے اور صبر و تحمل کی نصیحت فرمائی ۔اس میں اہل ایمان کے لیے درس ہے کہ راہِ حق میں آنے والے مصائب اور سختیوں پر صبر کا مظاہرہ کرنا، انہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرنا اور ان سے خلاصی کےلیے بارگاہ ِالٰہی سے مدد طلب کرنا چاہئے ۔
1…حسن التنبہ ، ۷/۱۶۰-۲۴۴، ملخصاً.
2… خازن،الشعراء،تحت الاٰية:۱۷، ۳/۳۸۳-۳۸۴، ملتقطاً.
3…پ۱۹،الشعراء:۱۸.
4…جلالین،الشعراء،تحت الاٰية:۱۸، ص۳۱۰.
5…پ۱۹،الشعراء:۱۹.
6… خازن،الشعراء،تحت الاٰية:۱۹، ۳/۳۸۴، ملخصاً.
7… پ۱۹،الشعراء:۲۰، ۲۱.
8… خازن،الشعراء،تحت الاٰية:۲۰-۲۱، ۳/۳۸۴، مدارک،الشعراء،تحت الاٰية:۲۰-۲۱، ص۸۱۶، ملتقطاً.
9…پ۱۹،الشعراء: ۲۲.
10… روح البیان،الشعراء،تحت الاٰية:۲۲، ۶/۲۶۸، ملخصاً.
11…پ۱۹،الشعراء:۲۳.
12… پ۱۹،الشعراء:۲۴.
13…فردوس الاخبار،باب الالف، ۱/۲۲۹، حدیث:۱۶۱۴.
14…مدارک،الشعراء،تحت الاٰية:۲۴، ص۸۱۷، ملتقطاً.
15…پ۱۹،الشعراء:۲۵.
16…پ۱۹،الشعراء:۲۶.
17… خازن،الشعراء،تحت الاٰية:۲۵-۲۶، ۳/۳۸۵، مدارک،الشعراء،تحت الاٰية:۲۵-۲۶، ص۸۱۷، ملتقطاً.
18… پ۱۹،الشعراء: ۲۷.
19… پ۱۹،الشعراء:۲۸.
20… ابو سعود،الشعراء،تحت الاٰية:۲۸، ۴/۱۶۰، مدارک،الشعراء،تحت الاٰية:۲۸، ص۸۱۷، ملتقطاً.
21…پ۱۹،الشعراء:۲۹.
22… مدارک،الشعراء،تحت الاٰية:۲۹، ص۸۱۸.
23… پ۱۹،الشعراء:۳۰.
24… پ۱۹،الشعراء:۳۱.
25… صاوی،الاعراف،تحت الاٰية:۱۰۷، ۲/۶۹۷، ملخصاً.
26…خازن،الشعراء،تحت الاٰية:۳۲-۳۳، ۳/۳۸۵، ملتقطاً.
27… پ۱۹،الشعراء:۳۲، ۳۳.
28… پ۲۰،القصص:۳۶.
29…پ۲۰،القصص:۳۷.
30… مدارک،القصص،تحت الاٰية:۳۷، ص۸۷۰، ملخصاً.
31…پ۱۹،الشعراء:۳۴، ۳۵.
32… مدارک،الشعراء،تحت الاٰية:۳۴-۳۵، ص۸۱۸، خازن،الشعراء،تحت الاٰية:۳۴-۳۵، ۳/۳۸۶، ملتقطاً.
33… ابو داؤد،کتاب الادب،باب من ردّ عن مسلم غیبة، ۴/۳۵۴، حدیث:۴۸۸۳.
34… پ۱۹،الشعراء:۳۶، ۳۷.
35… روح البیان،الشعراء،تحت الاٰية:۳۶-۳۷، ۶/۲۷۱-۲۷۲، ملخصاً.
36…پ۱۶،طٰہٰ:۵۷، ۵۸.
37…پ۱۶،طٰہٰ:۵۹.
38… خازن،طہ،تحت الاٰية:۵۹، ۳/۲۵۶-۲۵۷، جمل،طہ،تحت الاٰية:۵۹، ۵/۸۰، ملتقطاً.
39… مدارک،الشعراء،تحت الاٰية:۳۸-۴۰، ص۸۱۹، خازن،الشعراء،تحت الاٰية:۳۸-۴۰، ۳/۳۸۶، ملتقطاً.
40…پ۱۹،الشعراء:۳۸-۴۰.
41… پ۱۹،الشعراء:۴۱.
42… پ۱۹،الشعراء: ۴۲.
43… پ۱۶،طٰہٰ: ۶۱.
44…پ۱۶،طٰہٰ:۶۳، ۶۴.
45… پ۱۹،الشعراء:۴۴.
46…پ۱۶،طٰہٰ:۶۸، ۶۹.
47… مدارک،الشعراء،تحت الاٰية:۴۳، ص۸۱۹، خازن،الشعراء،تحت الاٰية:۴۵-۴۸، ۳/۳۸۶، روح البیان،الشعراء، تحت الاٰية:۴۵-۴۸، ۶/۲۷۳-۲۷۴، ملتقطاً.
48… پ۱۹،الشعراء:۴۷، ۴۸.
49…پ۱۶،طٰہٰ:۷۱.
50… پ۱۹،الشعراء:۴۶-۴۹.
51… روح البیان،الشعراء،تحت الاٰية:۴۹، ۶/۲۷۴، مدارک،الشعراء،تحت الاٰية:۴۹، ص۸۲۰، ملتقطاً.
52…پ۱۶،طٰہٰ:۷۲، ۷۳.
53… خازن،طہ،تحت الاٰية:۷۳، ۳/۲۵۹.
54…پ۱۹،الشعراء:۵۰، ۵۱.
55… پ۹،الاعراف:۱۲۵، ۱۲۶.
56… تفسیر کبیر،الاعراف،تحت الاٰية:۱۲۴، ۵/۳۳۹.
57…پ۱۱،یونس:۸۳.
58… خازن،یونس،تحت الاٰية:۸۳،۲/۳۲۷.
59… پ۱۱،یونس:۸۴.
60… پ۱۱،یونس:۸۵، ۸۶.
61… پ۹،الاعراف:۱۲۷.
62…خازن،الاعراف،تحت الاٰية:۱۲۷، ۲/۱۲۸.
63… پ۹،الاعراف:۱۲۷.
64… پ۹،الاعراف:۱۲۷.
65…تفسیر کبیر،الاعراف،تحت الاٰية:۱۲۷، ۵/۳۴۲، قرطبی،الاعراف،تحت الاٰية:۱۲۷، ۴/۱۸۹، الجزء السابع، ملتقطاً.
66…پ۹،الاعراف:۱۲۸.
67… پ۹،الاعراف:۱۲۹.
68… پ۹،الاعراف:۱۲۹.
69…پ۲۸،التحریم:۱۱.
70… پ۲۸،التحریم:۱۱.
71… خازن،التحریم،تحت الاٰية:۱۱، ۴/۲۸۸، جلالین،التحریم،تحت الاٰية:۱۱، ص۴۶۶، ملتقطاً.
72…پ۱۱،یونس:۸۷.
73…پ۹،الاعراف:۱۳۲.
74… بغوی،الاعراف،تحت الاٰية:۱۳۳، ۲/۱۵۹-۱۶۱.
75…پ۹،الاعراف: ۱۳۳-۱۳۵.
76… پ۲۵،الزخرف:۴۸-۵۰.
77…پ۲۵،الزخرف: ۵۱.
78… مدارک،الزخرف،تحت الاٰية:۵۱، ص۱۱۰۳.
79… پ۲۵،الزخرف:۵۲.
80… روح البیان،الزخرف،تحت الاٰية:۵۲، ۸/۳۷۸.
81…پ۲۵،الزخرف:۵۳.
82… خازن،الزخرف،تحت الاٰية:۵۳، ۴/۱۰۸.
83… خازن،الزخرف،تحت الاٰية:۵۴، ۴/۱۰۸، تفسیر کبیر،الزخرف،تحت الاٰية:۵۴، ۹/۶۳۸، ملتقطاً.
84…ابو سعود،الاعراف،تحت الاٰية:۱۳۰، ۲/۲۸۸، ملتقطاً.
85… تفسیر کبیر،الاعراف،تحت الاٰية:۱۳۱، ۵/۳۴۴، ملتقطاً.
86…پ۹،الاعراف:۱۳۰، ۱۳۱.
87… پ۲۴،المؤمن:۲۶.
88… خازن،حم المؤمن،تحت الاٰية:۲۶، ۴/۷۰، مدارک،غافر،تحت الاٰية:۲۶، ص۱۰۵۶، ملتقطاً.
89…پ۲۴،المؤمن:۲۷.
90… تفسیرطبری،غافر،تحت الاٰية:۲۸، ۱۱/۵۴.
91…پ۲۴،المؤمن:۲۸، ۲۹.
92… پ۲۴،المؤمن:۳۰-۳۳.
93… روح البیان،المؤمن،تحت الاٰية:۳۰-۳۱، ۸/۱۷۹-۱۸۰، مدارک،غافر،تحت الاٰية:۳۰-۳۱، ص۱۰۵۸، ملتقطاً.
94… مدارک،غافر،تحت الاٰية:۳۲-۳۳، ص۱۰۵۸، روح البیان،المؤمن،تحت الاٰية:۳۲-۳۳، ۸/۱۸۰-۱۸۱، ملتقطاً.
95…پ۲۴،المؤمن:۳۴، ۳۵.
96… خازن،حم المؤمن،تحت الاٰية:۳۵، ۴/۷۲، تفسیر کبیر،المؤمن،تحت الاٰية:۳۵، ۹/۵۱۳-۵۱۴، روح البیان،المؤمن،تحت الاٰية:۳۵، ۸/۱۸۱-۱۸۲، ملتقطاً.
97…پ۲۴،المؤمن:۳۶، ۳۷.
98… خازن،حم المؤمن،تحت الاٰية:۳۶-۳۷، ۴/۷۲، جلالین،غافر،تحت الاٰية:۳۶-۳۷، ص۳۹۳، ملتقطاً.
99…پ۲۴،المؤمن:۳۸-۴۰.
100… روح البیان،المؤمن،تحت الاٰية:۳۸، ۸/۱۸۵.
101…پ۲۴،المؤمن:۴۱-۴۴.
102… روح البیان،المؤمن،تحت الاٰية:۴۱-۴۳، ۸/۱۸۶-۱۸۷، مدارک،غافر،تحت الاٰية:۴۱-۴۳، ص۱۰۶۰-۱۰۶۱، خازن،حم المؤمن،تحت الاٰية:۴۴، ۴/۷۳، ملتقطاً.
103… تفسیر کبیر،المؤمن،تحت الاٰية:۴۵، ۹/۵۲۱، خازن،حم المؤمن،تحت الاٰية:۴۵، ۴/۷۳، ملتقطاً.
104… پ۲۴،المؤمن:۴۵.
105… پ۱۱،یونس:۸۸.
106…پ۱۱،یونس:۸۹.
107… پ۱۹،الشعراء: ۵۲.
108… پ۱۶،طٰہٰ:۷۷.
109… معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ: محمد، ۵/۴۰۷، حدیث: ۷۷۶۷.
110… فتاوی رضویہ، رسالہ: الامن والعلی لناعتی المصطفیٰ بدافع البلاء، ۳۰/۶۰۰-۶۰۴، ملخصاً۔
111…پ۱۹،الشعراء:۵۴-۵۶.
112… پ۱۹،الشعراء:۵۷-۵۹.
113… پ۱۹،الشعراء:۶۱.
114… پ۱۹،الشعراء:۶۲.
115… جلالین،الشعراء،تحت الاٰية:۶۳، ص۳۱۲.
116…جلالین،الشعراء،تحت الاٰية:۶۵-۶۶، ص۳۱۲.
117…پ۱۶،طٰہٰ:۷۸، ۷۹.
118…پ۱۱،یونس:۹۰، ۹۱.
119… مدارک،یونس،تحت الاٰية:۹۱، ص۴۸۴.
120… ابو سعود،الذاریات،تحت الاٰية:۴۰، ۵/۶۳۱، جلالین،الذاریات،تحت الاٰية:۴۰، ص۴۳۴، ملتقطاً.
121…پ۲۷،الذاریات: ۴۰.
122… خازن،یونس،تحت الاٰية:۹۲،۲/۳۳۲-۳۳۳.
123…پ۱۱،یونس:۹۲.
124…پ۲۵،الدخان:۲۹.
125…جلالین،غافر،تحت الاٰية:۴۶، ص۳۹۴.
126…پ۲۴،المؤمن:۴۶.
127… خازن،حم المؤمن،تحت الاٰية:۴۶، ۴/۷۳.
128… پ۱۲،ھود:۹۶-۹۹.
129…پ۲۰،القصص:۴۱، ۴۲.
130… پ۲۵،الزخرف:۵۵، ۵۶.
131…پ۲۰،القصص:۳۹، ۴۰.
132… پ۹،الاعراف:۱۰۳.
133… پ۱۹،النمل:۱۳، ۱۴.
134…پ۳۰،النازعات:۱۵-۲۶.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع