30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب: 4
سیرتِ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے مزید اہم واقعات
دورانِ ہجرت ظالم بادشاہ کا سامنا:
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی زوجہ حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا کے ساتھ عراق سے شام کی طرف براستہ مصر ہجرت فرمائی ، اس وقت مصر میں ایک ظالم قبطی بادشاہ کی حکومت تھی۔اس کے مظالم میں سے ایک یہ تھا کہ جس مسافر کی بیوی خوبصورت ہوتی تو یہ اسے طلاق دلوا کر خود قبضہ کرلیتا اور اگر شوہر طلاق نہ دیتا تو اسے قتل کرو ادیتاالبتہ اگر مسافر بھائی بہن ہوتے توبھائی سے بہن کو نہ چھینتا تھا ۔سفر ہجرت کے دوران جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا کا اس کی سلطنت سے گزر ہواتو انہیں بھی دیگر مسافروں جیسے سلوک کا سامنا ہوا۔ چنانچہ حدیث پاک میں ہے : جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت سارہ کے ساتھ ہجرت کی تو آپ ان کے ساتھ ایک بستی میں داخل ہوئے جس میں ایک ظالم بادشاہ کی حکومت تھی۔اسے بتایا گیا کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام ایک حسین ترین عورت کے ساتھ(بستی میں)داخل ہوئے ہیں۔اس ظالم نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس پیغام بھیجاکہ اے ابراہیم! تمہارے ساتھ جوعورت ہے ا س کا تم سے کیا رشتہ ہے؟فرمایا:یہ میری (دینی) بہن ہے،پھر آپ عَلَیْہِ السَّلَام حضرت سارہ کے پاس آئے اور کہا:تم میری بات کو نہ جھٹلانا، میں نے انہیں یہ بتایا ہے کہ تم میری (دینی)بہن ہواور اللہ کی قسم اس سرزمین پر میرے اور تمہارے سوا اور کوئی مومن نہیں ہے(مراد یہ کہ اس ایمانی و دینی رشتے سے میں نے بہن کہا ہے)پھر اس ظالم بادشاہ نےحضرت سارہ کو اپنے پاس بلا لیا۔ وہ انہیں پکڑنے کے لیے کھڑا ہوا تو آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے اٹھ کر وضو کیا اورنماز پڑھ کر یہ دعا کی:اے اللہ !اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور میں نے اپنے شوہر کے ماسواسے اپنی عصمت کی حفاظت کی ہے تو تواس کافر کو مجھ پر مسلط نہ کرنا۔ا س دعا کے بعداس کافر کا دم گھٹ گیا(اور اس کے گلے سے خرخراہٹ کی آواز نکلی)اور وہ(بے چینی سے)اپنا پاؤں زمین پر مارنے لگا۔(اس کی یہ حالت دیکھ کر)حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے دعا کی:اے اللہ !اگر یہ مر گیا تو کہا جائے گا کہ سارہ نے اسے قتل کر دیا ہے ۔(اس دعا کی برکت سے) بادشاہ ٹھیک ہوگیا۔لیکن پھر(بری نیت سے) آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی طرف بڑھاتوآپ نے اٹھ کر وضو کیا اورنماز پڑھ کریہ دعا کی:اے اللہ !اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور میں نے اپنے شوہر کے ماسِواسے اپنی عصمت کی حفاظت کی ہے تو تواس کافر کو مجھ پر مسلط نہ کرنا،چنانچہ پھر اس کا دم گُھٹ گیا اور وہ اپنا پاؤں زمین پر مارنے لگا۔حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے دعا کی :اے اللہ ! اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ سارہ نے اسے قتل کر دیا ہے۔ پھر جب دوسری یا تیسری بار میں ظالم بادشاہ کو چھوڑ دیا گیا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم!تم لوگوں نے میرے پاس ایک سرکش جن بھیج دیا ہے اسے ابراہیم کے پاس لوٹا دو اوراسے آجَر عطا کر دو۔اس کے بعد حضرت سارہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس آئیں اور کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کو ناکام و نامراد کر دیا اور ہمیں ایک خادمہ عطا کی ہے۔(1)
دوسری روایت میں ہے:جب حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا ا س بادشاہ کے پاس پہنچیں اور اس نے آپ کو پکڑنے کا ارادہ کیا تواس کا ہاتھ مفلوج ہو گیا۔اس نےکہا:آپ میرے لیے دعا کر دیں میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تواس کا ہاتھ درست کر دیا گیا۔اس نے پھر انہیں پکڑنا چاہا تواسی طرح اس کا ہاتھ مفلوج ہو گیا اور پہلے سے سخت ہوا۔اس نے پھر کہا:آپ میرے لیے دعا کر دیں میں آپ کو کوئی ضرر نہیں دوں گا۔حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے دعا کی تو اسے درست کر دیاگیا۔پھر اس نے اپنے کسی محافظ کو بلا کر کہا:تم میرے پاس کسی انسان نہیں بلکہ جنیہ کو لائے ہو۔ پھر اس نے حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کو ہاجرہ بطور خادمہ دی(جب آپ خیر و عافیت سے واپس لوٹیں تو دیکھا کہ ) حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے ،انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا:کیا ہوا؟عرض کی: اللہ تعالیٰ نے اس کافر و فاجر کی سازش کو اسی کے اوپر الٹ دیا اور اس نے ہاجَرہ بطورِ خادمہ دی ہے۔(2)
تنبیہ: حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا اپنی زوجہ کو بہن کہنا بظاہر حقیقت کے خلاف ہے لیکن ایک دوسرے اعتبار سے درست ہے کیونکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے انہیں بہن کہہ کر چچا زاد بہن یا دینی رشتے کے لحاظ سے اسلامی بہن مراد لیا تھا اور یہ حقیقت کے عین مطابق ہے۔ا س سے متعلق مزید تفصیل صسفحہ 335پر ملاحظہ فرمائیں۔
نوٹ:حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے نام کااصل رسم الخط’’ہاجَرَ‘‘ ہے البتہ اردومیں چونکہ اسے’’ہاجرہ‘‘لکھا اور پڑھا جاتا ہے اس لیے ہم نے اردو لغت کا لحاظ رکھتے ہوئے ہر جگہ’’ہاجرہ‘‘ ہی لکھا ہے۔
حضرت ہاجرہ کا پس منظر:
حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ سے کچھ عرصہ پہلے حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ ہوچکا تھا کہ بادشاہ ِمصر نے آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کو ظلماً پکڑ لیا مگر آپ پر قابو نہ پا سکا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی طرح آپ کی عصمت کو بھی محفوظ رکھا کیونکہ سارہ حضرت اسحاق عَلَیْہِ السَّلَام کی ماں اور ہاجرہ حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کی والدہ بننے والی تھیں۔ جب بادشاہ آپ پر قابو نہ پا سکا تو انہیں اپنے گھر میں ہی قید کر دیا اورجب حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی کرامت دیکھی تو خدمتگاری کے لیے انہیں حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا دے دیں۔(3)
حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا شہزادی تھیں باندی نہیں:
یہاں ایک بات قابل توجہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا باندی تھیں یہاں تک کہ بائبل کے مؤلفین نے بھی انہیں جان بوجھ کر باندی اور لونڈی کے طور پر پیش کیا ہےاوراسی کو بنیاد بنا کر یہودونصاریٰ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاکیزہ نسب پر بھی طعن کر تے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا باندی نہیں بلکہ شہزادی تھیں جنہیں مصری بادشاہ نے خدمت گاری کے لیے حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کو دیا تھا،جیسا کہ امام ضحاک فرماتے ہیں:حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا ایک مصری بادشاہ کی شہزادی تھیں اور یہ علاقہ’’ منف‘‘(جسے آج کل منوفیہ کہاجاتا ہے) میں رہتا تھا۔اس پر ایک دوسرے بادشاہ نے غلبہ پا کر اسے قتل کر دیا اور شہزادی حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا پر قبضہ کر لیا۔بعد میں اس نے یہ شہزادی (خدمت گاری کے لیے)حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کو تحفے میں دے دی اور حضرت سارہ نے وہ شہزادی حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو تحفے میں دے دی۔(4)
ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کاباپ مصر کے ایک علاقے ’’حقن‘‘ پر حکومت کرنے والے قبطی بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا۔(5)
مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں: آپ لونڈی نہ تھیں کیونکہ لونڈی غلام وہ ہوتا ہے جو کفرو اسلام کی جنگ میں کافر مسلمانوں کے ہاتھ لگے اور مسلمان اسے غلام بنالیں۔اس زمانہ میں نہ کفرو اسلام کی جنگ ہوئی تھی نہ آپ کسی مسلمان کے ہاں گرفتار ہو کر لونڈی بنائی گئی تھیں،آپ شہزادی تھیں اس کے ہاں مظلومہ قیدی تھیں۔(6)
مصر سے ارضِ مقدس روانگی:
اس واقعہ کے بعد حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام مصرسے ارضِ مقدس یعنی شام پہنچے ۔پھرآپ عَلَیْہِ السَّلَام کے حکم سے حضرت لوط عَلَیْہِ السَّلَام سرزمین غور کی طرف روانہ ہوئے اور شہر ِسدوم میں رہائش اختیار فرمائی ۔اس زمانے میں یہ وہاں کے شہروں میں سب سے بڑا شہر تھااور اس کےرہائشی کافر و فاجر تھے۔ (7)
زمین و آسمان کے عجائبات کا مشاہدہ:
ارضِ مقدس میں ایک دن اللہ تعالیٰ نے آپ کو عجائبات عالَم کااس طرح مشاہدہ کروایاکہ ہر ظاہر و مخفی چیز
اُن کے سامنے کردی گئی اور مخلوق کا کوئی عمل ان سے چھپا نہ رہا اور اس مشاہدے سے مقصود یہ تھا کہ آپ عَلَیْہ السَّلَام کو
عینُ الیقین حاصل ہو جائے ۔
قرآنِ کریم میں ہے:
وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ(۷۵) (8)
ترجمہ :اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی عظیم سلطنت دکھاتے ہیں اور اس لیے کہ وہ عینُ الیقین والوں میں سے ہوجائے۔
یہاں آسمان و زمین کی بادشاہی سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا نے فرمایا کہ اس سے آسمانوں اور زمین کی مخلوق مراد ہے۔ حضرت مجاہد اور حضرت سیدنا سعید بن جبیر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کہتے ہیں کہ اس سے آسمانوں اور زمین کی نشانیاں مراد ہیں اور وہ اِس طرح کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو بیتُ المقدس کے صَخرہ(چٹان) پر کھڑا کیا گیا اور آپ کے لئے تمام آسمانوں کا مشاہدہ کھول دیا گیا یہاں تک کہ آپ نے عرش و کرسی اور آسمانوں کے تمام عجائب اور جنت میں اپنے مقام کو معائنہ فرمایا پھر آپ کے لئے زمین کا مشاہدہ کھول دیا گیا یہاں تک کہ آپ نے سب سے نیچے کی زمین تک نظر کی اور زمینوں کے تمام عجائبات دیکھے ۔ مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ رُویت باطنی نگاہ کے ساتھ تھی یا سر کی آنکھوں سے۔(9)
یہاں ایک نکتہ قابلِ ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو عظیم معراج ہوئی مگر ہمارے آقا، حضور سید العالمین، محمد رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس سے بہت بڑھ کر معراج ہوئی حتّٰی کہ حضور پُرنور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ’’ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ(۸) فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰى ‘‘کے مقام پر فائز ہوگئے۔
نیک اولاد کی دعا:
جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام ارضِ مقدسہ پہنچے تو اس وقت آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس اولاد نہیں تھی ، چنانچہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ الہی میں دعا کی: اے میرے رب! عَزَّ وَجَلَّ ،مجھے نیک اولاد عطا فرما جو کہ دین حق کی دعوت دینے اورتیری عبادت کرنے پر میری مددگار ہو اور پردیس میں مجھے اس سے اُنسیت حاصل ہو ۔(10)
قرآنِ پاک میں ہے:
رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۱۰۰) (11)
ترجمہ :اے میرے رب! مجھے نیک اولاد عطا فرما۔
اس سے معلوم ہوا کہ نیک اولاد کی دعا کرناسنتِ ابراہیمی ہے،لہٰذا جب بھی حصولِ اولادکی دعا مانگیں تو نیک اولاد کی دعا مانگا کریں ۔
بردبار فرزند کی بشارت:
آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بردبار لڑکے کی بشارت ملی، قرآنِ پاک میں ہے:
فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ(۱۰۱) (12)
ترجمہ :تو ہم نے اسے ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری سنائی۔
مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ در حقیقت تین بشارتوں پر مشتمل ہے:(1)ان کے ہاں جو اولاد ہو گی وہ لڑکا ہو گا۔ (2) وہ بالغ ہونے کی عمر کو پہنچے گا۔(3)وہ عقلمند اور بردباد ہو گا۔(13)
نیزاس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے مقبول بند وں کو علوم خمسہ کی خبر دی جاتی ہے،کیونکہ بیٹے کی ولادت سے پہلے اس کی خبر دے دینا علم ِغیب بلکہ ان پانچ علوم میں سے ہے جن کا علم کا اللہ تعالیٰ کے پاس ہونا بطورِ خاص قرآن میں مذکور ہوا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِۚ-وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَۚ-وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِؕ-وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًاؕ-وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠(۳۴) (14)
ترجمہ :بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے اور وہ بارش اتارتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بیشک اللہ علم والا، خبردار ہے۔
حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا سے نکاح :
حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کو بانجھ پن کی وجہ سے اولاد کی نعمت حاصل نہ تھی ،اس لیے آپ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کوحضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا عطاکر دیں اور عرض کی:ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے آپ کو اولاد کی نعمت عطا کر دے،چنانچہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے ان سے نکاح فرما لیا۔(15)
حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کی ولادت:
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کوحضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے بطن سے ایک فرزند عطا فرمایا جن کا نام اسماعیل رکھا گیا۔آپ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے پہلے فرزند ہیں اور تمام مسلمانوں اور سبھی اہلِ کتاب کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام حضرت اسحاق عَلَیْہِ السَّلَام سے عمر میں بڑے ہیں۔(16)
حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کو سر زمین مکہ چھوڑنا اور دعائے ابراہیمی:
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی بیوی حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ جب حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے بطنِ پاک سے حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کی ولادت ہوئی تو اس وجہ سے ان کے دل میں رقابت کے کچھ جذبات پیدا ہوئے ،چنانچہ آپ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام سے کہا : آپ ہاجرہ اور اُن کے بیٹے کو میرے پاس سے جدا کردیجئے۔ حکمتِ الٰہی نے یہ ایک سبب پیدا کیا تھا ،چنانچہ وحی آئی کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا اور حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کو اس سرزمین میں لے جائیں جہاں اب مکہ مکرمہ ہے۔(17)
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کومکہ لے کر آئے اور انہیں بیتُ اللہ کی جگہ کے پاس ایک گھنے درخت کے نیچے بٹھا دیا،یہ درخت (بعد میں بنائے جانے والی)مسجد کے اوپروالی جانب میں اس جگہ تھا جہاں زم زم ہے، ان دنوں مکہ میں نہ کوئی رہتا تھا اور نہ ہی و ہاں پانی تھا۔حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے انہیں وہاں بٹھا کر ان کے پاس کھجوروں کی ایک تھیلی اور پانی کی مشک رکھ دی اور منہ پھیر کر وہاں سے روانہ ہوئے۔حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کی والدہ ان کے پیچھے گئیں اور عرض کی:اے ابراہیم! آپ ہمیں ایسی وادی میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں جس میں نہ کوئی انسان ہے اور نہ ہی کوئی اور چیز۔حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے یہ بات کئی بار دہرائی لیکن حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی ،تب آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے عرض کی: کیا اللہ تعالیٰ نے آ پ کو ا س کا حکم دیاہے؟ارشاد فرمایا:ہاں۔عرض کی:تب تو اللہ تعالیٰ ہمیں ضائع نہ ہونے دے گا۔پھر آپ لوٹ گئیں اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام روانہ ہو گئے یہاں تک کہ جب ثنیہ (پہاڑی) پر پہنچے اور ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئے تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے بیتُ اللہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی :(18)
رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِۙ -رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ(۳۷) (19)
ترجمہ :اے ہمارے رب! میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے عزت والے گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں ٹھہرایا ہے جس میں کھیتی نہیں ہوتی۔ اے ہمارے رب ! تاکہ وہ نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کردے اور انہیں پھلوں سے رزق عطا فرماتاکہ وہ شکر گزار ہوجائیں۔
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے آگ کے واقعہ میں دعا نہ فرمائی اور اس واقعہ میں دعا کی اور عاجزی کا اظہار کیا، دونوں میں فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کارسازی پر اعتماد کرکے دعا نہ کرنا بھی توکل کی ایک صورت ہے لیکن مقامِ دعا اس سے بھی افضل ہے ، لہٰذا حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا اس دوسرے واقعہ میں دعا فرمانا اس لئے ہے کہ آپ مدارجِ کمال میں دَم بدم ترقی پر ہیں۔ (20)اور یہ بھی کہا جاسکتا ہےکہ آگ میں ڈالے جانے کا معاملہ صرف آپ کے ساتھ تھا جبکہ یہاں کا معاملہ بیوی بچے کے ساتھ تھااور اپنے ساتھ بہت کچھ کرنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے جبکہ دوسروں کے حقوق کا معاملہ زیادہ سخت ہوتا ہے، اسی لئے دونوں جگہ طرزِ عمل مختلف تھا ، اگرچہ دونوں ہی جائز تھے۔
بیوی بچے کو بیابان میں چھوڑنا حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے کمالِ اطاعت اور بےمثال صبر و توکل کا روشن باب ہے ، بارگاہِ الٰہی سے حضرت خلیل عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم ہوا کہ اپنی زوجہ اور دودھ پیتے اکلوتے فرزند کواس وادی میں چھوڑ آئیں جہاں دن میں چلچلاتی دھوپ اور رات میں گھپ اندھیرے کے سو اکچھ نہیں،نہ کھانے پانی کا کوئی انتظام ہے اور نہ ہی گرمی سردی سے بچنے کا کوئی سامان، نہ کوئی خبر گیری کرنے والا ہے اور نہ ہی کوئی راہ گیر،نہ اپنوں کا پتا ہے نہ غیروں کی خبر۔اس حکم پر عمل کا خیال ہی ہمیں لرزا دینے کے لیے کافی ہے ،لیکن حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کےجذبہ صبر و تسلیم پر قربان جائیے کہ حکم ملنے پر آپ نے یہ بالکل نہ سوچا کہ اُس وحشت ناک اوربے آب و گیاہ وادی اور قدم قدم پر خوف طاری کر دینے والے حالات میں اکیلی ماں اور شیرخوار بچے کا کیا ہوگا بس حکمِ الٰہی ملتے ہی تعمیل کے لیے تیار ہو گئے اور اس پر عمل کر کے دکھا دیا ۔ دوسری طرف حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کو دیکھئے تو ان کا یقین کامل،صبر و توکل اور حکم الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا بھی کتنا شاندار تھا کہ انہیں جب معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں یہاں چھوڑ کر جا رہے ہیں تو آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے ایک سیکنڈ کے لیے بھی یہ نہیں سوچا کہ ننھے منے فرزند کے ساتھ جھلسی ہوئی پہاڑیوں والی اور کھانے پانی سے خالی اس ہولناک وادی میں ان پر کیا گزرے گی بلکہ فوراً فرما دیا:’’ تب تو اللہ تعالیٰ ہمیں ضائع نہ ہونے دے گا۔‘‘ پھر بے فکر ہو کر اپنی جگہ کی طرف لوٹ گئیں ۔یہ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے صبر وتوکل کاوہ مظاہرہ تھا جس کی مثال پیش کرنے سے بڑے بڑے بہادر مرد بھی عاجزآجائیں۔ اللہ تعالیٰ ان مقدس ہستیوں کے جذبہ اطاعت ، یقینِ کامل اور صبر و توکل سے ہمیں بھی حصہ عطا فرمائے،اٰمین۔
حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کی قربانی:
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام جب حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا سے ملاقات کے لیے وقتاً فوقتاً جاتے رہتے اور کچھ وقت وہاں گزار کر واپس آجاتے ۔تاریخ کی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام براق پر آتے جاتے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب
جب حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام پلتے بڑھتے اس عمر تک پہنچ گئے جس میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا ہاتھ بٹانے کے قابل ہو گئے تو ان سے فرمایا:اے میرے بیٹے! میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں۔اب تم دیکھ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نےیہ اس لئے کہا تھا کہ ان کے فرزند کو ذبح ہونے سے وحشت نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کے لئے رغبت کے ساتھ تیار ہوجائیں ، اُس فرزند ارجمند نے حکم ِ الٰہی پر سر ِ تسلیم و بندگی خم کرتے ہوئے کمال ِ رضا و رغبت سے اظہارِ اطاعت کرتے ہوئے عرض کی :اے میرے باپ! آپ وہی کریں جس کا آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیاجارہا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو عنقریب آپ مجھے ذبح پرصبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔(21)
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی
جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام اپنے فرزند کو ذبح کرنے کےلئے چلے تو شیطان ایک مرد کی صورت میں حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے پاس آیا اور کہنے لگا:کیا آپ جانتی ہیں کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام آپ کے صاحبزادے کو لے کر کہاں گئے ہیں؟آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے فرمایا:وہ اس گھاٹی میں لکڑیاں لینےکے لئے گئے ہیں۔شیطان نے کہا:خدا کی قسم! ایسانہیں،وہ تو آپ کے بیٹے کو ذبح کرنے کیلئے لے گئے ہیں۔حضرت ہاجرہرَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے فرمایا:ہر گز ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ تو اپنے فرزند پر بہت شفقت کرتے اور اس سے بڑا پیار کرتے ہیں۔شیطان نے کہا:ان کا گمان یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا حکم دیا ہے۔(شیطان کا وسوسہ ڈالنے کےلئے یہ بتانا ہی اُس کی بھول اور جہالت تھی کہ جب حضرت ِ ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کو یہ بتا دیا کہ یہ حکم ِ خداوندی ہے تو خدا کے اس محِب و محبوب گھرانے پر پھر وسوسہ کیسے اثر انداز ہوسکتا تھاجس نے حکم ِ خداوندی پر ایک ویران بیابان کے ہولناک ماحول میں رہناخوش دلی سے قبول کرلیا تھا)حضرت ہاجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے فرمایا:اگر انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو پھر اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے رب تعالیٰ کی اطاعت کریں۔یہاں سے نامراد ہو کر شیطان حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس پہنچا اور ان سے کہا:اے لڑکے!کیا تم جانتے ہو کہ آپ کے والد آپ کو کہاں لے کر جا رہے ہیں؟آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:ہم اپنے اہل خانہ کے لئے اس گھاٹی سے لکڑیاں لینے جا رہے ہیں۔شیطان نے کہا:خدا کی قسم! وہ آپ کو ذبح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: وہ اس چیز کا ارادہ کیوں رکھتے ہیں؟شیطان نے کہا:ان کے رب تعالیٰ نے انہیں یہ حکم دیا ہے۔حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:پھر تو انہیں اپنے رب تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنا چاہئے، مجھے بسر و چشم یہ حکم قبول ہے۔جب شیطان نے یہاں سے بھی منہ کی کھائی تو وہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس پہنچا اور کہنے لگا:اے شیخ!آپ کہاں جا رہے ہیں؟حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:اس گھاٹی میں اپنے کسی کام سے جارہا ہوں۔ شیطان نے کہا: اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ شیطان آپ کے خواب میں آیا اور ا س نے آپ کو اپنا فرزند ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔اس کی بات سن کر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے اسے پہچان لیا اور فرمایا:اے دشمن ِخدا! مجھ سے دور ہٹ جا ،خدا کی قسم ! میں اپنے رب تعالیٰ کے حکم کو ضرور پورا کروں گا۔یہاں سے بھی شیطان ناکام و نامراد ہی لوٹا۔(22)
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرم نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل
اوپر کے واقعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کو اپنا خواب سنانا اور ان کاذبح ہونے پر رضامندی کا اظہارکرناشیطان کی اِس حرکت کے بعدتھا ۔
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کے فرزند نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے فرزند کو ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان کے فرزند نے عرض کی:اے والد محترم ! اگر آپ نے مجھے ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تو پہلے مجھے رسیوں کے ساتھ مضبوطی سے باندھ لیں تاکہ میں تڑپ نہ سکوں اور اپنے کپڑے بھی سمیٹ لیں تاکہ میرے خون کے چھینٹے آپ پر نہ پڑیں اور میرا اجر کم نہ ہو کیونکہ موت بہت سخت ہوتی ہے اور اپنی چھری کو اچھی طرح تیز کر لیں تا کہ وہ مجھ پر آسانی سے چل جائے اور جب آپ مجھے ذبح کرنے کے لئے لٹائیں تو پہلو کے بل لٹانے کی بجائے پیشانی کے بل لٹائیں کیونکہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ جب آپ کی نظر میرے چہرے پر پڑے گی تو ا س وقت آپ کے دل میں رقت پیدا ہو گی اور وہ رقت اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور آپ کے درمیان حائل ہو سکتی ہے اور اگر آپ مناسب سمجھیں تو میری قمیص میری ماں کو دے دیں تاکہ انہیں تسلی ہو اور انہیں مجھ پر صبر آ جائے۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: اے میرے بیٹے! تم حکم الٰہی پر عمل کرنے میں میرے کتنے اچھے مددگار ثابت ہو رہے ہو۔اس کے بعد فرزند کی خواہش کے مطابق پہلے اسے اچھی طرح باندھ دیا، پھر اپنی چھری تیز کی اوراپنے فرزند کومنہ کے بل لٹا کر ان کے چہرے سے نظر ہٹا لی، پھر ان کے حلق پر چھری چلادی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں چھری کو پلٹ دیا،اس وقت انہیں ایک ندا کی گئی:اے ابراہیم ! تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا اور اپنے فرزند کو ذبح کے لئے بےدریغ پیش کر کے اطاعت وفرمانبرداری کمال کو پہنچادی، بس اب اتنا کافی ہے،یہ ذبیحہ تمہارے بیٹے کی طرف سے فدیہ ہے اسے ذبح کر دو۔ یہ واقعہ منیٰ میں واقع ہوا۔(23)
قرآن پاک میں ہے:
فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰىؕ-قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ٘-سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۰۲) فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ(۱۰۳) وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ(۱۰۴) قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَاۚ-اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ(۱۰۵) اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ(۱۰۶) وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ(۱۰۷) (24)
ترجمہ :پھر جب وہ اس کے ساتھ کوشش کرنے کے قابل عمر کو پہنچ گیا توابراہیم نے کہا: اے میرے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں۔اب تو دیکھ کہ تیری کیا رائے ہے ؟بیٹے نے کہا: اے میرے باپ! آپ وہی کریں جس کا آپ کو حکم دیاجارہا ہے۔ اِنْ شَآءَاللہ عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ تو جب ان دونوں نے (ہمارے حکم پر) گردن جھکادی اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا (اس وقت کا حال نہ پوچھ)۔ اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم!۔بیشک تو نے خواب سچ کردکھایاہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔ بیشک یہ ضرور کھلی آزمائش تھی۔اور ہم نے اسماعیل کے فدیے میں ایک بڑا ذبیحہ دیدیا ۔
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے جان، مال اوروطن کی قربانیاں پہلے ہی پیش فرمادی تھیں اور اب اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے اس فرزند کو بھی قربانی کے لئے پیش کر دیا جسے اپنی آخری عمر میں بہت دعاؤں کے بعد پایا، جو گھر کا اجالا ، گود کا پالا اور آنکھوں کا نور تھا اور یہ سب سے سخت آزمائش تھی۔
ذرا چشم تصور سے اُس عظیم قربانی کے مناظر کو دیکھیں کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو بڑھاپے میں ایک فرزند کی نعمت عطا ہوئی اور جب بڑی خوشیوں سے ملا ہوا بیٹا چلنےپھرنے کے قابل ہوا اور قوت ِبازو بن کر باپ کا ظاہری سہارا بننے کے قابل ہوا تو باپ کو خواب میں یہ حکم ملتا ہے کہ رضائے الٰہی کے لئے اپنے اِس لخت ِ جگر کے گلے پر چھری پھیر کر قربانی پیش کریں۔ اللہاکبر !ایک عمر رسیدہ باپ کے لئےاکلوتا فرزند قربان کردینے کے حکم پر عمل کس قدر غم انگیز اورتکلیف دہ ہو سکتاہےاس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔حضرت خلیلُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام کی جگہ کوئی عام شخص ہوتا تو وہ اس حکم کی ہزار تاویلیں نکال کر عمل سے بچنے کی کوشش کرتا لیکن خلیل یعنی خدا کے گہرے دوست کی شان ہی نرالی ہے کہ کوئی تاویل، تردد، توجیہ،التواء کی درخواست، اپنے بڑھاپے یا بچے کے بچپن کا عذر وغیرہا کچھ بھی نہیں بلکہ اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا(سنا اور مانا)اور سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا (سنا اور اطاعت کی) کا بے مثل مظاہرہ فرمایااورحکمِ الٰہی کے سامنے فوراً سر تسلیم خم کر دیا۔ پھر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا فرزند سےفرمانا کہ’’اے پیارے بیٹے، میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کررہا ہوں،اب تو دیکھ کہ تیری کیا رائے ہے ؟‘‘ یہ بھی بڑی ہمت کی بات ہے اورحضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے یہ بات اس لیے نہیں پوچھی کہ آپ کو حکمِ الٰہی کی تعمیل میں کوئی تردد تھا بلکہ اس سے ایک مقصود فرزند کا امتحان لینا تھا کہ وہ آزمائش میں کس حد تک پورا اترتا ہے ، لیکن وہ فرزند بھی تو خلیلُ اللہ کا فرزند تھا جس نے بے مثال جذبہ اطاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیا خوب جواب دیا کہ اے بابا جان! آپ کو جس بات کا حکم دیا گیا ہے وہ کر گزرئیے ۔یونہی حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کااپنے والد بزرگوار کو یہ یقین دلانا کہ آپ میری طرف سے مطمئن رہئے، اِنْ شَآءَ اللہ مجھے صابرین میں سے پائیں گے ۔ پھر ذبح کے لیے بیٹے کو منہ کے بل لٹانا اور بیٹے کا راضی خوشی لیٹ جانااورباپ کی ہمت بندھانا،پھر باپ کا چھری تیز کرنا اور بیٹے کے گلے پر چھری چلا دیناصبرو ہمت کا وہ غیر معمولی نمونہ ہے کہ چشم ِ فلک نے ایسا منظر کبھی نہ دیکھا ۔
مقام ِامامت کی بشارت:
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام تمام امتحانوں میں پورا اترے جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو تمام لوگوں کا پیشوا بنادیا کہ حکم ِ خداوندی پر عمل میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی سیرت کو مینارہ ِ نور کی طرح نگاہوں کے سامنے رکھا جائے ۔
قرآن کریم میں ہے:
وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّؕ-قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًاؕ-قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْؕ-قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ(۱۲۴) (25)
ترجمہ :اور یاد کروجب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں کے ذریعے آزمایا تو اس نے انہیں پورا کردیا ( اللہ نے) فرمایا: میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ (ابراہیم نے)عرض کی اور میری اولاد میں سے بھی۔فرمایا: میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔
یہاں اس آیت سے متعلق دو باتیں ملاحظہ ہوں:
(1)ابتلاء آزمائش کو کہتے ہیں ،خدائی آزمائش یہ ہے کہ بندے پر کوئی پابندی لازم فرما کر دوسروں پر اس کے کھرے کھوٹے ہونے کا اظہار کردیا جائے۔حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی آزمائش میں بہت سے شرعی احکام بھی تھے اور راہِ خدا میں آپ کی ہجرت، بیوی بچوں کا بیابان میں تنہا چھوڑنا، فرزند کی قربانی وغیرہ سب شامل ہیں۔(26) نیزیہاں امامت سے مراد نبوت نہیں کیونکہ نبوت تو پہلے ہی مل چکی تھی تب ہی تو آپ کا امتحان لیا گیا بلکہ اس امامت سے مراددینی پیشوائی ہے جیسا کہ جلالین میں اس کی تفسیر’’قُدْوَۃً فِی الدِّین ‘‘یعنی دین میں پیشوائی ‘‘سے کی گئی ہے۔(27)اس سے معلوم ہوا کہ شرعی احکام اور تکالیف اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہیں اور جو اِن آزمائشوں میں پورا اترتا ہے وہ دنیا و آخرت کے انعامات کا مستحق قرار پاتا ہے۔
(2)جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو امامت کا مقام عطا فرمایا تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ تعالیٰ سے اپنی اولاد کیلئے بھی عرض کیا۔ اس پر فرمایا گیا کہ آپ کی اولاد میں جو ظالم ہوں گے وہ امامت کا منصب نہ پائیں گے۔ کافر ہوئے تو دینی پیشوائی نہ ملے گی اور فاسق ہوئے تو نبوت نہ ملے گی اور قابل ہوئے تو اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے جسے جو چاہے گا عطا فرمائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر مسلمانوں کا پیشوا نہیں ہوسکتا اور مسلمانوں کو اس کی اتباع جائز نہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنی اولاد کے لئے دعاءِ خیر کرنا سنت ِ انبیاء ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کوئی نعمت عطا فرمائے تو اولاد کیلئے بھی اس کی خواہش کرنی چاہیے۔
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے ہاں معزز مہمانوں کی آمد:
کچھ عرصے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو حضرت اسحاق عَلَیْہِ السَّلَام کی بشارت دی،چنانچہ قرآنِ پاک میں ہے:
وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(۱۱۲) (28)
ترجمہ :اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی جو اللہ کے خاص قرب کے لائق بندوں میں سے ایک نبی ہے۔
یہ بشارت فرشتوں کے ذریعے دی گئی اور ا س کی صورت یہ ہوئی کہ ایک دن حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام اورکچھ فرشتے حسین نوجوانوں کی صورت میں معزز مہمان بن کرحضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی خدمت میں حاضر ہوئےاور سلام کہا۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے بھی سلام کا جواب دیا اور دل میں سوچا کہ میں ان لوگوں سے واقف نہیں ہوں۔ سلام کے بعد آپ عَلَیْہِ السَّلَام مہمانوں کے کھانے کا اہتمام کرنے کےلئے جلدی سے اپنے گھر تشریف لے گئے اور ایک موٹا تازہ، نفیس بچھڑا بھون کرلے آئے اور اسے ان مہمانوں کے پاس کھانے کے لیے رکھ دیا ۔ مفسرین فرماتے ہیں:آپ عَلَیْہِ السَّلَام چونکہ بہت ہی مہمان نوازتھے اور بغیر مہمان کے کھانا تَناوُل نہ فرماتے تھے،اوراُن دنوں میں ایسا اتفاق ہوا کہ پندرہ دن سے کوئی مہمان نہ آیا تھا، آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو اس کا غم تھا اور جب ان مہمانوں کو دیکھا تو ان کے لئے کھانا لانے میں جلدی فرمائی اور چونکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے یہاں گائے بکثرت تھیں اس لئے بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت سامنے لایا گیا۔(29) اس سے معلوم ہوا کہ گائے کا گوشت حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے دستر خوان پر زیادہ آتا تھا اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام اس کو پسندفرماتے تھے ۔
سورۂ ہود میں ہے:
وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًاؕ-قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ(۶۹) (30)
ترجمہ :اور بیشک ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے ۔انہوں نے ’’سلام‘‘ کہا تو ابراہیم نے ’’سلام‘‘ کہا۔ پھر تھوڑی ہی دیر میں ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔
آیت سے انبیا ء ِکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا مقام و مرتبہ واضح ہوتا ہے کہ یہاں ایک نبی کی پیدائش کی خوشخبری فرشتوں کے ذریعے دی جارہی ہے اور یہ خبر بھی علوم ِ غیبیہ میں سے ہے جو فرشتوں کو بھی معلوم تھی اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو بھی معلوم ہوئی ۔نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ ملاقات کے وقت سلام کرنا سنتِ ملائکہ اور سنتِ انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام ہے۔سنت یہ ہے کہ آنے والا سلام کرے ۔
اور سورۂ ذاریات میں ہے:
اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًاؕ-قَالَ سَلٰمٌۚ-قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ(۲۵) فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ(۲۶) فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ (31)
ترجمہ :جب وہ اس کے پاس آئے تو کہا: سلام، (ابراہیم نے)فرمایا:’’سلام‘‘اجنبی لوگ ہیں۔ پھر ابراہیم اپنے گھر والوں کی طرف گئے تو ایک موٹا تازہ بچھڑا لے آئے۔ پھر اسے ان کے پاس رکھ دیا ۔
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا خوف اور بیٹے کی بشارت:
جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے دیکھا کہ مہمان اپنے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھا رہے تو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو ان سے وحشت ہوئی اور دل میں خوف محسوس کیا کہ کہیں یہ کوئی نقصان نہ پہنچا دیں۔ فرشتوں نے جب آپ عَلَیْہِ السَّلَام پر خوف کے آثار دیکھے تو عرض کی: آپ ڈریں نہیں کیونکہ ہم فرشتے ہیں اور حضرت لوط عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں اور فرشتے ہونے کی وجہ سے ہم کھانا نہیں کھارہے ،اس کے بعد ان فرشتوں نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو ایک علم والے لڑکے کی خوشخبری بھی سنائی۔
سورۂ ہود میں ہے:
فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةًؕ-قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ(۷۰) (32)
ترجمہ :پھر جب دیکھا کہ ان (فرشتوں )کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو ان سے وحشت ہوئی اور ان کی طرف سے خوف محسوس کیا۔ انہوں نے کہا: آپ نہ ڈریں۔بیشک ہم قومِ لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔
اور سورۂ ذاریات میں ہے:
قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘(۲۷) فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةًؕ-قَالُوْا لَا تَخَفْؕ-وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ(۲۸) (33)
ترجمہ :فرمایا:کیا تم کھاتے نہیں؟۔تو اپنے دل میں ان سے خوف محسوس کیا، (فرشتوں نے)عرض کی: آپ نہ ڈریں اور انہوں نے اسے ایک علم والے لڑکے کی خوشخبری سنائی۔
اور سورۂ حجر میں ہے:
اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًاؕ-قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ(۵۲) قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ(۵۳) (34)
ترجمہ :جب وہ اس کے پاس آئے تو کہنے لگے:
’’سلام‘‘ ابراہیم نے فرمایا:ہم تم سے ڈر رہے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا: آپ نہ ڈریں، بیشک ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔
یہاں علم والے لڑکے سے مراد حضرت اسحاق عَلَیْہِ السَّلَام ہیں۔نیز اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کے بتانے سے یہ معلوم تھا کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے ہاں بیٹا پیدا ہو گا اور وہ علم والا اور نبی ہو گا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں میں سے جسے چاہے غیب کا علم عطا فرماتا ہے۔
بیٹے کی بشارت سن کر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا اظہارِ حیرت:
جب فرشتوں نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو بیٹے کی بشارت دی تو وہ اپنے اور زوجہ کے بڑھاپے کی وجہ سے حیران ہوئے اور فرشتوں سے فرمایا:اتنی بڑی عمر میں اولاد ہونا عجیب وغریب ہے ،ہمارے ہاں کس طرح اولاد ہوگی؟ کیا ہمیں پھر جوان کیا جائے گا یا اِسی حالت میں بیٹا عطا فرمایا جائے گا ؟ (35)
قرآن ِ پاک میں ہے:
قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ(۵۴) (36)
ترجمہ :فرمایا: کیا تم مجھے بشارت دیتے ہوحالانکہ مجھے بڑھاپا پہنچ چکا ہے تو کس چیز کی بشارت دے رہے ہو؟
تنبیہ: حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا یہ تعجب اللہ تعالیٰ کی قدرت پر نہیں بلکہ عادت کے برخلاف کام ہونے پر تھا کہ عموماً بڑھاپے میں کسی کے ہاں اولاد نہیں ہوتی۔
فرشتوں کی عرض:
فرشتوں نے عرض کی:ہم نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کی سچی بشارت دی ہے کہ آپ کے ہاں بیٹا پیدا ہوگا اور اس کی اولادبہت پھیلے گی، لہٰذابیٹے کی ولادت سے مایوس نہ ہو۔
قرآن پاک میں ہے:
قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ(۵۵) (37)
ترجمہ :انہوں نے عرض کیا: ہم نے آپ کو سچی بشارت دی ہے، آپ ناامید نہ ہوں۔
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نا امیدنہ تھے کیونکہ فرشتوں کا آپ سے یہ کہنا’’ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ ‘‘ایسے ہی ہے جیسے حضرت لقمان رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے اپنے فرزند سے فرمایا تھا۔’’ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ ‘‘ ’’اے میرے بچے! شرک نہ کرنا‘‘ جیسے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ فی الحال وہ شرک کر رہا تھا اسی طرح وہاں بھی یہ لازم نہیں آتا کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام فی الحال نا امید تھے۔
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا جواب:
آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرشتوں سے فرمایا:میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نااُمید نہیں کیونکہ رحمت سے نااُمید کافر ہوتے ہیں ہاں دنیا میں اللہ تعالیٰ کی جو سنت جاری ہے اس سے یہ بات عجیب معلوم ہوئی۔(38)
قرآن پاک میں ہے:
قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ(۵۶) (39)
ترجمہ :ابراہیم نے کہا: گمراہوں کے سوا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہوتا ہے؟
حضرت سارہ کا اظہارِ تعجب اور فرشتوں کا جواب:
جب فرشتوں نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو علم والے لڑکے کی خوشخبری سنائی تو یہ بات آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی زوجہ حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے بھی سن لی ، اس پر آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا حیرت سے چلاتی ہوئی آئیں اور حیرت سے اپنے چہرے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا:کیا وہ عورت بچہ جنے گی جو بوڑھی ہے اور ا س کے ہاں کبھی بچہ پیدا نہیں ہوا ۔اس بات سے ان کا مطلب یہ تھا کہ ایسی حالت میں بچہ ہونا انتہائی تعجب کی بات ہے۔فرشتوں نے کہا: جو بات ہم نے کہی آپ کے رب عَزَّ وَجَلَّ نے یونہی فرمایا ہے، بیشک وہی اپنے افعال میں حکمت والا ہے اور ا س سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔(40)
قرآن پاک میں ہے:
فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ(۲۹) قَالُوْا كَذٰلِكِۙ-قَالَ رَبُّكِؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ(۳۰) (41)
ترجمہ :تو ابراہیم کی بیوی چلاتی ہوئی آئی پھر اپنے چہرے پر ہاتھ مارا اورکہا:کیا بوڑھی بانجھ عورت(بچہ جنے گی۔)فرشتوں نے کہا: تمہارے رب نے یونہی فرمایا ہے، بیشک وہی حکمت والا، علم والا ہے۔
حضرت سارہ کو بھی بیٹے کی بشارت:
حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کھڑے ہو کر ہی باتیں سن رہی تھیں اور اس دوران آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا بیٹے کی بشارت سن کر خوشی سے یا بڑھاپے میں اولاد پیدا ہونے کا سن کر تعجب کی وجہ سے ہنسنے لگیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کو ان کے بیٹے حضرت اسحاق عَلَیْہِ السَّلَام کی خوشخبری دی اور حضرت اسحاق عَلَیْہِ السَّلَام کے بعد ان کے بیٹے حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام کی بھی خوشخبری دی۔ حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کو خوشخبری دینے کی وجہ یہ تھی کہ اولاد کی خوشی عورتوں کو مردوں سے زیادہ ہوتی ہے، نیز یہ بھی سبب تھا کہ حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے فرزند حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام موجود تھے۔(42)
قرآن پاک میں ہے:
وَ امْرَاَتُهٗ قَآىٕمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَۙ-وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ(۷۱) (43)
ترجمہ :اور ان کی بیوی(وہاں)کھڑی تھی تو وہ ہنسنے لگی تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی خوشخبری دی۔
حضرت سارہ کے تعجب پر فرشتوں کا جواب:
بیٹے اورپوتے کی بشارت سن کر آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے اپنے اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے بڑھاپے کو بنیاد بنا کر تعجب کیا تو فرشتوں نے کہا: اے سارہ! رَضِیَ اللہُ عَنْہَا ، آپ کے لئے یہ تعجب کا مقام نہیں کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کا تعلق ا س گھرانے سے ہے جو معجزات، عادتوں سے ہٹ کر کاموں کے سرانجام ہونے، اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کے نازل ہونے کی جگہ بنا ہوا ہے۔(44)
قرآن کریم میں ہے:
قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًاؕ-اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ(۷۲) قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِؕ-اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ(۷۳) (45)
ترجمہ : کہا:ہائے تعجب! کیا میرے ہاں بیٹا پیدا ہوگا حالانکہ میں تو بوڑھی ہوں اور یہ میرے شوہر بھی بہت زیادہ عمر کے ہیں۔ بیشک یہ بڑی عجیب بات ہے۔ فرشتوں نے کہا: کیا تم اللہ کے کام پر تعجب کرتی ہو؟ اے گھر والو! تم پر اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ بیشک وہی سب خوبیوں والا، عزت والا ہے۔
اس آیت میں حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کو اہلِ بیت کہا گیا ہےجس سے قطعی طور پر ثابت ہوتاہے کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی ازواجِ مطہرات اہلِ بیت میں داخل ہیں لہٰذا حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا اور دیگر ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ عَنْہُنَّ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اہلِ بیت میں شامل ہیں۔(46)
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا فرشتوں سے استفسار:
جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام جان گئے کہ آنے والے مہمان فرشتے ہیں تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ان سے فرمایا: اے فرشتو! کیا تم صرف بیٹے کی بشارت دینے آئے ہو یا اس کے علاوہ تمہارا اور بھی کوئی کام ہے؟ فرشتوں نے جواب دیا : ہم حضرت لوط عَلَیْہِ السَّلَام کی مجرم قوم کوہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں ا لبتہ حضرت لوط عَلَیْہِ السَّلَام کے گھر والوں اور ان کے متبعین کو بچا لیں گے کیونکہ وہ ایماندار ہیں۔
سورۂ ذاریات میں ہے:
قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ(۳۱) قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ(۳۲) لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ(۳۳) مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ(۳۴) (47)
ترجمہ :ابراہیم نے فرمایا: تو اے بھیجے ہوئے فرشتو! پھر تمہارا کیا مقصد ہے؟ انہوں نے کہا:بیشک ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔تاکہ ان پر گارے کے پتھر برسائیں۔جن پر تمہارے رب کے پاس حد سے بڑھنے والوں کے لیے نشان لگائے ہوئے ہیں۔
سورۂ حجر میں ہے:
قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ(۵۷) قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ(۵۸) اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍؕ-اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ(۵۹) اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤۙ-اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠(۶۰) (48)
ترجمہ :فرمایا: اے فرشتو! تو تمہارا (ابھی آنے کا) کام کیاہے؟ انہوں نے عرض کیا: ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔سوائے لوط کے گھر والوں کے (کہ) بیشک ان سب کو ہم بچالیں گے۔ سوائے اس کی بیوی کے، ہم طے کرچکے ہیں کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔
اس آیت میں فرشتوں نے جو یہ کہا کہ’’ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَ ‘‘اس سے معلوم ہو اکہ اللہ تعالیٰ کے بعض کام اس کے پیارے بندوں کی طرف منسوب کئے جا سکتے ہیں ،جیسے عذاب سے بچا لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، مگر فرشتوں نے کہا: ’’ان سب کو ہم بچالیں گے‘‘ لہٰذا مسلمان یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب سے بچائیں گے اور یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یارسولاللہ ! صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، ہمیں دوزخ سے بچالیں۔یہ اصل میں وسیلے کی طرف نسبت ہوتی ہے۔
فرشتوں کے کلام’’
اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَا‘‘پر سوال اور اس کا جواب :
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت لوط عَلَیْہِ السَّلَام کی بیوی کا پیچھے رہ جانے والوں میں طے کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، تو فرشتوں نے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنے کی بجائے اپنی طرف کیوں کی؟ اس کے جواب میں امام فخرالدین رازی فرماتے ہیں:’’فرشتوں نے طے کرنے کی نسبت اپنی طرف اس لئے کی کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خاص مقام اور قرب حاصل ہے جیسے بادشاہ کے خاص آدمی یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس طرح تدبیر کی ، ہم نے اس طرح حکم دیا حالانکہ تدبیر کرنے والا اور حکم دینے والا تو بادشاہ ہوتا ہے نہ کہ وہ لوگ ہوتے ہیں اور ا س کلام سے محض اُن کی مراد بادشاہ کے پاس انہیں حاصل مقام و مرتبہ ظاہر کرنا ہوتا ہے تو اسی طرح یہاں ہے ( کہ فرشتوں کے اس کلام سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انہیں حاصل مقام و مرتبہ ظاہر ہو رہا ہے۔) (49)
اس سے بھی معلوم ہوا کہ جسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خاص مقام اور قرب حاصل ہو وہ اللہ تعالیٰ کے بعض کاموں کو اپنی طرف منسوب کر سکتاہے ۔یہ بھی معلوم ہو اکہ نیک بختی اور بد بختی کا علم اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو دیا ہے اور فرشتے اللہ تعالیٰ کی عطا سے جانتے ہیں کہ کون مومن مرے گا اور کون کافر۔ اس کی بہت بڑی دلیل تو موت کے فرشتے کا علم بھی ہے کہ ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کی معاون جماعت کو پہلے سے اچھے بُرے خاتمے کا علم ہوتا ہے تبھی تو اچھے برے کے خاتمے کے مطابق شکل بنا کر آتے ہیں۔
قومِ لوط سے متعلق بارگاہِ الٰہی میں عرض:
جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے دل میں پیدا ہونے والا خوف، بیٹے کی خوشخبری ملنے کے سبب دور ہوا توآپ عَلَیْہِ السَّلَام اللہ تعالیٰ سے حضرت لوط عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم کے بارے میں کلام اور سوال کرنے لگے،چنانچہ قرآن پاک میں ہے:
فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ(۷۴) (50)
ترجمہ :پھر جب ابراہیم سے خوف زائل ہوگیا اور اس کے پاس خوشخبری آگئی تو ہم سے قومِ لوط کے بارے میں جھگڑنے لگے۔
جمہور مفسرین کے نزدیک’’ یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍ ‘‘ کا معنی ہے:’’حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام ہمارے بھیجے ہوئے فرشتوں سے قومِ لوط کے بارے میں جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا جھگڑنا یعنی کلام اور سوال یہ تھا کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرشتوں سے فرمایا:’’قومِ لوط کی بستیوں میں اگر پچاس ایماندار ہوں تو بھی انہیں ہلاک کرو گے؟ فرشتوں نے کہا :نہیں۔پھر فرمایا: اگر چالیس ہوں ؟ انہوں نے کہا: جب بھی نہیں۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:’’اگر تیس ہوں ؟ انہوں نے کہا :’’جب بھی نہیں۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام اس طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:’’ اگر ایک مرد مسلمان موجود ہو تب بھی ہلاک کردو گے؟ انہوں نے کہا:’’نہیں۔ تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:’’اس میں حضرت لوط عَلَیْہِ السَّلَام ہیں۔ اس پر فرشتوں نے کہا ہمیں معلوم ہے جو وہاں ہیں ، ہم حضرت لوط عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کے گھر والوں کو بچائیں گےالبتہ ان کی بیوی نہیں بچے گی جو ایمان والی نہیں ہے بلکہ اپنی قوم کے ساتھ ہے۔حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا مقصد یہ تھا کہ آپ عذاب میں تاخیر چاہتے تھے تاکہ اس بستی والوں کو کفر اور گناہوں سے باز آنے کے لئے ایک فرصت اور مل جائے ۔(51)
جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا فرشتوں سے سلام اور کلام کا سلسلہ دراز ہوا تو فرشتوں نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام سے عرض کی: اے ابراہیم! عَلَیْہِ السَّلَام ، اب اس بحث کو ختم کر دیں کیونکہ آپ کے رب عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے حضرت لوط عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم پر عذاب نازل ہونے کا فیصلہ ہو چکا ہے لہٰذا اس عذاب کے ٹلنے کی اب کوئی صورت نہیں۔(52)
یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَاۚ-اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَۚ-وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ(۷۶) (53)
ترجمہ :(ہم نے فرمایا) اے ابراہیم ! اس بات سے کنارہ کشی کرلیجیے ، بیشک تیرے رب کا حکم آچکا ہے اور بیشک ان پرایسا عذاب آنے والا ہے جو پھیرا نہ جائے گا۔
اس سے معلوم ہوا کہ تقدیرِ مبرم کسی صورت میں نہیں ٹل سکتی ۔انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں وہ عزت ہے کہ رب عَزَّ وَجَلَّ ان کو تقدیر مبرم کے خلاف دعا کرنے سے روک دیتا ہے۔
حضرت اسحاق کی ولادت پر دعائے شکر:
جب حضرت اسحاق عَلَیْہِ السَّلَام کی ولادت ہوئی تو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے اس کا شکر ادا کیا اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَؕ- اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ(۳۹) (54)
ترجمہ :تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق دئیے۔ بیشک میرا رب دعا سننے والا ہے۔
یاد رہے کہ حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کی ولادت اس وقت ہوئی جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی عمر99 برس ہو چکی تھی اور حضرت اسحاق عَلَیْہِ السَّلَام کی ولادت اس کے کئی سال بعد ہوئی۔
تعمیرِ کعبہ:
تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے کعبہ کی جو عمارت بنائی وہ طوفانِ نوح تک باقی رہی اور بوقت طوفان اسے آسمانوں پر اٹھا لیا گیا ۔اس کے بعد کعبہ معظمہ کی جگہ ایک بلند ٹیلے کی طرح ساری زمین سے جدا معلوم ہوتی تھی لیکن اس پر کوئی عمارت نہ تھی۔لوگ اسی جگہ کا قصد کرتے اور اسے قبولیتِ دعا کا مقام سمجھتے تھے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم دیاکہ وہ اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کو ساتھ لے کر کعبہ کی عمارت تعمیر کریں اور جگہ کی نشاندھی اس طرح فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے بادل کا ایک ٹکڑا بھیجا تاکہ اس کے سایہ سے کعبہ کی حد مقرر کر لی جائے ،پھر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے اس سایہ کی مقدارخط کھینچ دیا اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے اس خط پر یہاں تک زمین کھودی کہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی بنائی ہوئی عمارت کی بنیادظاہر ہو گئی پھر اسی بنیاد پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عمارت کی تعمیر شروع فرمائی ،چنانچہ حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام پتھر لاتے اورآپ عَلَیْہِ السَّلَام ان پتھروں کو گارے سے جوڑ کر لگاتے جا رہے تھے ۔ جب عمارت آدمی کے قد جتنی بلند ہو گئی تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو ایسی چیز کی ضرورت ہوئی جس پر کھڑے ہو کر تعمیر جاری رکھ سکیں،چنانچہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم دیا کہ وہ ایک ایسا پتھر لائیں جس پر کھڑے ہو کر میں تعمیر کا کام کر سکوں۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام پتھر کی تلاش کے لئے جبل ابو قُبیس پر تشریف لے گئے۔راستے میں حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام ملے اور کہا:آئیے میں آپ کو دو پتھروں کا پتہ بتاؤں جو حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے ہمراہ جنت سے زمین پر آئے تھے اور بڑی برکت والے ہیں(پھر انہیں نکال کر)ایک حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے لیے لے جائیں اور دوسرے کو خانہ کعبہ کے گوشے میں دروازے سے دائیں طرف لگائیں تاکہ جو بھی اس گھر کا طواف کرے تو اسے چوم کر طواف شروع کرے۔حضرت اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام ان پتھروں کو یکے بعد دیگرے لائے اور حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام بھی ساتھ آئے اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی بارگاہ میں عرض کی کہ اس پتھر(حجر اسود)کو کعبہ کے گوشے میں رکھ دیں۔چنانچہ اسے اس کے مقام پر رکھ دیا اوردوسرےپر کھڑے ہو کر تعمیر کا کام شروع فرما دیا۔(55)دورانِ تعمیر حضرت ابراہیم و اسماعیل عَلَیْہِما السَّلَام یہ دعا بھی کرتے رہے :
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۱۲۷) (56)
ترجمہ :اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما،بیشک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ نیک عمل کر کے ا س کی قبولیت کی دعا کرنا انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی سنت ہے، ہمیں بھی چاہئے کہ نیک اعمال کے بعدان کے قبول ہونے کی دعا مانگا کریں۔
حجرِ اسود:
شروع میں حجرِ اسود کا رنگ بہت سفید تھا بعد میں سیاہ ہو گیا، جیساکہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: : حجر اسود اور مقام ابراہیم جنت کے یاقوت میں سے دو یاقوت ہیں جن کا نور اللہ تعالیٰ نے مٹا دیا، اگر وہ ایسا نہ کرتا تو مشرق و مغرب کے درمیان سب کچھ روشن ہو جاتا۔(57)
اور ارشاد فرمایا:حجرِ اسود جنت سے اترا اور یہ دودھ سے زیادہ سفید تھا،پھر اسے بنی آدم کی خطاؤں نے سیاہ کر دیا۔(58)
مقامِ ابراہیم کی عظمت:
جس پتھر پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے تعمیرِ کعبہ فرمائی اسے رب تعالیٰ نے یہ عظمت عطا فرمائی کہ اسے نماز کی جگہ بنانے کا حکم ارشاد فرما دیا،چنانچہ قرآن مجید میں ہے:
وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى (59)
ترجمہ :اور(اے مسلمانو!)تم ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ۔
مقامِ ابراہیم کو نماز کا مقام بنانا مستحب ہے اورایک قول یہ بھی ہے کہ اس نماز سے طواف کے بعد پڑھی جانے والی دو واجب رکعتیں مراد ہیں۔(60)نیزاس آیت سے معلوم ہوا کہ جس پتھر کو نبی کی قدم بوسی حاصل ہو جائے وہ عظمت والا ہوجاتا ہے ۔ سبحان اللہ ، اللہ تعالیٰ کے پیارے انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کی کیا شان ہے کہ عین عبادت میں تعظیم ِ انبیاء کا لحاظ موجود ہےجیسے مقام ابراہیم کا احترام عین نماز میں کرنا ہوتا ہے،کہ بطورِ خاص اسے پیش ِ نظر رکھ کر اور اس کا قصد کرکے اس کے قریب نماز پڑھنی ہے ۔ دورانِ نماز تعظیم ِ انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کے اور بھی دلائل ہیں جیسے ہم نماز میں نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مخاطب کرکے سلام بھیجتے ہیں اور درود ِ ابراہیمی بھی پڑھتے ہیں اور یہ بات ہر مسلمان جانتا ہے کہ درود و سلام تعظیم کی ایک صورت ہے اور تعظیم کے ساتھ ہی پڑھنے کا حکم ہے ، کوئی بے تعظیمی سے پڑھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ مقام ِ ابراہیم کی آیت سے ہی نیک لوگوں کے تبرکات کی تعظیم کا بھی ثبوت ملتا ہے۔
تعمیرِ کعبہ کے بعد دعائیں:
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے تعمیر ِکعبہ کے بعد متعدد دعائیں مانگیں۔ چنانچہ ایک دعا یہ فرمائی:
رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ- (61)
ترجمہ :اے میرے رب اس شہر کو امن والا بنا دے اور اس میں رہنے والے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں انہیں مختلف پھلوں کا رزق عطا فرما۔
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نےاس سے پہلے ایک موقع پر اولاد کیلئے امامت مانگی تو فرمایا گیا تھا کہ ظالموں کو نہیں ملے گی،اس لیے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے ابھی جب یہ دعا کی تو اس میں مومنین کو خاص فرمایاکہ مومنوں کو رزق دے۔ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا، دعا قبول فرمائی اور بتا دیا کہ رزق تومومن و کافر سب کو دیا جائے گالیکن کافر کا رزق تھوڑا ہے یعنی صرف دنیوی زندگی میں اسے ملے گا۔ارشاد فرمایا:
وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(۱۲۶) (62)
ترجمہ :اور جو کافر ہوتو میں اسے بھی تھوڑی سی مدت کے لئے نفع اٹھانے دوں گا پھر اسے دوزخ کے عذاب کی طرف مجبور کردوں گا اور وہ پلٹنے کی بہت بری جگہ ہے۔
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے مکۂ مکرمہ کیلئے رزق کی فراوانی کی جو دعا مانگی اُس کی قبولیت آج بھی ہرشخص اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے کہ دنیا بھر کے پھل اور کھانے یہاں بکثرت ملتے ہیں۔
دوسری دعا یہ کی:
رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ۪-وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَاۚ-اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۱۲۸) (63)
ترجمہ :اے ہمارے رب:اورہم دونوں کو اپنا فرمانبردار رکھ اور ہماری اولاد میں سے ایک ایسی امت بنا جو تیری فرمانبردار ہو اور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے دکھا دے اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما بیشک تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
سبحانَ اللہ ،دونوں مقدس ہستیوں نے طاعت و بندگی کی دعا مانگی حالانکہ وہ حضرات اللہ تعالیٰ کے مطیع و مخلص بندے تھے پھر بھی یہ دعا اس لیے مانگی کہ مزید اطاعت و عبادت و اخلاص اور کمال نصیب ہو۔ خانہ کعبہ اور اس کا قرب قبولیت کا مقام ہے ،یہاں دعا اور توبہ کرناسنت ِابراہیمی ہے۔نیزمعلوم ہوا کہ عبادت کے طریقے سیکھنا حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی سنت ہے۔اس کیلئے دعا بھی کرنی چاہیے اور کوشش بھی۔ بغیر طریقہ سیکھے عبادت کرنا اکثر عبادت کو ضائع کرتا ہے۔حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ہر مسلمان پر علم سیکھنا فرض ہے۔(64)فرض عبادت کا طریقہ و مسائل سیکھنا بھی اسی میں داخل ہے۔
تیسری دعا یہ کی:
رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠(۱۲۹) (65)
ترجمہ :اے ہمارے رب! اور ان کے درمیان انہیں میں سے ایک رسول بھیج جواِن پر تیری آیتوں کی تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب پاکیزہ فرمادے۔ بیشک تو ہی غالب حکمت والاہے۔
یہ دعا نبی آخر الزماں صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے متعلق تھی جوقبول ہوئی اور ان دونوں بزرگوں کی نسل میں حضور پر نور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تشریف آوری ہوئی۔نیز حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے متعلق دوسری دعائیں بھی رب تعالیٰ نے لفظ بلفظ قبول فرمائیں۔ چنانچہ حضور پُر نور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مومن جماعت میں ، مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے، رسول بن کر آئے، صاحب ِ کتاب ہوئے، آیات کی تلاوت فرمائی، امت کو کتابُ اللہ سکھائی، حکمت عطا فرمائی، ان کے نفسوں کا تزکیہ کیا، اسرارِ الٰہی پر مطلع کیا ۔
چوتھی دعا یہ فرمائی:
رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ(۳۵) رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۶) (66)
ترجمہ :اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کی عبادت کرنے سے بچا ئے رکھ۔ اے میرے رب! بیشک بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا تو جو میرے پیچھے چلے تو بیشک وہ میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے۔
یہ دعابھی قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو امن والا بنایا اوراسےویران ہونے سے محفوظ فرما دیا اور کوئی بھی اس مقدس شہر کو ویران کرنے پر قادر نہ ہوسکا اور اس شہر کو اللہ تعالیٰ نے حرم بنایا کہ اس میں نہ کسی انسان کا خون بہایا جائے ،نہ کسی پر ظلم کیا جائے، نہ وہاں شکار مارا جائے اور نہ سبزہ کاٹا جائے۔(67)
یاد رہے کہ انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام بت پرستی اور تمام گناہوں سے معصوم ہیں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا یہ دعا کرنا بارگاہِ الٰہی میں عاجزی اور محتاجی کے اظہار کے لئے ہے کہ باوجودیہ کہ تو نے اپنے کرم سے معصوم کیا لیکن ہم تیرے فضل و رحمت کی طرف دستِ احتیاج دراز رکھتے ہیں۔(68)
پانچویں دعا یہ فرمائی :
رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ ﳓ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ(۴۰) رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠(۴۱) (69)
ترجمہ :اے میرے رب! مجھے اور کچھ میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا رکھ، اے ہمارے رب اور میری دعا قبول فرما۔ اے ہمارے رب! مجھے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو بخش دے جس دن حساب قائم ہوگا۔
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو چونکہ بعض افراد کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے بتانے سے معلوم ہو چکا تھا کہ وہ کافر ہوں گے اس لئے آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی بعض اولاد کے لئے نمازوں کی پابندی اور محافظت کی دعا کی۔(70)
نیزعلماء فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ماں باپ سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے حقیقی والدین مراد ہیں اور وہ دونوں مومن تھے اسی لئے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے ان کے لئے دعا فرمائی۔
اعلانِ حج:
جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کعبہ شریف کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دیں ۔ عرض کی:اے میرے رب!ان سب لوگوں تک میری آواز کیسے پہنچے گی؟ارشاد فرمایا:تم اعلان کرو آواز پہنچانا میرا کام ہے۔ چنانچہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ابوقبیس پہاڑ پر چڑھ کر اعلان کیا:اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر اس قدیم گھر کا حج فرض کر دیا ہے،تو تم اس کا حج کرو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان ان سب لوگوں کو سنوا دیا جو مردوں کی پشتوں اور عورتوں کے رحموں میں تھے اور قیامت تک جن کی قسمت میں حج کرنا لکھا تھا انہوں نے وہیں سے جواب دیا ’’ لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ ‘‘ یعنی میں حاضر ہوں، اے اللہ ! میں حاضر ہوں۔اب قیامت تک وہی حج کر سکے گا جس نے اس ندا پر ’’ لَبَّیْکَ ‘‘ کہا تھا۔
قرآن پاک میں ہے:
وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ(۲۷) لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ(71)
ترجمہ :اور لوگوں میں حج کا عام اعلان کردو ، وہ تمہارے پاس پیدل اور ہر دبلی اونٹنی پر(سوار ہوکر)آئیں گے جو ہر دور کی راہ سے آتی ہیں۔ تاکہ وہ اپنے فوائد پر حاضر ہوجائیں اور معلوم دنوں میں اللہ کے نام کو یاد کریں اس بات پر کہ اللہ نے انہیں بے زبان مویشیوں سے رزق دیا ۔
اعلانِ حج سے متعلق ایک روایت امیر المومنین مولا علی کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے بھی منقول ہے ، چنانچہ آپ فرماتے ہیں :جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کعبہ کی بنا سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے جبریل امین کو بھیجا اورانہوں نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو حج کرایا، آپ نے عرفات کو دیکھ کر فرمایا: میں اس میدان کو پہچان گیا۔ایک بار اس سے پہلے بھی حضرت خلیل یہاں آئے تھے اوراسی وجہ سے اس کانام’’عرفہ‘‘پڑا۔ یوم نحر کے دن شیطان نے آپ سے تَعَرُّض کیاتو حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: اسے کنکریاں ماریں ۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اسے سات کنکریاں ماریں، پھر دوسرے اورتیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا، اسی لئے حج میں رَمِی جمار مشروع ہوئی ۔ پھرجبریل امین نے عرض کی : کوہِ ثبیر پرچڑھیں۔ حضرت خلیل عَلَیْہِ السَّلَام نے ثبیر پہاڑی پر چڑھ کر اعلان فرمایا :اے بندگانِ خدا! اللہ تعالیٰ کی پکار کا جواب دو، اے بندگانِ خدا! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو۔ تو ان کا یہ اعلان ساتوں سمندر سے سنا گیا اور ہر اس شخص نے سنا جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان تھا۔(72)
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخانفرماتے ہیں :اس کی سند ہمارے اصول پر صحیح ہے اوریہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّم کا ہی فرمان ہے، اورمعاملہ چونکہ قیاسی نہیں بالکلیہ سماعی ہے اور حضرت علی کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم چونکہ اہل کتاب کی روایت قبول نہیں کرتے تھے ، اس لئے لامحالہ یہ بات انہوں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّم سے ہی سن کر بیان فرمائی تو اس روایت سے یہ ثابت ہوا کہ اعلانِ حج مزدلفہ شریف کے پہاڑسے ہوا۔(73)
بیتُ اللہ کو پاک و صاف رکھنے کا حکم:
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل عَلَیْہِمَا السَّلَام کو بیتُ اللہ شریف کو پاک و صاف رکھنے کا حکم دیا گیا، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے :
وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ(۱۲۵) (74)
ترجمہ :اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل کو تاکید فرمائی کہ میرا گھر طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے خوب پاک صاف رکھو۔
اس سے معلوم ہوا کہ خانہ کعبہ اور مسجد ِحرام شریف کو حاجیوں ، عمرہ کرنے والوں ، طواف کرنے والوں ، اعتکاف کرنے والوں اور نمازیوں کیلئے پاک وصاف رکھا جائے، یہی حکم مسجدوں کو پاک و صاف رکھنے کا ہے، وہاں گندگی اور بدبودار چیز نہ لائی جائے، یہ سنت ِانبیاء ہے، یہ بھی معلوم ہواکہ اعتکاف عبادت ہے اور گزشتہ امتوں میں رائج تھا نیز پچھلی امتوں کی نمازوں میں رکوع سجود دونوں تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجدوں کا متولی ہونا چاہیے اور متولی صالح انسان اور مسجد کی صحیح خدمت کرنے والاہو۔
حضرتِ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام اور چار پرندے:
آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی حیاتِ مبارکہ کا ایک اہم واقعہ چار مردہ پرندوں کے دوبارہ زندہ ہونے کا مشاہدہ کرنا ہے، اس کے پس منظر سے متعلق مفسرین نے لکھا ہے کہ سمندر کے کنارے ایک آدمی مرا ہوا پڑا تھا، سمندر کا پانی چونکہ چڑھتا اترتا رہتا ہے،اس لیے جب پانی چڑھا تو مچھلیوں نے اس لاش کو کھایا ،پانی اترنے پر جنگلی درندوں نے کھایا اوران کے چلے جانے پر پرندوں نے کھایا۔یہ منظر ملاحظہ فرما کر حضرتِ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کویہ دیکھنے کاشوق ہوا کہ(اجزاء بکھرنے کے باوجود) مُردے کس طرح زندہ کیے جائیں گے،چنانچہ بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: اے اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ ، مجھے یقین ہے کہ تو مردوں کو زندہ فرمائے گا اور ان کے اجزاء دریائی جانوروں ، درندوں کے پیٹوں اور پرندوں کے پوٹوں سے جمع فرمائے گا لیکن میں(دنیا میں) یہ عجیب منظر دیکھنے کی آرزو رکھتا ہوں۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرتِ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو اپنا خلیل بنایا تو ملکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَام اللہ تعالیٰ کے اِذن و اجازت سے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کوخلت(یعنی خلیلُ اللہ بننے) کی بشارت سنانے آئے ۔یہ سن کر آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور ملکُ الموت عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا : اس خلیل بنائے جانے کی نشانی کیا ہے؟ عرض کی:اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی دعا قبول فرمائے گا اور آپ کے سوال پر مردے زندہ کرے گا۔ تب آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے یہ دعا کی : اے اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ ، مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے؟ارشاد فرمایا: کیا تمہیں اِس پر یقین نہیں؟ اللہ تعالیٰ عالِمُ الغیب والشَّہادۃ ہے، اسے حضرتِ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے کمالِ ایمان و یقین کا علم ہے ،اس کے باوجودیہ سوال فرمانا کہ’’ کیا تجھے یقین نہیں ‘‘ا س لیے تھا کہ سامعین کو سوال کا مقصد معلوم ہوجائے اور وہ جان لیں کہ یہ سوال کسی شک و شبہ کی بناء پر نہ تھا، چنانچہ حضرتِ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی:یقین کیوں نہیں ؟ لیکن میں چاہتا ہوں کہ یہ چیز آنکھوں سے دیکھوں تاکہ میرے دل کو قرار آجائےاور اس علامت سے اسے تسکین مل جائے کہ تو نے مجھے اپنا خلیل بنالیا ہے۔(75)
حضرتِ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی فرمائش پر حکمِ الہی ہوا : تم چار پرندے لے لو اور انہیں اپنے ساتھ اچھی طرح مانوس کرلو، پھر انہیں ذبح کرکے ان کا قیمہ بناؤ اور اسے آپس میں ملا کر مختلف پہاڑوں پر رکھ دو ،پھر ان پرندوں کو آواز دوتو ان میں سے ہر ایک اپنی پہلی والی شکل و صورت میں بن کر تمہارے پاس آجائے گا ۔ چنانچہ حضرتِ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے چار پرندے لیے،ایک قول کے مطابق وہ مور، مرغ، کبوتر اور کوّا تھے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے انہیں بحکمِ الٰہی ذبح کیا، ان کے پَر اکھاڑے اور قیمہ بناکر ان کے اجزاء باہم ملادیئے اور اس مجموعہ کے کئی حصے کر کے ایک ایک حصہ ایک ایک پہاڑ پر رکھ دیا اور سب کے سراپنے پاس محفوظ رکھے، پھر ان پرندوں کو آواز دے کر بلایا۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے بلاتے ہی حکمِ الہٰی سے وہ اجزاء اُڑے اور ہر ہر جانور کے اجزاء علیحدہ علیحدہ ہو کر اپنی ترتیب سے جمع ہوئے اور پرندوں کی شکلیں بن کر اپنے پاؤں سے دوڑتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور اپنے اپنے سروں سے مل کر بِعَیْنِہٖ پہلے کی طرح مکمل ہوگئے۔ سُبْحَانَ اللہ ۔(76)
قرآن پاک میں ہے:
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰىؕ-قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْؕ-قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَىٕنَّ قَلْبِیْؕ-قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًاؕ-وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠(۲۶۰) (77)
ترجمہ :اور جب ابراہیم نے عرض کی: اے میرے رب! تومجھے دکھا دے کہ تو مُردوں کو کس طرح زندہ فرمائے گا؟ اللہ نے فرمایا: کیا تجھے یقین نہیں ؟ ابراہیم نے عرض کی: یقین کیوں نہیں مگر یہ (چاہتا ہوں) کہ میرے دل کو قرار آجائے۔ اللہ نے فرمایا :توپرندوں میں سے کوئی چار پرندے پکڑ لوپھر انہیں اپنے ساتھ مانوس کرلو پھر ان سب کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دو پھر انہیں پکارو تو وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے اور جان رکھو کہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔
اس واقعہ سے کئی اہم باتیں معلوم ہوئیں، مثلاً اللہ تعالیٰ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی دعائیں قبول فرماتا ہے۔انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی دعاؤں سے مردے زندہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی خواہشات کو پورا فرماتا ہے۔جتنا یقین کامل ہوتا ہے اتنا ہی ایمان بڑھ جاتا ہے۔مشاہدے سے معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی مُردوں کو زندہ کرنے پرقدرت اور دوبارہ زندہ ہونے پر عظیم دلیل ہے۔
حضرت سارہ کی وفات اور تدفین:
127 سال کی عمر میں حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کا وصال ہو گیا جس پر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام بہت غمزدہ ہوئے۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ایک شخص سے 400 مثقال سونے میں ایک غار خریدی جس میں حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کو دفن کیا۔(78)
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا نکاح:
حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی وفات کے بعد حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے ایک خاتون ’’قطورا‘‘ سے نکاح فرمایا جن سے زمران، یُقسان،مدیان،مدان،اسباق اورسوخ نامی بیٹےپیدا ہوئے ۔(79)
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد کو وصیت:
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی اولاد کو دینِ حق پر ثابت قدمی کی وصیت فرمائی۔چنانچہ قرآن پاک میں ہے:
اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْۙ-قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۱۳۱) وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُؕ-یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ(۱۳۲) (80)
ترجمہ :یاد کروجب اس کے رب نے اسے فرمایا: فرمانبرداری کر، تو اس نے عرض کی: میں نے فرمانبرداری کی اس کی جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اورابراہیم اور یعقوب نے اپنے بیٹوں کو اسی دین کی وصیت کی کہ اے میرے بیٹو!بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیا ہے توتم ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی وفات اور تدفین:
آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی وفات سے متعلق مختلف روایات ہیں جن کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، بعض نے یہ کہا ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی وفات اچانک ہوئی اور علمائے اہل کتاب کے نزدیک حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام بیمار ہوئے اور اسی عالم میں دنیائے فانی سے رخصت ہوئے اور حضرت اسماعیل و اسحاق عَلَیْہِمَا السَّلَام نے آپ کو اسی غار میں دفن کیا جس میں حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا مدفون تھیں۔ ایک قول کے مطابق آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی عمر مبارک 175سال اور ایک قول کے مطابق200 برس ہوئی۔ (81)
متعلقات
یہاں اس باب سے متعلق ایک اہم بات ملاحظہ ہو:
حضرت سارہ کو بہن کہنے کی توجیہ:
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کو اپنی بہن کہاحالانکہ وہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی بہن نہیں بلکہ زوجہ تھیں۔اس کے علاوہ جب قوم نے اپنے میلے میں شرکت کی دعوت دی تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے صحت مند ہونے کے باوجود انہیں کہہ دیا’’ اِنِّیْ سَقِیْم ‘‘یعنی میں بیمار ہوں۔(82) مزید یہ کہ بت شکنی کے واقعہ میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے بتوں کو خود توڑا تھا لیکن قوم کے پوچھنے پر فرما دیا’’بَلْ فَعَلَهٗ ﳓ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا ‘‘یعنی بلکہ ان کےاس بڑے نے کیا ہے۔(83) ان تینوں مقامات پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا کلام واقع کے خلاف ہے اور بخاری شریف کی حدیث میں بھی اس کا صراحت کے ساتھ ذکر موجود ہے ۔(84)
اس سے ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے متعدد بار واقع کے خلاف بات کہی اور واقع کے خلاف بات کہنا گناہ ہے جو کہ عصمتِ نبوت کے منافی ہے ۔
یہاں اس کے جواب میں چند باتیں ملاحظہ ہوں،
پہلی بات یہ کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی شانِ صدق و صداقت و صدیقیت خود رب تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیان فرمائی ہے جیسا کہ سورۂ مریم میں ہے:
اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا(۴۱) (85)
ترجمہ :بیشک وہ بہت ہی سچے نبی تھے۔
یہ آیت مبارکہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام بہت ہی سچے تھے، ہمیشہ سچی بات کہی اور کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولا۔
دوسری بات یہ کہ بخاری شریف کی حدیث پاک میں جو اِن تین باتوں کو جھوٹ کہا گیا یہ در اصل عام سننے والوں کے فہم کے اعتبار سے ہے کہ انہیں یہ تین باتیں سن کر بظاہر جھوٹ محسوس ہوں حالانکہ حقیقتاً جھوٹ نہیں ۔علمی زبان میں انہیں تعریض و توریہ کہتے ہیں ، یعنی ایسا لفظ بولا جائے جس کے دو معنی ہوں ایک قریب اور ایک بعید۔متکلم توبعید والے معنی کا ارادہ کرے جبکہ مخاطب کے ذہن میں قریب والا معنی آئے۔الفاظ کا ایسا استعمال ضرورت کے وقت بالکل جائز ہے اور ا س کی وجہ سے انسان صریح جھوٹ بولنے سے بچ جاتا ہے، یہی آیات کی تفسیر ہے اور یہی حدیث ِ بخاری کا مفہوم ۔ لہٰذا نہ آیت پر اِشکال ہے اور نہ ہی حدیث کا اِنکارہوسکتا ہے اور ایک اہم بات یہ کہ قادیانی اپنے جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کے جھوٹوں سے جان چھڑانے کے لیے حدیثِ بخاری کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں اور یہ بالکل غلط ہے کیونکہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کےاقوال میں واضح تاویل موجود ہے جو ہم نیچے ذکر کریں گےلیکن مرزا قادیانی کے پیش کیے جانے والےجھوٹ ظاہراً،باطنا،واقعتاً،حقیقتاً ہر طرح سے جھوٹ ہیں۔مرزاقادیانی توجھوٹے دعوے، جھوٹی بشارتیں ، جھوٹی وعیدیں، جھوٹے ڈراوے، موت کی جھوٹی مدتیں بیان کرتا رہا اور پھر ساری زندگی اس طرح کے دعووں اور ڈینگوں کے بعد شرمندگی اٹھاتا رہا ۔اس کی زندگی بھر کی کذب بیانی کو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی صدیقیت سے کیا نسبت۔بلکہ یہاں قادیانیوں کے باطل اعتراض کا جواب دینا مقصود نہ ہوتا تو ابوالانبیاء، خلیلُ اللہ ، صاحب ِ ملت ِ حنیفہ، حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے مبارک ، پاک تذکرے میں قادیانی کا نام بھی ذکر نہ کیا جاتا۔
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے تینوں اقوال میں واضح تاویل موجود ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی یہ باتیں حقیقتاً جھوٹ نہیں بلکہ بظاہر واقع کے خلاف لگتی ہیں جبکہ حقیقت میں سچائی سے معمور ہیں ،ذیلی سطور میں ہر ایک کی تاویل ملاحظہ ہو۔
(1)حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کو بہن کہنا:
ایک قول کے مطابق حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی زوجہ حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا آپ کی چچا زاد بہن تھیں۔(86) تو ممکن ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے انہیں اس رشتے کے لحاظ سے بہن کہا ہو تو بالکل درست اور سچ ہوا،اور بالفرض اگر یہ رشتہ نہ بھی ہو تو دینی رشتے کے لحاظ سے حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی بہن تھیں،توآپ عَلَیْہِ السَّلَام نے بہن سے اسلامی بہن مراد لیااور یہاں حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا کی پاکدامنی کی حفاظت کےلئے اوربادشاہ کی دست درازی اور ظلم و ستم سے بچانے کےلئے ایک لفظ بول کر اس کا بعید معنیٰ یعنی اسلام کے رشتے سے بہن مراد لیا جبکہ بادشاہ نے اس کا قریب معنیٰ یعنی نسب کے رشتے سے حقیقی بہن سمجھا۔خود غور کرلیں کہ ایسے موقع پر اِس طرح کا ذو معنیٰ لفظ بولنا درست اور سچ ہے یا نہیں؟
(2)خود کو بیمار کہنا:
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی اس بات میں بھی جھوٹ نہیں بلکہ یہ حقیقت کے عین مطابق ہے کیونکہ سَقِیْم کا معنی مرض ہےاور مرض بدن میں بھی ہوتا ہے اور دل میں بھی ۔ بدن کو تکلیف پہنچے تو بدن مریض اور دل کو تکلیف پہنچے تو دل مریض جیسے کوئی تکلیف پہنچائے تو کہتے ہیں کہ تم نے میرا دل زخمی کردیا یا میرا دل زخموں سے بھرا پڑا ہے۔حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے’’اِنِّیْ سَقِیْمٌ ‘‘ کہہ کر اس سے اپنی جسمانی علالت نہیں بلکہ قلب کی تکلیف مراد لی تھی،یعنی تمہارے کفرو سرکشی کی وجہ سے میرا دل دکھی ہے اور یہ حقیقت کے عین مطابق ہے جبکہ قوم نے یہ سمجھا کہ آپ کسی جسمانی بیماری میں مبتلا ہیں۔
ا س کی ایک علمی تاویل یہ بھی ہے کہ’’سَقِیْم‘‘اسم فاعل کا صیغہ ہے اور اسم فاعل کبھی مستقبل کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ،جیسے قرآن پاک میں ہے’’اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْن ‘‘یعنی (اے حبیب!) بیشک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے۔‘‘ (87) لہٰذا’’اِنِّیْ سَقِیْمٌ ‘‘ کا معنی ہوا’’میں بیمار ہونے والا ہوں‘‘ اس کا حاصل یہ نکلا کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے مستقبل میں اپنے بیمار ہونے کی خبر دی لیکن چونکہ آپ نے یہ بات ستاروں پر نگاہ ڈال کر کہی تھی تو وہ لوگ اپنے عقیدے کے مطابق یہ سمجھے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کسی نجس ستارے کے اثرِ بد میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ابھی بیمار ہیں اور انہوں نے علمِ نجوم کے ذریعے اپنی موجودہ بیماری کا حال معلوم کرلیا ہے ، یوں وہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کوساتھ لے جانے کی بجائے وہیں چھوڑ کر چلے گئے ۔
(3)بت شکنی کی نسبت بڑے بت کی طرف کرنا:
بت شکنی کے بعد پوچھ گچھ ہونے پر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے کہا کہ ’’بلکہ ان کے اس بڑے نے کیا ہے ‘‘یہ فرمان حقیقت میں قوم کو گمراہی پر متنبہ کرنے کےلئے تھا کیونکہ یہ بات تو لوگ بھی جانتے تھے کہ بت حرکت کرنےاور بولنے سے عاجز ہیں تو اب ایک بڑے بت کی طرف حرکت کرنے اور دیگر بتوں کو توڑنے کی نسبت کرنے پر یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنےالفاظ سے حقیقی معنیٰ مراد لیا ہے بلکہ یہ نفیس انداز میں استہزاء اور عقیدے کی غلطی پر تنبیہ کرنے کی کوشش ہے۔اس طرح کی مثالیں خود ہماری زندگی میں دن رات پیش آتی ہیں مثلاً لڑائی کے وقت کوئی بھاگنے والا شخص سامنے آئے تو لوگ بول دیتے ہیں کہ دیکھو بھئی، ہماری قوم کا بہادر سپوت تشریف لایا ہے ۔ اس جملے کا حقیقی معنیٰ کون لیتا ہے؟ کوئی بھی نہیں بلکہ یہ اس شخص کا استہزاء اور اس کےلئے تنبیہ ہوتی ہے۔ خود قرآن مجید میں اس کی مثالیں موجود ہیں جیسے قومِ لوط کے کفار نے کہا تھا’’ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْن ‘‘ (88) کیا اس کا حقیقی معنیٰ مراد تھا کہ وہ لوگ حضرت لوط عَلَیْہِ السَّلَام اور اہلِ ایمان کو پاکیزہ سمجھتے تھے، ہرگز نہیں بلکہ ان کا مقصود صرف مذاق اڑانا تھا تو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے واقعے میں یہ کیوں نہیں کہ یہاں قوم کو ان کی جہالت و ضلالت پر توجہ دلانے کےلئے آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اسی انداز میں کلام کیا جس کا ظاہری معنیٰ ہرگز مقصود نہیں بلکہ مقصود یہ تھا کہ قوم پر یہ بات واضح ہوجائے کہ جو بت اپنے آپ کو ٹوٹ پھوٹ سے نہ بچا سکے اور بڑا بت پوچھنے پر کوئی جواب نہ دے سکے تووہ کسی اور کو کیا نفع یا نقصان پہنچائے گااور ایسا عاجز و بے بس کہا ں اس لائق ہے کہ اسے عبادت جیسی عظیم ترین تعظیم کا حق دار ٹھہرایا جائے لہذاآپ عَلَیْہِ السَّلَام کا یہ کلام جھوٹ نہیں بلکہ اظہارِ حق کے لیے اختیار کیا گیا ایک طریقہ تھا۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی تینوں باتیں اگرچہ ظاہری طور پر واقع کے خلاف ہیں لیکن در حقیقت جھوٹ نہیں اور جب جھوٹ نہیں تو عصمتِ نبوت کے بھی منافی نہیں ہیں۔
درس و نصیحت
اس باب میں ہمارے لیے درس و نصیحت کی بہت سی باتیں موجود ہیں ، جیسے:
نیک اولاد اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے:نیک اولاد اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور اس کی دعا مانگنا سنتِ انبیاء ہے ، اس لئے جب بھی اللہ تعالیٰ سے اولاد کی دعا مانگی جائے تو نیک اور صالح اولاد کی دعا مانگنی چاہئے ۔
اولاد کو علمِ دین سکھائیے:حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے ساتھ اپنے بیٹے کےلئے بھی عبادت کے طریقے سیکھنے کی دعا
کی۔مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کو دین کاعلم بھی سکھائے اور اس علم کو سکھانے میں اُس سے زیادہ توجہ دے جتنی دنیا کا علم سکھانے پر توجہ دیتا ہے۔
سلام کہنے کی تاریخ:فرشتے جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو حضرت اسحاق عَلَیْہِ السَّلَام کی ولادت کی بشارت دینے آئے تو سلام کہا ، اس سے معلوم ہوا کہ سلام کرنا اور اس کا جواب دینا بڑی پرانی سنت ہے کہ دوسرے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے دین میں بھی تھی بلکہ حدیث مبارک سے ثابت ہے کہ سلام کا طریقہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو سکھایا گیا جیسا کہ اس کتاب میں صفحہ76پر بیان ہوچکا۔
اولاد کو صحیح عقائد اور نیک اعمال کی وصیت کی جائے: حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے بیٹوں کو وصیت فرمائی:’’ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ‘‘ترجمہ: بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیاہے توتم ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔‘‘ (89)اس میں یہ درس ہے کہ والدین کوصرف مال کے متعلق ہی وصیت نہیں کرنی چاہیے بلکہ اولاد کو عقائد ِ صحیحہ، اعمالِ صالحہ، دین کی عظمت، دین پر استقامت، نیکیوں پر مداومت اور گناہوں سے دور رہنے کی وصیت بھی کرنی چاہیے۔ اولاد کو دین سکھانا اور ان کی صحیح تربیت کرتے رہنا والدین کی ذمہ داری ہے، جیساکہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرو اور انہیں اچھے ادب سکھانے کی کوشش کرو۔(90)
باب:5
احادیث میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا تذکرہ
کثیر احادیث میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا تذکرہ کیا گیا ہے ، جن میں سے بعض احادیث مختلف ابواب میں ذکر کی جا چکی ہیں، یہاں ان کے علاوہ 13 احادیث ملاحظہ ہوں۔
دعائے ابراہیمی کے مصداق:
حضرت عرباض بن ساریہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے ، رسول الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:میں اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اُمُّ الکتاب میں آخری نبی لکھا ہوا تھا جب حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام ابھی حالتِ خمیر میں تھے ، میں اپنے والد حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی دعااور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی بشارت ہوں۔(91)
اللہ تعالیٰ کے خلیل:
حضرت جندب رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال سے پانچ دن پہلے سناکہ آپ نے فرمایا:میں اللہ تعالیٰ کے حضور اس چیز سے بری ہوتا ہوں کہ تم میں سے کسی کو اپنا خلیل بناؤں، اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اپنا خلیل بنایا ہے جیسے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو خلیل بنایا، اور اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ضرور ابو بکر کو بناتا۔(92)
درودِ ابراہیمی کی تعلیم:
حضرت کعب بن عجرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں،ہم نے نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کی : یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ توسکھا دیا ہے لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں ؟ ارشاد فرمایا:یوں کہو: ’’ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلٰی آلِ إبْرَاهِيمَ اِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ ، اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلٰی آلِ اِبْرَاهِيمَ اِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ ‘‘ ترجمہ: اے اللہ ! محمد اور آلِ محمد پر رحمتیں بھیج جیسے تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر رحمتیں بھیجیں ، بیشک تو تعریف کے لائق ، بزرگی والا ہے۔ اے اللہ ! محمد و آلِ محمد پر ایسی ہی برکتیں بھیج جیسی برکتیں ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر اتاریں، بیشک تو تعریف کے لائق ، بزرگی والا ہے۔ (93)
مدینہ منورہ سے متعلق دعا:
حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے، حضور اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعا فرمائی:اے اللہ ! حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے مکہ کو حرم بنایا تو تو نے اسے حرم بنادیا اور میں مدینہ کو حرم بناتا ہوں ، اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیان حرم ہے، یہاں خونریزی نہ کی جائے اور نہ ہی اس میں لڑائی کے لیے ہتھیار اٹھائے جائیں اور اس میں کوئی درخت نہ اکھیڑا جائے مگر چارہ کے لیے۔اے اللہ ! ہمارے لیے مدینہ میں برکت عطا کر۔ اے اللہ ! ہمارے لیے اس کے صاع اور مد میں برکت دے ۔اے اللہ ! اس میں برکت دگنی کر دے۔(مُد اور صاع وزن کے پیمانے ہیں۔)(94)
مونچھیں تراشنا سنت ابراہیمی ہے:
حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا فرماتے ہیں:حضور اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی مونچھیں تراشتے تھےاوران سے پہلے تمہارے والد حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام بھی اپنی مونچھیں تراشا کرتے تھے۔(95)
نارِ نمرود اور چھپکلی کا کردار:
حضرت سائبہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا سے روایت ہے کہ وہ اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے ہاں گئیں تو ان کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہو ادیکھ کر عرض کی:اے ام المؤمنین! آپ اس کے ساتھ کیا کرتی ہیں ؟فرمایا:ہم اس کے ساتھ چھپکلیوں کومارتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں بتایا کہ جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین کا ہر جانور اس آگ کو بجھا رہا تھا لیکن چھپکلی اس پر پھونکیں مارتی رہی ۔ پھر رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔(96)
حضرت اُمّ شریک رَضِیَ اللہُ عَنْہَا فرماتی ہیں: رسول کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چھپکلی کو قتل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا:یہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام پر پھونکیں مارتی تھی۔(97)
شبِ معراج حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام سے ملاقات:
حضرت مالک بن صعصعہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: پھر ہم ساتویں آسمان پر آئےتو پوچھا گیا:یہ کون ہیں؟ کہا: جبریل ہیں۔پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ کہا: محمد مصطفیٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۔ کہا گیا: بیشک انہیں بلایا گیا ہے، انہیں مرحبا، کتنا اچھا ہے ان کا تشریف لانا۔پھر میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا تو انہوں نے کہا: آپ کو مرحبا جو بیٹے اور نبی ہیں۔ میں نے پوچھا:یہ کون ہیں؟ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی :یہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام ہیں۔(98)
مسلم شریف کی روایت میں ہے: حضور اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب مجھے ساتویں آسمان پر لے جایا گیاتو میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس آیاجو بیت المعمور سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو دوبارہ لوٹ کر نہیں آتے۔(99)
شب ِمعراج ،امت ِمصطفیٰ کے نام پیغام:
حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے،رسول اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: شبِ معراج میری ملاقات حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام سے ہوئی تو انہوں نے فرمایا: اے محمد! صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ،اپنی امت کو میرا سلام پہنچائیں اور انہیں بتادیں کہ جنت کی زمین بہت زرخیز اور وہاں کا پانی بہت شیریں ہے، جنت میں سفید زمین بہت ہے اور وہاں کے درخت پریہ کلمات ہیں’’ سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَكْبَرُ ‘‘یعنی اللہ پاک ہے، اسی کی تعریف ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ بہت بڑا ہے۔(100)
روزِ قیامت حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے حاجت روا:
مسلم شریف کی حدیث پاک میں ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تین دعاؤں کا اختیار دیا گیا تو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دو بار فرمایا:اے اللہ ! میری امت کو بخش دے۔اے اللہ !میری امت کو بخش دے۔تیسری دعا کے بارے میں فرمایا:میں نے تیسری دعا کو اس دن کے لئے مؤخر کر دیاجس دن ساری مخلوق میری طرف راغب ہو گی یہاں تک کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام بھی۔(101)
اس سے معلوم ہوا کہ روزِ قیامت حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام سمیت ساری مخلوق سید المرسلین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حاجت مند ہو گی،اسی لیے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فرماتے ہیں:
لَا وَرَبِّ الْعَرْش جس کو جو ملا ان سے ملا بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی
وہ جہنم میں گیا جو ان سے مستغنی ہوا ہے خلیل اللہ کو حاجت رسول اللہ کی
روزِ قیامت بارگاہِ ابراہیم میں مخلوق کی حاضری:
بخاری شریف میں ہے:(روزِ قیامت)لوگ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کریں گے: آپ اللہ تعالیٰ کے نبی اور زمین والوں میں سے اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں، آپ ہمارے لیے اپنے رب کے پاس شفاعت کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں؟حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام ان سے فرمائیں گے: میرے رب نے آج جیسا غضب فرمایا ہے ایسا نہ اس سے پہلے کیا اور نہ ہی آج کے بعد کرے گا۔میں نے تین بار (بظاہر) خلاف واقع بات کی ہے۔ مجھے اپنی فکر ہے، مجھے اپنی فکر ہے، مجھے اپنی فکر ہے، تم میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، تم حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس چلے جاؤ۔ (102)
یہاں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا فرمانا کہ مجھے اپنے تین اقوال کی وجہ سے اپنی فکر ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و ہیبت اور قیامت کے دن ظہورِ جلال و قہر ِ الٰہی کی وجہ سے ہوگا ورنہ جو باتیں آپ نے فرمائیں، ان کا درست و جائز ہونا تو اوپر ذکر ہوچکا اور اگر وہ باتیں معاذ اللہ گناہ ہوتیں تو اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کا حکم دیتا اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام توبہ کرتے لیکن اتنی اہم بات کے ہوتے ہوئے بھی قرآن و حدیث میں توبہ کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے۔
روزِ قیامت حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا اپنے چچا آزر سے مکالمہ:
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی اپنے باپ(یعنی چچا) آزر سے ملاقات ہو گی اور آزر کے منہ پر دھواں اور گرد و غبار ہو گا۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام اس سے فرمائیں گے : کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر۔آزر کہے گا: آج میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام (بارگاہِ الٰہی میں) عرض کریں گے: یا رب!بیشک تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ تو مجھے اس دن رسوا نہ فرمائے گا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے ،تو اس سے بڑھ کرکون سی بڑی رسوائی ہو گی کہ میرا باپ(یعنی چچا) رحمت سے دور ہو؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے کفار پر جنت حرام کردی ہے۔پھر کہا جائے گا: اے ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام ! تمہارے پاؤں کے نیچے کیا ہے؟آپ عَلَیْہِ السَّلَام دیکھیں گے تو وہ گندگی میں لتھڑا ہوا ایک بھیڑیا ہو گا(جو کہ آزر کی بگڑی ہوئی شکل ہو گی) پھر اسےٹانگوں سے پکڑ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔(103)
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا جنتی محل:
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے،رسول کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:بیشک جنت میں موتیوں سے بناہواایک محل ہے جس میں نہ ہی دراڑیں ہیں اور نہ ہی کوئی کمزوری، اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے خلیل حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی مہمانی کے لیےتیار کیا ہے۔(104)
دعا: اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے خلیل حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی مبارک سیرت پر عمل پیرا ہونے اور ان کی مبارک زندگی کے مختلف گوشوں سے علم و عمل کے آبدار موتی چننے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔
1… بخاری،کتاب البیوع،باب شراء المملوک…الخ،۲/۴۹،حدیث:۲۲۱۷.
2… بخاری،کتاب احادیث الانبیاء ،باب قول الله تعالٰی:واتخذ الله ابراھیم خلیلا،۲/۴۲۲،حدیث:۳۳۵۸.
3… مراٰۃ المناجیح،٧/٥٧٠،ملخصاً.
4… عمدة القاری،کتاب المساقاة ، باب من رأی ان صاحب الحوض… الخ، ۹/۸۱ ، تحت الحدیث:۲۳۶۸.
5… ارشاد الساری، کتاب البیوع،باب شراء المملوك… الخ،۵/۲۰۰.
6… مراٰۃ المناجیح،٧/٥٧٠.
7…قصص الانبیاء لابن کثیر،ص۱۹۳، ملتقطاً.
8…پ۷، الانعام:۷۵.
9… خازن، الانعام، تحت الاٰیة:۷۵، ۲/۲۸، ملتقطاً.
10…ابو سعود، الصافات، تحت الاٰیة:۱۰۰، ۴/۴۱۵.
11…پ۲۳، الصّٰفّٰت:۱۰۰.
12… پ۲۳، الصّٰفّٰت:۱۰۱.
13…ابو سعود، الصافات، تحت الاٰیة:۱۰۱، ۴/۴۱۵.
14…پ۲۱، لقمان:۳۴.
15… مرقاة المفاتیح،کتاب الفتن ،باب بدء الخلق وذکر الانبیاء،۹/۶۸۱،تحت الحدیث:۵۷۰۴، ملتقطاً.
16… ابن کثیر،الصافات،تحت الاٰية:۱۰۱، ۷/۲۳.
17…تفسیر السراج المنیر،ابراھیم،تحت الاٰية:۳۷، ۲/۱۸۵.
18… بخاری،کتاب احادیث الانبیاء،۱۰-باب (یزفون)،۲/۴۲۴،حدیث:۳۳۶۴.
19… پ۱۳، ابراھیم:۳۷.
20…خزائن العرفان،پ۱۳ ، ابراہیم، تحت الاٰیۃ:۳۷،ص۴۸۷، ملخصاً.
21… ابو سعود، الصافات، تحت الاٰیة:۱۰۲، ۴/۴۱۵-۴۱۶، خازن، والصافات، تحت الاٰیة:۱۰۲، ۴/۲۲، جلالین، الصافات، تحت الاٰیة:۱۰۲، ص۳۷۷، ملتقطاً.
22… خازن، والصافات، تحت الاٰیة:۱۰۳، ۴/۲۳.
23… بغوی، الصافات، تحت الاٰیة:۱۰۳، ۴/۲۸-۲۹، مدارک، الصافات، تحت الاٰیة:۱۰۳، ص۱۰۰۶، ملتقطاً.
24…پ۲۳، الصّٰفّٰت:۱۰۲- ۱۰۷.
25…پ۱، البقرة:۱۲۴.
26… خازن، البقرة، تحت الاٰية:۱۲۴، ۱/۸۵، ۸۶.
27… جلالین مع جمل، البقرة، تحت الاٰية:۱۲۴، ۱/۱۵۳، ۱۵۴، ملتقطاً.
28…پ۲۳، الصّٰفّٰت:۱۱۲.
29… روح البیان، ھود، تحت الاٰیة:۶۹، ۴/۱۶۱، خازن، ھود، تحت الاٰیة:۶۹، ۲/۳۶۰، ۳۶۱، ملتقطاً.
30… پ۱۲، ھود:۶۹.
31…پ۲۶، الذّٰریٰت: ۲۵- ۲۷.
32… پ۱۲، ھود:۷۰.
33… پ۲۶، الذّٰریٰت:۲۷، ۲۸.
34…پ۱۴، الحجر:۵۲ ، ۵۳.
35…خازن، الحجر، تحت الاٰیة:۵۳ ،۵۴ ، ۳/۱۰۴، تفسیر کبیر، الحجر، تحت الاٰیة:۵۴، ۷/۱۵۱، ملتقطاً.
36…پ۱۴، الحجر:۵۴.
37…پ۱۴، الحجر:۵۵.
38… مدارک، الحجر، تحت الاٰیة:۵۶، ص۵۸۳.
39… پ۱۴، الحجر:۵۶.
40… جلالین، الذاریٰت، تحت الاٰیة:۲۹، ۳۰، ص۴۳۳، مدارک، الذاریات، تحت الاٰیة:۲۹، ۳۰، ص۱۱۶۹، ملتقطاً.
41…پ۲۶، الذّٰریٰت:۲۹ ، ۳۰.
42… صاوی، ھود، تحت الاٰیة:۷۱، ۳/۹۲۳، مدارک، ھود، تحت الاٰیة:۷۱، ص۵۰۵، خازن، ھود، تحت الاٰیة:۷۱، ۲/۳۶۲، ملتقطاً.
43… پ۱۲، ھود:۷۱.
44… مدارک، ھود، تحت الاٰیة:۷۳، ص۵۰۶.
45…پ۱۲، ھود:۷۲، ۷۳.
46… قرطبی، ھود، تحت الاٰیة:۷۳، ۵/۵۰، الجزء التاسع.
47…پ۲۷، الذّٰریٰت:۳۱- ۳۴.
48… پ۱۴، الحجر:۵۷ -۶۰.
49… تفسیر کبیر، الحجر، تحت الاٰیة:۶۰، ۷/۱۵۳.
50…پ۱۲، ھود:۷۴.
51… خازن، ھود، تحت الاٰیة:۷۴، ۲/۳۶۲، ۳۶۳.
52…تفسیر طبری، ھود، تحت الاٰیة:۷۶، ۷/۷۹، ملخصاً.
53…پ۱۲، ھود:۷۶.
54… پ۱۳، ابراھیم:۳۹.
55… تفسیر عزیزی،۱/۲۹۲- ۲۹۴، ملتقطاً.
56…پ۱، البقرة:۱۲۷.
57… ترمذی،کتاب الحج ،باب ماجاء فی فضل الحجر الاسود…الخ،۲/۲۴۸،حدیث:۸۷۹.
58…ترمذی،کتاب الحج ،باب ماجاء فی فضل الحجر الاسود…الخ،۲/۲۴۸،حدیث:۸۷۸.
59… پ۱، البقرة:۱۲۵.
60… بیضاوی، البقرة، تحت الاٰية:۱۲۵، ۱/۳۹۸، ۳۹۹، ملتقطاً.
61…پ۱، البقرة:۱۲۶.
62… پ۱، البقرة:۱۲۶.
63…پ۱، البقرة:۱۲۸.
64… ابن ماجه، کتاب السنة، باب فضل العلماء…الخ، ۱/۱۴۶، حدیث:۲۲۴.
65… پ۱، البقرة:۱۲۹.
66…پ۱۳، ابراھیم:۳۵ ، ۳۶.
67… جلالین، ابراھیم، تحت الاٰیة:۳۵، ص۲۰۹.
68… خازن، ابراھیم، تحت الاٰیة:۳۵، ۳/۸۶، ملخصاً.
69… پ۱۳، ابراھیم:۴۰، ۴۱.
70… مدارک، ابراھیم، تحت الاٰیة:۴۰، ص۵۷۲، ۵۷۳.
71…پ۱۷، الحج:۲۷ ، ۲۸.
72…مصنف عبد الرزاق،کتاب المناسک،باب بنیان الکعبة،۵/۶۹ ، ۷۰، حدیث:۹۱۶۲.
73… فتاویٰ رضویہ،۲۸/۲۸۱.
74… پ۱، البقرة:۱۲۵.
75… خازن، البقرة، تحت الاٰية:۲۶۰، ۱/۲۰۳، ۲۰۴، ملتقطاً.
76… قرطبی، البقرة، تحت الاٰية:۲۶۰، ۲/۲۲۸، الجزء الثالث.
77…پ۳، البقرة:۲۶۰.
78… قصص الانبیاء لابن کثیر،ص۲۳۶، ۲۳۷.
79…عہدنامہ قدیم،پیدائش،باب۲۵،ص۲۴.
80… پ۱، البقرة:۱۳۱، ۱۳۲.
81… قصص الانبیاء لابن کثیر،ص۲۳۷، ملتقطاً..
82…پ۲۳، الصّٰفّٰت:۸۹. .
83…پ۱۷، الانبیاء:۶۳.
84… بخاری،کتاب احادیث الانبیاء، باب قوله تعالٰی: واتخذ الله…الخ،۲/۴۲۲،حدیث:۳۳۵۸.
85… پ۱۶، مریم:۴۱.
86… فتح الباری،کتاب البیوع، باب شراء المملوک…الخ،۸/۵۳۵،تحت الحدیث:۲۲۱۷.
87… پ۲۳،الزمر:۳۰.
88… پ۸،اعراف:۸۲.
89…پ۱، البقرة: ۱۳۲.
90… ابن ماجه، کتاب الادب، باب بر الوالد والاحسان الی البنات، ۴/۱۸۹، ۱۹۰،حدیث:۳۶۷۱.
91… مسند امام احمد، مسند الشامیین، حدیث العرباض بن ساریة، ۶/۸۴، حدیث:۱۷۱۵۰.
92… مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب النھی عن بناء المساجد...الخ، ص۲۱۳، حدیث:۱۱۸۸.
93…بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، ۲/۴۲۹، حدیث:۳۳۷۰.
94…مسلم، کتاب الحج، باب الترغیب فی سکنی...الخ، ص۵۴۸، حدیث:۳۳۳۶.
95…ترمذی، کتاب الادب، باب ماجاء فی قص الشارب، ۴/۳۴۹، حدیث:۲۷۶۹.
96…ابن ماجہ، کتاب الصید، باب قتل الوزغ، ۳/۵۸۱، حدیث:۳۲۳۱.
97… بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب قول اللہ تعالی: واتخذ اللہ ابراھیم خلیلا، ۲/۴۲۳، حدیث:۳۳۵۹.
98… بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکة، ۲/۳۸۱، حدیث:۳۲۰۷،
بخاری، کتاب الصلاة، باب کیف فرضت الصلوات فی الاسراء، ۱/۱۴۱، حدیث:۳۴۹.
99… مسلم، کتاب الایمان، باب الاسراء برسول...الخ، ص۸۷، حدیث:۴۱۱.
100… ترمذی، کتاب الدعوات، باب ماجاء فی فضل التسبیح...الخ، ۵/۲۸۶، حدیث:۳۴۷۳.
101… مسلم، کتاب صلاة المسافرین وقصرھا، باب بیان ان القراٰن علی...الخ، ص۳۱۸، حدیث:۱۹۰۴.
102… بخاری، کتاب التفسیر، باب ذریة من حملنا مع...الخ، ۳/۲۶۰، حدیث:۴۷۱۲.
103… بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب قول اللہ تعالی: واتخذ اللہ ابراھیم خلیلا، ۲/۴۲۰، حدیث:۳۳۵۰.
104… مسند بزار، عکرمة عن ابی ھریرة، ۱۵/۲۹۰، حدیث:۸۷۸۹.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع