30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب:5
اختتامِ عذاب کے بعد کے احوال
اس باب میں عذاب ختم ہونے کے بعد کے احوال مذکور ہیں ، تفصیل کے لیے ذیلی سطور ملاحظہ ہوں:
کشتی ٹھہرنے پر شکر کا روزہ:
منقول ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کشتی میں دسویں رجب کو بیٹھے اور دسویں محرم کو کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس کے شکر کا روزہ رکھا اور اپنے تمام ساتھیوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔(1)
دس محرم یعنی عاشورا کے دن روزہ رکھنا ہمارے نبی صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت بھی ہےاور ا س کی فضیلت کے بارے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر گمان ہے کہ عاشورا کا روزہ ایک سال پہلے کے گناہ مٹا دیتا ہے۔(2)
حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کو کشتی سے اترنے کا حکم:
جب زمین سے پانی خشک ہو گیا،اس پر چلنا پھرنا اور ٹھہرنا ممکن ہو گیاتو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا:اے نوح!تم ہماری طرف سے سلامتی اور ان برکتوں کے ساتھ کشتی سے اتر جاؤجو تم پر اور تمہارے ساتھیوں کی جماعتوں پر ہیں ۔ اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ دنیا میں کچھ جماعتیں ایسی بھی ہوں گی جنہیں اللہ تعالیٰ ان کی مقررہ مدتوں تک فراخیِ عیش اور وُسعتِ رزق عطا فرمائے گا پھر انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخرت میں دردناک عذاب پہنچے گا۔
اس کاذکر قرآنِ پاک میں ان الفاظ کے ساتھ کیا گیا ہے:
قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَؕ-وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۴۸) (3)
ترجمہ :فرمایا گیا: اے نوح! ہماری طرف سے اس سلامتی اور ان برکتوں کے ساتھ کشتی سے اتر و جو تم پر اور تمہارے ساتھیوں کی جماعتوں پر ہیں اور کچھ جماعتیں ایسی ہیں جنہیں ہم فائدے دیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔
آیت میں مذکور برکتوں سے حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کی ذُرِّیَّت اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی پیروی کرنے والوں کی کثرت مراد ہے کہ بعد کے تمام انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام اور ائمۂ دین م آپ کی نسلِ پاک سے ہوئے۔سلامتی اور ساتھیوں کی جماعتوں میں قیامت تک آنے والا ہرمومن مرد اور عورت داخل ہے۔’’ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ‘‘میں حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کے بعدقیامت تک پیدا ہونے والا ہر کافر مرد اور کافرہ عورت داخل ہے۔
بعدِ طوفان پہلے شہر کی تعمیر:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں :دسویں محرم کو چھ(6) ماہ کے بعد سفینہ مبارکہ جودی پہاڑ پر ٹھہرا۔ سب لوگ پہاڑ سے اُترے اور پہلا شہر جو بسایا اس کا’’ سُوْقُ الثَّمَانِین ‘‘نام رکھا۔ یہ بستی جبلِ نہاوند کے قریب متصل موصل میں واقع ہے۔ اس طوفان میں دو عمارتیں مثل گنبد ومنارہ باقی رہ گئی تھیں جنہیں کچھ نقصان نہ پہنچا۔ اس وقت روئے زمین پر سوائے ان کے اور عمارت نہ تھی۔(4)
حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کی بیٹے سام کو وصیت:
حضرت کعب الاحبار رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ سے مروی ہے کہ جب حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کی وفات کا وقت قریب آیاتو انہوں نے اپنے بیٹے سام کو بلایا اور فرمایا:میں تمہیں دو باتوں کی تاکید کرتا ہوں اور دو باتوں سے منع کرتا ہوں۔ پہلی دو باتیں یہ ہیں: (1)اس بات کی گواہی دیتے رہنا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ بیشک ’’ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ایسا کلمہ ہے جو ساتوں آسمانوں کو پھاڑ سکتا ہے اور کوئی چیز اسے چھپا نہیں سکتی۔اگر ساتوں آسمان ،ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب ایک پلڑے میں رکھ دیاجائے اور دوسرے پلڑے میں یہ کلمہ رکھ دیا جائے تو یہ دوسرا پلڑا وزنی ہو گا۔ (2)کثرت کے ساتھ ’’ سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ للہِ ‘‘پڑھتے رہنا ، کیونکہ یہ کلمہ ثواب کا جامع ہے۔دوسری دو باتیں یہ ہیں: (3)کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے سے۔(4) اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی اور پر توکل کرنے سے منع کرتا ہوں۔ (5)
دنیا سے متعلق حضرت عزرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کاحضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام سے کلام :
حضرت انس رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس آئے تو عرض کی:اے نوح!اے انبیاء میں سب سے بڑے! اے لمبی عمر والے، اے مستجاب الدعوات!آپ نے دنیا کو کیسا پایا؟ارشاد فرمایا:میں نے دنیا کو اس شخص کی طرح پایا جس نے ایک گھر بنایا جس کے دو دروازے تھے اور وہ ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے دروازے سے نکل گیا۔ (6)
حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کی عمر:
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام چالیس سال کی عمر میں مبعوث ہوئے اور نو سو پچاس سال اپنی قوم کو دعوت فرماتے رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس دنیا میں رہے تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی عمر ایک ہزار پچاس سال کی ہوئی۔ اس کے علاوہ عمر شریف کے متعلق اور بھی قول ہیں۔ (7) ان میں سے ایک قول سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے بھی ذکر فرمایا ہے کہ (حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام دنیا میں )تقریباً سولہ سو برس تک تشریف فرمارہے ۔(8)
باب:06
احادیث میں حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کا تذکرہ
اس باب میں ان احادیث کا ذکر ہے جن میں حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کا ذکر کیا گیا ہے۔
اولادِ آدم کے بہترین فرد:
حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد میں بہترین افراد 5 ہیں: (1)حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام ،(2)حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام ،(3)حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ، (4)حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ،(5)محمد مصطفیٰ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۔ (9)
روزِ قیامت مخلوق کی بارگاہِ نوح میں حاضری:
(قیامت کے دن حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام لوگوں سے فرمائیں گے:)تم حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس چلے جاؤ۔چنانچہ لوگ بارگاہِ نوح میں حاضر ہو کر عرض کریں گے:اے نوح ! عَلَیْہِ السَّلَام ،بیشک زمین والوں کی طرف آپ ہی پہلے رسول ہیں اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ نےآپ کو شکر گزار بندہ قراردیا ہے ،لہٰذااپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کر دیجئے،کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں۔حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام فرمائیں گے :بیشک آج میرے رب نے ایسا غضب فرما یا ہے کہ اس سے پہلے اس جیسا غضب نہیں فرمایا اور نہ ہی اس کے بعد کبھی ایسا غضب فرمائے گا، میرے پاس ایک ہی دعا تھی جومیں نے اپنی قوم کے خلاف کر دی ہے ، نفسی نفسی نفسی،(میری جان، میری جان، میری جان،)تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس چلے جاؤ۔(10)
روزِ قیامت تبلیغِ نوح کی گواہی:
رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کو لایا جائے گا، ان سے کہا جائے گا: آپ نے تبلیغ کی تھی؟ وہ عرض کریں گے: ہاں یارب ! پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا : کیا تمہیں تبلیغ کی گئی تھی؟ وہ کہیں گے : ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ فرمایا جائے گا: اے نوح! تمہارے گواہ کون ہیں؟ عرض کریں گے: محمد مصطفیٰ( صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )اور ان کی اُمت۔حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: پھر تمہیں لایا جائے گا، تم گواہی دو گے کہ انہوں نے تبلیغ کی تھی۔(11)
سانپ سے بچنے کاایک وظیفہ:
نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب گھر میں سانپ نمودار ہو تو اس سے کہہ دو کہ ہم حضرت نوح اور حضرت سلیمان عَلَیْہِمَا السَّلَام کے معاہدوں کے واسطے تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ہمیں نہ ستا، پھربھی اگر وہ واپس آئے تو اسے مار دو۔(12)
دعا:اے اللہ ! حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام پر کروڑہا کروڑ رحمتیں اور برکتیں نازل فرما اور ہمیں ان کی سیرت پر عمل پیرا ہونے اور ان کی قوم کے احوال و انجام سے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما ، اٰمین ۔
1… بیضاوی،ھود، تحت الاٰية:۴۴، ۳/۲۳۷، خازن،هود،تحت الاٰية:۴۴،۲/ ۳۵۴، ملتقطًا.
2… مسلم،كتاب الصيام،باب استحباب صيام ثلاثة ايام من كل شهر...الخ،ص۴۵۴،حديث:۲۷۴۶.
3…پ۱۲،هود:۴۸.
4… ملفوظات اعلیٰ حضرت،ص۱۲۹.
5…روح البیان،المائدۃ،تحت الاٰية:۵ ،۲/۳۴۹.
6… تاریخ ابن عساکر،۶۲/۲۸۱.
7… خازن،هود،تحت الاٰية:۲۶،۲/۳۴۸.
8… ملفوظات اعلیٰ حضرت،ص۱۳۰.
9…جامع صغیر، حرف الخاء،حدیث:۳۹۸۱.
10… بخاری،کتاب التفسیر،سورة بنی اسرائیل، باب (ذریة من حملنا مع نوح…الخ)،۳/۲۶۰،حدیث:۴۷۱۲.
11… بخاری،کتاب الاعتصام بالکتاب و السنة ، باب قوله تعالٰى:(وکذلک جعلنا کم امة …الخ)، ۴/۵۲۰، حدیث:۷۳۴۹.
12… ترمذی،کتاب الاحکام والفوائد،باب ماجاء فی قتل الحیات،۳/۱۵۷،حدیث:۱۴۹۰.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع