30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب:11
حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی وفات اور تجہیز و تکفین
اس باب میں حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے فرزند حضرت شیث عَلَیْہِ السَّلَام کی ولادت، حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی وفات اور تجہیز وتکفین کا ذکر ہے،تفصیل کے لیے ذیلی سطور ملاحظہ ہوں:
حضرت شیث عَلَیْہِ السَّلَام کی تنہا ولادت اور اس کا سبب:
ہابیل کے قتل کے کچھ عرصہ بعد حضرت حوا رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے ہاں حضرت شیث عَلَیْہِ السَّلَام کی ولادت ہوئی اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام تنہا پیدا ہوئے ۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے عام معمول سے ہٹ کر تنہا پیدا ہونے کی حکمت بیان کرتے ہوئے علامہ احمد بن محمد قسطلانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:’’ وَضَعَتْ شِيْثًا وَّحْدَهٗ كَرَامَةً لِّمَنْ اَطْلَعَ اللّٰهُ تَعَالٰى بِالنُّبُوَّةِ سَعدَهٗ ‘‘ ترجمہ: حضرت حوا رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے حضرت شیث عَلَیْہِ السَّلَام کو اکیلا ہی جنم دیا(ان کے ساتھ لڑکی کی ولادت نہیں ہو ئی)یہ ا س ہستی کی عزت و تکریم کے لیے ہوا جن کی سعادت مندی کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ذریعے ظاہر فرمایا ۔(1)
علامہ ابو عبداللہ محمد بن عبد الباقی زرقانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:’’ وَهُوَ الْمُصْطَفٰى فَكَانَ فِيْ وَجْهِ شِيْثٍ نُّوْرُ نَبِيِّنَا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَجَاءَتِ الْمَلَائِكَةُ مُبَشِّرَةً لِّاٰدَمَ بِهٖ ‘‘یہ ہستی محمد مصطفیٰ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہے۔حضرت شیث عَلَیْہِ السَّلَام کے چہرے میں ہمارے نبی صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نور تھا اور فرشتے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو اس بات کی خوشخبری دینے آئے ۔ (2)
حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی وصیت:
علامہ احمدبن محمد قسطلانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی وفات کے وقت حضرت شیث عَلَیْہِ السَّلَام کو وصیت فرمائی ،پھر حضرت شیث عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی اولاد کو حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے فرمان کے مطابق وصیت فرمائی کہ وہ اس نور کو خوب پاک عورتوں میں ہی رکھیں گے۔یہ وصیت اولادِ آدم میں جاری رہی اور ایک زمانے سے دوسرے زمانے میں منتقل ہوتی رہی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نور حضرت عبد المطلب رَضِیَ اللہُ عَنْہ میں رکھا،ان کے ہاں حضرت عبداللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی ولادت ہوئی(جو کہ حضور اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے والدِ محترم ہیں۔) (3)
وفات اور کفن دفن:
آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی وفات اور تجہیز و تکفین سے متعلق حضرت ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں:’’جب حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے فرمایا: اے میرے بیٹو!میرا جنت کے پھل کھانے کو جی چاہتا ہے۔چنانچہ بیٹے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے لیے جنتی پھل تلاش کرنے نکل گئے۔انہیں سامنے سے فرشتے آتے ہوئے ملے جن کے پاس حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کا کفن اور خوشبو تھی ،اس کے علاوہ ان کے پاس کلہاڑے، پھاؤڑے اور ٹوکریاں بھی تھیں ۔فرشتوں نے ان سے کہا:اے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے بیٹو!تم کیا چاہتے ہو اور کیا تلاش کر رہے ہو؟ یا یہ کہا کہ ’’تم کیا چاہتے ہو اور کہاں جا رہے ہو۔انہوں نے کہا:ہمارے والد ِ محترم بیمار ہیں اور انہیں جنتی پھل کھانے کی خواہش ہے۔فرشتوں نے کہا:واپس لوٹ جاؤ، تمہارے والدکی عمر پوری ہو چکی ہے۔ پھر فرشتے (حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی روح قبض کرنے )آئے تو انہیں دیکھ کر حضرت حوا رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے پہچان لیا اور آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام سے لپٹ گئیں۔حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: مجھ سے الگ ہو جاؤ، پہلے بھی مجھے تمہارے ذریعے ہی مصیبت پہنچی تھی، میرے اورفرشتوں کے درمیان راستہ خالی کر دو۔فرشتوں نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی روح قبض کی،انہیں غسل دیا، کفن پہنایا، خوشبو لگائی،آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی قبر کھودی اور لحد تیار کی،پھر حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی نمازِ جنازہ ادا کی ،پھر قبر میں داخل ہو کر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کوقبر میں رکھا،پھر اینٹیں لگائیں،پھر قبر سے نکل آئے اور اوپر سے مٹی ڈال دی،پھر فرمایا: اے اولادِ آدم! تمہارے لیے(تجہیز و تکفین کا) یہی طریقہ ہے۔(4)
مقامِ دفن:
حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی تدفین کے مقام سے متعلق مؤرخین کا اختلاف ہے۔ مشہور یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو ہند میں اسی پہاڑ کے پاس دفن کیا گیا تھا جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام جنت سے اترے تھے۔بعض یہ کہتے ہیں کہ مکہ میں جبلِ ابو قبیس کے پاس دفن ہیں اور بعض کا یہ بھی کہنا ہے جب حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کے زمانے میں طوفان آیاتو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت حوا رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کا جسد مبارک ایک تابوت میں رکھ لیا، پھر انہیں بیت المقدس میں دفن کر دیا۔(5)
باب:12
احادیث میں حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کاتذکرہ
حضور پُر نور صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی مبارک احادیث میں بھی حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کی حکایات کا ذکرفرمایا ہے ،ان میں سے کچھ احادیث پچھلی فصلوں میں بیان ہو چکی ہیں ،یہاں مزید6 احادیث ملاحظہ ہوں،
تخلیقِ آدم کا تذکرہ:
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا اور شیطان کو سیاہ آگ کے شعلہ سے پیدا کیاگیا اور حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو اس چیز سے پیدا کیا گیا جس کا تمہارے سامنے بیان کیا گیا ہے(یعنی مٹی سے)۔ (6)
حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام اور مشاہدۂ اولاد:
حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے،سید المرسلین صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو پیدا فرمایا، پھر(اپنی شان کے لائق)اپنے دائیں ہاتھ سےان کی پشت کو مَلا تو اس سے ( مخصوص صورت میں ان کی) اولادنکلی تو فرمایا :میں نے انہیں جنت کے لیے بنایا، یہ جنتیوں والے کام کریں گے۔پھر ان کی پشت ملی تو اس سے اولادنکلی اورفرمایا:میں نے انہیں آگ کے لیے بنایا، یہ لوگ جہنمیوں کے کام کریں گے ۔ ایک شخص نے عرض کی: یارسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، پھر عمل کی کیا ضرورت رہی؟ ارشاد فرمایا: یقینًا اللہ تعالیٰ جب بندے کو جنت کے لیے پیدا فرماتا ہے تو اس سے جنتیوں کے کام لیتا ہے یہاں تک کہ وہ جنتیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مرتا ہے اس بنا پر اسے جنت میں داخل فرماتا ہے اور جب بندے کو جہنم کے لیے پیدا فرماتا ہے تو اس سے جہنمیوں کے کام لیتا ہے،یہاں تک کہ وہ جہنمیوں کے کاموں میں سے کسی کام پرمرتا ہے جس کی وجہ سے اسے جہنم میں داخل فرماتا ہے(لہٰذا ہمیشہ نیکیاں کرنے کی کوشش کرو۔) (7)
اس حدیثِ پاک میں کام لینے کے معنی یہ ہیں کہ بندے کا قلبی رجحان نیکیوں یا برائیوں کی طرف ہوتا ہے جس سے وہ اپنی خوشی اور اختیار سے نیکیاں یا برائیاں کرتا ہے، لہٰذا نیکی یا برائی کرنے میں بندہ مجبور محض نہیں بلکہ نیکی کی رغبت اور برائی کی خواہش ہر انسان کے دل میں موجود ہوتی ہے پھر نیک اور برے کام پرقدرت و اختیار بھی دیدیا جاتا ہے پھراچھی او ربری راہ آدمی کے سامنے کھول دی جاتی ہے اور انسان اپنی مرضی سے ان میں سے کسی راہ کو اختیار کرتا ہے۔ خلاصۂ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ جنتیوں والے کام اس بندے سے لیتا ہے جو اپنی مرضی و اختیار سے ہدایت کی راہ اختیار کرکے اچھے اعمال کرنا چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ جہنمیوں والے کام اس سے لیتا ہے جو اپنی مرضی و اختیار سے ہدایت سے منہ موڑ کربرائی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنے نفس کے پیچھے چل کر خود ہی گناہوں والی زندگی اختیار کرنا چاہتا ہے۔
حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کو اپنی عمر کے چالیس سالوں کا عطیہ:
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے، رسولُ اﷲ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو پیدا کیا تو ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو ان کی پشت سے ان کی اولاد کی روحیں نکلیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت تک پیدافرمانے والا ہے اور ان میں سے ہرانسان کی دو آنکھوں کے درمیان نور کی چمک دی ۔پھر انہیں حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے سامنے پیش فرمایا۔انہوں نے عرض کی:یا رب! یہ کون ہیں؟ارشاد فرمایا:یہ تمہاری اولاد ہے۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ان میں ایک شخص کو دیکھاتو ان کی آنکھوں کے درمیان کی چمک پسند آئی،عرض کی:یا رب! یہ کون ہے؟ ارشاد فرمایا: حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام ۔عرض کی:یا رب! ان کی عمرکتنی مقرر فرمائی ہے؟ارشاد فرمایا:60 سال۔عرض کی: اے میرے رب! میری عمر میں سے چالیس سال انہیں بڑھادے۔ حضور اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : جب حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی عمر ان چالیس سالوں کے علاوہ پوری ہوئی تو ان کی خدمت میں موت کا فرشتہ حاضر ہوا۔حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے کہا: کیا ابھی میری عمر کے چالیس سال باقی نہیں؟ فرمایا: وہ آپ اپنے فرزند داؤد کو نہیں دے چکے۔ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے(یاد نہ ہونے کی بنا پر)انکار کیا، توان کی اولاد انکار کرنے لگی۔حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام بھول کردرخت سے کھا گئے لہذا ان کی اولاد بھولنے لگی حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے(اجتہادی) خطا کی تو ان کی اولاد خطائیں کرنے لگی۔ (8)
اولادِ آدم کے جنتی اور جہنمی گروہ:
حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو پیدا فرمایا تو ان کے دائیں کندھے پر دستِ قدرت لگایااور سفید رنگ کی اولادنکالی جو( ہیئت میں) چیونٹیوں کی مانندتھی،پھر بائیں کندھے پر دستِ قدرت لگایااور(اس سے)سیاہ رنگ کی اولاد نکالی(ان کی سیاہی ایسی تھی)گویا کہ وہ کوئلے ہیں، پھر دائیں جانب والوں کے لیے فرمایا:یہ جنت کی طرف(جانے والے) ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں (یعنی ان کے جنتی ہونے سے مجھے کوئی نفع نہیں)اور بائیں جانب والوں کے لیے فرمایا:یہ جہنم کی طرف (جانے والے)ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں(یعنی ان کے جہنمی ہونے سے مجھے کوئی نقصان نہیں)۔(9)
حضرت آدم اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِمَا السَّلَام میں مباحثہ:
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سےروایت ہے، رسولُ اﷲ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا: حضرت آدم اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِمَا السَّلَام نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے سامنےمباحثہ کیا جس میں آدم عَلَیْہِ السَّلَام موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر غالب رہے۔حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے کہا:آپ وہی آدم ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے دستِ قدرت سے پیدا کیا،آپ میں اپنی خاص روح پھونکی ،آپ کواپنے فرشتوں سےسجدہ کرایا،اپنی جنت میں رکھا، اس کے باوجودآپ نے اپنی لغزش کے سبب لوگوں کو(جنت سے) نیچے زمین کی طرف اتاردیا۔حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نےفرمایا:آپ وہی موسیٰ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے چن لیا اور ہمکلامی کا شرف بخشا،آپ کو(تورات کی)تختیاں عطا کیں جن میں ہر چیز کاکھلا بیان ہے اوراپنا راز کہنے کے لیے مقرب بنایا۔بتائیں!آپ کی معلومات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے میری تخلیق سے کتنا عرصہ پہلے تورات لکھ دی تھی؟کہا:چالیس سال پہلے۔ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: کیا آپ نے تورات میں پڑھا ہے کہ آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے رب کی فرمانبرداری سےلغزش کی تو کامیاب نہ ہوئے؟ کہا:ہاں۔حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا :کیا آپ میرے اس عمل پر کلام کر رہے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے میری تخلیق سے چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا کہ میں یہ عمل کروں گا۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:پس(یہ فرما کر) حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر غالب آ گئے۔ (10)
حضرت آدم اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِمَا السَّلَام کے مباحثہ سے متعلق ضروری باتیں:
(1)یہ مباحثہ کب ہوا اس سے متعلق شارحین کے مختلف اقوال ہیں،ان میں سے3 قول یہ ہیں: (1) ممکن ہے کہ یہ مباحثہ تب ہوا ہوجب(وصالِ موسیٰ کے بعد) آسمانوں میں حضرت آدم اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِمَا السَّلَام کی روحوں کی ملاقات ہوئی۔ (2)یہ احتمال بھی ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معراج کی رات جب بیت المقدس اور آسمانوں میں انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام جمع ہوئے اس وقت دونوں کی ملاقات ہوئی اور اس دوران یہ مباحثہ ہوا ہو۔(3)یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے زمانے میں حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو دیکھنے کی دعا کی ہو جو قبول ہوئی اور حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے قبر منور سے باہر تشریف لا کرآپ عَلَیْہِ السَّلَام سے ملاقات کی اور اس وقت یہ مباحثہ ہوا۔
(2)حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی یہ گفتگو نہ تو گستاخی کی نیت سے تھی اور نہ ہی اس انداز پر ،بلکہ علم کا افادہ و استفادہ تھا۔
(3)یہاں بھی حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی خطا پر وہی کلام ہے کہ وہ اجتہادی تھی ، گناہ نہ تھا کیونکہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام ہر چھوٹے بڑے گناہ سےمعصوم ہوتے ہیں۔
(4)حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی نظر ظاہر ی واقع ہونے والے واقعے پر تھی جبکہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کا جواب حقیقت پرمبنی تھا گویا کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے یوں فرمایا: اے موسیٰ!میری یہ لغزش ، جنت سے زمین پر آنا اوریہاں یہ باغ و بہار لگانا سب رب تعالیٰ کے ارادہ اور اس کی مرضی سے تھا جس میں ہزاروں رازتھے۔
(5)حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام ممنوعہ درخت سےبھول کر کھانے کے بعد اس پر اظہارِ ندامت اور توبہ استغفار ہی کرتے رہے اوروہ توبہ قبول بھی ہوئی اور شرعی حکم یہ ہے کہ کسی شخص کو توبہ کے بعد ملامت نہیں کی جاسکتی بلکہ اب دوسرے فوائد کے پہلو پر نظر رکھنی چاہیے۔ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی توجہ اسی طرف مبذول کروائی اور اسرار ِ الٰہیہ کی طرف اشارہ فرمایاجیسے یہ حکمت کہ وہ بھول انسانوں سے دنیا آباد کرنے اور دارُ الامتحان کے قیام کےلئے اللہ تعالیٰ کے تکوینی امور میں سے تھی ۔
لہٰذاکوئی شخص اپنے جان بوجھ کر کیے گئے گناہوں پر یہ عذر پیش نہیں کر سکتا کہ اس کی تقدیر میں ہی یوں لکھا تھا۔دنیا میں ہر شخص احکامِ الٰہی کا پابند ہے اور اسے راہِ اطاعت اختیار کرنی ہے ورنہ گناہ کے ارتکاب پر گناہگار بھی ہوگا اور سزا کا مستحق بھی۔
(6)حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کا جواب چونکہ حقیقت پر مبنی تھا اس لیے آپ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر غالب رہے۔
روزِ حشر حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی مدح :
حضرت انس رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن ایمان والے جمع ہوں گے اور کہیں گے:کاش !ہمارے رب کی بارگاہ میں کوئی ہماری سفارش کر دے،پھر وہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے :آپ تمام انسانوں کے والد ہیں ، اللہ تعالیٰ نے خاص اپنے دستِ قدرت سے آپ کی تخلیق فرمائی اور آپ کو اپنے فرشتوں سے سجدہ کروایااور آپ کو تمام چیزوں کے ناموں کا علم دیا۔ (11)
یہ فضائل یقیناً برحق ہیں لیکن اس کے باوجود آدم عَلَیْہِ السَّلَام شفاعت کی ابتداء کی ہمت نہ کریں گے بلکہ اپنا عذر پیش کریں گے اور بالآخر شفاعت کی ابتداء کامعاملہ حضور سیدالمرسلین صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر آکر ہی اختتام پذیر ہوگا۔
1…المواهب اللدنیه ،المقصد الاول،طهارة نسبه،۱/۴۵.
2… شرح الزرقانی علی المواهب،المقصد الاول فی تشریف اللہ تعالی له علیه الصلا ة والسلام،۱/۱۲۳.
3… المواهب اللدنیه، المقصد الاول، طهارة نسبه، ۱/۴۵.
4…مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث عتی بن ضمرة…الخ، ۸/۴۹، حدیث:۲۱۲۹۸.
5… قصص الانبیاء لابن کثیر،ص۷۳.
6…مسلم، کتاب الزھد والرقائق، باب فی احادیث متفرقة، ص۱۲۲۱، حدیث:۷۴۹۵.
7…ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورة الاعراف، ۵/۵۲، حدیث:۳۰۸۶.
8… ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورة الاعراف، ۵/۵۳، حدیث:۳۰۸۷.
9…مسند امام احمد، من مسند القبائل، حدیث ابی الدرداء، ۱۰/۴۱۷، حدیث:۲۷۵۵۸.
10…مسلم، کتاب القدر، باب حجاج اٰدم و موسٰی علیهما السلام، ص۱۰۹۴، حدیث:۶۷۴۴.
11…بخاری، کتاب التفسیر، باب قول اللہ تعالٰی:وعلم اٰدم الاسماء کلہا، ۳/۱۶۴، حدیث:۴۴۷۶.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع