30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب:10
ہابیل اور قابیل کا واقعہ
حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی زندگی میں ان کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کا ایک اہم واقعہ رونما ہوا جسے قرآن کریم میں بھی بیان کیا گیا ہے ،یہاں اس کی تفصیل بھی ملاحظہ ہو:
حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام و حوا رَضِیَ اللہُ عَنْہَا سے نسلِ انسانی کی ابتداء:
حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت حوا رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے پیدا فرمایا،پھر ان دونوں کے ملاپ سے نسلِ انسانی کی ابتداء فرمائی ،جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءًۚ- (1)
ترجمہ:اے لوگو !اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے کثرت سے مرد و عورت پھیلا دیئے۔
حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد اور ان میں دستورِ نکاح:
منقول ہے کہ حضرت حوا رَضِیَ اللہُ عَنْہَا بیس یا چالیس مرتبہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام سے حاملہ ہوئیں۔ہر حمل میں دودوبچے پیدا ہوئے،ایک لڑکا اور ایک لڑکی (جب یہ جوان ہو جاتے تو) حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام ایک حمل کے لڑکے کا دوسرے حمل کی لڑکی کے ساتھ نکاح فرما دیاکرتے تھے ۔ (2)
ایک تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم تھا اور دوسرا یہ تھا کہ انسان صرف حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد میں سے ہی ہونے تھے کسی اور جنس سے نہیں توایک دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے کے علاوہ اور کوئی صورت ہی نہ تھی۔ان ہی اولاد میں قابیل او رہابیل دو لڑکے تھے جن کے ساتھ ایک ایک لڑکی بھی پیدا ہوئی۔
قابیل کا اپنی بہن سے نکاح کا مطالبہ اور حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کا اسے مشورہ:
قابیل کے ساتھ جو لڑکی پیدا ہوئی وہ بہت خوبصورت تھی اور اس کا نام ’’اقلیما‘‘ تھا جبکہ ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی ’’لیوذا‘‘ کم خوبصورت تھی۔جب حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے شرعی دستور کے مطابق ’’قابیل ‘‘ کا نکاح ’’لیوذا‘‘ سے اور ’’ہابیل‘‘ کا ’’اقلیما‘‘ سے کرنا چاہا تو قابیل اس پر راضی نہ ہوا اور مطالبہ کیا کہ میرا نکاح ’’اقلیما‘‘ کے ساتھ ہی کیا جائے۔ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے اس سے فرمایا:اقلیما تیرے ساتھ پیدا ہوئی ہے لہٰذا وہ تیری بہن ہے، اس کے ساتھ تیرا نکاح حلال نہیں۔ قابیل کہنے لگا :یہ تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی رائے ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نہیں دیا۔اس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا :اگر تم یہ سمجھتے ہو تو تم دونوں اپنی قربانیاں پیش کرو ،جس کی قربانی قبول ہوگئی وہی اقلیما کا حقدار ہو گا۔ اس زمانے میں قربانی قبول ہونے کی علامت یہ ہوتی کہ آسمان سے ایک آگ اتر کر اسے کھاجاتی تھی۔ (3)
ہابیل کی قربانی کی مقبولیت:
قابیل کھیتی باڑی کا کام کرتا تھا اور ہابیل بکریا ں چَراتے تھے۔قابیل ہلکی قسم کی گندم کا ایک ڈھیر قربانی کے طور پر لایا جبکہ ہابیل نے رضائے الہٰی کے لئے ایک عمدہ قسم کی بکری قربانی کے لیے پیش کی۔پھر گندم اور بکری کو پہاڑ پر رکھ دیاگیا۔اس کے بعد حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے دعا فرمائی تو آسمان سے آگ نازل ہوئی اور اس نے ہابیل کی قربانی کو لے لیا اور قابیل کی گندم کو چھوڑ دیا۔ یوں ہابیل کی قربانی قبول ہو گئی اور یہی اقلیما کے حقدار قرار پائے۔(4)
قابیل کی ہابیل کو قتل کی دھمکی اور ہابیل کا جواب:
ہابیل کی قربانی قبول ہونے پرقابیل کے دل میں بغض و حسد پیدا ہوا اور جب حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام حج کے لئے مکۂ مکرمہ تشریف لے گئے توقابیل نے ہابیل سے کہا:میں تجھے قتل کردوں گا۔ ہابیل نے کہا: کیوں ؟ قابیل نے کہا: اس لئے کہ تیری قربانی مقبول ہوئی اور میری قبول نہ ہوئی اوراس طرح تو اقلیما کا مستحق ٹھہرا ، لیکن اس میں میری ذلت ہے۔ ہابیل نے جواب دیا کہ’’ اللہ تعالیٰ صرف ڈرنے والوں کی قربانی قبول فرماتا ہے۔ ہابیل کے اس قول کا یہ مطلب تھا کہ ’’قربانی کو قبول کرنا اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کام ہے وہ متقی لوگوں کی قربانی قبول فرماتا ہے، تو متقی ہوتا تو تیری قربانی قبول ہوتی، اب اگر تیری قربانی قبول نہیں ہوئی تو یہ خود تیرے افعال کا نتیجہ ہے اس میں میرا کیا قصور ہے۔ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے میری طرف ہاتھ بڑھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے ایسا نہیں کروں گا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میر ی طرف سے ابتدا ہو حالانکہ میں تجھ سے قوی و توانا ہوں، یہ صرف اس لئے کہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتا ہوں اور یہ چاہتا ہوں کہ میں گناہگار نہ بنوں بلکہ میرے قتل کرنے کا گناہ اور تیرا سابقہ گناہ یعنی والد کی نافرمانی، حسد اور خدائی فیصلہ کو نہ ماننے کا سارا گناہ تیرے اوپر ہی پڑے۔قرآن کریم میں حکایت کا یہ حصہ ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ،چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّۘ-اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِؕ-قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَؕ-قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ(۲۷) لَىٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَۚ-اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ(۲۸) اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِۚ-وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ(۲۹) (5)
ترجمہ:اور (اے حبیب!) انہیں آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر پڑھ کر سناؤ جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی طرف سے قبول کرلی گئی اور دوسرے کی طرف سے قبول نہ کی گئی، تو(وہ دوسرا) بولا: میں ضرور تجھے قتل کردوں گا۔ (پہلے نے) کہا : اللہ صرف ڈرنے والوں سے قبول فرماتا ہے۔ بیشک اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں بڑھاؤں گا۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہانوں کا مالک ہے۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میرا اور تیرا گناہ دونوں تیرے اوپر ہی پڑجائیں تو تو دوز خی ہوجائے اور ظلم کرنے والوں کی یہی سزا ہے۔
تاریخِ انسانی کا پہلا قتل:
ہابیل کی خوفِ خدا پر مشتمل اس تمام گفتگو کے بعد بھی قابیل اپنی شہوت کی تسکین کےلئے نفس ِ امارہ کے شر کا شکار ہوکر اپنے بھائی کو قتل کرنے کے ارادے پر ڈٹا رہا اور بالآخرقابیل نے ہابیل کوکسی طریقے سے قتل کردیااور یوں دنیا و آخرت کا خسارہ اٹھایا ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(۳۰) (6)
ترجمہ:تو اس کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر راضی کرلیا تو اس نے اسے قتل کردیا پھر وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔
لاش چھپانے میں کوے کی مدد:
ہابیل کو قتل کرنے کے بعد قابیل حیران و پریشان ہوا کہ اب اس لاش کو کیا کرے کیونکہ اس وقت تک کوئی انسان مرا ہی نہ تھا،چنانچہ ایک وقت تک وہ لاش کو پشت پر لادے پھرتا رہا پھر جب اسے لاش چھپانے کا کوئی طریقہ سمجھ نہ آیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انسانوں کی تدفین کا طریقہ سکھانے کےلئے ایک کوا بھیجا چنانچہ یوں ہوا کہ دو کوے آپس میں لڑے، ان میں سے ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر زندہ کوے نے اپنی چونچ اور پنجوں سے زمین کرید کر گڑھا کھودا، اس میں مرے ہوئے کوے کو ڈال کر مٹی سے دبا دیا۔کوے کا واقعہ دیکھ کر قابیل کو شرم آئی کہ مجھے اس کوے جتنی بھی سمجھ نہ آئی کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا لیتا پھر قابیل نے بھی زمین کھود کر ہابیل کی لاش کو دفن کردیا۔ (7)قرآن کریم میں ہے:
فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِؕ-قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْۚ-فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ(۳۱)ﮊ (8)
ترجمہ:پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کرید رہا تھا تا کہ وہ اسے دکھا دے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے۔(کوے کا واقعہ دیکھ کر قاتل نے) کہا: ہائے افسوس، میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپالیتا تو وہ پچھتانے والوں میں سے ہوگیا۔
قابیل کا عبرتناک دنیاوی انجام:
ہابیل کو قتل کرنے کے بعد قابیل کا بہت برا حال ہوا،چنانچہ امام مجاہد سے مروی ہے کہ جب قابیل نے اپنے بھائی کو قتل کر دیاتواسی دن سے اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک پاؤں پنڈلی سمیت اس کی ران کے ساتھ ملا دیا اور یہ قیامت تک یونہی ملا رہے گا۔اس کا چہرہ سورج کی طرف کر دیا کہ جس طرف سورج گھومتا اسی طرف اس کا چہرہ گھوم جاتا تھا۔ (9)
اور حضرت عبد الرحمٰن بن فَضَالہ سے مروی ہے کہ جب قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی عقل زائل اور دل میں سمجھنے کی صلاحیت ختم کر دی،یہ اسی طرح رہا یہاں تک کہ مر گیا۔ (10)
قابیل کا اخروی عذاب:
قابیل کا اخروی عذاب بھی بہت سخت ہو گا،جیسا کہ حضرت عبداللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے، رسولُ اﷲ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: کسی جان کو ظلمًا قتل نہیں کیا جاتا مگر اس کے خونِ ناحق میں حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے پہلے بیٹے کا حصہ ضرور ہوتا ہے کیونکہ اسی نے پہلے ظلمًا قتل ایجاد کیا ۔ (11)
اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن قابیل کو قتل کے گناہ کی سزا ملے گی اور اُن قاتلین کے گناہِ قتل کی سزا بھی ملے گی جو قیامت تک کسی کو نا حق قتل کر کے جان سے ماریں گے ۔
متعلقات
یہاں اس باب سے متعلق 4 اہم باتیں ملاحظہ ہوں:
سگی بہن سے نکاح حرام ہے:
حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی شریعت میں سگی بہن سے نکاح جائز تھا جبکہ ہماری شریعت میں حرام ہے، جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ (12)
ترجمہ:تم پر حرام کردی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں۔
حملہ آور کے سامنے مزاحمت ضروری ہے یا نہیں:
جب کوئی ناحق قتل کے ارادے سے حملہ کرے تو اس وقت جان بچانے کے لیے مزاحمت اور دفاع کرناواجب ہے،لیکن دھمکی ملنے پر ہابیل کے اس جواب ’’ بیشک اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں بڑھاؤں گا‘‘ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قتل کے وقت ہابیل نے مزاحمت سے انکار کر دیا تھا اور یہ حکم شرع کے خلاف ہے۔ مفسرین نے اس کے متعدد جوابات دئیے ہیں: (1)ہابیل کا یہ کلام وعظ و نصیحت کے طور پر تھاتاکہ قابیل کے دل میں ناحق قتل کی قباحت بیٹھ جائے اور وہ قتل سے باز رہے ۔(2)ہابیل نے اپنے دفاع کے لیے ہاتھ بڑھانے کی نفی نہیں کی بلکہ قتل کرنے کی غرض سے ہاتھ بڑھانے کی نفی کی تھی ۔
قابیل کا اظہارِ ندامت’’توبہ‘‘ نہیں تھا:
ندامت توبہ میں داخل ہے، جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے’’ اَلنَّدَمُ تَوْبَۃٌ ‘‘ندامت توبہ ہے ۔ لہٰذا جب قابیل نے اظہارِ ندامت کیا تو وہ توبہ کرنے والوں میں سے ہو گیا،پھر اس کی توبہ کیوں قبول نہ کی گئی؟اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ندامت توبہ میں داخل ہے جو گناہ پر ہو اورقابیل کی ندامت اپنے گناہِ قتل پر نہ تھی بلکہ اس پر تھی کہ دفن کا طریقہ کوے سے کیوں معلوم ہوا ،خود اس کے اپنے ذہن میں یہ طریقہ کیوں نہ آیا۔
درس و نصیحت
ہابیل وقابیل کے واقعہ میں ہمارے لیے بہت سے درس اور نصیحتیں ہیں ، جیسے :
ایجادِ گناہ کا نقصان:گناہ ایجاد کرنا، گناہ کرنے سے بھی زیادہ برا اور نقصان دہ ہے کیونکہ گناہ کرنے کی صورت میں اپنے ہی گناہ کی سزا ملے گی جبکہ گناہ ایجاد کرنے کی صورت میں اپنے گناہ کے ساتھ ساتھ ،بعد میں ارتکاب کرنے والے تمام افراد کا گناہ بھی کھاتے میں آئے گااور یوں اس کے گناہوں کا میٹر مسلسل چلتا ہی رہے گا اگرچہ دوسروں کو بھی ارتکابِ گناہ کی سزا ملے گی ۔
عشقِ مجازی کا نتیجہ:قابیل کے افعال ِ بد سے ظاہر ہوا کہ کسی کو ناحق قتل کرنے پر ابھارنے اور فتنہ و فساد کا ایک بہت بڑا سبب ناجائز عشق ِ مجازی ہے جس میں آج کل لوگ شرم و حیا کو بالائے طاق رکھ کر اور پردے کےاسلامی احکام کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے دھڑا دھڑ مبتلا ہورہے ہیں جس کی وجہ سے قتل و غارت گری کا بازار بھی گرم رہتا ہے۔
حسن پرستی کی مذمت:قابیل عورت کے حسن پر فدا ہوا اورحسن پرستی انتہائی خطرناک عمل ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے :عورت کے محاسن کی طرف نظر کرنا ابلیس کے زہر میں بجھے ہوئے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔(13)
نفسانی خواہش کو قابو میں رکھنے کی تلقین:قابیل نے نفسانی خواہش اور شہوت کے تقاضوں پر عمل کیا اور اس کی تکمیل کےلئے شرعی حدود کو پامال کیا۔ ایسی شہوت و خواہش تباہ کن ہے اور اسے قابو میں رکھنا بہت ضروری ہے جس کا بہت مفید طریقہ نگاہ و دل کی حفاظت اور روزوں کی کثرت ہے۔
مسلمان کو دہشت زدہ کرنا حرام ہے:قابیل نے قتل کی دھمکی دے کر اپنے بھائی کو ڈرایا اور اسے دہشت زدہ کیا اور یہ چیز حرام ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے:کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان کو دہشت زدہ کرے۔(14)
ناحق قتل کرنے والے کے نیک اعمال کا حال:قابیل نے اپنے بھائی کو ناحق قتل کیا۔ حدیثِ پاک میں ہے :جس نے کسی مسلمان کو قتل کیا اور ا س پر خوش ہوا تو اللہ تعالیٰ اس کا نہ کوئی فرض قبول فرمائے گا اور نہ نفل۔ (15)
1…پ۴،النساء:۱.
2… صاوی، النساء، تحت الاٰیة:۱، ۲/۳۵۶.
3… البحر المحیط، المائدة، تحت الاٰیة:۲۷، ۳/۴۷۶، قرطبی، المائدة، تحت الاٰیة:۲۷، ۳/۷۳، مدارک، المائدة، تحت الاٰیة:۲۷، ص۲۸۲، ملخصاً.
4…خازن، المائدة، تحت الاٰیة:۲۷، ۱/۴۸۵، ملتقطاً.
5…پ۶،المائدة:۲۷ -۲۹.
6… پ۶،المائدة:۳۰.
7… خازن، المائدة، تحت الاٰیة:۳۱، ۱/۴۸۶، ملخصاً.
8…پ۶،المائدة:۳۱.
9… تفسیر طبری، المائدة، تحت الاٰیة:۲۷، ۴/۵۲۸.
10… کتاب الفتن لنعیم بن حماد،۱/۶۵.
11…بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب خلق اٰدم صلوات اللہ علیه وذریته، ۲/۴۱۳، حدیث:۳۳۳۵.
12…پ۴،النساء:۲۳.
13…نوادر الاصول،الاصل الرابع والثلاثون،۱/۱۴۸، حدیث:۲۱۳.
14… ابو داود،کتاب الادب،باب من يأخذ الشیء من مزاح،۴/۳۹۱، حدیث:۵۰۰۴.
15… ابو داود، کتاب الفتن والملاحم، باب فی تعظیم قتل المؤمن، ۴/۱۳۹-۱۴۰، حدیث:۴۲۷۰.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع