دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Seerat e Sayyiduna Abu Darda رضی اللہ تعالٰی عنہ | سیرتِ ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ

book_icon
سیرتِ ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ

گئے اور ان کے ہاں بھی یہی سب کچھ دیکھ کر وہی کچھ کیا جو سیِّدُنایزید بن ابی سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ کیا تھا۔ اور پھر اپنے خادم سے فرمانے لگے : ” اے یرفا!چلو اب مجھے میرے بھائی ابو درداء کے پاس لے چلو تا کہ میں انہیں بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں (کہیں وہ بھی تو ایسے ہی نہیں ہو گئے ) حالانکہ مجھے یقین ہے کہ ان کے پاس قصہ گو افراد ہوں گے نہ چراغ اور نہ ہی ان کا دروازہ بند ہو گا بلکہ ان کا بستر کنکریوں کا اور تکیہ عام سی گدڑی کا ہو گااور وہ باریک چادر اوڑھے ہوئے سخت سردی میں کپکپا رہے ہوں گے ۔“

واقعی جب امیر المؤمنین سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت  سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ملاقات کے لئے ان کے گھر پہنچے تو انہیں بالکل ویسے ہی پایا جیسا ان کے بارے میں سوچا تھا ۔ وہ اندھیرے گھر میں بغیر چراغ کے تشریف فرما تھے ، جب سیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہٹٹول ٹٹول کر ان تک پہنچے اور ان سے فرمایا : ”اے میرے بھائی! اَللہ عَزَّ   وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے !کیا ہم نے آپ کو بہتر انتظامات نہ دیئے تھے ؟“تو سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی : ”اے امیر المؤمنین! کیا آپ کو نبیوں کے تاجور، محبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم سے مروی روایت یاد نہیں؟“پوچھا : ”کون سی؟“عرض کی : ”وہ روایت جس کا مضمون یہ ہے کہ تمہارے پاس دنیا کا صرف اتنا مال ہونا چاہئے جتنا مسافر کے پاس زادِ راہ ہوتا ہے ۔“ حضرت  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا : ”ہاں مجھے یاد ہے ۔“ اس پر سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی : ”اے امیر المؤمنین! سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کے اس جہانِ فانی سے پردہ فرمانے کے بعد ہم نے کیا کیا؟“ سیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہیہ سن کر زارو قطار رونے لگے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبھی رونے لگے ۔ اور پھر یہ دونوں عظیم صحابی ساری رات روتے رہے یہاں تک کہ رات گزر گئی اور صبح ہو گئی۔

(تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم 5463 عویمر بن زید بن قیس، ج47، ص135 تا 136 مختصراً)

سُبۡحَانَ اللہِ!سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اندازِ حیات پر قربان جایئے ، ان کے دل میں سنتیں سکھانے کا کیسا جذبہ کارفرما تھا کہ اس کے لئے مدینہ منورہ کی پربہار فضاؤں کو چھوڑ کر ملک شام کا سفر اختیار کیا اور ملک شام میں دنیاوی عیش و عشرت سے اس لئے دور رہے کہ ان کے پیش نظر تاجدارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان تھا۔ اور ایک ہم ہیں کہ دنیاوی عیش و عشرت کے دلدادہ ہوتے چلے جا رہے ہیں اور دنیا کی لذتوں میں گم ہو کر نیکی کی دعوت دینے اور ایسی دعوت دینے والوں سے بھی دور ہو چکے ہیں۔

میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!اَلْحَمْدُلِلہ عَزَّوَجَلَّ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کا ہر کام اَللہ عَزَّ   وَجَلَّ اور اُس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی خوشنودی کے لئے ہونا چاہئے ، مگر بدقسمتی سے ہماری اکثریت نیکی کے راستے سے دور ہوتی جارہی ہے ، شاید اِسی وجہ سے ہمیں طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا ہے ، کوئی بیمار ہے تو کوئی قرضدار، کوئی  گھریلو ناچاقیوں کا شکارہے تو کوئی تنگدست و بے روز گار، کوئی اَولاد کا طلبگارہے تو کوئی نافرمان اَولاد کی وجہ سے بیزار۔الغرض ہر ایک کسی نہ کسی مصیبت میں گرفتار ہے یقیناً دنیا و آخرت کی ہر پریشانی کا واحد حل اَللہ عَزَّ   وَجَلَّ اور اُس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کے بتائے ہوئے کاموں میں لگ جانا ہے ۔ مسلمانوں کے لئے سب سے پہلا فرض نماز ہے مگر افسوس! کہ ہماری مسجدیں ویران ہیں۔

زندگی بے حد مختصر ہے ، یقیناً سمجھدار وہی ہے کہ جتنا دنیا میں رہنا ہے اُتنا دنیا کے لئے اور جتنا عرصہ قبر وآخرت کا ہے اُتنی قبر وآخرت کی تیاری میں مشغول رہے ، کئی ہنستے بولتے انسان اچانک موت کا شکار ہوکر دیکھتے ہی دیکھتے اندھیری قبر میں پہنچ جاتے ہیں اِسی طرح ہمیں بھی مرنا پڑے گااَندھیری قبر میں اُترنا پڑے گا اپنی کرنی کا پھل بُھگتنا پڑے گا۔ قبر روزانہ پکار کر کہتی ہے : اے آدمی! کیا تو مجھے بھول گیا؟ یاد رکھ میں تنہائی کا گھر ہوں،  میں اَجنبیت کا گھر ہوں، میں گھبراہٹ کا گھر ہوں، میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ، میں تنگی کا گھر ہوں، مگر جس کے لئے اَللہ عَزَّ   وَجَلَّ مجھے وسیع کردے ۔ایک حدیث شریف میں ہے : ”قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ “(المعجم الاوسط، الحدیث ٨٦١٣، ج٦، ص٢٣٢)

جب قبر سے نکلیں گے تو قیامت کا پچاس ہزار سالہ دن ہو گا، سورج سوا میل پر رہ کر آگ برسا رہا ہو گا، تانبے کی دَہکتی ہوئی زمین پر ننگے پاؤں کھڑا کیا جائے گا۔ یاد رکھئے کہ  اُس وقت تک بندہ قیامت کے روز قدم نہیں ہٹاسکے گا جب تک اُس سے چار سوال نہ کر لئے جائیں : (١) عمر کس کام میں صرف کی؟(٢) جوانی کیسے گزاری؟(٣) مال کس طرح کمایا اور کس طرح خرچ کیا؟(٤) اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟

دنیا ہلاک وبرباد کرنے والی ہے :

حضرت سیِّدُناعمرو بن عوف رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبیٔ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے سیِّدُناابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بحرین جزیہ لانے کے لئے بھیجا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے اہل بحرین سے صلح فرما کر حضرت علاء بن حضرمی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی عَنْہ کو ان پر حاکم مقرر فرما رکھا تھا۔جب حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمال لے کر بحرین سے واپس لوٹے تو انصار نے ان کے آنے کی خبر سن لی اور سب نے نمازِ فجر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ادا کی۔ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نماز ادا فرما کر واپس جانے لگے تو سب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہو گئے ۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں دیکھ کر تبسم فرمایا اور ارشاد فرمایا : ”میرے خیال میں تم نے سن لیا ہے کہ ابو عبیدہ مال لے کر آ گئے ہیں۔ “ عرض کی : ”جی ہاں یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم!“ فرمایا : ”تو خوش ہو جاؤ اور اس بات کی امید رکھو جو تمہیں خوش کر دے ۔ اَللہ عَزَّ   وَجَلَّ کی قسم! مجھے تمہارے غریب ہو جانے کا ڈر نہیں۔ بلکہ مجھے تو ڈرہے کہ دنیا تم پر کشادہ نہ ہو جائے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر ہوئی تھی۔ پھر تم ایک دوسرے سے جلنے لگو جیسے پہلے لوگ جلنے لگے تھے اور یہ تمہیں بھی ویسے ہی ہلاک کر دے جیسے پہلے لوگوں کو اس نے کیا تھا۔“ (صحیح البخاری، کتاب الجزیۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ۔۔۔الخ، الحدیث : 3158، ج2، ص363)

مفسر شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْحَنَّان اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ حضورِ انور کا یہ فرمان حضرات صحابہ کو ڈرانے اور احتیاط برتنے کے لیے ہے ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن