دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Seerat e Sayyiduna Abu Darda رضی اللہ تعالٰی عنہ | سیرتِ ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ

book_icon
سیرتِ ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نے ”مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے “ کے مدنی مقصد کے تحت میری خبر گیری نہ چھوڑی، بلکہ مسلسل میرے بارے میں دوسرے اسلامی بھائیوں سے پوچھا کرتے اور جب انہیں معلوم ہوا کہ میں نے اجتماع میں جانا چھوڑ دیا ہے اور واپس اپنی پرانی رَوِش کی جانب لوٹ رہا ہوں تو انہوں نے علاقہ کے دو اسلامی بھائیوں کی ذمہ داری لگائی کہ وہ مجھے اپنے ساتھ اجتماع میں لے کر آیا کریں۔ چنانچہ، وہ دونوں اسلامی بھائی مجھے اپنے ساتھ لے جانے کے لئے اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ وقت نکال کر نہ صرف اجتماع بلکہ مغرب اور عشاء کی نمازوں کے لئے بھی میرے گھر تشریف لاتے مگر مجھ گنہگار پر نفس و شیطان کا ایسا غلبہ طاری ہو چکا تھا کہ اپنے چھوٹے بھائی سے کہلا بھیجتا کہ گھر پر نہیں ہوں۔

اس طرح مسلسل چار ہفتے گزر گئے ، وہ دونوں اسلامی بھائی تشریف لاتے اور میں ہر بار کہلا بھیجتا کہ گھر پر نہیں ہوں۔ مگر نجانے دعوتِ اسلامی کا مہکا مہکا اور سنّتوں بھرا مدنی ماحول کن جذبوں سے آشنا کر دیتا ہے کہ اس ماحول سے وابستہ ہونے کی برکت سے ہر اسلامی بھائی کے دل میں نیکیوں سے محبت اور برائیوں سے نفرت  کا ایسا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اس کا دل حضرت سَیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرح ہر وقت دوسروں کی اصلاح کی کوشش کے مدنی مقصد پر عمل کے سلسلے میں کڑھتا رہتا ہے ۔ چنانچہ، یہی وجہ ہے کہ میری اس قدر بے رخی کے باوجود ان دونوں اسلامی بھائیوں کا حوصلہ پست ہوا نہ ٹوٹا۔ اور آخر ایک دن میرے مقدر کا ستارہ چمکا اور میری والدہ ماجدہ نے مجھ سے پوچھ لیا : ”یہ سبز سبز عمامہ والے تمہارے پاس کیوں آتے ہیں؟“ تو میں نے سچ بتاتے ہوئے عرض کی : ”مجھے نماز کے لئے بلانے آتے ہیں۔“ تو والدہ محترمہ فرمانے لگیں : ”یہ تو بہت اچھی بات ہے ، تم ضرور جایا کرو۔“مگر میں نے سارا دن کام کی وجہ سے تھکاوٹ کا عذر پیش کیا تو والدہ ماجدہ نے فرمایا کہ نماز پڑھا کرو اِنۡ شَآءَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ تھکاوٹ خود ہی دور ہو جائے گی۔

بس اَللہ عَزَّ   وَجَلَّ کا کرم ہو گیا اور میں نے مسجد کا رخ کر لیا اور پھر آہستہ آہستہ مدنی ماحول سے وابستہ ہوتا چلا گیا، سر پر عمامہ کا تاج سج گیا، ساتھ ہی زلفیں اور داڑھی بھی سجا لی اور امیرِ اہلسنّت کا مرید بن گیا۔ ایک وقت یہ تھا کہ میں نمازوں میں سستی کیا کرتا تھا مگر اب اسلامی بھائیوں کی سچی لگن، خیرخواہی امت کے جذبے کی برکت سے نیکی کی دعوت دینے والا بن چکا ہوں۔

اَلۡحَمۡدُ لِلہِ عَزَّ   وَجَلَّ میرے دو مدنی منے ہیں اور میں نے دونوں کو دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کے لئے وقف کرنے کی نیت کی ہوئی ہے ۔

مختصر سی زندگی ہے بھائیو!
نیکیاں کیجئے نہ غفلت کیجئے
گر رِضائے
مصطَفٰے درکار ہے
سنّتوں کی خوب خدمت کیجئے
سنّتیں اپنا کے حاصل بھائیو!
               رحمتِ مولیٰ سے جنّت کیجئے
(وسائلِ بخشش، ص 120)

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                        صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سیدنا ابو دَرداء اور نیکی کی دعوت کا جذبہ :

میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہر دم نیکی کی دعوت عام کرنے کے جذبہ سے سرشار رہتے ۔ اسی لئے ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے شام جانے کی اجازت طلب کی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انکار کر دیا، پھر اس شرط پر جانے کی اجازت دی کہ وہاں کے گورنر بن جائیں مگر سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے گورنر بننا قبول نہ فرمایا اور عرض کی : ”میں شام اس لئے جانا چاہتا ہوں تا کہ وہاں کے لوگوں کو اَللہ عَزَّ   وَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمکی سنتیں سکھاؤں اور انہیں سنت کے مطابق نماز پڑھاؤں۔“

سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی عَنْہ کے نیکی کی دعوت عام کرنے کا جذبہ دیکھ کر امیر المؤمنین سیدنا عمر  فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہانکار نہ فرما سکے اور آخر کار انہیں جانے کی اجازت عطا فرما دی۔ شام میں عام طور پر لوگوں کی عادت یہ تھی کہ گرمیوں کے موسم میں جہاد میں مصروف رہتے اور جب سردیوں کا موسم آتا تو واپس اپنی چھاؤنیوں میں لوٹ آتے ۔ ایسی ہی ایک چھاؤنی میں سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی عَنْہ لوگوں کو نیکی کی دعوت دیا کرتے تھے ۔ چنانچہ،

سردیوں کے ایام میں جب تمام لوگ چھاؤنیوں میں جمع تھے تو ایک دن امیر المؤمنین سیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہشام جا پہنچے اور چھاؤنی کے قریب جا کر رات کا انتظار کرنے لگے ۔ جب رات کا اندھیرا خوب پھیل گیا تو اپنے خادم سے فرمایا : ”اے یرفا!چلو مجھے یزید بن ابی سفیان کے پاس لے چلو تا کہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں کہ کیا ان کے پاس قصے کہانیاں سنانے والے موجود ہیں؟ اور کیا وقف کے مال میں سے اس وقت بھی ان کے ہاں چراغ روشن ہے ؟ اور کہیں ان کے بستر ریشم کے تو نہیں؟ اور جب وہاں پہنچوتو پہلے سلام کرنا جب وہ جواب دیں تو اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کرنا۔ اگر وہ تجھے اندر داخل ہونے کی اجازت نہ دیں تو اپنا تعارف کروانا پھر میرے متعلق بھی بتا دینا۔ “

پس دونوں چل دیئے اور جیسا امیر المؤمنین رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی عَنْہ نے  ارشاد فرمایا تھا ویسے ہی ہوا۔ جب امیر المؤمنین سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سیِّدُنایزید بن ابی سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس قصہ گو افراد کے علاوہ مسلمانوں کے مال سے روشن چراغ اور ریشم کے بستر و گاؤ تکیے وغیرہ ملاحظہ فرمائے تو خادم کو فرمایا : ”اے یرفا! دروازے پر کھڑے ہو جاؤ۔“ اور پھر خود اپنے درّے کو کانوں پر لٹکا کر سارا سامان گھر کے درمیان باندھ دیا اور وہاں موجود لوگوں سے فرمایا کہ میری واپسی تک کوئی بھی یہاں سے نہیں جائے گا۔

اس کے بعد امیر المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے خادم کے ساتھ پہلے حضرت عمرو بن العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس اور پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن