30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ”جب تمہاری لڑکی کے لیے دیندار عادات و اطوار کا درست لڑکا مل جائے تو محض مال کی ہوس میں اور لکھ پتی کے انتظار میں جوان لڑکی کے نکاح میں دیر نہ کرو، لڑکے کے خلق سے مراد تندرستی، عادت کی خوبی، نفقہ پر قدرت سب ہی داخل ہیں۔ اس لیے کہ اگر مالدار کے انتظار میں لڑکیوں کے نکاح نہ کیے گئے تو ادھر تو لڑکیاں بہت کنواری بیٹھی رہیں گی اور ادھر لڑکے بہت سے بے شادی رہیں گے جس سے زنا پھیلے گا اور زنا کی وجہ سے لڑکی والوں کو عارو ننگ ہوگی، نتیجہ یہ ہوگا کہ خاندان آپس میں لڑیں گے ، قتل و غارت ہوں گے ، جس کا آج کل ظہور ہونے لگا ہے ۔ (مراۃ المناجیح، کتاب النکاح، الفصل الثانی، ج5، ص8)
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! خوامخواہ امیر گھرانوں سے رشتہ داری کے چکر میں اپنی بچیوں کو گھر نہیں بٹھائے رکھنا چاہئے بلکہ مناسب اور نیک لڑکا ملتے ہی شہنشاہِ مدینہ، صاحبِ معطر پسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کے حکم پر عمل کرتے ہوئے فوراً اپنی بچی کی شادی کر دینا چاہئے ۔ جیسا کہ حضرتِ سیِّدُناشیخ شاہ کرمانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے اپنی شہزادی کے لئے پڑوسی ملک کے بادشاہ کا رشتہ ٹھکرا دیا اور مسجِد مسجِد گھوم کر ایک نیک نوجوان تلاش کر کے اس سے اپنی لڑکی کی شادی کر دی ۔
سَیّدَتُنا اُمِّ دَرْدَاء کی دنیا سے بے رغبتی :
حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ سَیِّدَتُنا اُمِ در داء آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے بارے میں مروی ہے کہ وہ ایک صاحبِ حسن و جمال خاتون تھیں ، آپ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی نیکی کی دعوت سے اس قدر متاثر تھیں کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کی نگاہوں میں بھی دنیا کی کچھ حیثیت نہ تھی۔ چنانچہ،
حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی وفات کے بعد حضرت سیِّدُنا امیر مُعَاوِیَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو نکاح کا پیغام بھجوایا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے جواب دیا : ”اَللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم!میں (سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد) دنیا میں کسی سے شادی نہیں کروں گی، اَللہ عَزَّ وَجَلَّنے چاہا تو جنت میں حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجیت میں ہی رہوں گی۔“(صفۃ الصفوۃ ، الرقم76ابو الدَرْدَاء عویمر بن زید ، ذکر وفاۃ ابی الدَرْدَاء ، ج1، ص325)
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے گھرانے کے کیا کہنے ! آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیٹی اور زوجہ دونوں نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی۔ اے کاش! ہمارے گھروں میں بھی سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے گھر جیسا مدنی ماحول بن جائے ۔
دعا ہے یہ تجھ سے ، دل ایسا لگا دے
نہ چھوٹے کبھی بھی خدا مدنی ماحول
ہمیں عالموں اور بزرگوں کے آداب
سکھاتا ہے ہر دم سدا مدنی ماحول
ہیں اسلامی بھائی سبھی بھائی بھائی
ہے بے حد محبت بھرا مدنی ماحول
یقیناً مقدر کا وہ ہے سکندر
جسے خیر سے مل گیا مدنی ماحول
یہاں سنتیں سیکھنے کو ملیں گی
دلائے گا خوفِ خدا مدنی ماحول
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی ماحول کی بہار :
مرکزالاولیاء (لاہور) کے علاقے نشاط کالونی کی اسلامی بہن اُمِّ خلیل عطّاریہ اپنے بڑے بھائی کی انفرادی کوشش کے نتیجے میں علاقائی سطح پر ہونے والے اسلامی بہنوں کے اجتماع میں شریک ہوئیں تو اتنی متأثر ہوئیں کہ دعوتِ اسلامی کی ہوکر رہ گئیں ۔ قادریہ عطّاریہ سلسلے میں بیعت ہوکر غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مریدنی بنیں۔اجتماع اور علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت ان کا معمول بن گیا ۔ اِنہوں نے نہ صرف خُود مَدَنی برقع اَوڑھا بلکہ ان کی ترغیب پر علاقے کی کئی اسلامی بہنوں نے مَدَنی برقع پہننا شروع کردیا ۔دعوتِ اسلامی کا مدنی کام کرتے کرتے یہ حلقہ مشاورت کی ذمہ دار بن گئیں۔ علاقائی سطح پر ہونے والا اسلامی بہنوں کا اجتماع بھی ان کے گھر منتقل ہوگیا ۔اِنہوں نے اپنی بڑی بہن کے ساتھ مل کر نیکی کی دعوت کی خُوب دُھومیں مچائیں ۔ ملنساری ، حُسن اخلاق کی چاشنی سے لبریز انفرادی کوشش اور مَدَنی مٹھاس سے تربتر بیانات کی بدولت بہت سی اسلامی بہنوں کو دعوتِ اسلامی کے مُشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ کیا ۔حُصول علمِ دین کے لئے ایک سُنی دارالعلوم میں عالمہ کورس میں داخلہ لیا مگر والدہ کی بیماری کی وجہ سے دوسال بعد تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی ۔
اَلۡحَمۡدُلِلہِ عَزَّ وَجَلَّ ان کا نکاح دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رُکن کے ساتھ ہوا، (یہ نکاح ان کے میٹھے میٹھے مرشدکریم امیرِ اہلسنّت دَامَتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡعَالِیَہ نے پڑھایا تھا) شادی کے بعد باب المدینہ کراچی میں 12دن کے تربیتی کورس میں بھی شرکت کی ، اس دوران طبیعت بھی خراب ہوئی مگر ہمت نہ ہاری اور کورس میں مکمل شرکت کی ۔اسلامی بہنوں کے مَدَنی قافلہ میں بھی سفر اختیار کیا۔
خود انہی کا تحریری بیان ہے کہ مَدَنی قافلہ میں سفر سے پہلے مجھے سانس کی تکلیف تھی لیکن مَدَنی قافلے میں سفر کی برکت سے مجھے اس تکلیف میں کافی کمی محسوس ہوئی۔انہوں نے اپنا زیور جس کی مالیت تقریباً 38ہزار روپے بنتی تھی، دعوتِ اسلامی کو دے دیا تھا۔اپنے گھر میں اسلامی بہنوں کے مَدَنی قافلوں کی میزبانی بھی کی اور شرکاء قافلہ اسلامی بہنوں کی خوب خدمت کی ۔اپنی شادی کے تقریباً دوسال بعد ٢٦ رمضان المبارک ١٤٣٠ھـ جمعرات کو عصر کے وقت ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی، انہوں نے بلند آواز سے ”یاغوث المدد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع